ہمارے لیڈر کیسے بنتے ہیں ؟
04 اپریل 2018

اقوام عالم کی تاریخ پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو عالمی رہنماؤں کے وجود میں آنے کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں ۔ نسلی تضاد کے شکار جنوبی افریقہ کو آزادی دلانے کی خاطر اپنی آدھی سے زائد زندگی جیل کی نذر کرنے والا ایک عالمی لیڈر بن گیا جب وہ جیل میں تھا تواپنی جدو جہد کا آغاذ کر رہا تھااس وقت اسے کوئی نہیں جانتا تھا کیونکہ جیل تو سبھی جاتے ہیں لیکن اس کے مقصد نے اسے نیلسن منڈیلا کے نام سے عالمی لیڈر بنا دیا ، اسی طرح معاشرے میں تفریقی نظام اور اپنے لوگوں کے حق کے لئے پورے یورپ سے لڑ جانے والا مارٹن لوتھر کنگ کہلایا، ایک ڈاکیے اور کلرک کی زندگی گزارنے والا ابراہم لنکن امریکہ کا صدر بنا تو حبشیوں کی آزادی کا اعلان کرکے لیڈر بن جاتا ہے ، پھر وہی کسی تعصب پسند گورے کی گولی کا شکار بن کر جان دے دیتا ہے ،
ارجنٹائن کے ایک پسماندہ علاقے میں پیدا ہونے والا جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ، شوق کے اعتبار سے اتھلیٹ ،سائیکلسٹ اور سیاح تھا اور اس کی سیاحت نے اس کو ایک انقلابی لیڈر بنادیا، جب وہ سیاحت کے دوران موٹر سائیکل پر جنوبی امریکہ کا چکر لگا رہا تھا تو اس پر حقیقت آشکار ہوئی کہ یہاں غریبوں کے لئے استحصالی نظام رائج کیا گیا۔ لوگوں کی حالت زار اس کی انسپیریشن بنی اور اس نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی ٹھان لی ۔اور اس سرمایہ داری نظام کو چیلنج کر دیتا ہے،امریکی سی آئی اے اس کی جان کی دشمن بن جاتی ہے۔ وہ دنیا بھر میں انقلابی لیڈر چی گویرا کے نام سے مشہور ہوجاتا ہے ۔سواکروڑ کی آبادی رکھنے والے کیوبا پر 50برس حکمرانی کرنے والا فیدل کاسترو امریکہ کے اعصاب پر سوار رہا، فیدل کاسترو نے پوری دنیا میں اپنا نام زندہ رکھا۔ وجہ فقط یہ تھی کہ فیدل نے بھی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ باقاعدہ جدو جہد کی۔جب تک وہ حکمران رہا امریکہ اسے مارنے کے نت نئے حربے آزماتا رہا لیکن ناکام رہا ۔ کئی بار فیدل کاسترو نے عوام کی طاقت سے بغاوتوں کو کچلا ۔فیدل کاسترو کو اس کے نظریات اور عملی اقدامات نے لیڈر بنایا ۔
یہ عالمی رہنماؤں کا سیاسی ارتقائی عمل ہے ، ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ جس طرح دنیا میں لیڈر بنتے ہیں ہمارے ہاں مکمل طور پر اس کے الٹ ہوتا ہے ۔یہاں سیاسی لوگ جیل میں تو جاتے ہیں لیکن ان کی بنیاد ذاتی جرم ہوتاہے ، کو ئی کرپشن کے کیسز میں جیل جاتا ہے تو دس سال بعد اس ملک کی بڑی پارٹی کا لیڈر کہلاتا ہے، باپ نااہل ہوتا ہے تو بیٹا باپ کی نااہلی کو کیش کروا کر الیکشن لڑتاہے، اس طرح کئی مثالیں ہیں ہماری تاریخ بھری پڑی ہے۔ یہاں اسٹیبلشمنٹ لیڈر بناتی ہے کسی کو سپورٹ کرکے تو کسی کی مخالفت کرکے ۔قارئین کرام! آپ یہاں چونک ضرور گئے ہونگے کہ سپورٹ کرنے سے لیڈر کے بننے کا عمل تو سمجھ میں آتا ہے، مخالفت سے تو کسی کو کمزورہی کیا جاسکتا ہے ۔یہاں مخالفت سے سپورٹ کرنے سے زیادہ اچھا لیڈر بنایا جاتا ہے ۔ عوام میں مقبول کیا جاتا ہے ۔
یہ 2013ء کی بات ہے وہ لاہور کے ایک حلقے تک محدود تھی ۔ جہاں سے اس کے والد الیکشن لڑتے تھے یا پھر چند ٹی وی چینلز پر اس کے انٹرویوز نشر ہورہے تھے جن کی حثییت فقط اتنی تھی کہ وہ ایک سابق وزیر اعظم اور ایک بڑی پارٹی کے قائد کی بیٹی تھی پارٹی میں کوئی عہدہ اور عوام میں سیاسی قد نہیں تھا ۔2013کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل ہوئی اور میاں نواز شریف ملک کے تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے ۔انتخابات میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا اور دھرنے کا دور دورہ شروع ہوگیا ۔مریم نواز نے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے عمران خان کی تنقید کا خوب جواب دیا۔دوسری طرف عمران خان جو ایک پارٹی کے قائد ہیں انہوں نے بھی مریم نواز کو اپنے جلسے جلوسوں میں براہ راست تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ۔مریم نواز پر تنقید الیکٹرونک میڈیا پر ہیڈ لائن اور اخبارات کی سرخی بن جاتی ۔ یوں عوام میں دھیرے دھیرے مریم کا نام مسلم لیگ (ن) کی قدآور شخصیت کی حیثیت سے مشہور ہونے لگا ۔ مریم نواز نے فوج کو تنقید کا نشانہ بنانے کا موقع بھی کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیا۔کہانی ادھر ختم نہیں ہوئی اصل کہانی پاناما پیپرز کے بعد شروع ہوئی ۔28جولائی 2017کو پاناما کا فیصلہ آیااور میاں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا
کر نواز خاندان پر نیب میں ٹرائل شروع کر دیاگیا۔اسی دوران مسلم لیگ (ن) نے 2018ء کے عام انتخابات کی مہم چلانے کا فیصلہ کیا۔نواز شریف نے مریم نواز شریف کو اپنا جانشین بنانے کی غرض سے سیاسی اجتماعات میں سیاسی کیرئیر کے آغاز کا بھرپور موقع دیا۔ وہ مریم نواز جو باپ کے ایک حلقے تک محدود تھی پنجاب کے کوٹ مومن سے شروع ہوتی ہوئی کے پی کے سوات تک پہنچ جاتی ہے ۔ ماضی کے مقابلے میں مریم نواز کے انداز ، سیاسی تقریر میں پختگی پیدا ہوچکی ہے اور آج مریم نواز باپ کی جانشین بن چکی ہے ۔
کوشش سیاسی کیرئیر ختم کرنے کی کی گئی لیکن سیاسی مستقبل بنا دیا گیا۔ اور پھر پیپلزپارٹی بلاول کو لانچ کر نے کا ناکام تجربہ کر چکی ہے ۔مسلم لیگ ن کے پاس حمزہ یا مریم تھے عمران خا ن نے خود مریم کو اپنا سیاسی حریف بناکر اپنے سامنے کھڑا کر لیا ۔مستقبل کس کا ہے؟ اس کی دھندلی سی تصویر بھٹو کے بعد بی بی کے عروج کی شکل میں دکھائی دے رہی ہے۔ یہاں کسی کو ختم کرنے کے لئے الٹی تدبیریں چلی گئیں جو ہمیشہ گلے پڑیں ۔اور اس ملک کو کوئی حقیقی لیڈر نصیب نہ ہوسکا۔


ای پیپر