کل کے دن کے لیے آج کا دن خراب نہ کریں
04 اپریل 2018



چائینہ کی تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کریں تو پر لطف زندگی گزارنے اور خوش رہنے کے طریقوں کے حوالے سے بہت سے واقعات ملتے ہیں۔ لیکن ایک واقعہ ایسا ہے جس کا ذکر بارہا مرتبہ کیا گیا ہے۔ آج کے کالم میں اس واقعہ کا ذکر کروں گا۔
چائینہ کے بادشاہی دور حکومت میں وزیر کو جرم کی پاداش میں پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔ چائینہ میں رواج تھا کہ جب بھی کسی وزیر کو پھانسی گھاٹ پر چڑھانا ہوتا تھا تو پھانسی دینے سے قبل بادشاہ وزیر سے ملنے جاتا تھا اور اس سے آخری خواہش پوچھتا تھا۔ حسب روایت بادشاہ اپنی گھوڑی پر سوار ہوا اور وزیر سے ملاقات کرنے چلا گیا۔پھانسی دینے سے قبل بادشاہ نے وزیر سے پوچھا کہ بتاؤ تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟ وزیر خوش تھا۔ اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار نہیں تھے۔ اس نے کہا کہ میری کوئی آخری خواہش نہیں ہے۔ وزیر نے بادشاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہ سلامت آپ جس گھوڑی پر تشریف لائے ہیں یہ آپ نے کہاں سے خریدی ہے۔ بادشاہ نے بتایا کہ دوست ملک کے بادشاہ
نے مجھے یہ گھوڑی تحفے میں دی ہے۔وزیر نے کہا کہ آپ کی یہ گھوڑی بہت شاندار، خوبصورت اور نایاب نسل کی ہے۔ اس گھوڑی میں اڑنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ بادشاہ نے کہا لیکن یہ تو کبھی نہیں اڑی۔ وزیر نے جواب دیا کہ اسے اڑنا سکھانا پڑے گا۔ اس کی تربیت کرنی ہو گی۔ بادشاہ نے پوچھا اسے اڑنے کی تربیت کون دے گا۔ وزیر نے کہا کہ میں اسے اڑنے کی تربیت دوں گا۔ بادشاہ نے پوچھا کتنا وقت لگے گا؟ وزیر نے جواب دیا چھ ماہ لگیں گے۔ بادشاہ نے حکم دیا وزیر کی سزائے موت چھ ماہ کے لیے موخر کر دی جائے اور یہ گھوڑی بھی اس کے حوالے کر دی جائے۔ جب وزیر گھوڑی پر سوار ہو کر اپنے گھر پہنچا تو اس کی بیوی نے صف ماتم بچھائی ہوئی تھی کہ آج میرے شوہر کو پھانسی ہو جائے گی۔ شوہر نے بیوی کو ساری کہانی سے آگاہ کیا کہ گھوڑی اڑ نہیں سکتی میں نے اپنی جان بچانے کے لیے بادشاہ کو جھوٹی تسلی دی ہے تو بیوی نے پھر یہ گریہ و زاری کر دی کہ ’’ہائے تمہیں چھ ماہ بعد پھانسی ہو جائے گی۔ ہائے میں لٹ گئی، ہائے میں برباد ہو گئی ‘‘ وزیر نے بیوی کو سمجھانے کی کوشش کی کہ تم کل کے بارے میں سوچ کر آج کا دن کیوں برباد کر رہی ہو۔ کل کیا ہونا ہے یہ اللہ جانتا ہے۔ اگر آج اللہ نے جان بچائی ہے تو کل بھی اللہ جان بچا سکتا ہے۔ لہٰذا خوش رہو۔ زندگی کا لطف اٹھاؤ۔ کھاؤ، پیو، گھومو اور عیش کرو۔بلکہ تم میرے ساتھ چلو۔ شاہی گھوڑی میرے پاس ہے۔ میں تمہیں وہ مناظر بھی دکھا کر لاتا ہوں جو آج تک ہم نے نہیں دیکھے ہیں۔ بیوی نے کہا کہ تم پاگل ہو گئے ہو۔ چھ ماہ بعد تمہیں پھانسی ہو جائے گی اور تم خوش رہنے اور گھومنے پھرنے کی باتیں کر رہے ہو۔ وزیر نے بیوی کو سمجھانے کی کوشش کی کہ خدا پر یقین رکھو اگر میری موت طے ہے تو تمہارے رونے سے رک نہیں سکتی اور اگر میری زندگی ابھی باقی ہے تو مجھے موت نہیں آ سکتی۔ جو وقت اللہ نے ہمیں دیا ہے اسے رونے کی بجائے خوش رہ کر گزارتے ہیں۔ لیکن بیوی نے اس کی ایک نہیں سنی۔ وزیر نے کہا کہ میری بیوی تو بیوقوف ہے لہٰذااس نے بیوی کو چھوڑا اور دنیا کی سیر کے لیے نکل گیا۔ مورخ لکھتے ہیں کہ اس نے وہ جگہیں بھی دیکھیں جن کے بارے میں وہ صرف سوچا کرتا تھا اورشاہی گھوڑی کی وجہ سے لوگ اس کی عزت بھی کرتے تھے۔وہ جگہ جگہ کے کھانے کھاتا، لوگوں سے حسن سلوک سے پیش آتا،حقوق العباد کا خیال کرتا، لوگوں کو اپنی ذات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ دینے کی کوشش کرتا، خدا کا شکر ادا کرتا اور زندگی کا ہر دن آخری دن سمجھ کر گزارتا تھا۔
چار ماہ بعد وزیر کو اطلاع ملی کہ ملک پر دشمنوں نے حملہ کر دیا ہے۔ حملے میں بادشاہ مارا گیا ہے اور اس کی بیوی بھی شوہر کے چھ ماہ بعد متوقع موت کے صدمے سے مر چکی ہے۔ لہذا اب وہ شاہی گھوڑی کا مالک تھا۔ اسے سزائے موت سنانے والا بادشاہ مر چکا تھا اور اس کی متوقع سزائے موت پر ماتم کرنے والی بیوی بھی مر چکی تھی۔ لیکن وہ زندہ تھا اور خوش بھی تھا۔ مورخ لکھتے ہیں کہ اس کی خوشی کی وجہ اس کا اس بات پر یقین تھا کہ آنے والے کل کے بارے میں سوچ کر آج کا دن خراب نہیں کرناچاہیے۔
آپ اس واقعہ کا بغور جائزہ لیں تو آپ بھی اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ کل کے بارے میں سوچ کر آج کا دن خراب نہیں کرناچاہیے۔وقت نے گزرنا ہے سو وہ گزر ہی جائے گا۔ لیکن یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ نے وہ وقت کیسے گزارنا ہے۔ اگر آپ رو کر، ماتم کر کے اور گریہ و زاری میں وقت گزارتے ہیں تو وہ وقت بری یادوں کا حصہ ہو گا اور اگر آپ وہی وقت خوش رہ کر، خداپر بھروسہ رکھ کر گزارتے ہیں تو وہ زندگی کی سنہری یادوں کا حصہ ہو گا۔ لیکن زندگی گزارنے کا یہ طریقہ اس وقت تک نہیں آ سکتا جب تک اللہ پر آپ کا ایمان پختہ نہ ہو۔ جب تک آپ کو یقین نہ ہو کہ اللہ نے انسان کو آنے والے وقت کی خبر نہ دے کر اضطراب سے بچایا ہے۔ جب تک آپ کو یقین نہ ہو کہ آپ کا آج ہی سب کچھ ہے۔ اگر آپ اپنے آج کے دن کو بہترین گزاریں گے تو آپ کا ماضی بھی اچھا ہو جائے گا اور مستقبل میں بھی بہتری کی امید لگ جائے گی۔ لیکن اگر آپ آج کا دن برباد کر تے رہیں گے تو آپ کا ماضی بھی تاریک رہے گا ،حال بھی برا رہے گا اور ماضی میں بہتری کی بھی کوئی امید نہیں بن سکے گی۔لہٰذا اپنے آج کو بہتر بنائیں کل خود بخود بہتر ہو جائے گا۔


ای پیپر