میاں صاحب مولا جٹ بن کر ججز کو دھونس اوردھمکیوں سے ڈرانا چاہتے ہیں ، بلاول بھٹو
04 اپریل 2018 (19:42) 2018-04-04

گڑھی خدا بخش:چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میاں صاحب مولا جٹ بن کر ججز کو دھونس اوردھمکیوں سے ڈرانا چاہتے ہیں ، پوری زندگی ووٹ کو عزت نہ دینے والے آج ووٹ کی عزت کی بات کررہے ہیں ،وہ صبح عدلیہ کو گالی دیتے ہیں اور رات کو اپنے وزیراعظم کو معافی کے لیے بھیج دیتے ہیں ، عوام بتائیں وہ کس کے ساتھ ہیں ، بھٹو کے وارثوں یا ضیاالحق کے وارثوں کے ساتھ، طالبان کا بچھڑا بھائی عمران خان ہے اور ہم مذہبی انتہاپسندوں کی بھی ٹیم کو اقتدار میں نہیں آنے دیں گے، نوازشریف عمران خان ایک دوسرے سے لڑرہے ہیں لیکن ان کی جنگ منافقوں کی جنگ ہے اور مقصد صرف اقتدار میں آکر پیسہ بنانا ہے، ان کی سیاست اورمعیشت امیروں کیلئے ہے، جاتی امرا اور بنی گالہ میں سرمایہ دار جمع ہوچکے ہیں اور اگر یہ لوگ اقتدار میں آگئے تو پتا نہیں ملک کا کیا ہوگ۔

بڑے میاں یا چھوٹے میاں سے ملک نہیں چلے گا، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دعوے کیے جارہے تھے مگر جیسے ہی سردیاں ختم ہوئیں ان کا جھوٹ سامنے آگیا، ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی پر لٹکا کر پاکستان کے سنہری دور کو بھی لٹکا دیا گیا اور آج تک پاکستان کا سنہرا دور پھانسی گھاٹ پر جھول رہا ہے جب کہ جمہوریت اور آئین بھٹو کا ہی کارنامہ ہے ، متفقہ آئین بنانا کوئی مذاق نہیں تھا لیکن آج پوری دنیا میں پاکستان کا نام رسوا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔وہ بدھ کو گڑھی خدا بخش میں پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ تیسری نسل آ گئی مگر کسی کا جذبہ سرد نہیں ہوا، بھٹو کے دیوانے آج بھی اسی طرح کھینچے چلے آتے ہیں ، چاروں صوبوں سے لوگ کھینچے چلے آئے ہیں ، یہ طاقت ہے اس مظلوم کی جو ہنستے ہوئے پھانسی پر جھول گیا، بھٹو شہید نے ایک سال 9ماہ جیل میں گزارے، تحریک اور اقتدار کے دن ملا کر 11برس سے اوپر بنتے ہیں ان دنوں میں انہوں نے جو کیا اس کے اثرات آج بھی ہم دیکھ رہے ہیں ، اسے کہتے ہیں سیاست، نواز شریف 32سال میں ملک کےلئے وہ نہ کر سکے اور عمران اپنے 23سالہ سیاست میں کچھ بھی نہ کر سکا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ 26سال تک ملک بنا آئین کے چل رہا تھا، بھٹو نے متفقہ آئین دیا، یہ جمہوریت بھٹو نے دی، آج اگر مزدوروں اورکسانوں کے پاس حقوق ہیں ، اگر پاکستان کی کوئی کامیاب خارجہ پالیسی رہی ہے تو وہ شہیدذوالفقار علی بھٹو کا کارنامہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ شملہ معاہدے شہید بھٹو کے ہاتھ میں ہتھیار نہیں تھا، وہ میز پر بیٹھے اور بھارت سے جنگ جیت لی، بھٹو شہید ایک عہد کا نام ہے، جس نے تمام اسلامی ممالک کو ایک لڑی میں پرو دیا، چین کو دنیا میں شناخت دلائی، عرب ممالک کو اسلامک کرنسی کا تصور دیا، ساتھیو صرف بھٹو کو شہید نہیں کیا گیا بلکہ پاکستان کے سنہرے مستقبل کو بھی پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کا آج تک سنہرا دور پھانسی گھاٹ پر جھول رہا ہے، ایک پاکستان بھٹو صاحب کی شہادت سے پہلے کا تھا، جس میں رواداری، برداشت، ترقی، امن اور خوشحالی تھی اور ایک بھٹو شہید کے بعد کا پاکستان ہے جس میں دہشت گردی ہے، فرقہ واریت ہے، عدم برداشت ہے، غربت ہے اور پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد ہزاروں جیالے ملک بدر کر دیئے گئے ہزاروں کو کوڑے مارے گئے ،لاکھوں کو قید کیا گیا، صرف 1989میں رہا ہونے والے قیدیوں کی تعداد 70ہزار سے زیادہ تھی، جنرل ضیاءنے چن چن کر ادیبوں اور لکھاریوں کو نشانہ بنایا ، سب نے درد سہا مگر بھٹو صاحب کی طرح اصولوں پر سمجھوتہ نہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہاں گمنام شہیدوں کی قبریںہیں جن پر لکھا ہے کہ میں بھٹو ہوں، آج ملک میں جو نظام ہے وہ ان شہیدوں کی بدولت ہے جسے ہم کسی صورت لپیٹنے نہیں دیں گے، ساتھیو اگر آپ کو عظیم پاکستان چاہیے تو پھر آپ کو میرے ہاتھ میں ہاتھ دینا ہو گا، ایک جنرل ضیاءتھا جو فضاءمیں اڑ گیا اور اس کے وارث کا نام نواز شریف ہے، بھٹو کا وارث اور ضیاءکا وارث دونوں آپ کے سامنے ہیں ،آپ کی مرضی ہے کہ آپ کس کا ساتھ دیتے ہیں ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک کے ہاتھ میں شہیدوں کا پرچم ہے ،دوسرے کے ہاتھ میں فریب اور جھوٹ کا جھنڈا ہے، ایک تیسرا بھی ہے جو منافقت کے گھوڑے پر بیٹھ کر پیچھے دوڑا چلا آیا ہے اور اس کے جھنڈے پر یوٹرن لکھا ہے، طالبان کا بچھڑا بھائی عمران خان بھی نواز شریف کی ایکسٹینشن ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ نواز شریف اور عمران خان سیاست، معیشت اور منافقت ایک ہے، اگر یہ لوگ اقتدار میں آ گئے تو نہ جانے ملک کو کیا ہو گا، ہم ملک میں سی پیک بنا رہے ہیں جس کی بنیاد آصف زرداری نے رکھی تھی، پوری دنیا کی نظریں ہم پر ہیں ، ہمارے وزیراعظم کے ساتھ امریکی ایئرپورٹ پر کیا سلوک کیا گیا، ایسے وقت میں ہم مذہبی انتہاءپسندوں کی بی ٹیم کو اقتدار میں نہیں آنے دیں گے، پاکستان کے تمام سرمایہ دار جاتی امراءاور بنی گالا میں اکٹھے ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ عمران اور نواز ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں جو دراصل طاقت اور اقتدار کی اور ٹھیکوں کی جنگ ہے ، دونوں کی جدوجہد جھوٹ اور فریب ہے، عوام کو اس بات سے غرض نہیں کہ کس کو اور کیوں نکالا گیا، پاکستان پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جو عوام کے مسائل حل کرنے میں لگی ہوئی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کو جب 2008میں حکومت ملی تو ہم نے ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد رکھنے کی مثالیں قائم کر دیں، ہم نے 517صحت کے مراکز قائم کئے ، 2013کے انتخاب میں فیصلہ تو کارکردگی پر ہونا تھا مگر طالبان نے پیپلز پارٹی کو انتخابی مہم بھی نہیں کرنے دیں، ہر دہائی میں ایک بھٹو شہید ہوا، پہلے ذوالفقار علی بھٹو پھر شاہنواز شہید، پھر مرتضیٰ بھٹو شہید اور پھر بے نظیر بھٹو شہید نے پانی جان کا نذرانہ دیا، ہر قربانی کے بعد بھٹو پھر کھڑا ہو جاتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ 6 لاکھ خاندانوں کو غربت سے نکالا، لاڑکانہ، ٹنڈو آدم اور سکھر میں عالمی معیار کے ہسپتال بنائے، عمران خان نے نمل یونیورسٹی کا ذاتی منصوبہ شروع کیا، انہوں نے عوام کےلئے کچھ نہیں کیا، بھٹو نے ہر دور میں فرعون کا مقابلہ کیا آج کا بڑا فرعون انتہا پسندی اور دہشت گردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی انتہا پسندی کی وجہ سے جو صرف ملٹری ایکشن سے ختم نہیں ہو گی، ہمیں انتہاءپسندی کو ختم کرنے کےلئے تعلیمی نصاب سے لے کر قومی پالیسیز تک ایک قومی منصوبہ پسندی کی ضرورت ہے، پی پی واحد جماعت ہے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ جس نے پوری زندگی ووٹ کو عزت نہیں دی وہ وہ آج خود ووٹ کی عزت کی بات کرتا ہے، نواز شریف صبح ججز کو گالی دیتا ہے اور شام کو وزیراعظم کو معافی مانگنے بھیج دیتا ہے ، نواز شریف بہت کنفیوژ ہیں ، یہ مصنوعی ترقی کی بنیاد پر بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں ، میاں صاحب آپ کو تین بار موقع ملا مگر آپ سے یہ ملک نہیں چلا، آپ سے یہ ملک نہیں چلے گا، بڑے میاں ہوں یا چھوٹے میاں آپ سے یہ ملک نہیں چلے گا۔ انہوںنے کہا کہ بجلی پوری کرنے کی بات کرتے تھے اب سورج چمکا تو بجلی پوری کرنے کے پول بھی کھل رہے ہیں ، میاں صاحب آپ مولاجٹ بن کر ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ، غلط عدالتی فیصلوں کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان پیپلز پارٹی کو ہوا، ہم آج بھٹو کے عدالتی قتل کا انصاف مانگتے ہیں ، میں آج آپ سے ساتھ دینے کا کہتا ہوں ہم مل کر غربت، ظلم، ناانصافی اور انتہا پسندی کے خلاف لڑیں گے۔


ای پیپر