مقبوضہ کشمیر اور انسانیت سوز بھارتی مظالم
04 اپریل 2018

حق خود ارادیت بنیادی انسانی حق ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق یہ حق مساوی طور پر تمام اقوام اور افراد کو حاصل ہے۔ خود ارادیت کا مطلب یہ ہے کہ عوام اپنی سیاسی، معاشی، سماجی اور ثقافتی فلاح و بہبود کے رخ کا تعین کرنے کا آزادانہ حق رکھتے ہیں۔ تاہم زمینی حقائق اس فلسفیانہ سوچ بچار سے سراسر مختلف ہیں۔ انسانی حقوق کے نام نہاد علم بردار مغربی ممالک کے نوآبادیاتی دور سے لے کر اکیسویں صدی میں خود ساختہ مہذب اقدار کی دعویدار اقوام کے غاصب اتحادیوں کے جبری تسلط تک، طاقت کے آگے حق خود ارادیت کو ہمیشہ خطرات در پیش رہے ہیں۔ موجودہ دور میں اس حق کی بہیمانہ نفی کی سب سے بڑی مثال مسئلہ کشمیر ہے۔


آج مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کا چوتھا روز ہے۔ 17کشمیریوں کی شہادت کے بعد وادی کے تمام بڑے قصبوں میں سخت کرفیو کے نفاذکے باوجود احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ بگڑتے حالات کے پیش نظر بھارتی حکومت نے پہلے سے موجود دس لاکھ افواج میں اضافہ کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں مزید ہزاروں فوجی تعینات کر دئیے ہیں۔ مودی سرکار مقبوضہ وادی کے حریت پسند شہریوں پر بد ترین وحشیانہ تشدد کی تاریخ میں سیاہ ترین باب رقم کر رہی ہے۔ وادی میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس، کاروباری اور تجارتی مراکز مکمل طور پر بند ہیں۔کرفیو کی خلاف وزری کرنیوالوں کو گولی مارنے کا حکم دیا ہے ۔ بھارتی فورسز فائرنگ ، پیلیٹ گنز، گولہ باری، بھاری اور ہلکے ہتھیار اور اسرائیل کے فراہم کردہ کیمیائی مواد کا کھلم کھلا استعمال کر رہی ہیں۔ غاصب بھارتی افواج چاہتی ہیں کہ کسی طرح حریت پسند کشمیریوں کی صفوں میں خوف و ہراس پیدا کر کے معصوم شہریوں کو گھروں میں محصور کردیا جائے۔ اس ضمن میں بھارتی میڈیا بھی اپنی سرکار کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے نماز کی ادائیگی کے لئے نکلنے والے افراد کو بھی شدت پسند قرار دے رہا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا اصل چہرہ ہے۔


بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کر کے مقبوضہ علاقوں میں ہندوئوں کی آباد کاری کا عمل شروع کیے ہوئے ہے۔ خوف و ہراس پھیلا کر کشمیریوں کو آبائی علاقوں سے نکلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ہر سال، سیکڑوں حریت پسندوں کو شہید اور زخمی کر دیا جاتا ہے ۔ محض گزشتہ برس گیارہ سو افراد کو نابینا کر دیا گیا۔ اس سب کے باوجود برہان وانی کی شہادت کے بعد اٹھنے والا طوفان تھم نہیں رہا۔ بھارت سرکار اور میڈیا بھی اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ مظاہرین کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے۔ یہ مقامی لوگ ہیں جو آزادی کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔ 2010ء سے مقبوضہ وادی کے ہر کونے سے درندہ صفت بھارتی افواج کے خلاف فریڈم فائٹرز ’’کوِٹ کشمیر ‘‘ تحریک چلا رہے ہیں۔ ان حالات میں بھارتی حکمرانوں کا دعویٰ کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے، پرلے درجے کی ڈھٹائی اور حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ کشمیر کے حریت پسند عوام کے جذبات اور پاکستان سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یہاں تک کہ احتجاجی مظاہرے میں اکثر نوجوان پاکستان سپر لیگ کی ٹیموں کی شرٹس پہنے اور پاکستان کے حق میں اور مودی سرکار کے خلاف نعرے لگاتے دکھائی دیے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کشمیری عوام پاکستان کو کشمیریوں کی آزادی کا ضامن سمجھتے ہیں۔ بھارتی روزنامہ ’ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق، رواں برس فروری کے مہینے میں مقبوضہ کشمیر میں پٹواری کی نوکری کے لیے امتحان ہوا۔ اس پرچے کے سوال نمبر 86 میں پاکستان کے زیر سرپرستی کشمیر کو ’’آزاد کشمیر ‘‘ لکھا گیا۔ اس سیاسی و جغرافیائی حقیقت کے اعتراف پر ماہر مضمونِ جغرافیہ کو زیر حراست لے لیا گیا۔
بھارت اور اسرائیل انسانیت سوز مظالم میں قدرتی حلیف ہیں۔ ادھر جب، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج حریت پسندوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی تھیں تو ایک روز قبل غزہ میں اسرائیلی افواج نے فلسطینیوں پر زمینی اور فضائی حملوں کا وحشیانہ سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔ مقبوضہ وادی میں بھی 17 کشمیری شہید ہوئے اور غزہ میں بھی 17فلسطینیوں کو خون میں نہلا دیا گیا۔ انسانی حقوق اور انسانیت کو المیوں سے بچانے کے باب میں عالمی شہرت رکھنے والے امریکہ اور اس کے اتحادی مغربی ممالک کا رویہ انتہائی سنگدلانہ ہے۔ یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟ مقبوضہ وادی کے عوام بلا جھجھک یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ جنوب مشرقی ایشیا میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری عوامی تحریک حریت کو کچلنے کے لائق نفریں بھارتی اقدام کو امریکا اور اسرائیل کی ہمہ جہتی پشت پناہی حاصل ہے۔ تحریک حریت کو کچلنے کے لیے، ان دونوں ممالک کی جانب سے اسلحے کی فراہمی کے ساتھ ساتھ نفسیاتی حربوں کی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔ کشمیری عوام کو زیر حراست رکھنے کے لیے قائم بھارتی ٹارچر سیلز میں اسرائیلی جیلوں کے وارڈنز اور تفتیشی ٹیمز کی موجودگی ایک تشویش ناک امر ہے۔


عالمی برادری بخوبی یہ جان چکی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان اور بھارت کے مابین جامع مذاکرات کی کوششیں کامیاب ہو سکتی ہیں ۔ تنازع کشمیر کوئی معمولی سرحدی مسئلہ نہیں بلکہ کشمیری عوام کی آزادی کا اہم اور حساس ترین معاملہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ حصول آزادی کیلئے کوشاں اقوام کے تنازعات کو کبھی بھی بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ مسئلہ کشمیر کے ماہر تجزیہ کار یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ کیا جائے، انسانی حقوق کی تمام بین الاقوامی تنظیموں کو کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دی جائے، مقبوضہ کشمیر میں تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور کالے قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔


کشمیر میں بڑھتے ہوئے بھارتی مظالم اور سیز فائر معاہدے کی بارہا خلاف روزی عالمی امن کے لئے شدید خطرات پیدا کر رہی ہے۔ اقوام عالم کو یہ احساس ہورہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کامسئلہ ہی نہیں بلکہ عالمی سیاسی مسئلہ ہے۔ رواں برس اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر زید بن رعد زید الحسین نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے جائزے کی اجازت دے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کا وفد رواں سال جون میں کشمیر کا دورہ کرے گا اور انسانیت سوز مظالم کے حوالے سے زید بن رعد زید الحسین کو رپورٹ پیش کرے گا۔ واضح رہے کہ مسئلہ کشمیرسہ فریقی تنازع ہے۔ پاکستان اور بھارت کے ساتھ ساتھ حریت پسند کشمیری عوام بھی اس تنازع میں برابر کے فریق ہیں۔ جب تک کشمیری عوام کو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی منظور شدہ قرار دادوں کے مطابق بھارتی افواج کے انخلاء کے بعد حق خود ارادیت اور حق رائے شماری نہیں دیا جاتا ، استصواب رائے کے بغیر کشمیری عوام کا مینڈیٹ واضح اور شفاف انداز میں ابھر کر دنیا کے سامنے نہیں آ سکتا۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ اپنا خصوصی نمائندہ مقرر کرے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کروائے۔ مستقل افغان امن کیلئے کشمیر کا مسئلہ پہلے حل کیا جائے کیونکہ جنوبی ایشیا اور پورے خطے میں امن صرف کشمیر کا مسئلہ حل کرنے سے قائم ہوگا۔


ای پیپر