04 اپریل 2018 (17:22)

کراچی/نئی دہلی:پاکستان کے سابق کپتان شاہد آفریدی اور انڈیا کے سابق اوپنر گوتم گمبھیر کے درمیان کشمیر کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی،بھارتی اوپنر گوتھم گمبھیر نے آفریدی کیخلا ف اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کی کوشش کی تاہم ایک بھارتی شہری نے ہی انہیں جواب دیکر خاموش کرا دیا ۔تفصیلات کے مطابق شاہد آفریدی نے ایک ٹویٹ کی جس میں انھوں نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال کو ہولناک اور پریشان کن قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب شاہد آفریدی نے انڈین حکومت کو غاصب قرار دیا اور اقوامِ متحدہ سے اپیل کی کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مداخلت کرے جہاں گذشتہ ہفتے کے اختتام پر حالیہ برسوں کا بدترین تشدد ہوا۔انھوں نے لکھا انڈین مقبوضہ کشمیر میں انتہائی خراب اور پرشیان کن صورتحال ہے۔ حق خود ارادیت اور خود مختاری کا مطالبہ کرنے والے معصوم لوگوں کو غاصب حکومت کی جانب سے مارا جا رہا ہے۔ حیرت ہے کہ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے کہا ہیں؟ وہ اس خون ریزی کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ گوتم گھمبیر نے شاہد آفریدی کے کشمیر کی صورتحال پر تبصرے کو مسترد کر دیا۔

انھوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ میڈیا مجھ سے ہمارے کشمیر اور اقوامِ متحدہ کے بارے میں شاہد آفریدی کی ٹویٹ پر ردِ عمل چاہتا ہے۔ کیا کہوں؟انھوں نے ٹویٹ میں استہزائیہ انداز میں لکھا کہ شاہد آفریدی کی ڈکشنری میں شاید یو این کا مطلب انڈر نائنٹین ہے۔ جو ان کی عمر کی حد ہے۔انھوں نے میڈیا کو پر سکون رہنے کا کہتے ہوئے شاہد آفریدی کے بیان کو نو بال قرار دیا۔ گوتم گمبھیر کے اس ٹویٹ پر ایک بھارتی شہری نے ہی انہیں جواب دینے کا فیصلہ کیا اور اپنے ٹویٹر پیغام میں بھارتی اوپنر کو آئینہ دکھاتے ہوئے لکھا کہ کچھ سال قبل میںایک دکان پر گیا جہاں کھلاڑیوں کے پوسٹرز بیچے جاتے تھے ،یہ دکان گمبھیر کے مطابق ہمارے کشمیر میں تھی ،وہاں پر گمبھیر کا تو کوئی نام و نشان نہیں تھا لیکن آفریدی کے بے تحاشہ پوسٹرز موجود تھے۔

بعد ازاں شاہد آفریدی نے ایک اور ٹویٹ میں انڈین کرکٹ شائقین کے ساتھ اپنی ایک تصویر بھی پوسٹ کی ۔انھوں نہ لکھا ہم سب کی عزت کرتے ہیں۔ اور یہ ایک کھلاڑی کی مثال ہے۔ لیکن جب بات انسانی حقوق کی آتی ہے تو ہم ایسا سلوک اپنے معصوم کشمیریوں کے ساتھ چاہتے ہیں۔


ای پیپر