کیا ملک سے لوڈ شیڈنگ ختم ہو گئی؟چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایکشن لے لیا
04 اپریل 2018 (16:30)

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے سرکاری اشتہارات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ کیا حکومت نے 90کروڑ روپے کے اشتہارات جاری کئے، ان اشتہارات میں ایک اشتہار لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کا بھی ہے، تو کیا ملک سے لوڈشیڈنگ ختم ہو گئی ہے۔ بدھ کو سرکاری اشتہار سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، یہ سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، سماعت کے دوران سرکاری وکیل نیئر رضوی نے کہا کہ حکومت نے 89کروڑ ورپے سے زائد کے اشتہارات اخبارات کو جاری کئے، 9سرکاری اشتہارات پر تصاویر موجود تھیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حکومت نے 90کروڑ روپے کے اشتہارات جاری کر دیئے۔

اشتہارات پر تصاویر کن لوگوں کی ہیں، ان اشتہارات میں ایک اشتہار لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کا بھی ہے، کیا ملک سے لوڈشیڈنگ ختم ہو گئی ہے، ایک اشتہار میں توانائی بحران کے خاتمہ پر مبارکباد دی گئی، سرکار اپنی کارکردگی سے ضرور آگاہ کرے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت کو 3ماہ سے زائد کی تفصیلات مانگنا چاہیے تھیں، ذاتی تشہیر کےلئے 3ماہ میں ایک ارب روپے خرچ کئے گئے، آپ ہمیں گزشتہ ایک سال کے اشتہارات کی تفصیلات فراہم کریں، بتایا جائے کہ اربوں روپے کے اشتہارات کون جاری کر رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ممکن ہے کہ الیکشن کے قریب ترقیاتی فنڈز پر پابندی لگا دیں، ہم قوم کا پیسہ ووٹ مانگنے کےلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے، ہم حکومت کو اشتہارات جاری کرنے سے نہیں روک رہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ حکومت اشتہار دے کر ادائیگیاں بھی نہیں کر رہی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کس کو کتنے اشتہار دینے ہیں یہ ہمارا کام نہیں ہے،اشتہارات کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔


ای پیپر