”فریاد“
04 اپریل 2018 2018-04-04

دودن قبل میں نے حسب معمول خبرنامہ لگایا، وہ کوئی پاکستانی چینل نہیں تھا غالباً ”الجزیرہ“ جوقطر کا مشہورترین چینل ہے، جس نے انتہائی کم وقت میں مقبولیت کے تمام تر ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ ان کی نشریات ، واہیات بھی نہیں ہوتیں اور قابلِ اعتماد بھی ہوتی ہیں۔
قارئین آپ کو یاد ہوگا کہ ٹرمپ ، جس کے دور میں مسلمانوں پہ ایک منظم سازش اور منصوبہ بندی کے تحت ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ شام میں ہر شام مسلمانوں کے لیے ”خون آشام“ ہوتی ہے، خدانہ کرے، مگر چشم تصور میں شام کے متاثرین ومظلومین کی جگہ اگر ہم ہوتے کہ اپنا گھر بار چھوڑنا پڑتا، مال دولت سمیٹنے اور سنبھالنے کی بھی ہوش نہ ہوتی، جان کے لالے پڑے ہوتے ، تو ہم کیا کرتے،ذرا 1947ءکی تقسیم ہند اور اپنی آزادی کو ذہن میں لائیے میں نے چینل الجزیرہ پہ دیکھا کہ غزہ میں نہتے فلسطینی احتجاج کررہے ہیں، اور اپنی روایت کے مطابق چند مظاہرین یہودی فوج پہ پتھر پھینک رہے ہیں، اچانک آسمان پہ گن شپ ہیلی کوپٹر نمودار ہوا، اور اُس نے انتہائی سفاکانہ اور ظالمانہ طریقے سے نیچے مسلمانوں پہ فائر کھول دیا ، اور میرے سامنے لاشیں گرنے لگیں، اور باحجاب عفت مآب فلسطینی عورتیں اور بچیاں لہولہان ہوگئیں، اور کئی ایک، ایک ٹانگ پہ معذوروں اور مجبوروں کی طرح بھاگنے لگیں، یہودیوں کا یہ جودوستم دیکھ کر میں سوچنے لگا، کہ پتھر اور دھات والا دور، منافقین ومشرکین اور دورجہالت کا زمانہ، آج کے دور سے کیا مختلف ہوگا، کیونکہ اس سے زیادہ ظلم اور کیا ہوگا، کہ ڈائریکٹ سیدھا فائر کرکے مظاہرین کو قتل کیا جائے۔
آزادی کے متوالے، اپنی اسلامی روایات اوررسم ورواج کے مطابق زندگی گزارنے کے متمنی کس سے شکایت کریں، کس سے فریاد کریں؟ میں آپ سے یہ گزارش کررہا تھا کہ آپ کو یاد ہوگا کہ ٹرمپ، سعودی عرب کو میکے اور سسرال والا گھر سنجھ کر جیسے پنجاب کے گلی کوچوں میں ٹرمپ کے آنے کے بعد مداری ”بندر سوہرے چلنا “والا تماشہ دکھانے بند ہوگئے ہیں، پہلے مداری تماش بینوں کو دکھانے کے لیے بندر کو حکم دیتے تھے کہ چل کے دکھاﺅ، بندر کیسے سرال جاتے ہیں؟ سعودی ولی عہد کی باتیں بھی ٹرمپ بڑے غوروفکر کے ساتھ سنتا رہا، اور رقص وسرود میں بھی مست ، ملنگ لگ رہا تھا :
میری باتیں غورسے سنتا رہا، جب تک رہا
جاتے جاتے میرے دشمن کی حمایت کر گیا
اور بالکل ٹرمپ نے ایسے ہی کیا، سعودی عرب میں اس کا رویہ کچھ اور تھا اور اسرائیل پہنچتے ہی ایسا بدلہ کہ اس نے امت مسلمہ کی اینٹ سے اینٹ بجانی شروع کردی۔ اسرائیل کا دارالخلافہ تبدیل کرکے ”کعبے میں صنم رکھ دیئے“اسرائیل کی ایک واضح حکمت عملی جو اس نے اپنائی ہے، وہ یہ ہے کہ اس نے حتمی طورپر امریکی آشیرباد سے یہ طے کرلیا ہے کہ وہ ”گریٹراسرائیل“ بنا کر دم لے گا، اور راستے میں کسی رکاوٹ یا مخالفت کو خاطر میں نہیں لائے گا۔ اس حوالے سے چونکہ یہ موضوع علیحدہ مضمون نویسی کا مطالبہ کرتا ہے۔
لہٰذا بات اپنے گھر کی کرتے ہیں، مگر چونکہ یہ بات بھی متنازع ہے، کہ پہلے گھر کی خبرلینے کا مقصد اور مفہوم ذومعنی ہے۔ مگر کم ازکم ہم یہ تو کہہ ہی سکتے ہیں کہ غزہ والا ظلم ، مودی نے کشمیر میں روارکھا ہوا ہے۔ اور وہ بھی دنیا کی تنقید وتبصروں کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اُس کی ڈھٹائی کی کھوج جو میں نے لگانے کی کوشش کی ہے، وہ ذکر کر دیتاہوں۔
ہم اپنی ناقص حکمت عملی، سیاسی تقرریوں، ناتجربہ کار سفارتکاروں کی تعیناتی سفارت خانوں میں بھی اندرون ملک کی طرح گھپلوں، برطانیہ میں اپنی رہائش گاہ کے باوجود مہنگے ترین علاقوں میں کرائے کے گھروں میں رہنے والوں سفیروں کی تربیت اور تعیناتی والے ملک کے بارے میں معلومات کا فقدان ہماری خارجہ پالیسی کے بحران کا باعث ہے ، جبکہ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ملکوں کے سفیر اور سفارتخانوں کے اہلکار اپنی تقرری سے پہلے، وہاں کی زبان سیکھتے اور اس ملک کی ثقافت ، تاریخ اور تہذیب سے اتنے واقف ہوتے ہیں کہ خود اس ملک کے باشندے بھی اتنی واقفیت نہیں رکھتے۔
ہمارے ملک میں امریکی سفارتی اہلکار، پشاور میں پشتو، بلوچستان میں بلوچی، لاہور اور اسلام آباد پنجابی اور اردو میں مکمل دسترس رکھ کر روانی سے بولتے ہیں۔ یہی حال چین، روس اور سویڈن اور ناروے کے سفیروں اور سفارتکاروں کا ہے۔ اور ان کی کامیاب خارجہ پالیسی لارنس آف عریبیہ سے شروع ہوکر ایسٹ انڈیا کمپنی تک اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مکمل تیاری اور اپنے ملک سے وفاداری ، کامیابی کی نوید اور کلید ہے۔
جبکہ ہمارے ملک میں بستر مرگ پہ پڑے ہوئے کو وزیر صحت، اور ڈاکٹر کو وزیر ٹرانسپورٹ بنادیا جاتا ہے۔ یہی حال وزارت خارجہ کا ہے، ریٹائرڈ جرنیل ، حاکموں کے قریبی دوستوں اور ریٹائرڈ افسروں کو سفیر، خارجہ امور سے بالکل نابلد کو وزارت دی جاتی ہے، جس ملک میں پانچ سالہ مدت انتخاب واقتدار میں چار سال تک وزیر خارجہ نہ ہو وہاں اگر وزیر خزانہ بھی موجود نہ ہو تو کیا فرق پڑتا ہے۔ کیونکہ ہمارے نو آموزوزیروں اور سفیروں سے زیادہ ان محکموں کے سیکرٹری دوراندیش اور زیرک ، کائیاں اور واقف حال ہوتے ہیں۔ جن کی بریفنگ کی بدولت وزیر اپنا بھرم قائم رکھتے ہیں۔
سفیروں کی سعی اور جدوجہد سے دوممالک اتنے قریب آجاتے ہیں کہ بھارت اور امریکہ کی طرح کے تعلقات قائم ہوجاتے ہیں۔ جواپنی جدید ٹیکنالوجی، تحقیق ووسائل سے اسے چین کے برابر لانے کے قابل بنانے کی کوشش میں بھارت سے بھی زیادہ فعال نظر آتا ہے۔ بھارت کی کامیاب حکمت عملی اور خارجہ پالیسی، اپنے ملک سے مکمل وفاداری کی بدولت صرف یورپی یونین کے ممالک ہی نہیں، سعودی عرب سے سوڈان، خلیجی ریاستیں، کابل، روس، مصر اور افغانستان میں ہندو ہی ہندو ہنرمند نظر آتے ہیں۔ افغانستان جیسے چھوٹے ملک میں اٹھارہ قونصل خانے کس بات کی غمازی کرتے ہیں؟ کررزئی سے لے کر اشرف غنی تک بھارت کو بہترین دوست کہتے ہیں۔ اس لیے اب افغانستان کے فوجی پاکستان کی بجائے بھارت میں فوجی ٹریننگ لیتے ہیں اور یہ بہترین ” سفارتی تعلقات“ کی پیش رفت مشرف دور میں شروع ہوئی تھی۔ ہماری ناکامی کی بہت بڑی مثال سعودی عرب ہے، جہاں جگہ جگہ بورڈ لگنے کے باوجود کہ یہاں غیرمسلموں کا داخلہ بند ہے اور یہ ممنوعہ علاقہ ہے۔ وہاں بھی ہندو دندناتے پھرتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے یہ لگی ہوئی قدغن کہ بھارتی صرف ”مسلمان“ بھرتی کیے جائیں، مگر مسلمان والی شرط بھی بھارت نے سعودی عرب سے منوا کر دم لیا ہے۔
اس موضوع پر پھر بات کریں گے، فی الحال کشمیر اور فلسطین میں ہنود ویہود نے جو طوفان اٹھایا ہوا ہے، اور سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ میں اپنی صفائی پیش کرنے سے انکار کردیا ہے، تو کیا یہ ہٹ دھرمی ٹرمپ کی آشیرباد کے بغیر ممکن ہے؟
قارئین محترم ذرا سوچیے حضرت علامہ اقبالؒ کو مفکرِ پاکستان کیوں کہتے ہیں، اُس مفکرِ اسلام نے کتنا عرصہ پہلے فلسطینی عرب سے کیا کہا تھا :
زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوزسے فارغ
میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے
تری دوانہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں !
فرنگ کی رگِ جاں پنجہ ِیہود میں ہے !
سُنا ہے، میں نے غلامی سے اُمتوں کی نجات
خودی کی پرورش ولذت ِ نمودمیں ہے !
میں معذرت خواہ ہوں کہ میں ان صفحات میں موضوع ِدردوکرب ِمسلمہ سے انصاف نہ کرسکا انشاءاللہ اگلے کالم میں اس کو سمیٹنے کی کوشش کروں گا، کیونکہ فرمانِ بابِ علم کے مطابق حضرت علی کرم اللہ وجہ‘ مظلوم کی بددُعا سے ڈرو، کیونکہ اس کی بددُعا شعلے کی طرح آسمان پر جاتی ہے۔


ای پیپر