یادیں....تماشا ئے اہل کرم دیکھتے ہیں
04 اپریل 2018

٭گزشتہ ہفتے کراچی سے آئے ہوئے سید تنویر حسین شاہ صاحب کورخصت کرنے سٹیشن گیا تو ماضی آنکھوں میں لہرا گیا۔لگ بھگ پینتیس برس ہوئے ہیں جب ہم لاہوروارد ہوئے تھے۔ہمارا پہلا پڑاﺅ ریلوے اسٹیشن تھا۔اس وقت اور آج کے ریلوے سٹیشن میں زمین و آسمان کا فرق دکھائی دے رہا تھا۔جہاں تانگہ اسٹینڈ تھا وہاں فٹ پاتھ بن چکی تھی۔سٹیشن سے باہر ایک بڑا شیڈ ہوتا تھا جہاں ریلوے کی گاڑیوں میں فروخت ہونے والے مشروبات کا ایک سٹاکسٹ ہوتا تھا۔غالباً امیر حمزہ سٹاکسٹ اس کا نام تھا۔بوتلوں کا یہ گودام نما اڈا اور اس کاٹھیکہ ان دنوں میرے دیرینہ دوست خواجہ ندیم اسلم کے والد اور ان کے ایک پارٹنر کا تھا۔خواجہ ندیم اسلم سے دوستی ہمدم ِدیرینہ اطہر ناسک کی وساطت سے ہوئی تھی اور اسی کی وساطت سے مجھے سٹیشن پر رہائش مل گئی تھی۔شروع میں کچھ مہینے شادباغ میںبھی رہا بعد میں سٹیشن کے باہرایک کمرے میں منتقل ہوگیا۔
وہ عجیب دن تھے۔لاہور میں نئے آنے والوں کو بڑے صبر آزما حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔ملتان میں اپنے محلے دار اور اس دور میں روزنامہ نوائے ملتان کے کالم نگار طفیل ابن گل کے ساتھ بیٹھ کر ہم لاہور کے خواب دیکھا کرتے تھے ۔ہرروز لاہور جانے کی منصوبہ بندی پر بات چیت ہوتی۔رضی الدین رضی لاہور جا چکا تھا۔پھرطفیل ابن گل نے رختِ سفر باندھا۔بعد میں خواجہ ندیم اسلم نے اپنی موٹر سائیکل بھی ریل کار میں رکھی اور میرے ساتھ لاہور آگیا۔ایک دو روز تو بطور مہمان خواجہ ندیم اسلم کے گھر گزر گئے۔پھر مجھے شادباغ میں کمرہ مل گیا اور میں آتے جاتے لاہورریلوے سٹیشن پر ناشتہ کرتا اور پھر شہر کی بھیڑ میں گم ہو جاتا۔شروع میں طفیل گل اور مجھے روزنامہ آفتاب میں پناہ ملی، بعد میں طفیل امروز میں چلا گیا اور میری بطور لیکچرار پہلی پوسٹنگ گورنمنٹ اسلامیہ کالج قصور ہو گئی۔اس پوسٹنگ سے قبل کئی مراحل سے گزرنا پڑا۔کہتے ہیں لاہور میں آنے والوں کو خاصا کشٹ کاٹنا پڑتا ہے۔لاہور شروع ہی سے ادب و ثقافت اور فنون کا مرکز رہا ہے اور یہاں کے بیشتر مشہور لوگ لاہورکے باسی نہیں تھے بلکہ دوسرے شہروں سے یہاں منتقل ہوئے۔طفیل گل کہا کرتا تھا اختر اگر شاعری میں نام کمانا ہے تو تمہیں لاہورجانا پڑے گا۔میں اور اطہر ناسک بھی فلمی گیت نگاری میں طبع آزمائی کا شوق رکھتے تھے۔بس خواجہ ندیم اسلم نے جب یہ بتایا کہ لاہور میں رہائش کا کوئی مسئلہ نہیں اس کا بندوبست کر دیا جائے گا تو میں نے ملتان سے لاہور منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔شروع میں تو بس ایک آوارگی کا کورس تھا جو کیا جارہا تھا،صبح دس بجے کے بعد پہلے ریڈیو کا چکر لگتاپھر روزنامہ آفتاب اور شام کو فلم سٹوڈیویا پاک ٹی ہاﺅس۔یہی معمول تھاالبتہ لیکچراری کے بعدمعمولات میں کچھ تبدیلی آئی۔ ۔ان دنوں کا لاہوربہت آباد ہوا کرتا تھا۔شہر میں احمد ندیم قاسمی حلقہ فنون کے سرپرست تھے اورشہر کے بیشتر ممتاز شعراءاسی حلقے سے وابستہ تھے۔عارف عبد المتین، قتیل شفائی، شہزاد احمد، امجد اسلام امجد، عطاءالحق قاسمی، خالد احمد، نجیب احمد سے لے کر اعجاز رضوی تک احمد ندیم قاسمی کے سایہ شفقت میں تھے۔شہزاد احمد البتہ وزیر آغا گروپ میں بھی اٹھتے بیٹھتے۔دیگر ادبی شخصیات کی کہکشاں میں اس وقت ظہیر کاشمیری، سیف الدین سیف ،منیر نیازی، احمد راہی، یزدانی جالندھری، طفیل ہوشیارپوری اور اظہر جاوید اپنے اپنے آسمانوں پر دمک رہے تھے۔پاک ٹی ہاﺅس میں انتظارحسین ،خواجہ محمد زکریا، سہیل احمد خان، اکرام اللہ، اسرارزیدی، زاہد ڈار، سلیم شاہد، یونس ادیب، یونس جاوید، آزاد کوثری، رشید مصباح ایاغ عیسٰی خیلوی کے ساتھ ساتھ کئی نوجوان ادیب شاعر نظر آتے تھے۔حلقہ ارباب ذوق کے اجلاسوں میں بڑی رونق ہوا کرتی تھی۔پاک ٹی ہاﺅس میں حلقہ ارباب ذوق کے ہفتہ وارا جلاس منعقد ہوتے تو ٹی ہاﺅس میں بیٹھنے والے بھی اس میں شریک ہوتے۔ان اجلاسوں میں ہم نے اکثراشفاق احمد، صلاح الدین محمود، مظفرعلی سید، شہرت بخاری، انجم رومانی ، صابر لودھی، سجاد باقر رضوی، جیلانی کامران، حبیب جالب، مستنصر حسین تارڑ،اصغر ندیم سید ، اجمل نیازی ، سیف زلفی سے لے کر سعادت سعید تک سبھی کو دیکھا۔
بات قدرے دور نکل گئی ،ریلوے سٹیشن کے ذکر سے بات چلی تھی۔میری پہلی پوسٹنگ گورنمنٹ اسلامیہ کالج قصور میںہوئی تھی، مجھے جی ٹی ایس کی بس پر ہرروز قصور جانا پڑتا تھا۔واپسی پر تقریباً شام ہو جاتی تو ہم فلمی سٹوڈیو یا پاک ٹی ہاﺅس نکل جاتے تھے۔جی ٹی ایس کا اڈا بھی ریلوے سٹیشن سے چند قدموں کے فاصلے پر تھا۔ریلوے سٹیشن کے ایام کا ایک دلچسپ واقعہ اب تک میرے حافظے میں محفوظ ہے....میں سٹیشن سے ملحقہ ایک کمرے میں رہتا تھا سورات 10 بجے کے بعد ہی کمرے میں لوٹتاتھا پھر کپڑے تبدیل کر کے کچھ دیر آرام کرتا اور اکثر اوقات میںاپنے سونے کے لباس ہی میں قریبی ہوٹل پر چائے پینے چل پڑتا۔ ان دنوں سردیا ں تھیں اور میں رات کو ایک اونی گرم چادر اور ٹوپی اوڑھتاتھا ۔اسی ہوٹل میں جب صبح کالج جاتے ہوئے ناشتہ کرتا تو ہوٹل کے ویٹر کا رویہ کچھ اور ہوتا تھا۔وجہ صاف ظاہر تھی۔میں پینٹ شرٹ پہنے ہوتا تھا۔بیرا مجھے بابوجی کہتا بھاگ کر قریب آتا،میز صاف کرتا اور آرڈر لے کر فی الفور مجھے ناشتہ کرواتا۔اس کے عوض میں اسے ٹپ بھی دیتا تھا۔رات گئے میں اپنی گرم رنگ برنگی چادراوڑھے ٹوپی پہنے قدرے بکل سی مارے اسی ہوٹل میں داخل ہوتا تو مجھے ایک کپ چائے کے لئے پہروں انتظار کرنا پڑتا تھا، میں ہرروز رات گئے اسی حلیے میں چائے کے لئے جاتا تو وہ بیرا آنکھ اٹھا کر بھی مجھے نہ دیکھتا۔بلکہ بار بار پکارنے پر قدرے ناگواری سے میری میز تک آتا۔کبھی کبھی تو اس فقیرانہ حلیے میں وہ مجھے ڈانٹ بھی دیتا۔اس کا رویہ بہت تلخ ہوتا جسے میں بہت انجوائے کرتا۔شاید وہ مجھے گداگر ہی سمجھتا تھا جس سے اسے کوئی ٹپ وغیرہ کی امید بھی نہ تھی۔سخت سردیوں کے وہ دن میں کبھی نہیں بھولتا جب ہوٹل کا بیرا مجھے نہایت ناگواری کے ساتھ ایک کپ چائے لاکر دیتا بلکہ میرے آگے چائے رکھنا بھی وہ احسان سمجھتا تھا۔لیکن صبح ہوتے ہی جب میں ” سوٹڈ بوٹڈ“ اس ہوٹل پر جاتا تووہ لپک کر میرے قریب آتا، کسی خالی میز پر میری کرسی سیدھی کرتا، میز صاف کرتا، آرڈر لیتا اورصاف ستھرے برتنوں میں ناشتہ میرے سامنے رکھتا۔باﺅ جی ،باﺅجی کہتے اس کی زبان نہ تھکتی تھی لیکن رات کووہ مجھے سادہ سے حلیے میں نہ پہچان سکتا تھا۔کچھ میں بھی دانستہ لطف لینے کیلئے شرارتاً لباس وآوازسے اس کو پتا نہ چلنے دیتا کہ میں وہی صبح والا اس کا باﺅجی ہوں۔
مجھے سردیوں کے دنوں کی وہ چائے معمولی سی تضحیک کے ساتھ بڑی اچھی لگتی تھی حالانکہ میں روزانہ چائے کے پیسے ادا کرتا تھا مگر اس بیرے کا رویہ اس حلیے میں کبھی میرے ساتھ شائستہ نہ ہوسکا۔جب تک سٹیشن کے قریب رہا میں اس ہوٹل پر دن میں دوبار ضرور جاتا ،ایک صبح ناشتہ کے لئے اور ایک بار رات کو دودھ پتی پینے کے لئے۔مگررات کی چائے پینے میں مجھے زیادہ مزہ آتا کہ اس بیرے کا ناروا سلوک مجھے اچھا لگتا اور میں سوچا کرتا کہ لباس بھی کیا چیز ہے، دنیا میں لوگ ملبوسات سے شخصیت کا اندازہ لگاتے ہیں۔اگر آپ غریب مسکین ہیں اور سادہ لباس، خاص طور پر شلوار قمیص پہنتے ہیں تو آپ بھلے اچھی خاصی حیثیت کے مالک بھی ہوں تو بیشتر افراد آپ کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔
دنیا میں ظاہری شان وشوکت اور شخصیت کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے غالب کا شعر یاد آتا ہے
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں


ای پیپر