ضرورت ہے کراچی کو ایک منتخب مسیحا کی
03 ستمبر 2020 (10:33) 2020-09-03

کراچی جس خوفناک اور المیاتی صورتحال سے دوچار ہے اور آج ہمارے منی پاکستان کاکوئی والی وارث نظر نہیں آتا… اس کا اصل سبب کیا ہے… کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی جو 2008ء سے صوبہ سندھ میں مسلسل برسراقتدار چلی آ رہی ہے مگر اسے صوبائی دارالحکومت سے ووٹ نہیں ملتے لہٰذا یہ شہر عظیم زمینی مصیبتوں سے دوچار ہو یا آسمان سے آفت ٹوٹ پڑے صوبے کی حکومت کو پرواہ نہیں ہوتی… اس کی حرماں نصیبی کو نظرانداز کرتے ہوئے محض رسمی کارروائیوں اور بیان بازی پر اکتفا کرتی ہے… یا یہ کہ ایم کیو ایم جو ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر اور مملکت خداداد کے صنعتی و اقتصادی دارالحکومت پر اسّی کی دہائی کے اواخر سے حکمران چلی آ رہی تھی اس سے اس کا اقتدار چھین لیا گیا ہے بچی کھچی بلدیاتی حکومت کو بھی غیرفعال کر کے رکھ دیا گیا اور شہر کے میئر کو محض آنسو بہانے کے لئے چھوڑ دیا گیا … علاوہ ازیں شہر قائد اور اس کے باسیوں کی مصیبت زدگی میں تازہ ترین اضافے کا سبب یہ بھی ہے 2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں وفاقی حکومت کی طنابیں اپنے ہاتھ میں لینے والی عمرانی جماعت کو زیادہ پرواہ نہیں کیونکہ پچھلے چنائو میں جن قوتوں نے اسے شہر سے قومی اسمبلی کی چودہ نشستوں اور اسی تناسب کے ساتھ دگنی صوبائی نشستوں کا تحفہ لے کر دیا اگر اس نے اپنا دست شفقت آئندہ بھی قائم رکھا اور کوئی متبادل نہ ملا تو کراچی کی نمائندگی کا ’شرف‘ ہر صورت میں حاصل رہے گا… مرکز میں خان بہادر کی حکومت و اقتدار کی پختگی کا باعث بنتا رہے گا… لہٰذا زیادہ دردسر مول نہ لو… پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت  کو مطعون کرتے رہو مقتدر قوتیں بھی اس پارٹی کو پسند نہیں کرتیں… اس کے قائدین کے خلاف ایک کے بعد دوسرا مقدمہ دائر کیا جاتا ہے… ان کی خوشنودی کا بھی تقاضا ہے اس پارٹی کے خلاف الزام بازی کی مہم کو جاری رکھو… شہر کی ہر ہر خرابی کا اسے ذمہ دار ٹھہراتے رہو… وقت گزرنے کے ساتھ یہاں کے شہریوں کے مصائب و الائم میں کمی آ جائے گی… یا وہ ان کی زندگی کا حصہ بن جائیں گے… صبرو شکر کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہو گا… ہمارا پیار راضی رہنا چاہئے… حق یہ ہے ان تمام اسباب نے مل کر کراچی کے مسائل کو لاینحل بنا کر رکھ دیا ہے… شہر کی حکومت کو اپنا حق سمجھنے والی تینوں جماعتوں میں سخت بداعتمادی کی فضا پائی جاتی ہے ہر جماعت دوسری کی قیادت کو کراچی کا مجرم سمجھتی ہے… مقام حیرت ہے جس شہر کے لوگوں کی شرح خواندگی ملک بھر میں سے سب سے زیادہ ہے تعلیمی مراکز کا گڑھ ہے… جو ٹیکسوں کی مد میں سب سے زیادہ آمدنی کما کر قومی خزانے اور پاکستان کی معیشت کو سنبھالا دے کر رکھے ہوئے ہے… جہاں کا کاروبار اگر بند ہو جائے اور صنعت کا پہیہ حرکت میں نہ رہے تو مملکت خداداد کے بیس بائیس کروڑ عوام کی زندگیاں بری طرح متاثر ہوتی ہیں اس کے باسی اس قدر بے بس ہو چکے ہیں کہ مختلف دیدہ و نادیدہ قوتیں ان کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہی ہیں وہ اپنے آپ کو درپیش حالت تبدیل کرنے کے قابل نہیں پاتے… محض چیخ و پکار پر گزارہ کر رہے ہیں… 

کراچی جو پاکستان کا پہلا دارالحکومت تھا… روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا… ہماری واحد بندرگاہ تھی اور ہے… جگ مگ کرتے اس شہر میں ملک بھر سے روزگار کے متلاشی اور اپنے کاروبار کو وسیع کرنے کے متمنی لوگ یہاں آ کر بسیرا کرتے تھے اسی لئے منی پاکستان کے نام سے پکارا جاتا تھا اور شائد اب بھی کسی حد تک اس امتیاز کو برقرار رکھے ہوئے ہے اس کے پے در پے مسائل میں اس وقت اضافہ ہونا شروع ہوا جب 1964-65ء کے صدارتی انتخابات میں یہاں کے باشعور اور جمہوریت پسند شہریوں نے جن میں اکثر نے تحریک پاکستان میں براہ راست حصہ لیا تھا اور ہجرت کے دکھ برداشت کئے تھے پہلے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب کے حق میں ووٹ نہ ڈالے اور بانی پاکستان کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تب انتقام لینے کی خاطر ایوب کے بیٹے گوہر ایوب نے شہر میں آباد پٹھانوں اور اکثریتی اردو بولنے والوں کے درمیان فسادات کی آگ بھڑکا دی… 

پھر 1970ء کا انتخاب جیتنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے ’’ٹیلنٹڈ‘‘ کزن وزیراعلیٰ ممتاز علی بھٹو نے کوٹہ سسٹم متعارف کرا کے سندھیوں اور مہاجروں میں مغائرت پیدا کر دی تھی… جس کا کڑوا پھل آج تک کھانے کو مل رہا ہے… آج کے مسائل کی جڑیں بڑی حد تک ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے ہاتھوں ذوالفقار علی بھٹو کی عدالتی قتل والی پھانسی پائی جاتی ہیں جس نے اندرون سندھ میں وہ ردعمل پیدا کیا کہ ایم آر ڈی کی تحریک فوجی آمریت کے لئے ملک بھر میں چیلنج بن گئی… اس سے نبردآزما ہونے کی خاطر سندھی اور مہاجر تفریق کے شعلوں کو بھڑکایا گیا… ان کی آگ نے صوبہ سندھ کے پیشتر شہروں کو جہاں جہاں اردو بولنے والے آباد تھے اپنی لپیٹ میں لے لیا… کراچی اور حیدرآباد اس سے بہت زیادہ متاثر تھے بلکہ اس نفرت انگیز لسّانی تفریق سے جنم لینے والے قتل عام ، بوری بند لاشوں اور بھتہ خوری کی وجہ سے جھلس کر رہ گئے… جوں جوں ایم کیو ایم پروان چڑھی… باہمی نفرت کے بیج بو دیئے گئے ایم آر ڈی کی تحریک تو آہستہ آہستہ دم توڑ گئی… لیکن اسے بے اثر بنانے کی خاطر صوبہ سندھ کی دو بڑی آبادیوں کے درمیان ہم آہنگی کی جیسی بھی فضا پائی جاتی تھی اور مل جل کر رہنے کا جیسا بھی جذبہ پایا جاتا تھا اس کی دیوار گرا دی گئی… کراچی کی پٹھان اور پنجابی لوگوں کی آبادیاں بھی اسی کی زد میں آ گئیں… ایک دوسرے کا گلا کاٹ دینے اور لسّانی مخالفین کو گولیوں کی نذر کر دینے کی فضا نے وسیع پیمانے پر جنم لیا… ایم کیو ایم نے انتخابی عمل پر مکمل قبضہ جما لیا… الطاف حسین اور ان کی تنظیم کو جنرل ضیاء الحق کی آمریت نے جنم دیا تھا… ایجنسیاں پشت پناہی کر رہی تھیں… مہاجرین کے جذبات کو خوب بھڑکایا گیا… الطاف کی مرضی کے بغیر شہر کا پتّا تک نہیں ہلتا تھا… جنرل مشرف نے ملک کے اقتدار پر قبضہ کیا تو ایم کیو ایم اس کی فطری حلیف تھی… الطاف پر لیکن قتل کے اتنے مقدمات درج ہو چکے تھے کہ اس نے 1992ء سے لندن جا کر پناہ لے رکھی تھی لیکن کراچی اور حیدرآباد پر اس کی حکمرانی بدرجہ اتم قائم رہی… بیلٹ بکس پر بھی اس کے قبضے کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں تھا… اس سب پر مستزاد بھتہ خوری کی لعنت کو آمدنی کے حصول کا بڑا ذریعہ بنا لیا گیا… ستمبر 2013ء میں نوازشریف نے دوسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد رینجرز اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے تعاون کے ساتھ اسی گندگی سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی اپنی سی کوشش کی…

جو بارآور بھی ثابت ہو رہی تھی… اس کا گراف نیچے کی طرف آ رہا تھا کہ نواز حکومت کو الٹا کر رکھ دیا گیا… 2018ء کے چنائو میں جیسا کہ سطور بالا میں عرض کیا گیا شہرقائد سے قومی اسمبلی کی چودہ نشستیں تحریک انصاف کی جھولی میں ڈال دی گئی… ایم کیو ایم ہاتھ ملتے رہ گئی… فیصل واوڈا کی نشست پر میاں شہباز شریف دس ہزار ووٹوں کی اکثریت سے جیت رہے تھے… لیکن ان کی شکست کا بھی اعلان ہو گیا اب کراچی و حیدرآباد کا اقتدار تین جماعتوں میں بٹ کر رہ گیا… وفاق میں وزیراعظم عمران خان کی تحریک انصاف، صوبائی حکومت پر پیپلز پارٹی کی مکمل دسترس اور بچے کھچے بلدیاتی اختیارات ایم کیو ایم کے ’’بیچارگان‘‘ کے پاس جو اوپر کے اشارے کے تحت وفاقی حکومت کا ساتھ دینے پر تو مجبور تھے لیکن اپنے پلّے کچھ باقی نہ رہا… ان کا میئر رو کر دکھا دیتا تھا… اس طرح تینوں جماعتوں کی باہمی رقابت نے وہ پراگندگی پھیلائی کہ کراچی میں نظم و نسق کا کوئی نظام عملاً باقی نہ رہا… الزام بازی (BLAME GAME) نے زور پکڑا… شہر کا کوئی پُرسان حال نہ رہا… اسی عالم میں بارشوں نے آسمانی آفت کی شکل اختیار کر کے تباہی پھیلانی شروع کر دی… موجودہ موسم برسات تو ایسا معلوم ہوتا ہے اس شہر آشوب کے لئے طوفانِ نوح کا پیغام لے کر آیا ہے… گھر گھر پانی میں ڈوبا ہوا ہے… جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر ہیں… نالے شہر بھر کے کوڑا کرکٹ اور گندگی سے بھرے پڑے ہیں… نکاسی آب کا کوئی انتظام نہیں ، روشنیوں کے شہر کی فضا متعفن ہو چکی ہے… غریب لوگ کیا نام نہاد معزز حضرات اور صاحب ثروت کنبوں کے لئے اطمینان اور سکون کے ساتھ رہنا مشکل تر ہو گیا ہے… کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے اس کے منفی اثرات پورے پاکستان کی معیشت پر پڑ رہے ہیں… عمران خان نے انتخابات سے قبل اور مابعد بار بار اعلانات کئے وہ کراچی کے لئے ایک بڑے پیکیج کا اعلان کریں گے جس سے اس عظیم شہر کی حالت تیزی سے سدھرنا شروع ہو جائے گی… ایسا مگر نہ ہوا… اب جو پانی پلوں سے اوپر بہہ نکلا ہے تو وزیراعظم بہادر کل جمعہ کے روز ایک سو باسٹھ ارب روپے کا پیکیج لے کر وہاں قدم رنجا ہونے والے ہیں… بڑے پس و پیش کے بعد صوبائی حکومت کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کا عندیہ دیا ہے… ان سے دو روز قبل آرمی چیف نے شہر کا ہوائی دورہ مکمل کر لیا ہے اور بدھ کی سہ پہر جبکہ یہ سطور قلمبند کی جا رہی ہیں مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف وہاں پہنچے ہوئے ہیں… آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے ساتھ شہر کا بگاڑ دور کرنے کی خاطر ان کے مذاکرات جاری ہیں…مگر حالت یہ ہے شہر کے میئر کی انتخابی مدت گزشتہ 28 اگست کو ختم ہو چکی ہے… نئے ایڈمنسٹریٹر پر وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان اتفاق عمل میں نہیں آ رہا… کراچی کے شہری عجیب بے چارگی اور لاچاری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں… مسئلے کا فوری اور واحد حل یہ ہے جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں جو ہر لحاظ سے آزادانہ اور شفاف ہوں تاکہ تین کروڑ شہریوں کی صحیح معنوں میں نمائندہ شہری حکومت وجود میں آئے… اس کا سربراہ میئر کہلائے یا ایڈمنسٹریٹر وہ شہرقائد کے معاملات کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے… اسے وفاق اور صوبے دونوں کا بھرپور اعتماد حاصل ہواور اپنے شہریوں کے سامنے بھی مکمل طور پر جواب دہ بھی… صرف ایسے منتخب مسیحا یا عوامی میئر اور بلدیاتی انتظامیہ کی زیرنگرانی منی پاکستان کی قسمت بدلنے کے عمل کا آغاز ہو سکتا ہے… 


ای پیپر