ہلچل شروع
03 ستمبر 2020 (10:32) 2020-09-03

 مریم نواز سیات میں اپنا مقام بنا چکی ، جو لوگ ان کو موروثی سیاست کا ایک کردار سمجھ کر نظر انداز کرتے نظر آئے ان کو ماننا پڑ گیا۔ مریم نے آزمائش میں ثابت قدم رہ کر جو مقام بنایا اب پارٹی کے کارکن پارٹی صدر کی بجائے نائب صدر کی طرف دیکھتے ہیں۔ طویل خاموشی کے بعد یکم ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کو طلب کررکھا تھا جہاں ان کی سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہونی تھی۔گزرے مہینے میں نیب نے بھی سوال نامے کا جواب دینے کے لیے بلایا تھا مگر ایک بڑی خبر بن گئی جس کے بعد لندن میں نواز شریف بھی خاموشی توڑ کر بول اٹھے وہاں مریم نواز نے اپنی جبری زبان بندی کو توڑتے ہوئے قیا دت کے ساتھ ایک دھواں دار اور نپے تلے الفاط میں ایسی پریس کانفرنس کر ڈالی، جس نے سیاسی ماحول کو گرما دیا۔ جس کا دوسر ا"حصہ "تو اسلام آباد پیشی کے موقع پرسامنے آیا ۔مریم نواز نے اس کابھر پور فائدہ اٹھا یا اور مری سے اسلام آباد ہائی کورٹ تک ایک بڑا جلوس لے کر چلیں۔ مریم کی پیشی پر اسلام آباد میں ہائی الرٹ جیسی پوزیشن تھی ان کی حکمت عملی کامیاب رہی۔ مریم نواز کی اس انٹری کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں عدالت نے مریم نواز کے بارے میں میں کہا کہ اب ان کو اپنی اپیل کی سماعت پر آنے کی ضرورت نہیں ہے۔البتہ نواز شریف کو نو دن کی مہلت دی ہے کہ وہ عدالت کے سامنے سرنڈر کرے۔ وہاں حکومت سے بھی جوابات مانگے ہیں۔

اب نواز شریف کے لیے پاکستان آنا لازم ہو گیا ہے۔ ان کو حکومت کا کوئی دعویٰ یا معاہدہ نہیں لا سکتا۔ مریم نواز کی تو ضد ہے ان کے والد علاج کرانے کے بعد ہی واپس آئیں گے۔ مریم نواز صاحبہ جب عدالتوں کی بات ہو وہاں ضد نہیں چلتی۔نواز شریف آتے ہیں یا نہیں اب بھی بہت سارے آپشن کھلے ہوئے ہیں حلف نامہ داخل کرواتے وقت شہباز شریف نے کہا تھا کہ وہ اپنے بھائی کو خود لے کر آئیں گے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عدالتوں پر ایک بار پھر سیاسی مقدمات کا دبائو بڑھنے والا ہے۔ بہت سے بڑے مقدمات شروع ہونے جا رہے ہیں جن میں نواز شریف کے پرانے معاملات بھی کھل سکتے ہیں۔ اب مریم نواز میدان میں آ چکی ہیں اور وہ اپنے پہلے سے سخت بیانیے کے ساتھ ہیں انہوں نے پیشی کے بعد میڈیا کے ساتھ جو گفتگو کی ہے وہ ہمارے کپتان کی اصطلاح میں بڑے بڑے چھکے مار کر گیند کو بائونڈری لائن سے باہر کر چکی ہیں۔ جو بات ملکی سیات کے بڑے بڑے نہیں کر رہے تھے اور ہمارا نام نہاد میڈیا تو بے چارہ دبک کر بیٹھ گیا ہے۔ اس بچارے نے تو حکومت کے کنٹرول میں چلنے والے پیمرا کے ہاتھوں بڑی مار کھائی ہے وہ کیا بولتا البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ مریم کے بات کرنے سے حکومت بھی بولی ہے اور میڈیا بھی وہ معاملہ ہے عاصم سلیم باجوہ کا جن کے بارے میں احمد نورانی نے تحقیقاتی رپورٹ ایک گمنام ویپ سائٹ سے پوسٹ شائع کی۔ جس میں کرپشن کا الزام نہیں لگایا بلکہ اثاثوں کی تفصیل شائع کی ہے۔ عاصم سلیم باجوہ اب فوج سے وابستہ نہیں بلکہ وہ عمران خان کی پارٹی اور حکومت سے تعلق رکھتے ہیں ان کے خاندان کی سیاسی وابستگی تحریک انصاف سے ہے۔ جب ایک جرنیل فوج سے سیاست میں آتا ہے تو اس کا اصل حوالہ سیاست ہی ہوتی ہے۔ ایوب خان نے اقتدار کے دوران فوج چھوڑ دی سیاست میں آئے کنونشن لیگ بنا لی اس کے صدر بنے ان کے دورمیں ہی ایوب خان کے خلاف گندھاراانڈسٹری کا سکینڈل بنا۔ کسی اخبار میں اس کے بارے میں ایک لفظ شایع نہیں ہوا مگر ایک دن مغربی پاکستان اسمبلی کے سپیکر مبین الحق صدیقی نے اپوزیشن کو گندھارا اندسٹری کے سکینڈل پر بات کرنے کی اجازت دے کر اپنی کرسی دائو پر لگا دی۔ اس کی خبریں شائع ہوئیں مگر نواب کالا باغ نے وزیر خزانہ مسعود صادق کو حکم دیا کہ سپیکر کو 

نکالو۔ان کو نکال دیا گیا۔ گندھارا انڈسٹری کا سکینڈل دوسرے عوامل کے علاوہ ایوب حکومت کے زوال کا سبب بنا۔ اس طرح ائیر مارشل اصغر خان کو سیاست کی سزا بھگتنا پڑی۔ پھر اصغر خان کی وجہ سے جنرل درانی اور مرزا اسلم بیگ مشکل میں پڑے۔اس طرح فوج اور سیاست دو الگ شعبے ہیں۔اب مریم نواز جم کربولی ہیں سی پیک کے حوالے سے برسیں ہیں۔ تقریباً 22 ماہ بعد منگل کو العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت ہوئی جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اپنے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئیں۔ ان کی پیشی پر احاطہ عدالت کو ریڈ زون قرار دے دیا۔جس پر شاہد خاقان عباسی نے حکوت 

اور عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ مریم نواز نے اس موقع کواپنے سیاسی پوائنٹ سکور کے لیے استعمال کیا "اگر نواز شریف جیلیں بھگت سکتے ہیں، ان کی بیٹی ڈیتھ سیل میں رہ سکتی ہے اور عدالت میں پیش ہو سکتی ہے۔ تو پھر چاہے وہ نواز شریف ہو، مریم نواز ہو، عاصم سلیم باجوہ ہو، میر شکیل الرحمن، قاضی فائز عیسیٰ یا سرینا عیسیٰ ہو، سب عدالتوں کے سامنے پیش ہو سکتے ہیں۔ قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔اب تو معاملہ رسیدیں مانگے کا شروع ہو چکا ہے ۔ ایک سوال انہوں نے کپتان سے بھی پوچھا ہے " عمران خان کہا کرتے تھے کہ نواز شریف کے باہر جانے سے میرا احتساب کا بیانیہ کمزور ہو گیا، پھر ضمانتوں پر بھی یہی کہا، آج عاصم سلیم باجوہ پر الزامات لگے، تو ان کے احتساب کے بیانیے کے مطابق کیوں جواب نہیں دیا جا رہا۔"مریم نواز نے سی پیک کے حوالے سے سیاسی تھیوری کو بھی رد کیا ہے۔ جس میں بھارتی میڈیا نے پاکستان کے سابق جرنیل پر الزامات کے حملے کئے ہیں " نہ یہ سازش ہے، نہ سی پیک کے خلاف سازش ہے، یہ انفرادی شخصیت پر الزام لگے ہیں۔ نواز شریف کو ایک اقامہ پر باہر نکال دیا گیا۔ اگر ایک شخص چلا جائے گا تو اس سے سی پیک کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔" اب شبلی فراز اور شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ احمد نوانی کے الزامات پر وضاحت آجانی چاہیے۔ جہاں تک سی پیک کا تعلق ہے اس پر سب سے زیادہ الزامات تو عمران خان کی طرف سے ماضی میں حکومت پر لگتے رہے ہیں۔ اب خود کپتان نے سی پیک میں سعودی عرب کو شامل کرنے کا دعوی کیا تھا اور خاص طور پر جب ملتان کی میٹرو پر شہباز شریف پر کرپشن کے الزامات لگے تو سب سے شدید رد عمل چین کی طرف سے ہی آیا تھا۔اس گھمبیر صورت میں سیاست کا نیا منظر نامہ ابھر رھا ہے۔ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے اختلافات ختم ہو چکے۔ ستمبر کے مہینے میں اے پی سی ہونے جارہی ہے مگر حکومت اب یہ دعوی کر رہی ہے کہ مسلم لیگ ن میں شہباز شریف کا گروپ بننے جا رہا ہے۔مسلم لیگ میں اب تک دو سالوں میں ایک بیانیہ ہے اور وہ مریم نواز کی شکل میں سامنے آرہا ہے۔ حقیقت یہ ہے سیاست میں اس و قت محاذ آرائی ملک کے لیے بہتر نہیں ہے۔ پاکستان کی سرحدوں پر بڑی گرما گرمی ہے۔ چین اور بھارت ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں۔عوام کی زندگی پستی کی حدوں کو چھو رہی ہے۔ چنگاری بھڑک اٹھی تو ایوب خان راتوں رات آسماں سے زمین پر آ گرے۔ مشرف مکے لہراتا جلا وطن ہوگیا۔ مقبولیت کا دعویٰ بے سود ثابت ہوا۔ پوچھا مال کیسے بنایا جواب تھا عرب بادشاہ کی محبت سے۔ریاست مدینہ میں تو بیٹے سے تنخواہ نہ لینا کرپشن نہیں تھی۔نقارہ بج چکا منیر نیای نے کہا تھا 

جو ہویا ایہہ ہونا ای سی

تے ہونی روکیاں رْکدی نئیں

اِک واری جدوں شروع ہو جاوے

گل فیر اینویں مْکدی نئیں


ای پیپر