افغانستان:امن کی امیدوں پر بدامنی کے سائے
03 ستمبر 2020 (10:31) 2020-09-03

افغانستان میں امریکی سپانسر کر دہ انٹرا افغان ڈائیلاگ جو اگلے ہفتے دوحا قطر میں ہونے جا رہے ہیں،اس وقت پوری دنیا خصوصاً سائو تھ ایشیا کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں۔ان مذاکرات میں 2بنیادی روکاوٹیںپیدا ہوچکی ہیں۔ افغان حکومت کو تشویش ہے کہ مذاکرات اور صلح کے باوجود طالبان حملوں میں کمی نہیں آرہی۔ دوسری اور بنیادی رکاوٹ یہ ہے کہ طالبان قیدیوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے امریکیوں کو ہلاک کیا ہے۔ ان قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ ہوچکا ہے مگر حالیہ پیش رفت کی وجہ سے امریکہ اپنے فوجیوں کے قاتلوں کو سخت سزا دینے کی خواہش کے باوجود ان کی رہائی سے انکار بھی نہیں کر رہااس کے لیے افغان قیادت کو آگے کر دیا گیا ہے کہ وہ اعتراض کریں مگر طالبان اس پر کلیئر ہیں کہ اگر انہیں رہا نہ کیا گیا تو امن اور صلح کا عمل ختم کر دیا جائے گا۔ امریکہ کیلئے یہ دونوں آپشن بہت مشکل ہیں۔ نہ انہیں رہا کر سکتے ہیں نہ سزا دے سکتے ہیں۔ایک طرف ہاورڈ اور آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ امریکی دفاعی اور سیاسی ماہرین ہیں جب کے مذاکرات کی ٹیبل کے دوسری طرف پہاڑوں پر پلنے والے طالبان ہیں جنہوں نے فارن پالیسی تو کیا کسی سکول کا منہ بھی نہیں دیکھا مگر اپنی بات منوانے میں ان کا پلہ بھاری ہے۔

گزشتہ19سال کی خانہ جنگی اور چھاپہ مار کارروائیوں میں طالبان کی ایک جنگی چال یہ تھی کہ وہ اپنے وفاداروں کو افغان فوج میں بھرتی کرواتے تھے۔ افغا ن فوج میں کام کرنے والے یہ خفیہ طالبان کو جب امریکی فوجی اڈوں پر تعینات کیا جاتا تو وہ امریکیوں پر براہ راست فائر کھول دیتے اس طرح کی ایک جیسی درجنوں وارداتوں نے امریکہ کو بو کھلاکر رکھ دیا۔ امریکیوں کے پاس اس کا حل نہیں تھا اس کے بعد امریکہ نے براہ راست طالبان سے بات کر نے اور افغانستان سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔

اس سال کے شروع میں فروری میں دوحا میں ہونے والے مذاکرات میں جو روڈ میپ دیا گیا، اس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ 5000افغان 

طالبان کو رہا کیا جائے گا۔اس وقت تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ 5ہزار میں سے 4600 طالبان رہا ہوچکے ہیں۔بقیہ 320قیدی وہ ہیں جو انتہائی خطرناک ہیں جنہوں نے امریکیوں پر حملے کرکے انہیں ہلاک یا زخمی کیا ہے۔ یاد رہے کہ 19سال میں اب تک 2400امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں جو ویتنام اور عراق کے بعدتیسرا بلند ترین گراف ہے۔اشرف غنی کی افغان حکومت نے ان 320 طالبان کو رہا کرنے سے انکار کر دیا ہے جس وجہ سے مذاکرات میں تعطل پایا جاتا ہے۔

اس موقع پر افغان امن عمل میں پاکستان اور انڈیا کیلئے اہمیت ایک حقیقت ہے۔انڈیا کی پوری کوشش یہ ہے کہ طالبان برسر اقتدار نہ آئیں کیونکہ اگر ایسا ہواتو انڈیا نے حامد کرزئی کے دور سے لے کہ اب تک جو تین بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، وہ ڈوب جائے گی۔ یہ تین بلین تو ڈیکلیئرڈ اعدادو شمار ہیں جو خفیہ سرمایہ کاری RAWکے ذریعے افغانستان کے راستے پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے کی گئی ہے، وہ اس میں شامل نہیں ہے۔افغان رہنما گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ انڈیا امن مخالف گروپوں کو اکٹھا کر کے وہاں ایک نیا گروپ تشکیل دینا چاہتا ہے تاکہ امن عمل کو سبوتاژ  کیا جا سکے۔انڈیا امن عمل سے مکمل آوٹ ہو چکا ہے اور طالبان کے افغا ن کنٹرول کی صورت میں انڈیا کی رہی سہی کسر بھی نکل جائے گی۔ دوسری طرف پاکستان تاریخی طور پر طالبان سے قریب رہا ہے۔ پاکستان دنیا کا پہلا ملک تھاجس نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا تھا۔اس وقت بھی امریکیوں کے مذاکرات کی راہ کا آغاز پاکستان کی کوششوں سے ہی ہوا ہے بلکہ مری میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دوحا مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں انڈیا مخالف حکومت آنے سے فائدہ پاکستان کو ہوگا۔ایک تو دہشت گردی کم ہوجائے گی، دوسرا انڈیا کے ساتھ فوجی کشیدگی کی صورت میں ہمارا ویسٹرن فرنٹ محفوظ ہو گا۔ پاک افغان سرحد پر لگائی جانے والی باڑ اسی طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ حالیہ مذاکرات کی ٹیبل پر امریکہ موجود نہیں ہے۔ یہ مذاکرات طالبان اور افغان حکومت اور حکومت سے باہر افغان دھڑوں سے ہو رہے ہیں۔ اس لئے یہ تاثر صحیح نہیں ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں اسلامی شریعت کے نفاذ پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔

پاکستان میں سوشل میڈیا پر اوریا مقبول جان صاحب عوام کو روڈمیپ معاشرے کی جو کاپی دکھا رہے ہیں، وہ طالبان اور امریکہ کے درمیان نہیں ہوا جیسا کہ تاثر دیا جا رہا ہے۔انٹرا افغان مذاکرات کی اصطلاح کا مطلب ہی افغانوں کے درمیان مذاکرات ہیں۔ یہ ایک دلچسپ ترین حقیقت ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوحا روڈ میپ کے بارے میں کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جو جنگ امریکہ لڑ رہا تھا، وہ اب کسی اور کو لڑنا ہو گی اور وہ کام اب طالبان سر انجام دیں گے۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا لطیفہ نہیں تو اور کیا ہے۔ 

خدشہ یہ ہے کہ آنے والے وقت میں امریکی انخلاء جو کہ نومبر کے امریکی انتخابات سے پہلے متوقع ہے، اس کے بعد افغانستان میں مزید انارکی پھیلنے کا خطرہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذاکرات میں جزئیات کا فیصلہ نہیں کیا گیا کہ امریکی انخلاء کے بعد یہاں کس کی حکومت ہو گی نہ ہی طالبان اور اشرف غنی کے مابین شراکت اقتدار کی بات کی گئی ہے۔ سارا کچھ ہوا میں معلق ہے جیسے ہی امریکہ نکلے گا طالبان وہاں پر اپنی حکومت قائم کرنے کی کوشش میں بھرپور اور بے پناہ طاقت استعمال کریں گے جس سے بے گناہوں کے مارے جانے کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ ویسے بھی انڈیا اور امریکہ کی غیر موجودگی میں اشرف غنی حکومت کا چلنا ناممکن ہے۔ اسی اثناء میں اگر ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن ہار جاتے ہیں تو جوبائیڈن حکومت ٹرمپ کے انخلاء کے فیصلے پر نظرثانی کر سکتی ہے۔ گویا افغانستان میں امن کی امیدوں پر بد امنی کے سائے گہرے ہو تے جا رہے ہیں۔ 


ای پیپر