وزیراعلیٰ بزدار کے دو سال
03 ستمبر 2020 2020-09-03

خلافت عثمانیہ کے آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید خان رحمہ اللہ نے جب جرمنی کے ساتھ ریلوے لائن کا معاہدہ کیا تھا ، تو ایک شرط یہ بھی رکھی تھی:

" جب کاریگر کام کرتے ہوئے مدینہ پاک سے بیس کلو میٹر دور رہ جائیں گے تو اپنے ہتھوڑوں پر کپڑا باندھ لیں گے "

( تاکہ رسول اللہ کے مبارک شہر میں شور کی آوازیں نہ آئیں )

اللہ اللہ ، کیسے مو¿دب تھے وہ لوگ۔

خلافت عثمانیہ کے 34ویں خلیفہ عبدالحمید ثانی اپنے وقت کے بہت بڑے شاعر اور عاشق رسول گزرے ہیں...

آپ کے دورِ خلافت میں استنبول سے مدینہ شریف جانے کے لئے ٹرین سروس شروع کی گئی....

آج بھی وہ ریلوے لائن مدینہ شریف میں بچھی ھوئی ھے۔ اور ترکی ریلوے سٹیشن کے نام سے مشہورہے....

یہاں یہ ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن کی پنجاب میں دس سالہ دور حکومت میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے ترقیاتی کاموں کا ڈنکا آج بھی بجتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے ریکارڈ ترقیاتی کام کیے کیو نکہ وہ اپنے جملہ اقدامات کی تشہیر پر زیادہ توجہ رکھتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ یہ تاثر ان کے جانے کے دو سال بعد تک قائم ہے جبکہ موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار جو کسی بااثر سیاسی گھرانے سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ وہ ایک پسماندہ علاقے سے غیر مقبول اور سادہ شخصیت ہیں انہوں نے جب گزشتہ روز اپنی دو سالہ کارکردگی کو ہمارے سامنے پیش کیا تو یقین نہیں آیا کہ عثمان بزدارنے پنجاب کی عوام کے لیے صحت تعلیم امن و امان کے قیام تعمیرو ترقی سمیت تمام شعبوں میں یہ اقدامات کئے ہیں قارئین 83 صفحات پر مشتمل وزیر اعلیٰ پنجاب کی دو سالہ کارکردگی کی جامع اور مفصل رپورٹ تھام کر جب اس کا تنقیدی نقطہ نظر سے جائزہ لیا تو بے اختیار مجھے خلافت عثمانیہ کے خلیفہ عبدالحمید یاد آگئے کیو نکہ عثمان بزدار نے بھی انتہا ئی خاموشی سے پنجاب کی عوام کی خدمت کی ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ہے ...اگر ذکر کیا جائے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی کا تو 83 صفحات پر مشتمل کارکردگی مختصرا ًبیان کرنا ان سطور پر مشکل ہے پھر بھی چند ایک کا ذکر ضروری ہے وزیر اعلیٰ پنجاب نے پنجاب میں نو یونیورسٹیز قائم کی ہیں .دیگر شعبوں کی کارکردگی کا اندازہ خود لگالیں۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اپنی اور اپنی پارٹی کی تشہیر کے لیے کھربوں روپے سرکاری بجٹ سمیت اشتہارات کی مد میں استعمال کرتے تھے جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ وہ تو کسی پولیس افسر یا بیورو کریٹ کی تقرری بھی میرٹ پر نہیں کرتے تھے کیونکہ میرٹ پر تقرری سے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہو سکتے تھے پولیس اور بیوروکریسی کوپنجاب کی عوام کی خدمت کی بجائے ذاتی و سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور دبنگ بیوروکریٹ یا پولیس افسر شہباز شریف کے احکامات ماننے سے انکار کردیتے تھے جبکہ موجودہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے جوذاتی نمائش کی بجائے پنجاب کی عوام کو گڈ گورننس کی فراہمی کیلئے اقدامات کرنے کا عزم لیکر آئے ہیں لیکن بد قسمتی سے عثمان بزدار کو شروع سے ہی پارٹی اور کابینہ میں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جو تاحال جاری ہے وزیر خزانہ کی گفتگو سنی تو محسوس ہوا کہ وہ بالکل بلینک شخصیت کے مالک ہیں اور اپنے بھائی کی بنیاد پر اہم منصب پر فائز ہیں جہاں کوئی جہاندیدہ شخص ہونا بہت ضروری تھا علیم خان وزیراعلیٰ کے ساتھ تو بیٹھے تھے مگرذہنی طور پر بہت دور لگ رہے تھے اس طرح اگر ایک ایک کابینہ رکن کی بات کی جائے تو ان کی باڈی لینگوئج سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ عثمان بزدار کو اپنا کپتان انتہائی دکھی دل سے تسلیم کیے ہوئے ہیں میاں اسلم اقبال وزیراعلیٰ کو اپنا حقیقی لیڈر گردانتے ہیں راجہ یاسر ہمایوں بھی وزیراعلیٰ کی قیادت کو تسلیم کئے ہوئے ہیں فیاض الحسن چوہان جو ماضی میں وزیراعلیٰ سے سخت اختلاف رکھتے تھے اپنے وزارت کے دوسرے پریڈ میں عثمان بزدار کو دلی طور پر تسلیم کر چکے ہیں اور ان کے شانہ بشانہ چل رہے ہیں کہتے ہیں ٹیم کے کھلاڑی نالائق ہوں اور اپنے کپتان کے ساتھ وفادار نہ ہوں تو کپتان نہیں ٹیم نالائق کہلاتی ہے ۔کابینہ کے اکثر اراکین کے عدم تعاون کے باوجود اگر بزدار کی کارکردگی انتہائی نمایاں ہے تو اگر کابینہ میرٹ پر بن جائے تو پی ٹی آ ئی کی حکومت عثمان بزدار کے ویژن پر آئندہ عام انتخابات یقینی جیت سکتی ہے کابینہ کی وفاداری اور ورکنگ ریلیشن شپ کا معیار فیاض الحسن چوہان جیسا ہونا چاہیے ادھر حالات یہ ہیں کہ وفاقی وزراءبھی برملا عثمان بزدار پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ایسے میں عثمان بزدار کی دو سالہ کارکردگی قابل ستائش ہے کسی نے کیا خوب کہا کہ کم خرچ بالا نشین کیو نکہ عثمان بزدار نے صرف دوبرس میں قابل رشک کارکردگی دکھائی ہے اور اب تو صوبا ئی وزیر فیاض الحسن چوہان کی عثمان بزدار کے ساتھ ورکنگ کوارڈینینشن ماضی کی نسبت بہتر ہے اور اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ کابینہ پارٹی اراکین بیوروکریسی وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے شانہ بشانہ ان کی قیادت میں پنجاب کی عوام کیلئے گڈ گورننس کا خواب شرمندہ تعبیر کریں تاکہ تحریک انصاف کا منشور ایمپلی منٹ ہوسکے ایک شخص اگر تمام مخالفت کے باوجود دو سال میں اتنی زبردست کارکردگی کامظاہرہ کرسکتا ہے تو وہ سب کی حمایت کیساتھ پنجاب کو مثالی صو بہ بنا دے گا .....


ای پیپر