شرم ہم میں سے کسی کوبھی مگر نہیں آتی!
03 ستمبر 2020 2020-09-03

کئی موضوعات پر لکھنا چاہتا ہوں، اسلام آبادہائی کورٹ نے گزشتہ روز سابق وزیراعظم اور ”متوقع مفرور“ نواز شریف کوواپس آکر عدالت کا سامنا کرنے کا حکم دیا ہے، یہ موضوع بھی اہم ہے۔ گزشتہ روز ایک بار پھر تبادلوں کا جو ”طوفان بدتمیزی“ برپا ہوا، وہ بھی لکھنے کے قابل ہے، .... ابھی پچھلے دنوں ”بمعہ اہل وعیال“ دوہفتے کے لیے سکردو کے اردگرد واقع خوبصورت علاقوں کو زندگی میں پہلی باردیکھنے کا موقع ملا، اُس پر بھی لکھنا چاہتاہوں، میرے عزیز چھوٹے بھائی، ایک باہمت اور باصلاحیت نوجوان ایس ایم عمران کووزیراعظم نے ایل ڈی اے کا وائس چیئرمین مقرر کیا تھا، وہ اس ادارے کے سالہا سال سے بگڑے ہوئے معاملات کو بہتر بنانے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔ اُن کی کوششوں کو خراج تحسین پیش نہ کرنا اُن کے ساتھ نہیں اپنے ساتھ اِس لیے زیادتی ہے ہم لوگوں کے غلط کاموں پریا ان کی نااہلیوں پر سخت الفاظ میں تنقید کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، تو کوئی اگر اچھا کام کرے اس کی حوصلہ افزائی کا کوئی موقع بھی ہمیں ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے، جوکہ اکثر ہم اس لیے ہاتھ سے جانے دیتے ہیں ہم میں کسی کو شاباش دینے کا حوصلہ ہی اب نہیں رہا، ہم کسی کے اچھے کام کی شاباش بھی اب خود کو ہی دے لیتے ہیں، پورا معاشرہ شاباش دینے کی ”خصوصیت “ سے فارغ ہوچکا ہے، ہمیں اب صرف لوگوں کی برائیاں ہی برائیاں نظرآتی ہیں، کسی میں کوئی بُرائی اگر نہ بھی ہو ہم اپنی کوئی بُرائی اس میں ڈال کر اُس پر تنقیدکرنا شروع کردیتے ہیں۔ ہمارے اِس عمل کا سب سے زیادہ نقصان ہمیں خود ہوتا ہے، بحیثیت پاکستانی ہم دنیا کے کسی کونے میں چلے جائیں ہمیں خراب ہی سمجھا جاتا ہے، اور کوئی اتفاق سے ہمیں اچھا سمجھ لے ہم اُ سے خراب سمجھنا شروع کردیتے ہیں، امریکہ میں ایک گوری نے مجھ سے کہا ”تم بڑے اچھے ہو“۔ مجھے فوراً لگا ”یہ بڑی خراب ہے“ ....ہمارے تو گانے اور شاعری وغیرہ بھی اب بس ایسی ہی ہوتی ہے، ”اسی کلے نئیں خراب.... ایتھے سارے نے جناب.... جدوں ہووے گا حساب.... اوہدوں ویکھ لاں گے“ .... یہ ملکہ ترنم نورجہاں کا گانا ہے جو ایک پنجابی فلم کے لیے اُنہوں نے گایا تھا، لکھا کس نے تھا؟ میں نہیں بتاسکتا، مجھے شرم آئے گی،.... اگر سب خرابی کررہے ہوں، ہم نہ کررہے ہوں، ہمیں بُرا لگنے لگتا ہے۔ یہ بھی ہماری فطرت کا اب حصہ بن چکا ہے سب کا نقصان ہورہا ہو، ہمارا بھی ہورہا ہوہمیں بُرا نہیں لگتا، ہاں اگر سب کا فائدہ ہورہا ہو، ہمارا نہ ہورہا ہو، ہماری تڑپن دیکھنے والی ہوتی ہے، .... پچھلے دنوں جب کورونا عروج پر تھا، کاروبار بند تھے، چھٹی (اتوار) کے روز بھی دکان کھلی رکھنے والے ایک شیخ صاحب سے میں نے پوچھا”آپ تو اتوار کو بھی دکان کھول کر بیٹھ جاتے تھے، اب اتنے عرصے سے آپ کا کاروبار (دکان) بند ہے۔ آپ کو بُرا نہیں لگ رہا ؟“ اُنہوں نے قہقہہ لگایا، بولے ”میرا کون سا اکیلے کا بند ہے“.... اِسی طرح ایک دوست سے ایک بار ازرہ مذاق میں نے کہا ”یار میں تمہاری کوئی ایک خواہش پوری کرنا چاہتا ہوں۔ کوئی خواہش بتاﺅ؟“۔وہ بولا ”مجھے گاڑی لے دو“.... میں نے عرض کیا ”یہ خواہش تو فی الحال میں پوری کرنے کی پوزیشن میں نہیں، کوئی اور خواہش بتاﺅ؟“....کہنے لگا ”اچھا توپھر میرے بھائی سے گاڑی چھین لو“....اُ سے اتنا دُکھ اپنے پاس گاڑی نہ ہونے کا نہیں تھا جتنا اپنے بھائی کے پاس گاڑی ہونے کا تھا،.... کس کس بات کا رونا روئیں؟ رونے سے زیادہ اپنے اعمال پر اب ہنسی آتی ہے دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی، ہم ابھی ”دعاﺅں، بددعاﺅں“ کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں ....”یہ نہ سوچا ہم نے کچھ دکھائیں کرکے....مطمئن ہوگئے ہم بس دعائیں کرکے “....ابھی کورونا سے تقریباً پوری دنیا کا جونقصان ہوا، اُس کے مقابلے میں ظاہر ہے پاکستان کو اتنا نہیں ہوا، مجھے یقین ہے یہ میری اُس ”بددعا“ کا نتیجہ ہے جو بہت سال پہلے اپنے یورپ کے پہلے دورے میں یورپ کی ترقی دیکھ کر یورپ کو میں نے دی تھی کہ ”جااے یورپ تیری ترقی میں کیڑے پڑیں“۔ یہ بددعا میں نے بہت مجبور ہوکردی تھی ۔ بددعا دینے سے پہلے میں نے خوب غور کیا تھا ہم پاکستانی ترقی میں یورپ کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں؟ جب کچھ میری سمجھ میں نہ آیا، میں نے اُ نہیں بددعا دے دی ، کیونکہ یہ سب سے آسان کام تھا جو یورپ کی ترقی کے مقابلے میں، میں کرسکتا تھا، ....”ترقی“ کے چکر میں، میں دوسرے موضوع کی جانب نکل گیا، کالم اصل میں، میں نے وزیراعظم خان صاحب کے گزشتہ روز کے دورہ لاہور پر لکھنا تھا، شریف برادران اور خان صاحب کی ایک ”مشترکہ خصوصیت“ لاہور سے محبت ہے، شریف برادران نے اِس محبت کا حق سرکاری خزانے سے سڑکیں وپل بناکر اپنی طرف سے خوب ادا کیا، اور خان صاحب نے اس محبت کا حق اپنی طرف سے بزدار کی صورت میں خوب ادا کیا۔ بزدار صاحب سے کم ازکم ہم اتنی توقع تو کرہی سکتے ہیں کہ لاہور کے جن ”مین ہولوں“ پر ڈھکنے نہیں ہیں وہ اُ نہیں ”ڈھکوا“ دیں اس کے علاوہ شہر کی صفائی، خصوصاً گلیوں محلوں میں جو گند ہمارے ”مضبوط ایمان“ کی صورت میں جابجا بکھرا پڑا ہے، اُس کی صفائی کاکوئی بندوبست بھی وہ فرما دیں یہ یقیناً ان کا ایسا ”کارنامہ“ ہوگا جسے تاریخ ہمیشہ ان الفاظ میں یاد رکھے گی ”اُنہوں نے اپنی اہلیت قابلیت اور صلاحیت سے بڑھ کر ”کارنامے “ کیے تھے“،....ویسے جو کچھ ہمارے محترم وزیراعظم خان صاحب اکثر لاہور آکر کرتے ہیں وہی کچھ وہ اسلام آباد میں بیٹھ کر لاہور کے لیے کردیا کریں تو اُن کے دورہ لاہورمیں پروٹوکول کے باعث سڑکیں وغیرہ بند ہونے سے لوگوں کو جو تنگی ہوتی ہے اور ”تبدیلی“ مزید ”ننگی“ ہوتی ہے کم ازکم اس سے نجات مل جایا کرے، ہمارا کوئی ارمان پورا نہیں ہوسکا، ہم نے سوچ رکھاتھا”تبدیلی“ کے بعد ہمارا وزیراعظم بھی اُسی طرح سائیکل پر دفتر جایا کرے گا جس طرح ہالینڈ کا وزیراعظم جاتا ہے اور ہمارے خان صاحب ہمیں وزیراعظم بننے سے پہلے اُس کی مثالیں دیتے تھے،.... ویسے اس بار دورہ لاہور کے بجائے اُ نہیں دورہ کراچی پڑنا چاہیے تھا، سندھ میں اُن کی جماعت پی ٹی آئی نے قومی وصوبائی اسمبلیوں کی کئی نشستیں حاصل کیں، بارشوں نے سندھ خصوصاً کراچی کے لوگوں کا جینا حرام کردیا ہے، کاش محترم وزیراعظم اِس ”حرام“ کو ”حلال“ کرنے کی ہلکی سی کوشش دورہ کراچی کی صورت میں کرلیتے، وہ وہاں پانی میں نہ اُترتے، پر لوگوں کے دلوں سے بھی نہ اُترتے، اِس سے سندھ اورکراچی کے لوگوں کو پیغام ملتا سندھ کی ”بے کار اور کرپٹ حکومت“ کو نہ سہی، کم ازکم وزیراعظم کو اُن کے کرب کا احساس ہے جس پر وہ خود کراچی آگئے ہیں، .... ممکن ہے وہ اِس لیے کراچی نہ آئے ہوں یا کراچی کم آتے ہوں کہ یہاں وہ تھوک کے حساب سے غیرضروری طورپر اپنے ہر دورے میں سول وپولیس افسران کے اُس طرح تبادلے نہیں کرسکتے جس طرح وہ اپنے ہر دورہ لاہور میں کرنا اپنی حکومت کا سب سے بڑا ”کارنامہ“ سمجھتے ہیں، حالانکہ اُن کے اِس ”کارنامے“ کی صورت میں بار بار انتظامی طورپر جو تباہی ہورہی ہے اُس کا ازالہ شاید ہی کبھی ہوگا، .... ہماری تو خواہش ہے نہ صرف یہ کہ اس بار وہ اپنے اقتدار کی مدت پوری کریں، اگلے الیکشن کے نتیجے میں اگلے پانچ برسوں کے لیے بھی اُ نہیں ہی اقتدار میں لایا جائے تاکہ اُ نہیں اندازہ ہوسکے ” پرائی پچھلی حکومت “کا ڈالا ہوا گند صاف کرنے سے ”اپنی پچھلی حکومت“ کا ڈالا ہوا گند صاف کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے!!


ای پیپر