عمران خان حکومت کو درپیش سیاسی چیلنج
03 ستمبر 2018 2018-09-03

کیسے بھی ہوا ، اب یہ حقیقت ہے کہ عمران خان وزیراعظم ہیں ۔انہوں نے تبدیلی کا دعویٰ کیا اور نعرہ لگایا تھا۔اور تیسری سیاسی قوت کے طور پر ابھرے۔ اب اس تبدیلی کے نعرے کو عملی شکل دینے کا وقت آگیا ہے۔ ماضی کی دو حکمران جماعتیں آزمائی جا چکی تھی۔ لیکن عوام کے حالات نہ بدلے۔اب دیکھیں عمران خان کیا کرتے ہیں؟ مخالفین بھی کہتے ہیں کہ یہ نیا تجربہ بھی ہو جائے۔ عمران خان کوئی پہلے رہنما نہیں جن سے اس طرح کی امیدیں باندھی جارہی ہیں۔ لیکن دنیا میں بہت ہی کم لوگ ان امیدوں پر پورے اترے اور تاریخ میں زندہ رہے۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے عمران خان نے بڑے بڑے وعدے اور دعوے کئے۔ ابتدائی سو روز کے پیکیج کا اعلان کیا۔ اب ہر ایک ان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ بعض حلقے پی ٹی آئی کے سو روزکے پیکیج کی کامیابی پر شکوک کا اظہارکرتے رہے ہیں۔ اس پیکیج پر ’’کچھ ہو رہا ہے‘‘ کے لئے عمران خان مصروف ہیں۔ اور عوام کو بھی مصروف رکھے ہوئے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حکومت کے ابتدائی سو دنوں کے ایجنڈے پر عمل درآمد کے لئے اہم فیصلے کئے گئے۔ کابینہ نے مختلف شعبوں میں اصلاحات کرنے، جنوبی پنجاب صوبہ قائم کرنے اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے لئے چھ کمیٹیاں تشکیل دیں۔ اب وزیر اعظم کی سربراہی میں ماہرین پر مشتمل معاشی رابطہ کونسل بھی تشکیل دی گئی ہے۔ جو ہر ماہ اجلاس کرے گی اور حکومت کو طویل اور قلیل مدت کے اقدامات میں رہنمائی کرے گی۔ یہ فورم پہلے سے موجود ملکی اداروں منصوبہ بندی کمیشن، اقتصادی رابطہ کمیٹی، قومی اقتصادی کونسل وغیرہ سے ہٹ کر ہے۔ جن میں صوبائی حکومتوں کے نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں۔
جن ملکوں میں سیاسی ادارے مضبوط ہوتے ہیں سیاسی جماعتوں کی ٹاسک فورسز مسلسل کام کرتی رہتی ہیں تاکہ جب وہ جماعتیں حکومت میں آئیں تو اپنے منشور پر جلد اور موثر طریقے سے عمل درآمد کراسکیں۔ مطالعے، تحقیق اور درست اعداد و شمار کے ساتھ اپنی رپورٹیں بناسکیں۔ اپوزیشن میں ہونے کی صورت میں حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں کو بھی ٹھیک سے سمجھ سکیں اور اس پر اثر انداز ہو سکیں۔ تحریک انصاف کا بھی دعویٰ تھا کہ اس نے اپنے منشور پر عمل درآمد کے لئے پہلے سے تیاریاں کر رکھی تھی۔ لیکن اب محسوس یہ ہوتا ہے کہ کوئی زیادہ ہوم ورک کیا ہوا نہیں تھا۔
جنوبی پنجاب کا قیام تحریک انصاف کے منشور کا اہم نکتہ ہے۔ وفاقی کابینہ نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لئے اپوزیشن کی بڑی پارٹیوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سے بات چیت کے لئے ایک ٹاسک فورس قائم کی ہے۔ نئے صوبے کے قیام کے لئے پنجاب اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے قرارداد کے ساتھ ساتھ آئین میں ترمیم ضروری ہوگی۔ آئینی ترمیم کے لئے دونوں ایوانوں میں بھی دو تہائی اکثریت کی حمایت درکار ہے ۔ یہ سب کچھ دوسری پارٹیوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ کیا یہ اپوزیشن جماعتیں عمران خان کی زیر قیادت یہ صوبہ بنانا پسند کریں گی؟ اس پر اتفاق رائے بنانے اور وفاقی و صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت
ایسا مرحلہ ہے جسے سر کرنے کیلئے موجودہ حکومت کو خاصی محنت کرنا ہوگی۔اس مقصد کے لئے عمران خان اور ان کی حکومت کو اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ سیاسی رویہ اختیار کرنا پڑے گا۔ اسی طرح سے فاٹا انضمام کا عمل تیز کرنے کے لئے صرف انتظامی اقدامات ہی نہیں بلکہ سیاسی اقدامات اور سیاسی حمایت کی بھی ضرورت پڑے گی۔ یہاں بھی بعض ایسی رکاوٹیں ہیں جو عمران خان کی حکومت کو مشکل درپیش آئے گی۔ خیال یہ ہے کہ یہاں پر عدلیہ کی مدد حاصل کی جا سکتی ہے تاکہ تمام انتظامی اور سیاسی رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔
تحریک انصاف کی حکومت نیب قوانین میں بھی تبدیلی چاہتی ہے۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف فروغ نسیم کی سربراہی میں قائم کی گئی ٹاسک فورس نیب قوانین کو مزید موثر بنانے کے لئے اپنی سفارشات دے گی۔لیکن اٹھارویں ترمیم کے بعد نیب صوبائی حدود میں آتا ہے۔ مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں سندھ حکومت نے متبادل صوبائی نیب کا بل صوبائی اسمبلی سے منظور کرایا تھا۔ لیکن گورنر سندھ نے اس پر دستخط نہیں کئے اس لئے یہ بل قانونی شکل نہیں لے سکا۔ اور بعد میں پیپلزپارٹی نے بھی اس بل پر زور نہیں دیا۔ لہٰذا اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی سے پہلے نیب قانون میں تبدیلی نظر نہیں آتی۔ کسی قانون سازی کے لئے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی منظوری ضروری ہے۔ جبکہ آئین میں ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت چاہئے۔ وفاقی حکومت اور ادارے پیپلزپارٹی کو زیر بارکر کے نیب کا قانون بنا سکتے ہیں۔ لیکن آئین میں ترمیم کا معاملہ اٹکا رہے گا۔ ممکن ہے کہ اس ضمن میں حکومت یا اس تحرک کا کوئی حامی عدالت عظمیٰ سے رجوع کرے۔ لہٰذا یہاں بھی تحریک انصاف کی حکومت کو عدلیہ پر انحصار کرنا پڑے گا۔ ایک کروڑ لوگوں کو نوکریاں دینے اور 50لاکھ گھروں کی تعمیر کے اعلان پر عملدرآمد کے لئے قائم کی گئی ٹاسک فورس 90دن میں اپنی رپورٹ دے گی۔ ملک پہلے ہی مالی خسارے میں ہے۔ ایسے میں سرکاری شعبے میں بڑی تعداد میں نوکریاں پیدا کرنا ناممکن ہے۔ یہ عمل خود وزیراعظم عمران خان کی سادگی اور کفایت شعاری پالیسی سے متصادم ہوگا۔ دوسرا راستہ روزگار کے دیگر مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس کے لئے معیشت کا پہیہ تیز کرنا پڑے گا۔ انسداد دہشت گردی ملک کا اولین مسئلہ رہا ہے۔ ملک کی خارجہ پالیسی ہو یا امن و امان کی داخلی پالیسی اس نقطہ سے منسلک ہے۔ بعض حلقے اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ نواز کی حکومت اور اس پارٹی کے خلاف اقدامات کا تعلق اسی نقطے سے ہے۔ انسداد دہشتگردی کے لئے نیشنل ایکشن پلان بھی منظور کیا گیا تھا۔ جس کے بعض اہم نکات پر تاحال موثر طریقے سے عمل نہیں ہو سکا۔ تحریک انصاف کی نیشنل ایکشن پلان پر پالیسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پلان کی اصل روح سے مطابقت نہیں رکھتی۔ بہرحال کابینہ نے انسداد دہشتگردی سے متعلق ٹاسک فورس قائم کی ہے جو 90دن میں اپنی تجاویز پیش کردے گی۔
ایک اور چیلنج پارٹی کے اندر سے بھی ہے۔تحریک انصاف نے تبدیلی کا نعرہ دے کر ملک کے جس طبقے کو سیاسی طور پر سرگرم کیا ،اس کی خواہشات و پروگرام اور بعد میں پیدا ہونے والی صورتحال بنی ، ان میں فاصلہ ہے۔ ایک جھٹکا اس وقت لگا جب الیکشن کے لئے پارٹی ٹکٹ کا اجراء ہوا۔ اور ساٹھ سے زائد ایسے افراد پارٹی امیدوار بنے جو ماضی میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کا حصہ رہے اور وہاں پرروایتی انداز سے وہ تمام فوائد حاصل کرتے رہے بعض کے خلاف مقدمات اور تحقیقات کے معاملے بھی بتائے جاتے ہیں۔ یہ سب لوگ تحریک انصاف میں اس لئے شامل ہوئے کہ یہ پارٹی حکومت میں آئے گی۔ وہ پارٹی کو ایک سواری کے طور پر سمجھ کر اس میں بیٹھے کہ وہ انہیں حکومت کی منزل مقصود تک پہنچائے گی۔ ان افراد کا مطمع نظر تبدیلی یا عوام کی بہتری نہیں بلکہ حکومت میں شمولیت اور وہاں بیٹھ کر ذاتی فوائد حاصل کرنا تھا۔ پارٹی کے ہارڈ کور لوگوں کو دوسرا جھٹکا مخلوط حکومت قائم کرنے پر لگا۔ جہاں ایسے لوگوں اور پارٹیوں سے سمجھوتہ کرنا پڑا جو کسی طور پر اس تبدیلی کے حق میں نہیں جو عمران خان یا ان کی پارٹی چاہتی ہے۔ عمران خان اپنے کارکنوں اور ہمدردوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ’’ فکر نہ کریں میں بیٹھا ہوں‘‘۔ یعنی وہ خود پر انحصار کر رہے ہیں۔ اور تمام تر بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔کیا ایک بندہ اتنا سارا وزن اٹھا سکتا ہے؟ آج کی دنیا میں شراکت اور مشاورت اہم ہیں۔ نہ کوئی عقل کل ہے اور نہ تمام فیصلے کرنے اور ان پر عمل کرنے کی کسی انسان میں اتنی طات ہو سکتی ہے۔ وہ اپنے وزراء، اراکین اسمبلی، اتحادیوں، پارٹی رہنماؤں پر انحصار نہیں کر رہے ہیں۔ ایسے میں ان کو ذاتی مشیروں، ذاتی طور پر قریبی لوگوں اور اپنے اداروں سے باہر کے لوگوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے خوشامد اور چاپلوسی کا راستہ نکلتا ہے۔ جس میں میرٹ، حقیقت پسندی اور عقلیت پیچھے رہ جاتی ہیں۔ دوسری طرف ایک فرد کے فیصلے اور عمل درآمد بھی ایک فرد کے ذریعے ہونے سے آمریت کا تصور پختہ ہوگا۔ آمریت خواہ کسی بھی شکل میں ہو، ملک اور جمہوری اداروں کے لے نقصان دہ ہوتی ہے۔


ای پیپر