صدارتی انتخاب کا معرکہ
03 ستمبر 2018 2018-09-03

آج صدارت کِس کا مقدر بنتی ہے یہ تو نظر آ رہا ہے۔ اپوزیشن تقسیم ہے تو حکومت کے اندر سے بڑی بغاوت کی امید رکھنے والے جیالے امیدوار چوہدری اعتزاز احسن پُر امید ہیں۔ اعتزاز احسن کا نام صدارت کے لیے کیوں کیسے اور کدھر سے آیا کافی دلچسپ کہانی ہے۔ سوال تو یہ ہے کیا چوہدری صاحب کو تحریک انصاف کی خفیہ حمایت حاصل ہے۔ ان کا نام تو ایک وزیر کی طرف سے ہی آیا تھا۔ اتفاق رائے کے صدر بن سکتے تھے مگر اپوزیشن نے جو متفقہ امیدوار لانے کی کوشش کی تھی اس کوشش کو منزل مقصود تک پہنچانے یا متفقہ نام سامنے لانے کی ذمہ داری مولانا فضل الرحمن کو سونپی گئی۔ پیپلز پارٹی سے تین نام مانگے گئے مگر آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے ایک نام دیا کہ اعتزاز احسن ہی ان کے صدارتی امیدوار ہیں۔ چوہدری اعتزاز احسن کی وفاداری کافی طویل ہے ۔ جہوریت کے لیے وہ جیل بھی گئے کئی بار گئے تقسیم سے پہلے قومی منظر نامے اور خاص طور پر جاٹوں کے نامور لیڈر چوہدری بلاول بخش کے پوتے اور سابق مسلم لیگی ایم پی چوہدری احسن کے صاحبزادے خود اعتزاز احسن نے جب شباب کا عالم تھا ایوب خان کے مقابلے میں فاطمہ جناح کا ساتھ دیا انور سماں کے قتل کے بعد وہ بھٹو کا انتخاب ٹھہرے صوبائی امیدوار بننے میں کامیاب ہوئے وزیر اطلاعات بنے۔ بے نظیر بھٹو کی پہلی کابینہ میں وزیر داخلہ رہے۔ بے نظیر بھٹو کے وکیل بھی رہے۔ بے نظیر کی شہادت کے وقت جیل میں تھے زرداری سے وکلاء تحریک کی وجہ سے شدید اختلافات رہے۔ اعتزاز نواز شریف کے وکیل بھی رہے مگر 2013 ء کے انتخاب میں اعتزاز احسن کی اہلیہ کو شکست ہوئی اس سے وہ کافی دل برداشتہ ہوئے ۔ پیپلز پارٹی کو جو شکست پنجاب سے ہوئی تھی اس کی رو میں اعتزاز احسن کی انتخابی سیاست بھی بہہ گئی۔ نواز شریف اور مسلم لیگ ان کی سیاست کو لاہور میں مفاہمت کے زریعے زندہ رکھ سکتے تھے مگر ایسا نہیں ہوا۔ مگر پانامہ کیس میں چوہدری اعتزاز احسن کو نواز شریف سے حساب برابر کرنے کا موقع ملا تو چوہدری صاحب نے بھر پور اور نئے نئے نکتے نکال کر حساب برابر کیا خاص طور پر چوہدری صاحب کی طرف سے کلثوم کی بیماری کو جعلی قرار دیا تو چوہدری صاحب کے الفاظ ہضم ہونے والے نہیں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ثالت مولانا فضل الرحمن کو اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بتا دیا گیا کہ اعتزاز احسن پر اپوزیشن کی جانب سے سب سے بڑا اعتراض ہو رہا ہے مسلم لیگ ن کو وہ کسی صورت قبول نہیں۔ اس طرح مولانا فضل الرحمن خود اپوزیشن کے صدارتی امیدوار بن گئے۔ اعتراض پیپلز پارٹی پر آ رہا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کی کامیابی کے لیے کوشش کر رہی ہے۔ کیا یہ اعتراض درست ہے کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا گٹھ جوڑ ہو چکا ہے۔ یہ بات شواہد سے ثابت ہو رہی ہے کہ جب بھی حکمران جماعت کو شکست دینے کا کوئی لمحہ آتا ہے تو پیپلز پارٹی کی طرف سے کپتان کو واک اور مل جاتا ہے۔ خاص طور پر سپیکر کے انتخاب میں تو مسلم لیگ ن نے سید خورشید علی شاہ کو ووٹ دے کر ثابت کیا کہ مسلم لیگ ن اپوزیشن کی طاقت اور ساتھ کھڑی ہے۔ مگر جب وزیر اعظم کے امیدوار شہباز شریف کو ووٹ دینے کا وقت آیا پیپلز پارٹی نے ہاتھ کھینچ لیا اور شہباز شریف پر اعتراض کر دیا کہ ماضی میں شہباز شریف کی تقریریں انہیں ووٹ دینے سے روکتی ہیں۔ اسی عذر کو لے کر پیپلز پارٹی نے ووٹ نہیں دیا نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے ایک دوسرے کے خلاف کیا کچھ نہیں کیا مگر ان کو 2006 ء میں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا پڑا حتیٰ کہ امریکہ کے تعاون سے ایک این آر او بھی پرویز مشرف سے کرنا پڑا مشرف تو کہا کرتے تھے بے نظیر بھٹو کا سیاست میں کوئی رول نہیں مگر کیا ہوا نے نظیر بھٹو پاکستان آئیں پھر لیاقت باغ میں قتل نامہ لکھا گیا۔ بے نظیر بھٹو کے وفادار ساتھی اور رحمان ملک جو سکیورٹی انچارج تھے بے نظیر بھٹو کو زخمی حالت میں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ یہ ساری ہماری سیاست میں چلتا ہے۔ بے نظیر کا قتل نامہ لکھنے والوں سے مفاہمت ہوتے بھی دیکھی۔ پیپلز پارٹی پوری کی پوری ایک وصیت کے زریعے بے نظیر بھٹو نے زرداری پر ڈال دی تھی۔ میاں نواز شریف کے ساتھ معاہدہ ’’ بھور بن ‘‘ لکھا گیا۔ یہ معاہدہ مشرف کو اقتدار سے نکالنے کا سبب بنا بے نظیر بھٹو کے قتل کے مبینہ ملزم جو آج عدالت کی نظر میں اشتہاری ہیں یعنی محترم پرویز مشرف ان کو ایک غیر تحریری این آر او آصف زرداری سے ملا اس این آر او مشرف کی با عزت رخصتی کے وعدے کو پیپلز پارٹی کی حکومت نے پورا کیا مگر وزیر اعظم کے انتخاب میں پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کو سر خروئی کا موقع دیا۔ عمران خان 5 ووٹوں کے فرق سے بال بال بچے ہیں۔ ابھی ضمنی انتخاب بھی آنے والے
ہیں۔ قومی اسمبلی کی گیارہ خالی نشستوں میں سے سات پنجاب اور ایک اسلام آباد کی ہے۔ اس طرح پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں ایک بار پھر پارٹی پوزیشن بدلنے کا امکان ہے مگر ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کو کچھ ملنے والا نہیں۔ بنوں کی نشست پر ایک بار پھر مولانا فضل الرحمن کا تحریک انصاف سے مقابلہ ہو گا ۔ اس انتخاب سے پہلے مولانا فضل الرحمن صدارت کے امیدوار بن گئے ہیں۔ مبینہ طور پر اعتزازاحسن کو صدر پاکستان بنوانے کے لیے جوڈیل ہے۔ مگر پیپلز پارٹی اس کو تسلیم نہیں کرتی۔ پیپلز پارٹی کے پاس تو سو سے کچھ زیادہ ووٹ ہیں۔ مگر وہ پر امید کیسے ہے یہ بڑا حیران کر دینے والا سوال ہے۔ مولانا فضل الرحمن اپوزیشن کے متفقہ امیدوار بن کر مسلم لیگ ن کی اس خواہش کو پورا کر رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن کی بڑی جماعت نہیں ہے دوسری جانب رانا ثناء اللہ اعتزاز احسن کو خلائی مخلوق کا امیدوار قرار دیتے ہیں۔ عام انتخاب کی طرح صدارتی انتخاب میں بھی مبینہ طور پر یہ الزام زور پکڑ رہا ہے کہ سیاست میں عام انتخاب ہوں یا صدارتی اسٹیبلشمنٹ کا کردار ختم نہیں ہوا۔پاکستان کی تاریخ میں عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے آٹھ گھنٹے جی ایچ کیو میں گزارے ۔ تحریک انصاف کی جانب سے یہ بیان جاری کیا گیا کہ فوج حکومت کا ما تحت ادارہ ہے۔ اس وضاحت میں کوئی انہونی بات نہیں ہے یہ تو آئین پاکستان میں لکھا ہوا ہے۔ کہ فوج کا سپریم کمانڈر صدر پاکستان ہے ۔ الیکشن 2018 ء میں الیکشن کمیشن کی طرف سے جو کچھ کیا گیا فارم 45 لکھنے والوں نے مبینہ طور پر نادرا پر سوال اٹھائے ہیں مگر کچھ سوال تو دوسری طرف بھی بنتے ہیں۔ صدارتی انتخاب سے پہلے آصف زرداری کے کچھ ساتھی منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار ہو چکے ۔ خود آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور اسی مقدمے میں ضمانت پر ہیں۔ ایسے ماحول میں ضمانت ملنا کافی بڑا ریلیف ہے پی پی پی کی قیادت جو اپوزیشن کے ساتھ اتحاد چاہتی ہے مگر اس کو اس کام سے روکنے کے حربے بھی روبہ عمل نظر آ رہے ہیں۔محسوس ہوتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے امیدوار بننے کا آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کو کافی رنج ہے۔ اہم بات تو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے نمبر بھی پورے نہیں ہیں پھر وہ اپوزیشن کو تقسیم کیوں کرنا چاہتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایسا معجزہ آخری لمحے نہیں ہو سکتا کہ پیپلز پارٹی صدارت کا ووٹ مولانا فضل الرحمن کو دے امریکہ کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ بے شک امریکہ کو پاک بھارت تعلقات میں کافی پیچھے ہٹانا پڑا ہے مگر اب بھی وہ اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ریاست مدینہ جیسی ریاست بنانے والوں کو ڈکٹیٹ کرا رہا ہے کہ پاکستان کو ایک موقع اور دینا چاہتے ہیں کہ بھارت سے تعلقات بہتر بنائے۔ امریکی سیکرٹری خارجہ کی کپتان کو ٹیلی فون کال پر جو جھوٹ بولا گیا پھر اس سے جو تنازعہ کھڑا ہوا اب وزارت خارجہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ مگر پیپلز پارٹی اب بھی امریکہ کی طرف دیکھتی ہے انتخاب پاکستان کے حالیہ انتخاب پر مذہبی جماعتوں کی شکست پر امریکہ نے اطمینان کا اظہار ضرور کیا تھا ۔ صدر اپوزیشن کا ہو یا حکومت کا وہ دوسرا ممنون حسین ہو گا۔ صدر کے اختیارات کا توازن پیپلز پارٹی کے دور میں ہی بگڑا تھا جب آصف علی زرداری نے 1973 ء کا آئین اصل حالت میں بحال کرنے کے جنون میں اپنے تمام اختیارات سے دستبرداری کا اعلان بھی نہیں کیا بلکہ 18 ویں ترمیم کے زریعے پوری سترھویں ترمیم ختم کر دی تھی یہ کارنامہ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کے تعاون سے ہی طے کیا تھا جس سے آصف علی زرداری نے اپنی صدارتی اختیارات کو اپنے ہاتھ سے دے کر ایک مجبور اور بے بس صدر کے روپ میں پیش کر دیا آئین میں جو بھی لکھا تھا مگر یہ بھی تو حقیقت تھی کہ پارٹی کی قیادت اور فیصلہ سازی کا اختیار آصف زرداری کے ہاتھ میں رہا۔ ایوان صدر سے رخصت ہوتے ہی مسلم لیگ ن کے سید ممنون حسین کرسی صدارت پر براجمان ہو گئے۔ ان کے آتے ہی ایوان صدر کا ماحول ایک دم بدل گیا۔ محفلوں اور پارٹیوں کی جگہ خاموشی اور سناٹا تھا ان کا کام وزیر اعظم کی جانب سے بھیجی گئی سمریوں پر دستخط کرنے ، سفیروں سے اسناد وصول کرنے، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے حکومت کی طرف سے مہیا کی گئی تقریر کو پڑھنا رہ گیا۔ جمہوریت کا یہ انداز ایک قوت کو بالکل پسند نہیں وہ چاہتی ہے کہ صدر کے پاس سیاسی بحران میں اسمبلی توڑنے کا اختیار ضرور ہونا چاہئیں۔ اگر پیپلز پارٹی جس نے 1973 ء کے آئین کو اصل حالت میں لانے کا کریڈٹ لیا تھا اب وہ نئے سرے سے پھر اپنے آئین سے چھپڑ کر سکتی ہے۔ سیاست میں سب کچھ چلتا ہے۔ زرداری خاندان خود کو مشکل سے نکالنے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ مگر اس بار طریقہ کچھ اور ہو گا۔ اب تو چند دنوں کی بات ہے ہم سب کو اونٹ کے کسی کروٹ بیٹھنے کا انتظار ہے۔ اعتزاز احسن تو کسی ووٹر کے پاس ووٹ مانگنے جا ہی نہیں رہے البتہ وہ اپنی کامیابی کے بارے میں مطمئن ہیں دلیل یہ لاتے ہیں صدارت کا ووٹ ضمیر کا ووٹ ہے کیونکہ جو لوگ ضمیر کے مطابق ووٹ دیں گے وہ اپنی پارٹی کے بے ضمیر ہی کہلائیں اس انتخاب میں یہ بھی تو ثابت ہو گا کہ پارلیمنٹ میں حکمران جماعت کے پاس کتنی عددی طاقت ہے۔ مولانا فضل الرحمن جو پیپلز پارٹی کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے اب کھل کر میدان میں آگئے ہیں انہوں نے خوبصورت طنز کی ہے کہ پیپلز پارٹی کے دولہا کی حالت یہ ہے کہ وہ نہ گھروالوں کو قبول ہے اور نہ سسرال کو جب یہ صورت حال ہوتو معاملہ آگے نہیں بڑھے گا۔ مولانا نے تو اعتزاز احسن پر اہم اعتراض بھی اٹھا دیا ہے۔ سکیولر، لبرل ، مذہبی وابستگی کا مفکر صدر مملکت بن کر آئین پاکستان کی نمائندگی نہیں کر سکتا ۔ وہاں مولانا فضل الرحمن نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہہ دیا ہے کہ آصف زرداری اعتزاز احسن کو دستبردار کر الیں تو میری کامیابی یقینی ہے۔ ایسا ہو سکتا ہے اگر اپوزیشن متحد ہو کر مقابلہ کرے۔ کیونکہ صدارتی انتخاب میں اختر مینگل نے عارف علوی کو ووٹ دینے کے لیے پھر مطالبات پیش کر دیے ہیں۔ دوسری جانب ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ہم وزارت کا حصہ ہونے کے باوجود اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ صدارتی انتخاب میں اپوزیشن ہی نہیں حکومت بھی مشکل میں ہے۔ جن لوگوں کو تحریک انصاف میں شامل کراتے ہوئے جو وعدے کیے گئے تھے ان کو پورا کرنا کافی مشکل کام ہے۔ یہ مرحلہ مکمل ہوتے ہی آر ٹی ایس بیٹھ جانے کا تنازعہ شروع ہو گا۔ اعظم سواتی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ نادرہ ذمہ دار ہے جبکہ چیئر مین نادرا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم کریش نہیں ہوا۔ جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ فنکاری کسی اور طرف سے دکھائی گئی ہے۔ صدارتی انتخاب کی گرد بیٹھتے ہی پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا غیر تحریری تعاون کھل کر سامنے آئے گا۔ کچھ قوتوں کو پیپلز پارٹی کے اس تعاون کے بدلے خفیہ طورپر کافی کچھ دینا پڑے گا۔


ای پیپر