حکومتی کارکردگی۔۔۔ کھیل تماشہ نہیں!
03 ستمبر 2018 2018-09-03

جناب عمران خان کی حکومت کی کارکردگی اور اب تک کیے جانے والے اِقدامات اور حکومتی فیصلوں کا تذکرہ ہو رہا تھا۔ اور حکومتی ترجمانوں بالخصوص وفاقی وزیر اطلاعات جناب چوہدری فواد حسین جس انداز سے اعلیٰ ترین سطح پر کیے جانے والے حکومتی فیصلوں کا میڈیا میں تذکرہ کرتے ہیں اور جس طرح کا لب و لہجہ اور برسرِزمین حقائق سے چشم پوشی کا غیر منطقی اندازِ فکر و نظر اپناتے ہیں اُسے دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ وہ ابھی تک بحیثیت وفاقی وزیر اطلاعات اپنی حکومت کے ایک سنجیدہ، باوقار اور ٹھوس سوچ کے مالک ترجمان کے طور پر اپنی حیثیت کا مثبت نقش اُجاگر کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ ابھی تک اُن کی سوچ، فکر اور گفتگو کا انداز وہی ہے جو وہ اپنی جماعت تحریک انصاف کے ترجمان (سیکرٹری اطلاعات ) کے طور پر اپنائے ہوئے تھے۔ اس حیثیت میں ان کی غیر منطقی گفتگو اور ٹھوس شواہد و حقائق کے منافی دعوے چل جاتے تھے لیکن اب انہیں بلند سطح پر آنا ہوگا۔ انہیں یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ قبل ایک نیوز چینل کے ٹالک شو( جیو نیوز کے معروف پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ) میں گفتگو کرتے ہوئے وہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کے بارے میں 300ارب روپے کی کرپشن میں ملوث ہونے کا دعویٰ کر رہے تھے اور اس کے ثبوت میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ اور نیب کورٹ اسلام آباد کے میاں محمد نواز شریف کو نااہل قرار دینے اور قید کی سزائیں دینے کے فیصلے بطورِ ثبوت پیش کر رہے تھے تو پروگرام کے میزبان شاہزیب خانزادہ نے انہیں ٹوکا کہ ان فیصلوں میں میاں محمد نواز شریف کی کسی 300ارب روپے کی کرپشن کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس کے باوجود وہ (چوہدری فواد حسین) اپنی بات پر ڈٹے رہے تو میزبان نے انہیں چیلنج کیا کہ اُن کے پاس دونوں فیصلے موجود ہیں وہ ان میں میاں محمد نواز شریف کو 300ارب روپے کی کرپشن میں ملوث ہونے کا مجرم ہونے کا ذکر کہیں دِکھا دیں تو اس پر جناب چوہدری فواد حسین آئیں بائیں شائیں ہی نہیں کرنے لگے بلکہ انہیں راہِ فرار بھی اختیار کرنی پڑی۔ اِس اجمال کی تفصیل بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ تحریک انصاف کو حکومت ملی ہے ۔ اس کے حکومتی فیصلوں اور اس کے اقدامات سے بہتری آرہی ہے تو اس کا تذکرہ ضرور کیا جانا چاہیے لیکن یہ نہیں کہ ملک و قوم کو درپیش مشکلات و مسائل کے حوالے سے ماضی کے حکمرانوں بالخصوص مسلم لیگ ن اور اس کے قائدین کو ہر صورت میں موردِ الزام ٹھہرایا جائے۔
بڑی مشہور کہاوت یا قول ہے کہ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے یقیناًیہ جادو پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینٹ میں سر چڑھ کر بولا ہے۔ پچھلے دِنوں اِس مقتدر ایوان میں دو معاملات جنہیں اِس وقت ملک کے انتہائی حساس معاملات( Burnning Issues)قرار دیا جا سکتا ہے کے بارے میں اظہارِ خیال ہوا۔ ایک ملک میں بجلی کی پیداوار اور دوسرے ملک کے اندرونی اور بیرونی قرضوں کی تفصیل۔ بجلی کی پیداوار کے بارے میں وزارتِ توانائی کی طرف سے صرف یہ تسلیم نہیں کیا گیا کہ ملک میں بجلی کی پیداوار (رسد) ضرورت (طلب) سے زیادہ ہے بلکہ اس حقیقت کا تذکرہ بھی ہوا کہ سابقہ حکومت کے دور میں بجلی کی پیداوار میں 12000میگا واٹ کا اضافہ بھی ہوا ہے۔ بلا شبہ میاں محمد نوازشریف کی حکومت اور اس کے ساتھ پنجاب میں میاں شہباز شریف نے توانائی کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے دِن رات ایک کیے رکھا۔ ساہیوال کُول پاور پراجیکٹ، حویلی بہادر شاہ گیس پاور پراجیکٹ، شیخوپورہ بھکی گیس پاور پراجیکٹ ، پورٹ قاسم کُول پاور پراجیکٹس ، قائد اعظم سولر پاور پراجیکٹ اور نندی پور تھرمل پاور پراجیکٹ کس کس کا ذکر کیاجائے۔ یہ سارے منصوبے اِس دور میں مکمل ہوئے۔ نندی پور تو پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں سفید ہاتھی بنا رہا اور مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت میں اِسے بڑی مشکلوں سے مکمل کیا گیا۔ یہاں نیلم جہلم ہائیڈرل پاور پراجیکٹ کا ذکر کرنا بھی بے جا نہیں ہوگا۔ بجلی کے صارفین جانتے ہیں کہ بجلی کے بلوں میں نیلم جہلم پراجیکٹ سرچارج کب سے وصول کیا جا رہا تھا۔ لیکن اس پراجیکٹ کا اُونٹ کسی کروٹ بیٹھ نہیں رہا تھاجون 2013میں میاں محمد نواز شریف نے وزیر اعظم کا منصب سنبھالا تو انہوں نے اس پاور پراجیکٹ کے بارے میں خصوصی توجہ دی اور واپڈا کو اس پراجیکٹ پر کام کی رفتار تیز کرنے کو کہا۔ وزیر اعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد جو کابینہ کی توانائی کمیٹی کے سیکرٹری بھی تھے وہ وزیر اعظم کے پراجیکٹ کے ہر وِزٹ پر اُن کے ہمراہ ہوتے تھے۔ زیر زمین سرنگوں کی کھدائی ، پاور ہاؤسز کی تعمیر اور پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ریزروئیرز(Resreviors)یہ سب کچھ تعمیر کرنا کچھ آسان نہیں تھا۔ اس کے لیے اعلیٰ فنی اور تکنیکی صلاحیتوں کے ساتھ بے پناہ سرمایہ اور وسائل درکار تھے۔ پھر اس منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی کو نیشنل گرڈ سسٹم سے منسلک بھی کرنا تھا۔ جس کے لیے انتہائی مشکل ، دشوار گزار اور پُر خطر علاقوں میں ہائی پاور ٹرانسمیشن لائن بھی بچھانی تھی۔ غالباً 2015کا ذکر ہے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے واپڈا کے ذمہ دار لوگوں سے ٹرانسمیشن لائن کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر وزیر اعظم سخت ناراض ہوے اور انہوں نے سختی سے ہدایت کی کہ بجلی کی پیداوار کے ساتھ ہی ٹرانمیشن لائن بھی مکمل ہونی چاہیے۔ اب اگست 2018میں نیلم جہلم ہائیڈرل پراجیکٹ سے پوری استعداد کے مطابق 946میگا واٹ سستی بجلی قومی گرڈ سٹیشن کو مل رہی ہے تو اس کا کریڈٹ بلا شبہ پراجیکٹ پر متعین واپڈا کے فنی ماہرین کے ساتھ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور اُن کے سیکرٹری فواد حسن فواد کو جاتا ہے۔ پتھر پھینکنے والے فواد پر اور پتھر پھینک لیں لیکن وقت آئے گا جب پتہ چلے گا کہ فواد کتنی لگن ، محنت، خلوص اور جانثاری سے کام کرتا رہا۔ بجلی کی پیداوار ضرورت سے زائد ہے یا کم ازکم ضرورت کے مطابق ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن اس کے باوجود لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اور سرکلر ڈیٹ میں اضافہ ہو رہا ہے تو اس کی کئی وجوہات ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اِن وجوہات کو جن میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائنوں کا پرانا اور بجلی کا اتنا لوڈ برداشت کرنے کے قابل نہ ہونا، پاور سٹیشن سے گرڈ سٹیشن تک بجلی پہنچنے میں لائن لاسز ، بجلی کی چوری اور بجلی کے بلوں کا ادا نہ کرنا وغیرہ شامل ہیں اِن کو دُور کر کے اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔تحریکِ انصاف کی حکومت اگر یہ سب کچھ کر گزرے گی تو کسی کو اُس کی کارکردگی پر اُنگلیاں اُٹھانے کا موقع نہیں ملے گا۔
کالم شروع ہوا تو خیال تھا کہ کم از کم 4/5نکات کو سامنے رکھ کر بات کروں گا۔ لیکن چوہدری فواد حسین کے اندازِ فکر النظر اور بجلی کی پیداوار کے تذکرے نے کافی جگہ لے لی ہے۔ تاہم تھوڑا سا ذکر مسلم لیگ ن کے دور میں لیے جانے والے قرضوں کا کیا جاتا ہے۔ نئی حکومت کے برسرِ اقتدا آنے کے بعد یہ منفی پراپیگنڈہ زور شور سے کیا گیا کہ مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت میں پچھلے ادوار کے مقابلے میں کئی گناہ زیادہ قرضے لیے گئے۔ لیکن سینٹ میں وزارتِ خزانہ کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے پانچ سالہ دورِ حکومت میں 47ارب ڈالر بیرونی قرضے ضرور لیے گئے لیکن سود اور اصل زَر کی مَد میں 70ارب ڈالر واپس بھی کیے گئے۔ 47ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں میں 19ارب ڈالر کا پاک چین اقتصادی کا قرض بھی شامل ہے جو زیادہ تر توانائی کے منصوبوں پر خرچ ہوا۔’’ نئی بات‘‘ میں محترم رضی الرحمن رضی کے اتوار کے روز چھپنے والے تجزیے میں قرضوں کے بارے میں پوری تفصیل موجود ہے۔ چوہدری فواد حسین مسلم لیگ ن کے خلاف بیان بازی کرنے سے قبل اِن اعدادو شمار کو ضرور دیکھ لیں اس کے ساتھ انہیں یہ تسلیم کرنے میں بھی کوئی عار نہیں ہونی چاہیے کہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم ہاؤس میں کچن کا خرچ اور اپنے ذاتی اخراجات ہی اپنی جیب سے ادا کرتے تھے بلکہ اپنے تینوں ادوار میں انہوں نے وزیر اعظم کی حیثیت سے کوئی تنخواہ وصول نہیں کی۔ سرکاری خزانے سے آنے والی اُن کی تنخواہ مختلف خیراتی اور رفاعی اِدروں کو منتقل ہوتی رہی۔اِس ضمن میں مشہور صحافی اور اینکر پرسن جناب سلیم صافی ضروری دستاویزات اور چیکوں کی فوٹو کاپیاں سامنے لا چکے ہیں۔(ختم شد)


ای پیپر