کوہِ ارارت کے پہلو میں
03 ستمبر 2018 2018-09-03

ایرانی بس کمپنی نے ان زائر نما تین شامی تاجروں سے خصوصی ڈیلنگ کر رکھی تھی، جس کے تحت زائرین کو "Human Shield" کے طور پر استعمال کیا گیا۔اور اس قدر مال واسباب کا یہ جواز پیش کیا گیا کہ سارا سامان شام جانے والی ان مقدس ہستیوں کا ہے جو کربلا کے غم میں صلواۃ صلواۃ پڑھتے ہر چیک پوسٹ پر اشکبار ہوئے جا رہے تھے۔ میں ہی واحد آوارہ گرد تھا جو دین اور دنیا سے بے نیاز جہاں گردی کے جنون میں مبتلا تھا۔ یہ زائرین اور تاجر دین ودنیا کے لیے سفر پر نکلے تھے اور ایک میں آوارہ، خدا کے جہانوں کی تلاش میں ۔
ماکو سے بس چلی تو کچھ دیر بعد ترکی سے آنے والے بڑے بڑے تجارتی ٹرالروں کی قطاریں دکھائی دینے لگیں۔ اُن دنوں مشرقی یورپ سے ایران کی بذریعہ سڑک تجارت کے سبب یہ سڑک بڑی سرگرم تھی۔ انقلابِ ایران اپنے جوبن کے چوتھے سال میں تھا۔ امریکہ کے ساتھ محاذآرائی اور عراق کے ساتھ جنگ نے اس کا جھکاؤ اِشتراکی ممالک کی طرف کرنا شروع کردیا تھا۔ ان ٹرالروں میں بلغاریہ کی سبزیوں سے لے کر دیگر روزمرہ کی اشیا ایران برآمد ہوتی تھیں۔ ایران ترک سرحد پر بازرگان تک ان ٹرالروں کی لاتعداد قطاریں میلوں پھیلی تھیں۔ ہماری بس کو ان قطاروں کے بیچ وبیچ سفر کی اجازت تھی۔ ایک روز قبل دوپہر، تہران سے نکلنے والی ہماری بس دوسرے دن دوپہر تک بازرگان کی ایران ترک سرحد پر پہنچ چکی تھی۔
ایران ترک سرحد،بازرگان ایک پہاڑی درّے میں واقع ہے۔ شام ڈھلے اگست کی 29تاریخ، سن 1983ء ۔ جہاں گرد ایران سرحد پار کرنے کے لیے بے چین تھا۔ ایرانی سرحدی انتظامیہ نے بس ڈرائیور کو مطلع کیا گیا کہ وقت کی کمی کے باعث بس آج سرحد پار نہیں کرسکتی۔ میرے لیے یہ خبر کسی صدمے سے کم نہ تھی۔ جبکہ زائرین اور تاجران مطمئن تھے۔ بس انتظامیہ نے مجھے دمشق تک کا ٹکٹ بیچ رکھا تھا کیوں کہ بس تہران سے دمشق تک کے روٹ پر رواں تھی، جبکہ مجھے ایران سرحد پار کرکے ترکی کے پہلے قصبے میں اتر جانا تھا۔
میں نے بس انتظامیہ کو مطلع کیا کہ میں بس چھوڑنا چاہتا ہوں۔ اور میں ایران ترک سرحد اپنے قدموں پر پار کروں گا۔ میرے ہمسفر فضل عباس شاہ میرے جدا ہونے پر افسردہ ہوئے۔ میں نے انہیں تسلی دی کہ ہم کل صبح دوغبا یزید میں ملیں گے۔ اداس ہونے کی ضرورت نہیں۔ فضل عباس شاہ سرگودھا کی مخصوص زبان میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ جبکہ میں خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا کہ مجھے آج ترکی میں داخل ہوجانا ہے۔ ترکی میں میرا پہلا قدم... الوداعی کلمات اور ایک دوسرے سے گلے ملنے کے بعد میں نے اپنا بیگ اٹھایا اور تیزتیز قدم چلتا ہوا پہاڑی درّے میں داخل ہوا۔ امام خمینی کی قدآور تصاویر پر فارسی میں انقلابی نعرے اور قرآنی آیات میں لکھے آسمانی نیون سائن سرحد کے اس طرف نمایاں تھے۔ میرا تیز دھڑکتا دل اب ایرانی سرزمین پر تین ہفتو ں کے طویل سفر کے بعد ترکوں کے دیس میں داخل ہونے کے لیے بے چین تھا۔ ایرانی امیگریشن اہلکار نے خروج کی مہر میرے پاسپورٹ پر ثبت کی اور اس کے بعد وہاں موجود دیگر ایرانی مسافروں کے ہمراہ کھڑاکردیا جو دوسری بسوں کے ذریعے سرحد تک پہنچے تھے۔ اُن میں زیادہ تعداد خواتین کی تھی۔ ایرانیوں کے لیے ترکی کا ویزا درکار نہیں۔ دفتری اوقات کے مطابق یہ ایرانی سرحد عبور کرنے والا آخری قافلہ تھا۔ تمام خواتین سیاہ چادروں اور سیاہ برقعوں میں حجاب میں تھیں۔ مجال ہے کسی کا ایک بال بھی نظر آئے۔ ایرانی اہلکار نے ایران ترکی سرحد پر لگا قفل کھولا۔ اس قافلے میں سب سے پہلا قدم میرا تھا جس نے ترک سرحد کو چھوا۔ میرے بعد چالیس پچاس کے قریب ایرانی مردو خواتین ترک سرحد میں داخل ہوئے۔ ترک امیگریشن نے میرا ویزا دیکھنے کے بعد ترکی میں داخلے کی مہر میرے پاسپورٹ پر ثبت کردی اور پھر اس کے بعد سب ایرانی مسافرین کے پاسپورٹ چیک ہوئے۔
چیک پوسٹ سے باہر آیا تو ایک نئی دنیا میرے سامنے تھی۔ اتاترک کا مجسمہ اور سرخ رنگ کا لہراتا ترک پرچم۔ بے تاب نگاہوں نے جب اپنی دائیں جانب دیکھا توآنکھیں ششدر رہ گئیں۔ لاہور سے چلا مسافر، تین سو ڈالروں پر انحصار کرتے طویل جہاں گردی، چڑھتی جوانی، نئے جہانوں کو پالینے کا تجسس اور خوشی، نہ یقین آنے والی ملی جلی کیفیت۔ میری دائیں جانب کوہِ ارارات تھا۔ وسط سے لے کر چوٹی تک برف پوش۔ اسی برف میں صدیوں سے پوشیدہ حضرت نوح ؑ کی کشتی ۔ ’’اوہ! تو کیا میں واقعی لاہور سے بسوں، ٹرینوں اور ٹرکوں پر سفر کرتے کرتے ارارات کے پہلو میں پہنچ گیا ہوں۔‘‘ ایسی خوشی کہ جس کا یقین نہیں آتا۔ بچوں کی طرح ناچنے کو جی چاہ رہا تھا۔ ارارات... اوہ، اس کے دوسری طرف سوویت یونین کی قدیم مسیحی ریاست آرمینیا۔ شام ڈھل رہی تھی۔ اگست کی 29تاریخ اور سردی کی لہر۔ جہاں گرد کوہ قاف کے پہلو میں کھڑا تھا۔ مجھے اب ترکی کے اندر پہلی بستی دوغبا یزید پہنچنا تھا۔ دُور دُور تک کسی سواری کا نشان نہیں تھا۔ یکایک ایران سے آئے دوسرے مسافرین کا غول ترکی میں داخل ہوا۔ یہ وہی ایرانی تھے جو قطار میں سرحد عبور کرتے میرے ہمراہ تھے۔ سیاہ چادریں اور برقعے یوں اترے کہ جیسے آندھی اڑا لے گئی ہو۔ انقلابِ ایران کے بعد اس سیاہ چادر نے دنیا بھر کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ عالمی سیاست کے حوالے سے کتابوں کے ٹائٹل سے لے کر اخباروں تک ایران کے ذکر کے ساتھ سیاہ چادر پوش ایرانی خواتین کی تصاویر۔ مگر سرحد بدلتے ساتھ ہی سب کچھ بدل گیا۔
ترکی میں میری پہلی رات دوغبا یزید کے ایک معمولی سے ہوٹل میں گزری۔ صبح ہوئی تو توپوں کی آوازوں نے مجھے گہری نیند سے جگا دیا۔ ہڑبڑا کر اٹھا۔ توپوں کے گولے رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ یہ کیا ہے؟ نیند میں دوڑتا ہوٹل کے مینیجر کے پاس پہنچا۔ اس نے ترک الفاظ میں مدعا بیان کیا کہ ’’جنگ، عسکر۔‘‘ اوہ تو کیا جنگ شروع ہوگئی ہے، روس ترکی کے مابین؟ دل دھڑکنے لگا۔ اپنی بے چینی، خوف اور تجسس کے سبب گلی میں آیا تو ترک فوجی مارچ پاسٹ کررہے تھے۔ جہاں گرد حیران تھا۔ تو جنگ شروع ہوگئی، سوویت یونین اور ترکی میں ؟ فوجی تو جوش میں تھے لیکن گاؤں کے لوگ مطمئن۔ یقیناًمعاملہ کچھ اور ہے! 30اگست کی پہلی صبح ترکی میں ۔ 30اگست ترک ’’عیدِ فتح‘‘ (ظفر بیرام) کے طور پر مناتے ہیں۔ 30اگست 1922ء کو ترکوں نے غازی مصطفی کمال پاشا اتاترک کی قیادت میں غیرملکی حملہ آوروں کو دُملوپنار کے میدان میں آزادی کی آخری جنگ میں شکست سے دوچار کیا۔ ترکی میں عیدالفطر اور عیدالضحیٰ اور عیدِ ظفر (عیدِفتح) ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر منائی جاتی ہیں۔ جہاں گرد ،دوغبا یزید کے باسیوں کے ساتھ گاؤں کی گلیوں میں عیدِ فتح کے جشن میں شامل ہوگیا۔ ترکی میں میری پہلی صبح۔ جشنِ فتح۔ اور سامنے خاموش سفید برف میں ڈھکا ارارات۔


ای پیپر