عمران خان کا ہنی مون پیریڈ

03 ستمبر 2018

اصغر خان عسکری

جدید دنیا کا اصول یہ ہے کہ جب بھی کسی ملک میں نیا حکمران اقتدار سنبھال لیتاہے،تو ان کو تین مہینے کا وقت دیا جاتا ہے۔ان تین مہینوں میں ملک کی عوام، اپوزیشن جماعتیں ،تمام ریاستی ادار،پڑوسی ممالک اور اہم ریاستوں کے حکمران اس ملک کے نئے حکمران پر نظر رکھتے ہیں۔ترقی پذیر ممالک کے عوام چونکہ زیادہ تر ستائے ہو ئے ہوتے ہیں، اس لئے وہ شروع دن سے ہی نئے حکمران سے کسی بڑی خوش خبری کی تو قع رکھتے ہیں۔ لیکن عوام میں سے جو اس حکمران کے سپورٹر ہو تے ہیں وہ عوام کو اس جواب پر مطمئن کرتے ہیں کہ ابھی تو چند دن ہی ہوئے ہیں ،تھوڑا سا انتظار کر لیں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ملک کی اپوزیشن قومی مسائل کے بارے میں پالیسوں پر نگاہ رکھتی ہے۔ریاستی ادارے حکومتی اقدامات اور اسی ادارے سے متعلق نئے حکمرانوں کے فیصلوں پر نظر رکھتی ہے۔پڑوسی ممالک بھی انتظار میں ہوتے ہیں کہ نئے حکمران پرانے معاہدوں کا کس حد تک پاسداری کرتے ہیں۔اپنے سفیروں کے ذریعے روزانہ معلومات حا صل کرتے ہیں کہ نئے حکمران کی مختلف معاملات پر پالیسی کیا ہو سکتی ہے۔جب وہ اطمینان کر لیتے ہیں کہ نیا حکمران بھی اسی طر ح سے چلنا چاہتا ہے جس طرح گزشتہ چل رہے تھے۔اگر کہی پر ان کو خدشتہ پیدا ہوتا ہے کہ معاملات خراب ہونے کا اندیشہ ہے ،تو پھر سفارتی محاذ پر سرگرم ہو کر معاملات کو حل کرنے کی کوشش کر تے ہیں۔اسی طرح دنیا کے طاقتور ممالک بھی نئے حکمرانوں پر نظر رکھتے ہیں، کہ وہ عالمی معاملات پر کیا پالیسی اختیار کر تے ہیں۔ان ابتدائی تین مہینوں کو جدید دنیا نے ہنی مون پیر یڈ کا نام دیا ہوا ہے۔
ابتدائی تین مہینوں کو ہنی مون پیریڈ اس لئے کہا جاتا ہے کہ نیا حکمران سیکھنے کے مر احل میں ہو تا ہے۔سب سے پہلے ان کی کو شش ہو تی ہے کہ عوامی مسائل سے واقفیت حا صل کرلیں۔اس مقصد کے لئے وہ اپنے سیاسی رفقا ء کے ساتھ صلاح و مشورے کرتا ہے۔پھر وہ اداروں کی طرف متو جہ ہو تا ہے۔ ان کے مسائل جاننے اور ان کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پھر وہ پڑوس کی طرف دیکھتا ہے ،کہ چاروں طر ف جو ممالک ہیں ان کے ساتھ تعلقات کی نو عیت کیا ہے۔جب یہاں سے فارغ ہو جاتا ہے تو پھر عالمی مسائل سے آگاہی حاصل کرتا ہے۔ آگاہی سے مراد یہ ہے کہ ریاست کا نقطہ نظر کیا ہے۔اس طر ح عوامی مسائل،اداروں کی صورتحال ،پڑوسی ممالک اور عالمی مسائل سے واقفیت حاصل کر نے کے بعد پھر سیاسی رفقاء سے صلا ح مشورے کرنے کے بعد مستقل پالیساں تشکیل دیتے ہیں۔
ابتدائی تین مہینوں یعنی ہنی مون پیریڈ میں اگر کوئی نیا حکمران کسی چھوٹی مو ٹی غلطی کا ارتکاب بھی کرتا ہے ،تو زیادہ تر اصول یہ ہے کہ اس سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔غالبا اس وجہ سے کہ عام خیال یہی ہو تا ہے کہ یہ عارضی پالیسی ہو گی ،یا ممکن ہے کہ حکمران نیا ہے اس لئے اس مسئلے کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتا۔گا ہے ہلکے پھلکے انداز میں اس کی رہنما ئی بھی کی جاتی ہے،تاکہ وہ باخبر بھی رہے کہ ان سے کچھ غلط بھی ہو رہا ہے۔لیکن جیسے یہ ہنی مون پیریڈ ختم ہو جاتا ہے تو پھر تنقید میں شدت پیدا ہو جاتی ہے۔پھر سمجھانے کا انداز بھی سخت ہو جاتا ہے۔ اس لئے کہ اب عوام ، اپوزیشن ،ریاستی اداروں ، پڑوسی ممالک اور اقوام عالم کو یقین ہو جاتا ہے کہ یہ پالیسی اب عارضی نہیں بلکہ مستقل ہے۔
عمران خان کا بھی ابھی ہنی مون پیریڈ چل رہا ہے،لیکن عوام کی توقعات چونکہ بہت زیادہ ہے اس لئے ان پر ابھی سے وہ تنقید ہو رہی ہے ،جو ہنی مون پیریڈ کے بعد ہونا چا ہئے تھی۔لیکن اس تمام تر صورتحال کا ذمہ دار کوئی اور نہیں خود وزیر اعظم عمران خان اور ان کی پارٹی عہدے دار ہی ہے۔اس لئے کہ بہت سارے ایسے معاملات ہیں کہ جس کا تذکرہ کرنا ضروری نہیں ہوتا ،ان کے منہ پھٹ وزیراس کا ایسا تذکرہ کرتے ہیں جیسا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔مثال کے طور پر ہیلی کاپٹر کا استعمال۔غیر ضروری طور پر وفاقی وزیر اطلاعات نے اس معاملے کو اچھالا۔حالانکہ وزیر اعظم کا آمد ورفت خالصتا سیکیورٹی کا معاملہ ہے۔اس پر حساب کتاب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اسی طرح چند وفاقی وزراء نے پہلے ہی دن دبنگ اور غیر مہذبانہ انداز میں اپنے دفتروں کا دورہ کیا۔بیوروکریسی کے ساتھ ان کی تلخ کلامی ہوئی۔جو نہیں ہونا چاہئے تھی۔اس لئے کہ ابھی وہ اپنے وزارت کی الف ،ب سے بھی واقف نہیں تھے ،لیکن لڑائی ان سے کی جو اسی وزارت کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔حالانکہ پہلے دن وزراء کو صرف تعارف اور ابتدائی بر یفنگ تک محدود ہو نا چاہئے تھا۔ عمران خان سے چونکہ عوام کو بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں ،اس لئے عوام نے شروع دن سے ہی ان سے امیدیں وابستہ کی ہیں۔ان کا خیال ہے کہ وزیراعظم بن جانے کے بعد عمران خان کے ہاتھ الہ دین کا چراغ لگ گیا ہے ،اب سالوں نہیں بلکہ منٹوں میں ان کے مسائل حل ہو نے چاہئے۔ایک طرف اگر چہ عوام کی بے صبری ہے ،تو دوسری طرف انتخابی مہم کے دوران عمران خان کے وعدے ہیں جس کی وجہ سے عوام انتظار کانام سننے سے انکاری ہے اور راتوں رات تبدیلی دیکھنا چا ہتی ہیں۔
عمران خان کا دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کو مضبوط اور تجربہ کار اپوزیشن ملی ہے۔تجربہ کار اس لحاظ سے کہ وہ اچھی طرح سے جانتے ہے کہ پارلیمان کے اندر احتجاج کس طر ح کرناہے۔یہی وجہ ہے کہ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے انتخاب ،سینیٹ میں وزیر اعظم کے خطاب کے بعد اور پنجاب اسمبلی میں اسپیکر اور وزیر اعلی کے انتخاب کے دوران وہ پورے ایوان پر چھا ئے رہے۔جبکہ عمران خان اور ان کے ارکان پارلیمنٹ ابھی تک اس فرق کو نہ سمجھ سکے کہ وہ اب اپوزیشن بینچوں پر نہیں بلکہ حکومتی نشستوں پر بیٹھے ہیں۔
پڑوسی ممالک میں ایران کے وزیر خارجہ اسلام آباد کا دورہ کر چکے ہیں۔چین کے سفیر نے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملا قاتیں کی ہیں۔ہندوستان اسی روایاتی سرد مہری کا مظاہرہ کررہا ہے۔ افغانستان بھی عملی طور پر ابھی تک اسی کیمپ میں ہیں۔مشرقی وسطیٰ نے ابھی تک ردعمل دیا نہیں ہے،جبکہ امریکہ ایک بے سمت پالیسی کے ساتھ ڈومور کی اسی پرانی پالیسی پر گامزن ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے چند روز قبل خود ہی میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ تین مہینے انتظار کریں ،پھر خوب تنقید کریں۔ ہنی مون پیریڈ میں وزیراعظم اور ان کے وزراء کو یہ خیال رکھنا ہوگا کہ جہاں سے تنقید ہورہی ہے اس کو کھلے دل کے ساتھ نہ صرف بر داشت کریں ،بلکہ اس معاملے کو دیکھیں بھی کہ اس میں حقیقت کتنی ہے۔اگر تنقید حقیقت پر مبنی ہے تو اس کا سدباب کرنا چاہئے۔لیکن اس بات پر بھی دہیاں دینے کی ضرورت ہے کہ اس دوران عوامی مفاد کے چند فیصلے ہوں تا کہ وہ مطمئن رہے۔ جیسا کہ پیٹرولم مصنو عات کی قیمتوں میں کمی،گیس سلنڈر کی قیمتوں میں ہونے والے اضا فے کو روکنا،روپے کی قدر میں کسی حد تک کمی کر نا ۔پھر ممکن ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا ہنی مون پیریڈ کسی حد تک پر سکوں گز ر جائے۔

مزیدخبریں