محفل یاراں اور سیاسی گفتگو

03 ستمبر 2018

آصف عنایت

وطن عزیز میں سیاست اپنے جوبن پر ہے، کچھ اس انداز سے کہ سیاسی جماعتیں مسلکی درجے اختیار کر گئیں۔ ہر جگہ صرف سیاست پر بات ہو رہی۔ کوئی اس نے کہے کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے ہم نے تو فلاں چیز یونہی دیکھی ہے۔ تو میں سوچتا ہوں کہ اس نے ہوش سنبھالا بھی ہے کہ نہیں؟ میں نے تو کئی نام نہاد دانشوروں کو ہوش سنبھالے نہیں دیکھا بلکہ لوگوں کو صرف مال سنبھالتے دیکھا۔ کئی لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائض رہے لیکن یہ فیصلہ باقی رہا کہ انہوں نے ہوش سنبھالا بھی تھا کہ نہیں۔ میرے خیال سے ہوش سنبھالنا ہے کہ جب اور جس وقت سے بچپن کی باتیں زہن میں محفوظ رہنا شروع ہو جائیں وہ وقت ہوش سنبھالنے کا ہوتا ہے یا لڑکپن کی نوخیزی کو کہا جاتا ہو گا خونی رشتے تو قدرتی ہوتے ہیں لیکن دوست چنے جاتے ہیں یا یہ روحوں کا ملن ہوتا ہے بلکہ روحوں کا ملن ہی ہوتا ہے عشق کی طرح دوستی پر بھی اختیار نہیں ہوتا کچھ رشتے، چہرے اور دوست ہوش سنبھالنے کے گواہ ہوتے ہیں۔ بحر حال دوستی کے حوالے سے لنگوٹیاں اور جگری یار وہی ہوتا ہے جو ہوش سنبھالتے ہی دوست بنا ہو۔ ہمارے بچپن یا لڑکپن کے
دوستوں میں وحید اختر انصاری ، امجد جمیل شیخ، ندیم گواریہ، مسٹر جسٹس علی اکبر قریشی، میاں محمد افضل ایڈووکیٹ، ارشد رؤف، طاہر گل کے علاوہ آغا سہیل ڈاکٹر اعجاز خاور خواجہ معروف ڈینٹسٹ ہیں۔ ڈاکٹر گلریز محمود خان Habitat والے راحیل رحمت بٹ ، انجینئر محمد اسد بٹ ، طاہر سرور میر، فہیم چندھڑ ، ذوالفقار چیمہ ، ظفر خان، عرفان کامریڈ سکول ، کالج، سیاست کے بعد جہاں جہاں بھی ہیں زندگی کا سرمایہ اور اثاثہ ہیں لاہور میں ڈاکٹر گلریز محمود خان بڑے دل والے دوست ہیں جو ہمارے ہمدم دیرینہ اور برادر اعجاز خاور خواجہ جو لندن اور ابو ظہبی میں رہتے اور پریکٹس کرتے ہیں کو سال میں دو چار مرتبہ مدعوکرتے ہیںیا وہ خود ملنے آتے ہیں۔ ڈاکٹر اعجاز خاور اتنی خوبصورت شخصیت ہیں کہ شاید شاعر نے ان کے لیے ہی کہا تھا کہ ’’دوستوں کے درمیان وجہ دوستی ہے تو‘‘ جب آتے ہیں تو ایک گرینڈ قسم کا ڈنر ڈاکٹر گلریز محمود خان کے ہاں ہوا کرتا ہے جس میں شریک 50/60دوستوں میں دنیا بھرکی سیاست لطیفے، واقعات ، ایجادات یعنی ہر قسم کا مثبت موضوع زیر بحث آتاہے۔ ڈاکٹر اعجاز خاور خواجہ کے آنے پر ڈاکٹرز کے علاوہ فلم، سٹیج ، سیاست، بیورو کریسی، عدلیہ سے وابستہ معروف دوست اکٹھے ہوتے ہیں۔ گزشتہ روز ڈاکٹر خواجہ کی آمد پر ڈاکٹر گلریز خان نے حسب معمول ساٹھ ستر لوگوں کے زبردست ڈنر کا اہتمام کیا۔ بہت سے دوست تھے جن میں ڈاکٹر لیاقت کلچر ونگ کے زاہد حسین خان انجینئر محمد اسد بٹ، پروفیسر عمران اللہ، ڈاکٹر فواد ، ڈاکٹر ارحم چوہان ، ڈاکٹر فرخ وزیر، ڈاکٹر خالد مرزا، ڈاکٹر امجد علی خان، مصطفی کمال پاشا، زبیر میر، احمد یار، سابقہ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب چوہدری خاور ریاست علی، گریٹ سہیل احمد (عزیزی ) ، ڈاکٹر زین خان، ڈاکٹر اسد خان، عیسیٰ راحیل بٹ شرکاء میں سے گفتگو میں شریک رہے۔ اسد بٹ ، درویش انسان ہیں جن کی حب الوطنی قابل تقلید ہے۔ مگر جہاں وہ موجود ہوں اور سیاست پر بات نہ ہو یہ ممکن نہیں ویسے بھی ہر محفل کی طرح یہ یاروں کی محفل سیاسی اقتصادی اوورسیز پاکستانیوں کے خیالات پر تبادلہ خیالات کی محفل بن گئی ماضی، حال اور مستقبل پر خوب بات ہوئی ہر ہر موضوع کو کھنگالہ گیا۔ حالیہ دنوں میں ہونے والے ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے، وزیراعظم کی تیسری بیوی خاتون اول بشریٰ بی بی، ان کے شوہر اول خاور فرید مانیکا، وزیراعلیٰ ، آئی جی پنجاب کے معاملہ پر بات ہوئی ۔ ہیلی کاپٹر کے استعمال پر اسد بٹ صاحب بمشکل متفق ہوئے کہ خوبصورت بات ہوتی اگر حکومت کی طرف سے مؤقف آتا کہ سکیورٹی اور وقت کی بچت کے لیے وزیراعظم نے استعمال کیا ۔ فواد چوہدری کی طرف سے نواز شریف کے بچوں کے ہیلی کاپٹر استعمال کا تخمینہ تقریباً دو کروڑ بتایا اور اعلان کیا گیا ہے اس پر سوال اٹھا کہ یہ بل بھی 55 روپے فی کلو میٹر کے حساب سے بنایا گیا ہے یا 5500 روپے فی کلو میٹر، وزیراعظم آفس کے استعمال کی گاڑیوں کی نیلامی پر سوال اٹھا کر غیر ملکی مہمانوں کو اووبر پر لایا جائے گا؟ ایک دوست نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مرکز میں ’’متوقع‘‘ 70 سیٹوں سے 176 سیٹیں بھی قدرت کا کمال ہے اور پنجاب اسمبلی میں (ن) لیگ کی 200 سیٹوں کی 130 کے قریب حد بندی بھی قدرت کا انتقام ہے ورنہ یہ تو پنجاب میں بے قابو ہو جاتے وطن عزیز پر سیاسی صورت حال کو قدرت نے اپنے کنٹرول میں رکھا عددی اعتبار سے تاریخ کی مضبوط ترین اپوزیشن ماضی میں دو جانی دشمن سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے اور پھر گرہ یہ کہ ان کے قائدین اور عمائدین سیاسی و فواجداری مقدمات میں پھنسے پڑے ہیں دوسری جانب حکومت کو صرف چار اراکین کی برتری حاصل ہے جس میں ایم کیو ایم کے 6 اراکین شامل ہیں جو تاریخی اعتبار سے ہروقت سلپری زون میں رہتے ہیں جدھر کی ہوا چلی ادھر کی طرف چل دیئے۔ یہ سلسلہ گیلانی حکومت میں تو صبح شام رہا لہٰذا حکومت اور اپوزیشن کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے قدرت کا اہتمام لا جواب ہے ورنہ عوام تو بزدار حکومت کے پہلے ہفتے میں پاکپتن کا واقعہ، کراچی میں عمران شاہ کے ہاتھوں شہری کی پٹائی، عامر لیاقت کی ڈری ڈری بغاوت، ہیلی کاپٹر کا موٹر سائیکل بن جانا دیکھ چکے ہیں۔ فضل الرحمن کا در بدر ہونا اللہ پناہ ، ان مختلف موضوعات پر بات چیت ہوئی جس میں پنجاب کے وزیر ثقافت و اطلاعات فیاض الحسن چوہان کی اداکاراوں میڈیا والوں اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے بارے میں غیر پارلیمانی زبان کے استعمال پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ سب کی رائے تھی کہ فنون لطیفہ، ثقافت اور ادب سے تعلق نہ رکھنے والے لوگ عوام کو یہی کارکردگی دکھائیں گے کیا ہی اچھا ہوتا کہ شاندار خدمات انجام دینے والے پی ٹی آئی کے کلچرنگ ونگ نائب صدر میاں سہیل اسماعیل کو اگر کلچر ونگ پنجاب میں کوئی قابل ذکر عہدہ دیا جاتا تو ثقافت، شوبز اور لوک ورثہ فنون لطیفہ اور میڈیا سے متعلقہ شعبوں کے افراد اور فنکار حکومت میں اپنی بھرپور نمائندگی محسوس کرتے۔ میرٹ نام ہی اس کا ہے کہ جو چیز جس جگہ پر ہونی چاہیے وہیں پر ہو اور اس کی جگہ دوسری چیز رکھیں تو یہ ظلم ہے اگال دان کی جگہ گلدان رکھ دینا اور گلدان کی جگہ اگال دان رکھ
دینا ظلم ہے، کیا کوئی پینٹ کے اوپر کوئی انڈر ویئر پہن سکتا ہے اگر پہنے تو کیا کہلائے گا۔ یہی حالت غیر موذوں لوگوں کی تعیناتی کی ہے۔ جناب عمران خان کی نیت اچھی اور صاف ہے مگر فیصلے بولتے ہیں کہ آگے کیا ہو گا۔ میڈیا سے تین ماہ کی مہلت مانگنا کوئی ناجائز بات نہیں انہیں پوری مدت میں ملنا چاہیے مگر تین ہفتوں میں ہی حکومت کے اندر سے اٹھنے والا لاوا اور رونما ہونے والے واقعات کا کیا کیا جائے گا، دراصل میاں نواز شریف کا سیاسی ماضی، جناب عمران خان کی تنقید دعوے اور وعدے، جناب زرداری کا perception ان کے حقیقی مخالف ہیں، اپوزیشن تو اس پوزیشن میں نہیں اور میڈیا ابھی چار پانچ سال سے تو عمران کا سپورٹر بنا ہوا تھا وہ اتنی جلدی یوٹرن کیسے لے سکتے ہیں یقیناًامریکی کال ،عمران شاہ، ڈی پی او کے تبادلے کے معاملات صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کی میڈیا اور اداکاراؤں کے خلاف بولی جانے والی زبان پر یوٹرن تنقید کو دعوت دے رہا ہے۔ بہرحال حکومت کو سو دن ضرور ملنا چاہیے سو دن حکومت کا پھر ایک دن سلیم صافی کا۔ اب جب اگلی بار ڈاکٹر خواجہ آئیں گے تو 100 دن گزر چکے ہوں گے یاروں کی محفل میں نئی باتیں ہوں گی یار زندہ صحبت باقی۔

مزیدخبریں