بلدیاتی نظام ، نیاپاکستان بن رہا ہے ؟

03 ستمبر 2018

میر معید

آسودہ حال معاشروں کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ ان ممالک کی ترقی کا راز ان کے بلدیاتی نظام پر منحصر ہے وفاقی حکومت کے ذمے صرف ملکی دفاع اور خارجہ پالیسی اور چند اہم ریاستی اداروں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے اختیارات کی تقسیم بتدریج یونین کونسلز کو منتقل کردی گئی ہیں پولیس صحت تعلیم غرض کہ عوام کے روزمرہ کی ضروریات اور سہولیات کا ہر شعبہ یونین کونسلز کے زیر نگیں کام کرتا ہے اور یوں حکومتیں صحیح معنوں میں عوام کی امنگوں کے مطابق فیصلے کرتی ہیں اور نظام ِ حکومت احسن طریقے سے چلاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا اعتماد حکومت پر سوفیصدی قائم رہتا ہے پاکستان کی گزشتہ حکومتوں نے بلدیاتی نظام کو لپیٹ کر اپنے تخت کے نیچے دفن کیے رکھا۔ پہلے تو بلدیاتی انتخابات نہ کروائے اور جب سپریم کورٹ کے دباو کے تحت انتخاب ہوئے تو
منتخب کردہ نمائندوں کو بے آسرا چھوڑے رکھا۔ فنڈ کی بجائے لارے ملے اور وہ بھی شاز و نادر۔ چناچہ جسیاپنی گلی کی نالی پکی کروانی ہو یا محلے میں سیوریج کا کھڑا پانی نکلوانا ہو تو اپنے علاقے کے ایم پی اے یا ایم این اے کو ڈھونڈے جو اسے انتخابات سے پہلے ملتا ہے وہ بھی اس وقت جب وہ فنڈ پر ہاتھ منہ صاف کرکے ڈکار لے چکا ہوتاہے دنیا میں کہیں چلے جائیں باعزت معاشروں میں ایسا نہیں ہوتا یہ ان نمائندوں کا کام نہیں۔
اگر پاکستان میں صحیح طور پر بلدیاتی نظام رائج کردیا جائے تو پاکستان کے 70% مسائل ایک دو سال کے اندر حل ہوسکتے ہیں لیکن جمہوریت کینام پر موروثی بادشاہت جو پنجاب میں قائم رہی اور سندھ میں قائم ہے اس بادشاہی حکومت کے ہوتے نیانظام عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا کچھ نہیں۔
بلدیاتی نظام کی اس خطے میں مختصر تاریخ کا جائزہ کچھ یوں ہے کہ سرسید احمد خان جب وائسرائے کونسل کے رکن نامزد ہوئے تو ان کی کوششوں سے انگریزوں نے یہاں کے عوام کی حکومت میں شرکت کے اصول کو تسلیم کر لیا اور اس کی ابتداء4 1883میں Local Self Govt. Actکے نفاذ سے ہوئی تو برصغیر میں پہلی بار بلدیاتی نظام رائج ہوا اور لوگ حق رائے دہی کے جدید نظام سے روشناس ہوئے اگر تاریخ کامطالعہ کیا جائے تو ہمیں قرون اولیٰ میں خدمت خلق کے ادارے بڑے فعال اور موثر نظر آتے ہیں اور وہ ہمیشہ اسلامی معاشرے کا حصہ رہے ہیں۔پاکستان میں بلدیاتی نظام 1912کے بلدیاتی قوانین کا تسلسل ہے ۔قیام پاکستان کے وقت چونکہ مملکت خداداد کا ابتدائی سیاسی ڈھانچہ برطانوی ایکٹ 1935کے تحت ہی رکھا گیا اور وقتی طور پر اس کے تحت نظام چلایا گیا تو1959میں پاکستان میں پہلی بار سیاسی مصلحتوں اور ضرورت کے تحت صدر ایوب خان نے نئے طرز کا نظام رائج کیا جسے 1962کے آئین کے باب دوم کے آرٹیکل 158کے تحت الیکٹورل کالج میں تبدیل کر دیا گیا تاہم پاکستان میں یہ ادارے مخصوص شکل میں 1964میں متعارف کرائے گئے اور بلدیاتی اداروں کو ترقیاتی کاموں میں شرکت کے مواقع مہیا
کرنے کے علاوہ کچھ عدالتی اختیارات بھی تفویض کیے گئے۔ 1972ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے نیا بلدیاتی قانون پیپلزگورنمنٹ آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت انتخابی حلقے کا کردار ختم کر کے اسے سماجی خدمات تک محدود کر دیا گیا اور ان کی حیثیت غیر نمائندہ رہی۔ جنرل ضیا الحق نے 1979میں مقامی حکومتوں کا آرڈیننس جاری کر کے انتخابات کروائے۔ اسکے بعد 1998 ء4 میں بھی بلدیاتی انتخابات کروائے گئے۔ بلدیاتی نظام کا جو سب سے کامیاب دَور گزرا وہ مشرف کا تھا جس نے 2001 ء4 اور 2005ء4 میں یہ نظام مضبوط بنیادوں پر نہ صرف استوار کیا بلکہ ناظمین کو مفاد عامہ اور انتظامی امور کے میدان میں لامحدود اِختیارات سونپے گئے۔ قیام پاکستان سے لے کر اَب تک یہاں یا تو آمرانہ نظام قائم رہا یا جمہوریت کے نام پر موروثیت لیکن ایک مشرف دور کے سوا کسی دور حکومت میں بلدیاتی نظام کو اسقدر فعال نہ بنایاگیا۔
بلدیاتی نظام ایک ایسا نظام ہے جس میں عوام براہ راست منسلک ہوتے ہیں عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب خود کرتے ہیں اور انہیں نہ صرف وہ عرصہ دراز سے جانتے ہیں بلکہ ان پر اعتماد بھی کرتے ہیں جبکہ قومی و صوبائی نمائندے محض انتخابات کے دنوں میں ہی عوام میں نظر آتے ہیں وہ نہ تو علاقے کے مسائل کو جانتے ہیں اور نہ ہی عوام سے شناسائی رکھتے ہیں۔ عوام اپنے نمائندے اہل علاقہ سے منتخب کرتے ہیں ملکی سطح پر چھوٹے چھوٹے یونٹ میں الیکشن کروائے جاتے ہیں اور وہی اْمیدوار کامیاب ہوتے ہیں جنہیں عوام براہ راست چنتے ہیں۔ بلدیاتی نظام میں نمائندوں کا اپنے علاقہ سے منتخب ہونے کی وجہ سے وہ نہ صرف چوبیس گھنٹے عوام کی خدمت پر مامور رہتے ہیں بلکہ اہل علاقہ کی پہنچ ان تک باآثانی رہتی ہے اس نظام کی ایک اور اہم خوبی خواتین کی انتخابات میں شمولیت ہے اہلِ علاقہ سے ہونے کی بناء4 پر وہ ان خواتین اْمیدواروں کا چناو کر سکتی ہیں جن پر وہ نہ صرف بھروسہ کرتی ہیں بلکہ اْنہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کے حقیقی مسائل کوحل کریں گی۔
ادھرعمران خان نے ملک میں نئے بلدیاتی نظام کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہیجو ایک ہفتے میں اپنی تجاویز پیش کرے گی وزیراعظم ہاؤس میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے میں اس سلسلے میں قوانین تشکیل دے دیئے جائیں تاکہ انہیں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نافذ کردیا جائے، جہاں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی کی حکومتوں سے بھی آرٹیکل 140اے کے تحت مقامی بلدیاتی حکومت کے نئے قوانین پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ تحریک انصاف کی حکومت ملک کی تاریخ کا سب سے شاندار اور فعال بلدیاتی نظام لانا چاہتی ہے جس میں ویلج کونسل یعنی لگ بھگ 2000 ووٹوں تک کی نچلی سطح تک یونٹ بنائے جائیں گے اسکے علاوہ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے تقریبا نو سے زائد اداروں کو ان بلدیاتی اداروں کے ماتحت کردیا جائے گا انھیں سیاسی و معاشی فیصلے کرنے کے لیے خود مختار بنا دیا جائے گا۔
اگر عمران خان کی حکومت بلدیاتی اصلاحات کرنے میں کامیاب ہوگئی تو نہ صرف تحریک انصاف مزید پھلے پھولے گی بلکہ واقعی نیا پاکستان کا نعرہ حقیقت کا روپ دھار لے گا عوام کو حکومتی امور میں جتنا زیادہ حصہ ڈالنے کا موقع ملے گاہ اتنا ہی حکومتوں پر انکا کھویا ہوا اعتماد بحال ہوگا نیا پاکستان بلدیاتی نظام میں انقلابی تبدیلی کے بغیر ناممکن ہے ۔

مزیدخبریں