جناب منصف اعلیٰ! ایک نظر ادھر بھی
03 ستمبر 2018 2018-09-03

ڈی۔پی۔او عمر رضوان گوندل والا معا ملہ ہو یا جنہیں اپنے سیاسی رہنما کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے ، شرجیل انعام میمن کا اربوں روپے ہضم کر کے جیل کی سلاخوں کی بجائے ہسپتال کے وی۔آئی۔پی روم میں آرام اور سر عام شراب نوشی کرتے ہوئے پکڑے جانے کا معاملہ ہو ،آئندہ آنے والی نسل کا خیال کرتے ہوئے مستقبل میں پانی کی کمی کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر ڈیم بنانے کے ا حکامات اور اس کے لئے علیحدہ اکاونٹ بنا نے کا معاملہ ہو،پاکستان کے ہسپتالوں میں ذلیل ہوتے عام لوگوں کو علاج کی بہترین سہولیات پہنچانے کا معاملہ ہو، حرام خوری کے تمام تر ریکارڈ توڑ کر قومی خزانے کو لوٹنے والے 56نام نہاد کمپنیوں کے افسران کی اوقات سے زیادہ تنخواہ کا معاملہ ہو یا کرپشن، ملک کو لوٹنے والوں ، اداروں کو اپنے مفادات کی خاطر تباہ کر نے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا معاملہ ،ان تمام معاملات پر چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار کی کاوشیں یقیناًتا قیامت یاد رکھی جائیں گی ۔

لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ منصف اعلیٰ ان معاملات کے ساتھ اپنے ادارے میں گذشتہ کئی عشروں سے جاری لوگوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف بھی کمر کس لیں اور اس ادارے کی کالی بھیڑوں کو بھی بے نقاب کرتے ہوئے کچھ ایسی سزائیں دے دی جائیں تو مجھے قوی امید ہے کہ ان کے اپنے ادارے میں بھی ان اقدامات سے بہتری دیکھنے کو مل سکتی ہے ۔ یہاں حالات تو اس قدر گھمبیر ہیں کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران میں اس کالم کی تیاری کے سلسلے میں مسلسل ماتحت عدالتوں میں عام آدمی کو درپیش مشکلات کا جائزہ لیتا رہا ۔ یہاں آنے والا ہر شخص ایک کہانی ہے جو وکیلوں ،ججوں اور ان کے ریڈروں کے ہاتھوں ستایا ہوا ہے ۔ یہاں بھی رشوت کا بازار سر گرم ہے اور جج کے ماتحت جتنا بھی عملہ ہے سب منہ پھاڑے ،ندیدی نگاہوں کے ساتھ پہلے سے ظلم و زیادتی کا نشانہ بننے والے لوگوں سے اپنا حصہ وصول کرتے نظرآتے ہیں ۔ کئی مواقعوں پر تو ایسے منظر بھی دیکھنے کو ملے کہ جج کے دائیں اور بائیں بیٹھے شلوار قمیض اور واسکٹ میں ملبوس اہلکار جج صاحب کوبھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے کھلے عام اپنا حصہ وصول کر رہے تھے ۔

قارئین کرام ! آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ ماتحت عدالتوں میں اس وقت ہزاروں کیسز زیر التواء ہیں اور ان میں سے سے کئی ایسے کیسز ہیں کہ اگر جج صاحب چاہیں تو صرف دو ماہ میں ان کا فیصلہ کر سکتے ہیں لیکن آپسی گٹھ جوڑ کی وجہ سے یہی کیسز کئی کئی سال حل نہیں ہوپاتے ۔ دوسرا المیہ یہ ہے کہ جہاں پہلے ہی اس قدر کیسز زیر التوا ہیں وہاں جبکئی چور، لفنگا، بدمعاش اور قبضہ گروپ، کسی کا بھی دل کرتا ہے اُسے فوری بغیر تصدیق کئے اسٹے فراہم کر دیا جا تا ہے جس کی وجہ سے کیسز کا مزید دباؤ پڑتا ہے اور جس کے نتیجے میں جس کے خلاف اسٹے لیا جا رہا ہے وہ پارٹی کئی سالوں تک ذلیل وخوار ہو تی رہتی ہے ۔ میں نے اپنے طور پر جب اسٹے لینے والوں کے بارے معلومات حاصل کیں تو معلوم ہوا سب سے زیادہ اسٹے کرایہ دار مالک مکان کے خلاف لیتے ہیں ۔

اس دوران ایک اور انکشاف یہ ہوا کہ ان میں سے 90فیصد کرایہ دار بد نیتی اور ناجائزقبضے کے لئے اسٹے لیتے ہیں ۔ ایسے ہی ظلم کا شکار ہونے والی ایک بیوہ ہمیں ملی کہ جس کے کرایہ دار پچھلے پانچ سالوں سے کرایہ نہیں ادا ء کر رہے تھے ، یہ بیوہ پہلے تو انصاف کے لئے متعلقہ تھانے گئی لیکن پولیس نے بھی اس کی کوئی مدد نہیں کی اور بالآخر کرایہ دار اسٹے آڈر لے آئے ۔یہ بیوہ خاتون اپنے جائز حق کے لئے اب عدالتوں میں یو نہی ذلیل و خوار ہو گی ، حرام خور مافیا کو ہر پیشی پر حصہ دے گی اور پھر سالوں فیصلے کی سولی پر لٹکتی رہے گی۔ ایک ایسے ہی بوڑھے شخص سے بھی ملاقات ہوئی جو ایسے ہی ایک کیس میں پچھلے چار سالوں سے عدالت کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک گیا ہے ۔ اس کے مطابق جب فیصلہ ہونے لگتا ہے تو دوسری پارٹی کا وکیل تبدیل ہو جا تا ہے ، پھر فیصلہ ہونے لگتا ہے تو جج چھٹی پر چلا جاتا ہے ، پھر فیصلے کی باری آتی ہے تو جج تبدیل ہو جاتا ہے اور یوں پھر ایک نئے سرے سے معاملات چلنا شروع ہو جاتے ہیں ۔

جناب منصف اعلیٰ ! ماتحت عدالتوں میں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم تھیں ، ہر شخص اپنی بد قسمتی کا رونا روتے ہوئے آپ سے امید لگائے بیٹھا ہے ، اگر آپ نے ان لوگوں کے حال پر نظر کرم کرتے ہوئے اپنے ادارے کو ٹھیک نہ کیا تو مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کی وہ نیکیاں بھی ضائع چلی جائیں گی جس کے لئے آپ دن رات محنت کر رہے ہیں ۔ میں نے آپ کے ادارے کے لوگوں کے ہاتھوں کئی لوگوں کو ذلیل ہوتادیکھا ہے ، لٹتے دیکھا ہے ، ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے اور انصاف میں تاخیری حربے استعمال کرتے دیکھا ہے ۔ کئی ایسا نہ ہو کئی سالوں سے بے حال و لاچار یہ لوگ بڑے منصف اعلیٰ سے شکایت کر بیٹھے ۔ اگر ایسا ہو گیا تو اپنے بندے سے ستر ماؤں سے پیار کر نے والا منصف اعلیٰ پھر کیا رویہ اختیار کرے گا ؟یہ بھی ایک لمحہ فکریہ ہے۔ تو جناب منصف اعلیٰ!!! ایک نظر ادھر بھی ۔


ای پیپر