وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس

03 ستمبر 2018 (19:46)

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ 3ماہ میں تمام غیر قانونی کنکشن ختم کردئیے جائیں گے جبکہ سرکلر ڈیٹ کا معاملہ وزیر اعظم کے سامنے رکھا جائےگا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے ملک بھر میں بجلی چوروں کیخلاف بڑی کاروائی کر فیصلہ کیا ہے۔

پیر کو وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا‘جس میں بجلی چوری اور کھاد کی دستیابی کے معاملات زیر بحث آئے‘اجلاس میں توانائی کے شعبے میں بڑی اصلاحات کےلئے بجلی چوروں کےخلاف بڑی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا اور کہا گیا بجلی چوروں کےساتھ بجلی نادہندگان کےخلاف فوری کارروائی کی جائےگی اور نادہندگان کے کنکشن کاٹ دیئے جائیں گے۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ غیر قانونی کنکشنز تین ماہ میں ختم کئے جائیں گے اور عام صارفین کے علاوہ وزارتوں اور محکموں کےخلاف بھی بھرپور کارروائی کی جائےگی۔

رابطہ کمیٹی نے پری پیڈ بجلی کے میٹرز لگانے کی تجویز بھی دی۔اجلاس میں کھاد کی طلب مقامی پیداوار سے پوری کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کےلئے کھاد کے کارخانے فوری طور پر چلانے کے احکامات جاری کئے گئے اور کہا گیا اگر مقامی پیداوار کم ہوئی تو درآمد کا فیصلہ بعد میں کیا جائےگا۔اقتصادی رابطہ کمیٹی میں کہا گیا سرکلر ڈیٹ کا معاملہ وزیر اعظم کے سامنے رکھا جائےگا۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا دوسرا اجلاس تھا۔

اس سے قبل اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے پی ایس او کیلئے 10ارب روپے کے اجرا اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مخر کرنے کی منظوری دی تھی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ گردشی قرضوں کا مجموعی حجم 1188ارب روپے ہوگیا ‘ جس پر وزیر خزانہ نے تمام متعلقہ محکموں سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی تھی اور کہا تھا گردشی قرضوں کے بارے میں فیصلہ آئندہ ہفتے کیا جائےگا۔اجلاس میں مالی بحران کا شکار پاکستان اسٹیٹ آئل کیلئے 10ارب روپے کے بیل آوٹ پیکج کی منظوری بھی دی گئی تھی۔

مزیدخبریں