Source : File Photo

ڈی پی او تبادلہ از خود نوٹس ،چیف نے حکم نامہ جاری کر دیا
03 ستمبر 2018 (17:01) 2018-09-03

اسلام آباد: ڈسٹرکٹ پولیس افسر ( ڈی پی او )پاکپتن کے تبادلے پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پولیس میں سیاسی مداخلت کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی جبکہ عدالت نے خاور مانیکا کی صاحبزادی کے ساتھ بدتمیری کی انکوائری ایڈیشنل آئی جی پنجاب ابوبکر خدا بخش کے سپرد کردی۔

پیر کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ڈی پی او تبادلہ از خود نوٹس کی سماعت کی، اس موقع پرخاور مانیکا، ان کی صاحبزادی مبشریٰ مانیکا ، احسن جمیل گجر، آئی جی پنجاب کلم امام، سابق ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل، وزیراعلی کے پی ایس او اور سی ایس او عدالت میں پیش ہوئے۔ سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب اور دیگر کے بیانات سننے کے بعد پولیس میں سیاسی مداخلت کی انکوائری کا حکم دیا جس کی تحقیقات آئی جی پنجاب کلیم امام کریں گے جبکہ عدالت نے خاور مانیکا کی صاحبزادی کے ساتھ بدتمیری کی انکوائری ایڈیشنل آئی جی پنجاب ابوبکر خدا بخش کے سپرد کردی۔سماعت شروع ہوئی تو آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ تمام طلب کردہ افراد عدالت میں موجود ہیں اور تمام افراد کے بیانات حلفی بھی پیش کردیے گئے ہیں۔

اس موقع پر آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو وزیراعلی کے دفتر نہ جانے کا کہا تھا جس پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے اسفتسار کیاکہ آپ نے کہا تھا کہ ہم 24 گھنٹے کام کرتے ہیں اس لیے رات 1 بجے تبادلہ کیا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ فائل دکھائیں، ڈی پی او کا تبادلہ تحریری آرڈر سے ہوا یا زبانی احکامات سے جس پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ تبادلے کا حکم زبانی دیا گیا، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے میری دی ہوئی ہدایات بھلا دیں، میں نے تمام آئی جیز کو بلا کر کہا تھا آج سے سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہو جائیں، پولیس سیاسی دباﺅ اور حاکموں کے کہنے پر کام نہ کرے۔

اس موقع پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ ڈی پی او نے خاتون سے بدتمیزی کا نوٹس کیوں نہیں لیا جس پر چیف جسٹس استفسار کیا کہ کیا بطور کمانڈر آپ نے دیانتداری کا مظاہرہ کیا، زبانی ٹرانسفر کے احکامات کیوں دیے تھے۔عدالت کی شدید برہمی پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ میں خود کوعدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں تاہم چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں فائل دکھائیں جس پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ میں نے تبادلہ پوسٹ ڈیٹڈ کرنا تھا، چیف جسٹس نے کہا ہمیں پوسٹ ڈیٹڈ فائل ہی دکھا دیں جس پر آئی جی پنجاب نے کہا ابھی فائل میرے پاس نہیں ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے سماعت کے دوران استفسار کیا کہ احسن گجر کون ہے، کہاں ہے،کھڑے ہوجا، احسن گجر کے خلاف کیوں ایکشن نہیں لیا گیا۔

چیف جسٹس نے احسن گجر سے استفسار کیا کہ کیا آپ بچوں کے گارڈین ہیںاور کیا آپ بچوں کے ماما ہیں یا چاچا؟ جس پر احسن گجر نے کہا میں ان آفیشل گارڈین ہوں، مبشری مانیکا 5 روز سے پیدل چل کر جا رہی تھی، چیف جسٹس نے پوچھا آپ کا وزیراعلی پنجاب سے کیا تعلق ہے جس پر احسن گجر نے کہا کہ میں شہری ہوں۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں کھڑے ہو کر جھوٹ مت بولیں، افریقہ سے فون کرائے جا رہے ہیں، آپ سمجھتے ہیں سیاسی اثر کی وجہ سے پولیس کو ذلیل کرالیں گے ؟ میں بچوں کا کفیل ہوں، ان کی وجہ سے ایکشن لیا۔چیف جسٹس نے احسن جمیل گجر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ ہوتے کون ہیں تبادلے کی ہدایت دینے والے ؟ آپ وزیراعلی کے دفتر میں کیا کر رہے تھے ؟ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعلی کو کیا حق تھا کہ پولیس کو بلا کر کہتا جس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلی پنجاب نے صرف داد رسی کرنے کا کہا تھا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہمیں وزیراعلی کو نوٹس دینا چاہیے، اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وزیراعلی قبائلی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ یہ کوئی قبائلی ملک نہیں یہاں قانون چلتا ہے، وزیراعلی پنجاب کو قانون کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ وزیراعلی پنجاب کو طلب کرکے پوچھا جائے، دائیں بائیں اور درمیان سے جھوٹ بولا جارہا ہے، ہم سوچ رہے ہیں کہ وزیراعلی کو عدالت بلائیں،آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت وزیراعلی پنجاب کو نوٹس کریں گے، وزیراعلی کا اس واقعے سے کیا تعلق تھا۔چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ کیا وزیر اعلی پنجاب اور بڑے لوگ خدا ہیں؟' آپ نے پولیس فورس کی عزت بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے، ہمارا صرف ایک مقصد ہے پولیس خودمختار ہو، وزیراعظم نے بھی اس طرح کی بات کی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کدھر ہیں خاور مانیکا سامنے آئیں جس پر وہ اپنی نشست سے اٹھے تو چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ زندہ ہیں، آپ نے بچوں کی کسٹڈی کسی اور کو دی رکھی ہے، آپ کی بچی کے ساتھ جو ہوا غلط ہوا۔

خاور مانیکا نے عدالت کو بتایا کہ احسن گجراوران کی اہلیہ سے ہماری فیملی کے1997 سے تعلقات ہیں، ڈی پی او سے کہا آپ نے بدمعاش چھوڑے ہوئے ہیں؟،بیٹی نے کہاپولیس اہلکاروں نے شراب پی رکھی ہے،میں نے پولیس والوں کوڈانٹا،ان سے شراب کی بوآرہی تھی،میں نے کہا جہاں یہ جارہی ہیں اب اسی دربارسے معافی ہوگی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمیں بیٹی کاتقدس عزیز ہے،جن پولیس اہلکاروں نے بچی کاہاتھ پکڑاان کیخلاف ایکشن لیں گے۔خاور مانیکا نے کہا کہ میں نے ڈی پی او سے کہاکہ ایکشن لیں،میری بیٹی نے کہاکیا کوئی عورت رات کوپیدل نہیں چل سکتی؟چیف جسٹس نے دوران مکالمہ کہا کہ مجھے توآئی جی پنجاب نے مایوس کیا، ہم بچی کو مس ہینڈل کرنے اور پولیس میں سیاسی مداخلت پر ایکشن لیں گے۔بعدازاں کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی۔


ای پیپر