حقائق آشکارہوتے ہوئے
03 ستمبر 2018 2018-09-03

ابھی صرف بارہ دن گزرے ہیں۔ حقائق آشکار ہو رہے ہیں۔ اتنی تیزی سے کہ یقین نہیں آتا۔سرکاری فائلوں سے سچائیاں چھلا نگیں مار مارکر باہر نکل رہی ہیں۔ لیکن مسلم لیگ (ن) کہیں خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔ جیسی حکومت میں تھی ویسی ہی اپوزیشن میں۔ کوئی میڈیا ہینڈلنگ ہے نہ میڈیا پالیسی۔کوئی میڈیا سیل ہے نہ کوئی رابطہ آفس۔ نواز شریف کے چاہنے والے، مریم نواز شریف کی دلیری سے متاثر عام مردوزن ہیں جو سوشل میڈیا پر اپنی اپنی جگہ پر جنگ لڑ رہے ہیں۔لیکن کب تک۔ 1857 کی جنگ آزادی کی طرح ایسی بے سمت،غیر منظم جنگیں تا دیر جاری نہیں رہ پاتیں۔ کسی راہنما کے بغیر کسی سالار سے محروم۔ مسلم لیگ (ن) کی لیڈر شپ آگے نہ بڑھی۔ اپنے حق میں موجود دلیلوں، حقائق کے انبار کو استعمال کرنے کا فن نہ سمجھا تو جلد ہی داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں۔ ابھی تو طویل ماہ، سال اقتدار و اپوزیشن میں گزارنے والی اس جماعت کا کوئی مرکزی آفس ہے نہ کوئی رابطہ کار۔نواز شریف، مریم نواز اڈیالہ میں اسیری کے شب و روز گزار رہے ہیں۔ جمعرات کو ان سے ملاقاتی جاتے ہیں سینہ بہ سینہ داستانیں سننے میں آتی ہیں۔ باقی کچھ بھی نہیں سنا ہے۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اسلام آباد میں کسی مناسب گھر کی تلاش میں ہیں۔ لیکن تب تک کیا میڈیا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہے۔ اسیری اور قید و بندکا مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان کا کوئی پہلا تجربہ نہیں۔ اپوزیشن میں کیسے رہا جاتا ہے یہ بھی ان کو معلوم ہے۔ 1988 سے1996 تک اپوزیشن کے مشکل ادوار انہوں نے گزارے ہیں۔ 12 اکتوبر کو مارشل لاء لگا تو کچھ عرصہ گزرا گم نام اسیری سے رہائی کے بعد صدیق الفاروق نے میڈیا کا محاذ سنبھالا تھا ایف ایٹ میں واقع دفتر چلتا رہا۔ صدیق الفاروق پڑھے لکھے اور ماضی کے صحافی ہیں۔ریسرچ کرتے،اخبارات کھنگالتے،ایشوز تلاش کرنے اور میڈیا کے ماحول کو گرمائے رکھتے۔ ایسے بھی ہوا کہ گھر سے ساگ، مکئی کی روٹی پکوا کر لاتے احباب کے ساتھ مل بیٹھ کر کھاتے۔اور گلشن کا کاروبار چلتا رہتا۔ اب تو مسلم لیگ (ن) میں کروڑ پتیوں کی کوئی کمی نہیں۔ سینکڑوں ایم این اے، ایم پی اے، سینیٹر ہیں۔عہدیداروں کی کمی نہیں۔ سنا ہے دور اقتدار میں کوئی میڈیا سیل بھی تھا۔نا جانے کب،کہاں اور کیا کام کیا۔ شائد سیٹھو ں کی تجوریوں میں کچھ گیا ہو۔ ورکرز کو تو کبھی چائے کی پیالی بھی نصیب نہ ہوئی۔ مسلم لیگ (ن) کے عرصہ اقتدار میں تو کسی پریس کلب کو کسی یونین کو ایک آنہ کا بھی فنڈ نہ ملا۔ البتہ ایسی کوششیں ضرورہوئیں کہ پریس کلبوں اور یونین میں اپنے ’’انکلز‘‘ کو بٹھا یا جائے۔ لیکن یہ صحافی بڑی سخت جان مخلوق ہے۔یہ تو مفلسی میں زیادہ جی جان سے لڑتے ہیں۔ بہر حال وقت گزر گیا اب وہی سابق وزرائے اطلاعات ہیں،وہی پریس کلب ہیں، وہی صحافتی تنظیمیں ہیں۔اپنی بات عوام تک پہنچانے کیلئے کوئی اور ٹھکانہ،پلیٹ فارم ہے بھی نہیں۔ پیپلز پارٹی تو ویسے بھی بے نیاز پارٹی ہے۔ اس نے تو کبھی میڈیا مینجمنٹ کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔
البتہ مسلم لیگ (ن) کے متعلق کسی زمانے میں مشہور تھا کہ وہ اہل صحافت کو ’’خوش‘‘رکھتی ہے۔ لفافے وغیرہ بانٹتی ہے۔طویل عرصہ کھوج لگانے کی کوشش رہی کہ کچھ پتہ چلے کہ لفافے کیسے آتے ہیں۔کس کو ملتے ہیں۔ عرق ریزی کے بعد پتہ چلا کہ یہ تو کسی کو سادہ کاغذ بھی بغیر مطلب کے نہ دیں۔بات کسی اور طرف نکل گئی۔پی ٹی آئی کی حکومت کو بنے دو ہفتے بھی نہیں گزرے کہ حقائق منظر عام پر آ رہے ہیں۔ وہ نگران حکومت کا دور تھا۔خیال تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے بے بنیاد دعوے پکڑے جائینگے اور خوب ڈھول بجے گا۔جھوٹا،جھوٹا کا روگ الاپا جائے گا۔لیکن چند روز بعد ہی نگران وزیر اطلاعات کو بھری پریس کانفرنس میں یہ اعتراف کرنا پڑا کہ گزشتہ حکومت کی کوششوں سے ملک میں بائیس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ اور ستائیس ہزار میگا واٹ کی ٹوٹل استعداد موجود ہے۔ نئی حکومت بنی۔22 سالہ جدو جہد کے بعد عمران خان کو وزیر اعظم ہاؤس میں داخلے کا موقع ملنے پر جناب وزیر اعظم نے پہلی فرصت میں پہلا سوال پوچھا کہ شریف خاندان کا خرچہ کتنا تھا۔ جواب ملا جیب سے دیتے تھے۔پوچھا ثبوت لاؤ۔چیک سامنے رکھ دیئے گئے۔ لاجواب ہوئے یا نہیں۔ یہ معلوم نہیں۔ نئے وزیرریلوے عمر رسید عورت کو دھکے دیکر، کیمرہ مین کا کیمرہ توڑ کر پہلی دفعہ لاہور ریلوے ہیڈکوارٹر پہنچے۔ ریلوے کی پرفارمنس پوچھی۔کاغذ،دستاویز تو جھوٹ نہیں بولتے۔سچ سن کر آپے سے باہر ہو گئے۔آخر کار ایک افسر کا سر لیکر واپس نکلے۔ سینیٹ کا پہلا اجلاس ہوا۔ پی ٹی آئی ارکان کی روایتی بے صبری عجلت پسندی مسلم لیگ (ن) کے کام آئی۔ یوں لگتا ہے دیگر ضروری کام چھوڑ کر بنیادی ایجنڈا مسلم لیگ کی چوریاں پکڑنا ہے۔ سو کسی سیانے نے سینیٹ سیکرٹریٹ میں سوال ڈال دیا۔ کیونکہ ان سادہ لو حوں کو تو بتایا گیا تھا کہ نواز شریف نے کھرب ہا ڈالر کے قرضے لیے اور ہضم کر گئے۔ یقین تھا کہ وقفہ سوالات میں جواب آئے گا تو سیاسی دشمن کا توا لگانے کا موقع ملے گا۔ تالی بجے گی۔ اونچے اونچے نعرے لگیں گے۔ لیکن بے زبان سرکاری کاغذ پھر باآواز بلند بولا۔ 42 ارب ڈالر کے قرضے لیے گئے۔ اور اس سے زیادہ 72 ارب روپے کے واپس کیے گئے۔یا خداکیا مسلم لیگ (ن) کے کسی میڈیا مینجر کو یہ معلوم نہ تھا۔ وہ جو سٹرٹیجک میڈیا سیل تھا وہ کیا سمندر کی لہریں گنا کرتا تھا۔ ابھی کچھ روز پہلے نو تشکیل شدہ کا بینہ کا دوسرا اجلاس تھا۔ حکم تھا لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ غلط ثابت کرنا ہے۔فائلیں بولیں حضور ممکن نہیں۔ بارہ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوئی ہے۔ لوڈ شیڈنگ ختم ہو چکی۔کوئی خرابی ہے تو ڈسٹری بیوشن کے نظام کی۔ وہ درست ہو جائے تو بہت کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ایسے ہی فائلیں نکلتی رہیں گی اور پوشیدہ حقائق سامنے آتے رہیں گے۔ اور یہ بھی سامنے آتا رہے گا کہ مسلم لیگ (ن) میں دودھ پینے والے مجنوں کتنے اور کون کون ہیں۔ جو اپنے ووٹر کو یہ بھی نہ بتا سکے کہ وزیر اعظم کے صوابدیدی فنڈ کب، کس دور میں ختم کیے گئے۔ جن کو یہ بھی نہیں پتا کہ وزراء تو پہلے ہی اکانومی کلاس میں سفر کرتے ہیں۔ ارکان اسمبلی کو کوئی ترقیاتی فنڈ نہیں ملتے۔جو عوام کو یہ بھی نہ بتا سکے کہ ملک میں کتنے سو کلو میٹر موٹر ویز تعمیر ہوئیں۔18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ پر کیسے قابو پایا گیا۔ کتنی یونی ورسٹیاں، کتنے ہسپتال نئے بنے۔ اپ گریڈ ہوئے ۔ پیٹرول پہلے کتنے روپے لیٹر تھا۔ اب اس کی کیا قیمت ہے۔ بجلی کی قیمت کل کیا تھی آج کیا ہے۔ ایل پی جی کس بھاؤ بک رہی ہے۔
2013ء میں محصولات کتنے تھے۔پانچ سالہ دور کے اختتام پر والیم کیا تھا۔ وہ تو ووٹر کو یہ بھی نہیں بتا سکے کہ نئے پاکستان کا وزیر خزانہ پرانے پاکستان کے مفرور وزیر خزانہ سے آج بھی ایڈوائس لیتا ہے۔ جس پارٹی کے میڈیا مینجر ایسے نا لائق ہوں وہ مشکل میں نہیں تو اور کہاں ہو گی۔


ای پیپر