اپوزیشن کی مسلسل شکستوں کی ہیٹ ٹرک

03 ستمبر 2018

مشتاق سہیل

اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، وزیر اعظم اور اب صدر کا انتخاب اپوزیشن کل اپنی مسلسل شکستوں کی ہیٹ ٹرک مکمل کرلے گی، ایوان اقتدار میں جشن، اپوزیشن کے گھروندوں میں سوگ، یہ الگ بات کہ اپوزیشن کے دونوں امیدوارخوش فہمیوں کا شکار، مولانا فضل الرحمان پر امید، اعتزاز احسن بھی امید سے ہیں لیکن حقائق بتا رہے ہیں کہ ’’کوئی امید بر نہیں آتی ،کوئی صورت نظر نہیں آتی ‘‘کیا نظر نہیں آتا کہ مولانا موصوف کو قومی اسمبلی کے مائنس 53 اور اعتزاز احسن کو کم و بیش مائنس 108 ووٹ پڑیں گے جبکہ سارے پلس ووٹ عارف علوی کی جھولی میں آگریں گے، صوبائی اسمبلیوں سے بھی کسی خوش خبری کی امید نہیں ،خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف آگے، پنجاب میں ن لیگ کوعددی فوقیت لیکن آزاد منشوں کو ملا کر پی ٹی آئی کی سبقت، بلوچستان میں بھی پی ٹی آئی کا راج، سندھ اکیلا کیا کرے گا ،سوچئے اپوزیشن کے دونوں امیدوار کہاں کھڑے ہوں گے ویسے بھی پیپلز پارٹی کے اصلی تے وڈے قائد آصف زرداری ابھی تک فیصلہ نہیں کر پائے کہ وہ کہاں کھڑے ہوں، تھک جائیں تو کدھر بیٹھیں ادھر بیٹھیں ادھر بیٹھیں یا پھر اٹینشن کھڑے رہیں ،کھڑے رہنے کی ہمت بھی جواب دے گئی ایک منی لانڈرنگ کیس نے دنوں میں بوڑھا کردیا، سہارے کے بغیر گاڑی سے اترنا مشکل، ایسی بھی کیا ناامیدی کہ بقول غالب
ٹھہرنے دے مجھے اے نا امیدی کیا قیامت ہے
نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے
اصل حقیقت کیا ہے، اپوزیشن اتحاد میں سب سے بڑی رکاوٹ مفاد پرستی اور دشمنی کی حد تک دوریاں ہیں، مفاد پرستی اور دشمنی سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں جو ایک دوسرے سے دور لے جاتی ہیں بقول خورشید شاہ اعتزاز احسن کو پی ٹی آئی نے تجویز کیا اور بعد میں عارف علوی کو امیدوار بنالیا پیپلز پارٹی کو علم تھا کہ مسلم لیگ ن اعتزاز احسن پر ہر گز راضی نہیں ہوگی، اپوزیشن اتحاد میں مل بیٹھ کر متفقہ امیدوار چنا جاسکتا ہے صدارتی انتخابات کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے ووٹوں کا فرق معمولی تھا 20 سے بھی کم، زرداری اور شہباز شریف چاہتے تو فرق ختم کرسکتے تھے مگر کیوں چاہتے، زرداری نے وزیر اعظم کے انتخاب کے دوران دوڑ لگا دی شہباز شریف کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا کبھی نہ ہارنے والا شخص اس طرح ہار جائے تو اس کے دل پر کیا گزرے گی، اب اعتزاز احسن کے دل پر جو گزرے گی وہ شاید آصف زرداری نہ جان سکیں ویسے بھی انہیں دلوں پر گرنے والی بجلیوں کے مشاہدے کی فرصت نہیں ارد گرد شکنجہ کسا جا رہا ہے، ضمانتیں منظور کرائی جا رہی ہیں، 20 لاکھ کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت، آج کل میں پھر طلبی، سوچنے سمجھنے کی مہلت ہی کہاں ہے، بس ایک بات دل میں ٹھان لی ہے کہ ن لیگ کے ساتھ مل کر حکومت نہیں گرائیں گے کسی طرح گر گئی تو ن لیگ کو فائدہ ہوگا اس لیے دشمن کا دشمن دوست بنایا جاسکتا ہے یہ الگ بات کہ دوستی یکطرفہ ہوگی دوسری طرف سے بے رحم احتساب کی دھمکیاں، اعلانات، ڈاکو، فرعون کے القابات جلیلہ ،جائیں تو جائیں کہاں، اپوزیشن اسی مخمصے میں تینوں الیکشن ہار گئی اپوزیشن خاصی تکڑی تھی اتنی تکڑی کہ کسی بھی جمہوری ملک میں ہوتی تو اب تک حکومت کا دھڑن تختہ کرچکی ہوتی ان ملکوں میں ایک ایک ووٹ کی قدر ہوتی ہے بلکہ قدر و قیمت ہوتی ہے ویسے قیمت تو ہمارے ملک میں بھی ہے لیکن کروڑوں میں ہے، 54 کروڑ کا ایک ووٹ یہ الگ بات کہ قیمت چکانے کے بعد رکن اسمبلی کی اپنی قدر نہیں رہتی، ما شاء اللہ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک تکڑی اپوزیشن وجود میں آگئی تھی، سچ پوچھیے تو حکومت بھی اسی قسم کی اپوزیشن سے خوفزدہ تھی لیکن اسے عمران خان کی خوش قسمتی کہیے یا کوئی روحانی کرشمہ کہ اپوزیشن خود اپنے ہی زعم میں ڈھیر ہوگئی، پیپلز پارٹی نے پہلے دوڑ لگائی اور دور جا کر ن لیگ کو آوازیں دینے لگی کہ رفت گزشت اب ہمارے امیدوار کو ووٹ دے کر صدر بنا دو، دور سے بازگشت سنائی دی کیوں بنا دیں جس سوراخ سے ڈسے گئے ہیں اس پر دوبارہ پاؤں کیسے رکھ دیں، ن لیگ نے مولانا فضل الرحمان کو مقابلے میں کھڑا کر دیا ،مولانا پٹے ہوئے مہرے، سیاست سے آؤٹ ہوگئے تھے مگر ان ہوگئے کیسے کیسے ٹوئٹ پڑھنے اور سننے کو ملے کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ، شیری رحمان کا کہنا تھا ’’مولانا نکاح پڑھانے گئے تھے اپنانکاح پڑھا کر آگئے۔‘‘ وزیر اعظم عمران خان کو منقسم اور تاش کے پتوں کی طرح بکھری اپوزیشن مبارک، اطمینان سے حکومت کریں، قانون سازی کے وقت بھی یہی کچھ ہوگا ،ن لیگ مخالفت کرے گی پیپلز پارٹی واک آؤٹ، راوی سینیٹ میں بھی چین لکھتا ہے ،کیا کیا جاسکتا ہے، قسمت ہی میں ہار لکھی ہو تو کوئی کیا کرسکتا ہے، عارف علوی شیڈول کے مطابق 4 ستمبر کو صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان بن جائیں گے، حکومت کی تشکیل مکمل ہوگئی، عمران خان اطمینان سے اپنے ایجنڈے پر عمل کریں، 22 سال بعد شوق پورا ہوا ہے مگر دس بارہ روز ہی میں اندازہ ہوگیا ہوگا کہ اقتدار اونچی کھجور ہے چڑھنا مشکل اترنا اس سے زیادہ مشکل، دس بارہ روز میں کتنے واقعات ہوگئے ،کتنے تضادات سامنے آئے کسی اپنے نے کہا کہ 18 گاڑیاں اور چائے کی پیالیاں بچانے سے سادگی نہیں آئے گی، اپنے کی بات سن کر اپنوں کو دکھ ہوا ،جواب دیا گیا کہ اس اپنے کو 5 سال کے لیے بے ہوشی کا انجکشن لگا دو ورنہ اسی طرح تنگ کرتا رہے گا ،خاور مانیکا کے معاملہ پر از خود نوٹس کی سماعت شروع ہوگئی، ابتدا اچھی نہیں انتہا کی خبر خدا جانے،’’ پلک جھپکتے ہی تحلیل نہ ہوجائے کہیں، ابھی تو خواب سا منظر نظرمیں رکھا ہے‘‘ ہیلی کاپٹر کے ذریعے آمد و رفت موضوع بحث بن گئی، 55 روپے کلو میٹر خرچ آئے تو برا کیا ہے، شاہد خاقان عباسی نے خرچہ 20 ہزار بتایا ماہرین کا خیال ہے کہ بنی گالہ سے پرائم منسٹر ہاؤس آنے کا خرچ 83 ہزار روپے ہے، جتنے منہ اتنی باتیں، وزیر اطلاعات 55 روپے کہہ کر پھنس گئے، ہیلی کاپٹر’ منی‘ سے زیادہ بدنام ہوگیا وزیر اعظم پروٹوکول کے مخالف لیکن پنجاب کے’’ دلیر‘‘ وزیر اعلیٰ میاں چنوں آئے تو درجنوں گاڑیاں، ہٹو بچو کے نعرے پولیس مستعد پورا شہر بند، راستے بھر خاموش رہے، منزل پر پہنچ کر پیار سے ڈانٹا’ بچو اتنا پروٹوکول اچھا نہیں‘ اپنے شیخ رشید وزیر ریلوے بنتے ہی اونچی ہواؤں میں اڑنے لگے، پورے پروٹوکول کے ساتھ لال حویلی پہنچے، تنگ بازار، چند موٹر سائیکلوں کو دیکھ کر سیخ پا ہوگئے حالانکہ الیکشن کے دوران اسی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر انتخابی مہم چلاتے رہے تھے ،کراچی سٹی اسٹیشن آئے تو اسٹیشن بند، مسافر خوار ہوگئے گفتگو میں پہلے بھی نفاست کبھی نہیں رہی لیکن وزارت ملتے ہی اصل رنگ غالب آنے لگا’’ زبان بدلی تو بدلی تھی خبر لیجیے دہن بگڑا‘‘ بولے، ریلوے کے 100 ریسٹ ہاؤس بند کردوں گا کسی نے ہانک لگائی کہ ریلوے کے صرف گیارہ ریسٹ ہاؤس ہیں شرمندہ نہیں ہوئے، لگتا ہے حکومت اپوزیشن کی شکستوں کے بعد تیز دوڑ رہی ہے ٹھوکریں تو لگیں گی تھک گئی تو ایسی سوئے گی کہ لیڈروں کی صبحدم آنکھ نہیں کھلے گی، حکمرانی آسان نہیں آنکھیں کھلی رکھنی ہوں گی شیخ رشید جیسا بندہ کنٹینر پر کھڑا ہو کر جلاؤ گھیراؤ کی دھمکیاں دے سکتا ہے لیکن وزیر ریلوے بن جائے تو دھمکی آمیز رویہ پر ایماندار کمرشل جنرل منیجر کے تجربہ اور خدمات سے محروم ہوجاتا ہے دیر پا حکمرانی کے لیے ترش مزاج اور بدزبان وزیروں کو لگام دینی ہوگی۔

مزیدخبریں