خان صاحب اور اسلامی فلاحی ریاست کا حقیقی تصور
03 ستمبر 2018 2018-09-03

ہمارے عہدکا سب سے بڑا بحران شرق وغرب کی وحدت علم سے محرومی ہے۔اسپیشلائزیشن (تخصص) کا یہ عہدخاص شعبہ ہائے علم کوتو وسعت دیتاجارہاہے مگران شعبہ ہائے علم کے درمیان نامیاتی یا زندہ تعلق(organic link) کی کڑیاں بتدریج ٹوٹتی جارہی ہے۔
یوں تہذیب مغرب نے جہاں سائنس اورٹیکنالوجی کوبے پایاں بلندیوں تک پہنچایا ہے وہاں ہمارے عہد کو انتشار علم (ٖFragmented Knowledge) کے بحران سے بھی دوچارکیا ہے۔اسپیشلائزیشن نے علمی میدان میں" کاتا اورلے اڑی" والا سماں پیداکیاتو یہ مختلف علمی دھارے یا تو راہوں میں خشک پڑتے گئے یا پھرعرب کو جانا تھا تو ترکستان جا نکلے ۔یوں ان کے ملاپ واتحاد سے ایک بحرعلم(Unity of Knowledge) کا خواب شرمندہ تعبیرنہ ہوسکا جو خدا، انسان اور کائنات کے باہمی تعلق پرروشنی ڈال سکتا۔
یوں تاریخ عالم کا سب سے بڑا سرمایہ علمی جو تہذیب مغرب کی دین ہے ہمیں چیتھڑوں میں میسرہے مکمل تھان نہیں ہے۔ ایسے دھاگوں کا مجموعہ ہے جس سے متناسب و ہم آہنگ رنگوں کا کپڑا تیارنہیں کیا جاسکتا۔یایوں کہئے اس علمی سرمائے پر وحدت علم کاپھول نہیں کھل سکا کہ چمن سے توڑکراس کو " کوئی دستارمیں رکھ لے،کوئی زیب گلو کرلے"۔
تاہم تاریخ انسانیت کایہ بحران نیا نہیں تو گھمبیرضرورہے۔اس کا ہیولیٰ سیکولرازم سے اٹھاہے جس نے آغازتو مذہب اورامورریاست کو الگ الگ رکھنے سے کیا مگرخودشعبہ ہائے علوم اس لاگ کا شکارہوگئے، سائنس اورٹیکنالوجی نے فلسفہ اور مذہب سے بے نیازہوکرترقی کی توآج تاریخ عالم کے اس فقیدالمثال علمی سرمائے(سیکولرعلم) نے انسان کو تباہی کے دہانے پرلاکھڑا کیا ہے جس پرنوم چومسکی کو سرپیٹتے ہوئے کہناپڑا " نیوکلئربموں سے لیس اسلحہ خانے اور ماحولیاتی چیلنجزاس بات کی دلیل ہیں کہ انسان ارتقائی غلطی(Evolutionary Error) ثابت ہوا ہے۔
پچھلی تہذیبوں نے بھی یہ بحران دیکھا ہے، مگرشدت کا یہ عالم کبھی نہ تھا۔تہذیب اسلامی کا یہ اعجازہے کہ قرآن نے دنیا کو علمی وحدت کا سبق پڑھایا۔جب تک قرآن کو حقیقی معنوں میں سمجھنے کا چلن رہاوحدت فکروعمل کا ثمرملتا رہا، جب فقہ نے الگ راہ لی، تصوف نے الگ بتکدے تعمیرکیے، فلسفے نے الگ جہاں بسائے، ادب نے الگ روش اختیارکی، شریعت نے مرمرکی سلوں سے نئے حرم بنوائے، تمدن روح عرب سے محروم ہوکرحجازی ہوا، علم الکلام (الٰہیات) نے یونانی لبادہ اوڑھ لیا تو یہ آیات قرآنی میں سیکولرائزیشن برپا کرنے کا نتیجہ تھایوں ہم سیدو قریشی ہوئے، شیعہ ، سنی، اہل حدیث، جعفری، زیدی، حنفی، شافعی اورحنبلی ہوتے چلے گئے، چشتی اور سہروردی ہوئے ، اپنا نام مسلم ومومن رکھنے کو عارسمجھاتو ہمارا جو شیرازہ بکھرا، اقوام عالم کی نظرسے گرتے گئے، اورقمرافگن وسیارہ شکارملت اسلامیہ بوریا نشیں ہوئی۔ چودہ سو سال بعداس کھوئی ہوئی عظمت اوررویوں کی بحالی کیلئے حضرت علامہ اقبال نے الگ اسلامی ریاست کا خواب دیکھا اوراس اس کے معمولی سپاہی معمارملت حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے اسے ریاست مدینہ کی طرزپرڈھالنے کی ٹھانی۔ مگروقت نے مہلت نہ دی۔
ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ بانیان کرام پاکستان کے وژن پرایک نظریاتی ریاست کا قبلہ درست کیا جاتا، مصورومعمار قوم کے فرمودات کی روشنی میں قرآن سے ماخوذقومی تعلیمی پالیسی وضع ہوتی۔ارباب سیاست نے مجرمانہ غفلت برتی، اسلام مدارس کو ٹھیکے پردے دیا گیا، بھلا چین یا روس یہ افورڈ کرسکتے ہیں کہ پرائیویٹ ادارے کمیونزم کی تشریع وتعبیرکریں،نظریاتی ریاست پاکستان نے اسلام کی تشریع وتعبیرکا کام مدارس کو دیا۔جدید تعلیم کو اپنی اقدارروروایات پراستوارکرنے کے بجائے سیکولر نظام تعلیم کے برطانوی ورثے کو گودلیا گیا، یوں ہم "کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا"کی عملی تصویر بن گئے.۔ ایسے میں ملک کے نومنتخب وزیراعظم عمران خان نے سکندرانہ جلال اورقلندرانہ ادا سے انتخابی فتح کی تقریرمیں قوم سے کہا" تمہیں پتہ ہے ہم ریاست پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے" جناب والا گرامی قدر!کیوں مذاق کرتے ہو! آپ نے بائیس سالہ جدوجہد کے دوران کوئی ایسی ٹیم ٹیم یا تھنک ٹینک بنایا جوزیادہ نہیں توچھ ماہ ہی وقف کرکے تحقیق کرتی کہ اس عہدناروا میں اسلامی ریاست کے کیا خط وخال ہونے چاہئیں، یا یہ کام ملتان کے گدی نشیں جناب شاہ محمود قریشی تنہا سرانجام دے لیں گے۔ یا آپ نے جو اپنے پروفائل میں بیان کررکھا ہے کہ جب سلمان رشدی کے فتنے نے جنم لیا تو میں نے اسلام پرتحقیق شروع کردی اور علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ اور ایران کے شہیدڈاکٹرعلی شریعتی کو گھول کرپی گیا،یہی کافی ہے۔پھریہ جومظاہراقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد نظر آ رہے ہیں ، انہیں اسلامی فلاحی ریاست کی تشکیل کی جانب بڑی جست قراردیا جائے۔
یہودی مصنفہ Lesley Haziltonلکھتی ہیں مکہ کے سیاسی اورکاروباری طبقات دولت ملنے پرشام اورروم میں محلات تعمیرکروایا کرتے تھے جہاں وہ موسم کے اعتبارسے قیام کیا کرتے ، ریشم پہنتے اوراوپرسونے کے تارلگواتے، مگرپیغمبرانقلاب ؑ کو حضرت خدیجہ سے شادی کے بعدپے پناہ دولت میسرآئی تو وہ یتیموں اورمسکینوں پراسلام کی راہ میں تو خرچ ہوتی رہی مگراس سے آپ ؑ نے نعلین مبارک کے Strapsبھی تبدیل کروانا گوارا نہ کیے جن کی رنگت بھی دھوپ میں چل چل کراڑچکی تھی۔
خان صاحب کان پک گئے پروٹوکول کیخلاف آپ کی باتیں سن سن کرتو پھربنی گالا سے پرائم منسٹرہاؤس تک ہیلی کاپٹرکے لچھن اسلامی فلاحی ریاست کے وزیراعظم کو زیب دیتے ہیں ۔ڈی پی اوگوندل پرپرنسپل سیکرٹری کی فون کال سے گرفت اس لیے ہے کہ آپ کی اسلامی ریاست نے وہ حالات پیدا کردئے ہیں کہ کراچی سے خیبرتک سونے میں لدی کوئی خاتون رات کے تین بجے بھی زیورچھنکاتی نکلے اور اسے کسی کا خوف نہ ہو۔
جناب والا اسلامی ریاست تو سرداران قریش کو بھی غلام ابن غلام اسامہ بن زیدکی قیادت تسلیم کرنے پرمجبورکرتی ہے،جب اسے ریاست نے سپہ سالاربنادیاہو ، توآپ کی ریاست اسلامیہ میں مانیکا خاندان کو کیوں خصوصی درجہ حاصل ہے۔ خان صاحب جن پراسلامی ریاست کی امارت کا بوجھ تھا وہ تو کہتے تھے یہ ذمہ داری کند چھری سے ذبح ہونے سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے، وہ توزمین سے تنکا اٹھا کرکہتے تھے کا ش ہم تنکا ہوتے کہ پرسش حساب سے بچ جاتے، اور اے کاش ہم تنکا بھی نہ ہوتے۔
میرے لاہورکے کتاب فروش دوست نے بتایاکہ لاہورڈیفنس سے ایک خاتون انتہائی لگژری گاڑی سے اترکرمیرے بک سینٹرداخل ہوئی، تھوڑے توقف کے بعد بولی یہ جوگہرے لال رنگ(میرون کلر) کی بائنڈنگ والی کتابیں ہیں ان میں سے چارلاکھ کی الگ کردو، میں نے کہا محترمہ یہ تو مختلف موضوعات کی ہیں، کوئی سائنس کی ہے، کوئی فکشن کی ہے، کوئی فلسفے کی ہے، آپ موضوعات کے حساب سے مانگیں، کہنے لگی بس گھرمیں جو کلراسکیم ہے اس میں یہ رنگ سجے گا، میں نے اسٹڈی روم خوبصورت بناناہے اور نہیں توکچھ ایسی کاوش ہمارے Peter Panارباب سیاست اسلامی فلاحی ریاست کے تھنک ٹینک کیلئے سرانجام دیں توکم ازکم عملی جدوجہد کی طرف پہلا قدم ہی سہی! لایکلف اللہ نفساً الا وسعہا!
اگرکچھ سنجیدہ ہیں تو مالک الااشترکے نام امورریاست چلانے کیلئے حضرت علی کرم اللہ وجہ کا خط ہی پڑھ لیں، جہاں بینی اورجہاں بینی کے رازآپ کے حضورہاتھ باندھے کھڑے ہوں گے ۔


ای پیپر