پنجاب حکومت کی کارکردگی ، دوسروں صوبوں کیلئے قابل تقلید
03 ستمبر 2018 2018-09-03

وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں خیبرپی کے طرز پر نیا بلدیاتی نظام متعارف کرانے اور پنجاب پولیس کو سیاسی اثر ورسوخ سے آزاد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو ہدایت کی کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی دوسرے صوبوں کیلئے قابل تقلید ہونی چاہئے۔ پنجاب میں کرپشن کا خاتمہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔ پنجاب کابینہ کے ارکان بدعنوانیوں کی نشاندہی کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے کہا کہ بلدیاتی ادارے نچلی سطح پر عوامی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اورہم اختیارات کو حقیقی معنوں میں نچلی سطح پر منتقل کریں گے۔ نئے نظام میں بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنائیں گے۔ چیک اینڈ بیلنس کا بھی موثر نظام لائیں گے۔ بلدیاتی اداروں کیلئے نیا نظام وقت کا تقاضا ہے اورنئے بلدیاتی نظام کیلئے تیزی سے کام شروع کردیا گیا ہے۔ نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیر بلدیات علیم خان کو ٹاسک دیا کہ وہ ہر 15روز کے بعد ایک اوورویو پیش کریں گے۔

یہ حقیقت ہے کہ پنجاب کابینہ کے ارکان کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے۔ پنجاب کابینہ کو سابقہ پنجاب حکومت جواپنے آپ کو ایک ماڈل حکومت کہتی تھی ، سے زیادہ کارکردگی دکھانی ہوگی۔ اس لئے کہ ان کی کارکردگی دوسرے صوبوں کیلئے قابل تقلید ہونی چاہئے۔ سب سے پہلے تو عمران خان کے وژن کے مطابق پنجاب سے بدعنوانی کو ختم کرنا چاہیے۔ کابینہ کے ارکان کو چاہئے کہ بدعنوانیوں کی نشاندہی کو اپنی پہلی ترجیح بنا لیں اور بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی کریں۔

پنجاب میں پٹواری کلچر کی مدد سے سرکاری زمینوں پر بااثر افراد نے قبضے کئے۔ زمینوں پر قبضے اور تجاوزات میں بڑے مافیاز گروپس ملوث ہیں۔ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ پنجاب میں زمینوں پر قبضوں اور تجاوزات پر قبضہ گروپوں کے خلاف کارروائی کرے۔ پنجاب میں تجاوزات کے خلاف فوری مہم شروع کی جائے۔عمران خان نے تجاوزات کے خلاف کارروائی میں وفاقی حکومت کی طرف سے صوبائی حکومت کی بھرپور مدد کی بھی امید دلائی ہے۔

سابقہ حکومت کا ایک بڑا مسئلہ شان و شوکت اور دکھاوا تھا۔لگژری گاڑیاں، مہنگے بنگلے۔ صرف نام کی سادگی تھی۔ پنجاب حکومت کے ارکین کو صحیح معنوں میں کفایت شعاری اور سادگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ پنجاب کابینہ کے ارکان ٹیکس دہندگان کا پیسہ بچاتے ہوئے مثال قائم کریں۔ اپنے اخراجات معقول رکھتے ہوئے انسانی ترقی پر سرمایہ کاری کرنی ہے۔ پاکستان کا خطے میں سب سے کم ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس ہے۔وزیر اعظم نے بھی پنجاب کی کابینہ کے ارکان کو ہدایت کی کہ 100 روزہ ایجنڈا پر عملدرآمد کے لئے انتھک کام کریں۔ وہ پنجاب کا وقتاً فوقتاً دورہ کریں گے اور 100 دن کے ایجنڈا کا خود جائزہ لیں گے۔

سابقہ حکومت نے سرکاری کمپنیوں میں اپنے دل پسند افراد کو بھاری تنخواہوں پر رکھا ہوا تھا۔ ادارہ کی کارکردگی کچھ نہیں لیکن ادارہ کا سربراہ بیس پچیس لاکھ ماہوار تنخواہ لے رہا تھا۔ صاف پانی کمپنی، صفائی کمپنی و دیگر ایسے اداروں کے خلاف اب نیب میں کیسز چل رہے ہیں۔ ان خرابیوں کو دور کرنے کیلئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سرکاری کمپنیوں میں بھاری تنخواہوں پر بھرتی نہیں کی جائے گی۔ بعض عوامی منصوبے ہیں جن پر بھاری سبسڈی دی جا رہی ہے ان کا بھی فوری طور پر آڈٹ کرایا جائے۔ اس سبسڈی کو گھٹایا جائے تا کہ عوام اپنے منصوبے خود چلا سکیں۔

وزیراعظم عمران خان نے ایوان وزیراعلیٰ میں صوبائی سیکرٹریز سے ملاقات میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو مشکل حالات سے نکالنے میں بیورو کریسی کا اہم کردار ہے۔ ملک کوچلانے کیلئے بیورو کریسی کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ مشکل حالات میں ملک چلانے کیلئے سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ ہماری حکومت کا ایجنڈا ہے ملک کو بہتر انداز میں چلانے کیلئے سب ملکر کام کریں۔ شفافیت، ڈلیوری اور میرٹ کو اپنی ترجیحات بنا لیں۔ ہم آپ کو کارکردگی دکھانے کیلئے بھرپور مواقع دیں گے۔ بیورو کریسی کے کام میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ امید ہے کہ بیورو کریسی عزم اور تندہی سے کام کرے گی۔

ملک وقوم کی ترقی اورنئے پاکستان کی تعمیر کی جدوجہد میں خواتین کو بھی اپنا بھر کردار ادا کرنا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اپنے وعدے کے مطابق خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات کرے گی اور پنجاب میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے موثر حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ خصوصاً دیہات اورکم ترقی یافتہ شہروں میں مقیم خواتین کیلئے روزگارکے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکی غیر معمولی انداز میں تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سردار عثمان بزدار ایماندارشخص ہیں اورمیرے نظریئے پر پورا اترتے ہیں اور وہ صوبے میں میرے نظریئے کو آگے لیکر چلیں گے۔ سردار عثمان بزدار کومیں نے میرٹ پر وزارت اعلیٰ کے منصب پر تعینات کیاہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ یہ عوام کے پیسے کا درست استعمال کریں گے کیونکہ سردار عثمان بزدارنے عام آدمی کے مسائل کا حقیقی مشاہدہ کیا ہے۔یہ عام آدمی کی محرومیوں کو سمجھتے ہیں کیونکہ ان کا اپنا علاقہ بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ ان کے علاقے کی اڑھائی لاکھ آبادی میں کوئی ہسپتال ہے نہ کوئی ڈاکٹر۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے کہاکہ آپ نے کسی کی پرواہ نہیں کرنی اور نہ کسی سے ڈرنا ہے۔ میں آپ کو ہر طرح سے سپورٹ کروں گا۔آپ نے میرے نظریئے پر چلنا ہے ۔کمزور کی مدد کرنی ہے او رطاقتور مجرم کو قانون کی گرفت میں لانا ہے ۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے وزیراعظم عمران خان کو بھرپور انداز میں یقین دلایا کہ ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا جو خواب دیکھا ہے ہم اسے پورا کرنے میں دن رات ایک کردیں گے۔ پنجاب حکومت کی پوری ٹیم آپ کے نئے پاکستان کے ایجنڈے کی تکمیل میں آپ کے ساتھ ہے اور ہم ایک ٹیم کے طور پر بھرپور محنت کریں گے اور نئے پاکستان کی منزل کے حصول کے لئے شب وروز ایک کر دیں گے۔ پنجاب 100روزہ پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے دیگر صوبوں کے لئے رول ماڈل بنے گااو رہم ہر قیمت پر نتائج دیں گے۔

ہمیں یہ قوی امید ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا انقلابی وژن ملک و قوم کی تقدیربدلے گا۔ حکومت کی وضع کردہ پالیسیاں خوشحال پاکستان کی ضامن ہوں گی۔ کرپشن کا خاتمہ کر کے شفافیت اور میرٹ کے اصولوں کو اپنایا جائے گا۔


ای پیپر