میں خوشی سے کیوں نہ گاؤں !
03 ستمبر 2018 2018-09-03

میرا دوست جاوید خیالوی آج کل بڑا خوش نظر آ تا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ موجودہ حکومت سے مطمئن ہے۔ عمران خان وزیر اعظم پاکستان اس کے خوابوں اور خیالوں کے عین مطابق ہیں۔ وہ اپنے عزیز و اقارب سے بھی کہتا ہے کہ وہ اب دیکھیں گے ملک میں قانون کی حکمرانی ہو گی اگرچہ شروع میں کچھ مشکلات پیش آئیں گی مگر جلد ہی وہ دور ہو جائیں گی!
ادھر مجھے بھی یہ یقین ہے کہ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ کسی سینہ زور ، قبضہ گیر کمیشن خور، ملاوٹیے، رشوت خور، بجلی چور اور ناجائز منافع حاصل کرنے والے کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔۔۔؟
اب پوچھا جائے گا اور ۔۔۔ یہ بات ماننا پڑے گی کہ پچھلے حکمرانوں نے صرف اور صرف اپنے اقتدار کی خاطر اس ملک کے ہر شعبے میں اپنا اثرو رسوخ قائم کر کے اسے زیرنگیں کرنے کی پوری کوشش کی مگر مکافات عمل دیکھیے۔۔۔ آج عمران خان وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان ہیں جنہیں قبول کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے۔۔۔ مگر عوام کی غالب اکثریت ان کو دیکھ کر مسکرا رہی ہے۔ ان پر فخر کر رہی ہے اور اس یقین کے ساتھ کہ اب ان کے بُرے دن گئے اس کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے۔۔۔ یہاں میں یہ عرض کردوں کہ اس حکومت سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ کوتاہی ہو سکتی ہے اور کوئی غفلت بھی مگر یہ طے ہے کہ وہ عوام سے مخلص ہے اسے اس ملک کو غربت، بیماری، جہالت اور بے روزگاری کے عفریت سے نجات دلانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دینا ہیں۔ کیونکہ اسے یہ علم ہے کہ اب بھی اگر اس پہلو سے چشم پوشی اختیار کی گئی تو پھر داستان تک نہ ہو گی۔
داستانوں میں لہٰذا ضروری ہے کہ منزل مراد کی جانب یکسو ہو کر بڑھا جائے اور کسی بھی رکاوٹ کی پروا نہ کی جائے۔۔۔ خوش آئندہ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت سے قریباً سبھی ادارے شاد ہیں۔۔۔ بالخصوص عسکری اداروں میں ایک ایسا منظر ابھر آیا ہے کہ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اس طرح کے لیڈر ہی کی تلاش تھی جو اب انہیں مل گیا ہے۔۔۔ مگر نجانے کیوں میڈیا کے کچھ لوگ اسے آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ وہ ان کی معمولی معمولی سی غلطی و کوتاہی پر سخت الفاظ میں تبصرہ و تذکرہ کر رہے ہیں۔۔۔ سوشل میڈیا کے ’’ دانشور‘‘ اس پر کہتے ہیں کہ انہیں مستقبل میں اپنے وظیفوں کے ختم ہو جانے کا اندیشہ ہے لہٰذا انہوں نے ابھی سے آسمان سر پر اٹھالیا ہے۔ جبکہ اس حکومت کو کم از کم ایک برس چاہیے ہو گا صورت حال پر قابو پانے کے لیے مگر وزیر اعظم نے تو سو روز کے بعد تنقید کی توپوں کے منہ ان کی طرف گھمانے کو کہہ دیا ہے۔۔۔ کہ وہ جو چاہیں کہیں۔۔۔ لہٰذا ابھی ہی سے چیخ و پکار سمجھ سے باہر ہے۔۔۔ پھر سوشل میڈیا کے دانشوروں کا کہا درست ثابت ہو جاتا ہے در اصل ماضی کی حکومتوں نے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کو بے تحاشا عوام کے مال سے مالا مال کیا۔۔۔ مگر اب جبکہ ہر ٹچ موبائل رکھنے والا صحافی بن گیا ہے تو ان کی اہمیت کم ہو گئی ہے پھر الیکٹرانک میڈیا میں تو وہ کچھ دکھایا بتایا نہیں جا سکتا جو اس عوامی رابطے کی ویب سائٹس پر دکھایا جا رہا ہے۔۔۔ نواز دور میں اسے بند کرنے کی بھی بات چلی تھی۔۔۔ ان کے ایک ہمدرد جج صاحب نے بھی ایسا عندیہ تھا۔۔۔ مگر ردعمل کے خوف سے یہ ’’ کارنامہ‘‘ سر انجام نہیں دیا جا سکا۔۔۔ بہر حال عمران خان کی حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے اپنی خلوص نیت کی بنیاد پر ذمہ داران کو عوامی خدمت کے عمل میں مزید شریک کر لیا ہے۔۔۔
سول بیورو کریسی مگر پوری طرح اس کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی شاید اس کو جو تن و من آسانی نواز حکومت میں تھی اب نہیں ہو گی لہٰذا وہ سوچ بچار میں مصروف ہو گی کہ کیا کیا جائے۔۔۔ اسے آخر کار ریاست کے ساتھ ہی چلنا ہے حکومت کے لیے ہی کام کرنا ہے۔۔۔ عوام ہی سے رابطہ کرنا ہے خود کو ان کا خادم سمجھنا ہے کیونکہ اب اسے پہلے کی طرح کھلی چھوٹ نہیں ملے گی کہ عوام اور ان کے نمائندوں پر بالادستی حاصل ہو۔۔۔ اب تو قانون کی حکمرانی قائم ہونے جا رہی ہے۔۔۔ عدلیہ نے اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔۔۔ چیف جسٹس آف پاکستان کئی مواقع پر قانون کی بالا دستی کا کہہ چکے ہیں۔۔۔
لہٰذا ضروری ہے کہ قانون کا بلا امتیاز ہر شہری کو پابند کیا جائے۔۔۔ جو حضرات و خواتین یہ سمجھ رہے ہیں کہ نہیں اب بھی ویسے ہی چلے گا وہ لکھ رکھیں کہ پاکستان اب ایک نئے راستے اور نئی شاہراہ کا مسافر ہے۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ عوام ایک ہی طرح کے نظام کو تھامے رکھیں اس سے چمٹے رہیں پھر جو ان کو ۔۔۔ انگاروں پر لٹا تا رہا ہو ان کی زندگیاں تلخ سے تلخ تر کرتا رہا ہو لہٰذا جہاں ہماری پالیسی میں نیا موڑ آ گیا ہے وہاں موجودہ نظام حیات میں بھی ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔۔۔ کہنے والے کہتے رہیں کہ عمران خان نے کچھ نہیں کرنا۔۔۔ تبدیلی نہیں آئے گی اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔
ارتقا کا سفر ہمیشہ سے آگے کی جانب بڑھا ہے لہٰذا وقت ضائع کر رہے ہیں اپنا وہ لوگ جو پی ٹی آئی کو برا کہتے ہیں اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑا کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ حقائق کو تسلیم کر لیں۔۔۔ عمران خان ایک محب الوطن لیڈر ہے اسے اس ملک کو عظیم بنانا ہے ۔اب تک وطن عزیز کے سیدھے سادے لوگ جن حکمرانوں پر یقین کرتے رہے کہ وہ ان کی خواہشوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچائیں گے وہ انہیں دھوکا دیتے رہے ان کے حصے کی دولت کو اپنا قرار دے کر بیرون ممالک بھجواتے رہے اور انہیں غیر محسوس طور سے بد عنوانی کی کھائی میں دھکیلتے رہے تاکہ وہ انہیں قبولتے رہیں۔۔۔ دیکھ لیجیے اب جب نئی حکومت بنی ہے تو انہیں بہت رنج پہنچا ہے کہ ان کے سلسلے جو ماڑ دھاڑ کے تھے اب رکنے جا رہے ہیں انہیں ناجائز ذرائع سے ملنے والی دولت سے ہاتھ دھونا پڑ رہے ہیں لہٰذا وہ بھڑک اٹھے ہیں وگرنہ جب ایک حکمران جو نظام کی بہتری کے لیے اپنے آپ کو وقف کر چکا ہے اسے دولت اور ٹھاٹ باٹ والی زندگی عزیز نہیں وہ واقعتا لوگوں کو مصائب و آلام سے نجات دلانے آیا ہے۔۔۔ تو کیا ہمیں اسی طرح جینا ہے جس طرح آج جی رہے ہیں بد عنوانی ہیرا پھیری اور دھوکا دہی کی فضا میں ہی سانس لینا ہے۔۔۔معدودے چند ہو سکتے ہیں ۔ایسا چاہنے والے جن کے خون میں بد دیانتی رچ بس گئی وگرنہ سبھی ایک تہذیب یافتہ و ترقی یافتہ پاکستان تعمیر کرنے کے حق میں ہیں ۔۔۔! اب جب ایک لیڈر جو ان کی آرزوؤں کو مجسم کرنا چاہتا ہے تو اس میں کیا برائی ہے۔۔۔؟
حرف آخر یہ کہ موجودہ حکومت کو اپنے پانچ برس مکمل کرنے ہیں اسے بد عنوانی کے خلاف جنگی بنیادوں پر متحرک ہونا ہے وزیر اعظم نے واضح طور سے کہہ دیا ہے لہٰذا جس نے جتنا شور مچانا ہے مچالے۔۔۔ وہ ایک روز قانون کی آنکھ سے بچ نہیں پائے گا ملک کو اس بد عنوانی نے اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے لہٰذا اس پر جھپٹا جائے عمران خان اسی لیے آیا ہے اس سے اور کوئی دوسری توقع رکھنا سادگی ہے !


ای پیپر