سامراجی مفادات اور ترکی

03 ستمبر 2018

رانا زاہد اقبال

سامراجی مفادات اور سرمایہ داری تحفظات کی رو سے انسانوں کے سوچے ہوئے اور صدیوں کے تجربے سے گزرنے والے مغربی طرز کے جمہوری نظام کے پسندیدہ اثرات اور مثبت نتائج کے علاوہ ناپسندیدہ اثرات اور منفی نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں جیسے سیکولر ترکی میں پہلے سے زیادہ اکثریت حاصل کرنے والے اسلام پسند طیب اردگان جمہوریت کے سب سے بڑے علمبردار ملک امریکہ کے حکمرانوں کے لئے انتہائی ناپسندیدہ حکمران ہیں۔ یہ جمہوری کامیابی مغربی طاقتوں، سامراجی ملکوں اور صہیونی مفادات کے لئے ناقابلِ قبول ہیں۔ سامراجیوں کی سب سے بڑی بد قسمتی ہی ان کا وہ اندرونی تضاد ہے جو زیادہ دیر تک چھپایا نہیں جا سکتا اور جن کے اپنے اصولوں اور ضابطوں کا اطلاق بھی ان پر نہیں ہوتا۔ یہ تضاد پورے سامراجی نظام میں اس کی جڑوں تک پھیلا ہوا دکھائی دیتا ہے اورا سے بری طرح کھوکھلا کر چکا ہے۔
آج بد قسمتی سے دنیا میں امریکہ واحد سپر طاقت ہے پہلے روس مدِ مقابل ہوا کرتا تھا مگر ٹوٹ کر بکھر چکا ہے وہ خود امریکہ کا دستِ نگر ہے۔ چین ابھر رہا ہے مگر ابھی وہ امریکہ کو للکارنے کی ہمت نہیں کر پا رہا ہے۔ دنیا کے چھوٹے بڑے سبھی ممالک امریکہ کے سامنے سرنگوں رہتے ہیں اس لئے امریکہ مزید سرکش ہوتا جا رہا ہے اب وہ اپنے حکم کی تعمیل میں ذرا بھی تاخیر بڑی سرکشی سمجھتا ہے۔ اس نے افغانستان، مصر، عراق، شام، لیبیا تباہ برباد کر دئے ہیں۔ آج ایران اور ترکی دو ایسے ممالک ہیں جو مضبوط ہیں انہیں کوئی خاص پریشانی نہیں اس لئے یہ اپنے طور پر اپنے باشندوں کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کوشاں رہ کر بہت کچھ کرتے رہتے ہیں جس سے امریکہ بہت پریشان ہے وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی ملک اس سے بے تعلق رہ کر ترقی کرے اسی لئے اس نے ترکی اور ایران دونوں کو طرح طرح دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ امریکہ کو خطرہ ہے کہ طیب اردگان کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی جس میں 17گروپ موجود ہیں اپنے اسلامی ماضی کی طرف لوٹ جانے کے امکانات لئے ہوئے ہے۔ طیب اردگان کی پارٹی نے ترکی کی قومی سیاست میں سب سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی دفعہ ان کے دورِ اقتدار میں ترکی کی معیشت نے سالانہ سات فیصد کی رفتار سے ترقی کی۔ غیر ملکی سرمایہ کاری نے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ مہنگائی اور افراطِ زر کو قابو میں لایا گیا۔ روزگار کی فراہمی کے میدان میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی گئی ہے اور گزشتہ صدی کی پانچویں دہائی کے بعد پہلی مرتبہ ترقی کے محنت کشوں کو یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کی محنت کی منڈی میں اپنے آپ کو فروخت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔
عالمی سازشی گروہوں نے ترکی کو ترقی کرتا دیکھ کر
اسے روکنے کی کوشش کے لئے وہاں فوجی بغاوت کرا دی مگر وہاں کی مضبوط حکومت نے اسے بری طرح ناکام بنا دیا اس سے امریکہ اور بھی غضبناک ہو گیا ترکی نے بغاوت کے سلسلے میں جن لوگوں کو گرفتار کیا ان میں ایک پادری انڈرو پرونسن بھی شامل ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پادری کو" وطن کا عظیم قیدی" قرار دیا ہے،جس کے معاملے میں ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ امریکہ نے ترکی کو مجبور کرنے کے لئے کاروباری پابندیاں عائد کر دی ہیں ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ترکی نے صاف کہہ دیا ہے وہ جھکنے والا نہیں ہے۔ اس نے اپنے معاشی حالات ٹھیک کرنے کے لئے منصوبہ بندی شروع کر دی ہے جس کا ڈونلڈ ٹرمپ اور زیادہ غصہ آیا ہے ۔ بنیادی طور پر یہ سارا کھیل ایک طاقتور مسلمان ریاست کی اہمیت گھٹانے کی کوشش ہے۔ امریکہ ہمیشہ کوئی معمولی بہانہ بنا کر دوسرے ممالک پر طرح طرح کے الزامات لگاتا رہتا ہے اب وہ ترکی میں پادری کی گرفتاری کا بہانہ بنا کر سازشی حرکتیں کر رہا ہے مقصد یہی ہے کہ جس طرح اس نے افغانستان، مصر، عراق اور لیبیا وغیرہ کی حکومتوں کو ختم کر دیا وہ ترکی کو بھی اسی طرح کمزور کر دے۔ جب کہ یہ ایسا مسئلہ ہے جو کوئی ملک بھی نظر انداز نہیں کر سکتا امریکہ ان ملکوں میں سے ہی لوگوں کو خریدتا ہے پھر ان سے جاسوسی کرواتا ہے جب وہ پکڑے جاتے ہیں تو ان کی مدد کے لئے پہنچ جاتا ایسا ہی اس نے پاکستان کے شکیل آفریدی کے معاملے میں کیا۔ امریکہ جمہوریت کی رٹ تو لگاتا رہتا ہے لیکن ایک ایسے شخص کی رہائی چاہتا ہے جو ترکی میں جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کی سازشوں میں شریک ہے۔ اس کی رہائی کے لئے دباؤ بڑھانے کے لئے گزشتہ دو سالوں سے امریکہ ترکی پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کر رہا ہے جس کے بعد ترک کرنسی کی قدر میں 40فیصد ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے۔ ترکی نے اس محاذ آرائی کے سامنے سرنگوں ہونے کی بجائے ایک نئی راہ اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
طیب اردگان نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پابندیوں کا فیصلہ منچلا پن ہے ، میں نے چاہا کر دیا ۔ حالیہ برسوں میں بین الاقوامی سطح پر ترکی نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کی وجہ سے اسے ہدف بنایا جا رہا ہے اور دیگر شعبوں کی طرح اقتصادیات میں بھی ترکی کو ایک محاصرے کا سامنا ہے۔ ترکی پر حملوں کا آغاز سال 2013ء میں گیزی پارک واقعات سے شروع ہوا۔ ان حملوں کا ہدف ترکی کی آزادی، اقتصادی مفادات ، ملی وقار ، حیثیت اور شخصیت ہیں اور ہمیں ان حملوں کی دیگر مختلف شکلوں کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔ حالیہ سالوں میں دہشت گردی سے لے کر اقتصادی ساز باز تک جن مسلسل آپریشنوں کا ہمیں سامنا رہا ہے ان کا اصل سبب ہمارا ملی مفادات پر ایک غیر متزلزل رویہ اختیار کرنا ہے۔ منی ایکسچینج کے حالات کی کوئی اقتصادی بنیاد موجود نہیں ہے اور ہر کوئی اسے قبول کر رہا ہے کہ یہ صرف ترکی پر ایک حملہ ہے۔ انہوں نے اس خدشہ کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک کسی معاشی بحران سے دوچار ہوا ہے۔ اس بات کی بھی وضاحت کر دی ہے کہ ترکی ، چین، روس، ایران اور یوکرین سمیت متعدد ممالک کے ساتھ تجارتی لین دین مقامی کرنسی میں کرے گا۔ ان کا کہنا درست ہے اگر ان کے پاس ڈالر زہیں تو ہمارے ساتھ اللہ ہے۔

مزیدخبریں