بروقت مفاہمت اور تعصب
03 اکتوبر 2020 (17:30) 2020-10-03

آرمینیا اور آزربائیجان کے درمیان 26 ستمبر سے جاری جھڑپیں نہ صر ف وقفے وقفے سے جاری ہیں بلکہ اِن جھڑپوں میں شدت آتی جارہی ہے دونوں ملک پیش قدمی کرنے اور ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعویدار ہیں ابتدا میں تو حملہ میں پہل کرنے کی بنا پر آرمینیا کا پلڑابھاری رہا لیکن آزربائیجان کی طرف سے دندان شکن جواب ملنے پر اب دفاعی حکمتِ عملی کے طورپر نگورنو کاراباغ پرقبضہ برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے اِس میں شائبہ نہیں کہ صلح جوآزربائیجان کی طرف سے بڑی جوابی کاروائی غیرمتوقع ہے دس دیہات آزاد کرانے کے ساتھ مورو پہاڑ پر بھی آزربائیجان کا پرچم لہرارہاہے باہمی دفاعی معاہدے میں بندھے روس اور آرمینیا کی پوری کوشش ہے کہ ایک ہی بار نگورنو کاراباغ کا مسلہ مستقل طور پر ختم کر لیا جائے تاکہ آئندہ کبھی آزربائیجان کسی فورم پر اپنا حصہ نہ کہہ سکے لیکن جس طرح روس کی آرمینیا کو تھپکی ہے آزربائیجان کو ترکی کی حمایت حاصل ہے میدان جنگ میں ملنے والی کامیابیوں سے آزربائیجان کومزید حوصلہ ہوا ہے اقوامِ متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ تنازعات حل کرائے بدقسمتی سے جب کسی مسلمان ریاست کو نقصان پہنچ رہا ہوتو اقوامِ متحدہ کے اقدامات سست روی کا شکار ہوجاتے ہیں مگر کسی غیر مسلم ریاست کو نقصان کی صورت میں سرعت کا مظاہرہ کیا جاتاہے یہی کچھ جنوب مشرقی یورپ کے دونوں ممالک کی لڑائی کے دوران دیکھنے میں آرہاہے۔

 آرمینیا کی فوج جب تک پیش قدمی کرتی اور آزربائیجان کو نقصان سے دوچار کرتی رہی کسی کو جنگ بندی کا خیال نہ آیا جو نہی آزربائیجا ن کی افواج میدانِ جنگ میں فتح مند ہوتی دکھائی دیں اب عالمی اِ دارے بھی متحرک ہوگئے ہیں اور جنگ بندی کرنے اور مذاکرات سے مسئلہ حل کرنے کی اپیلیں کرنے لگے ہیں کچھ عالمی شخصیات کو بھی امن قائم کرنے کے لیے اپنا کرداریاد آگیا ہے لیکن اگر تنازع کا مستقل حل تلاش نہیں کیا جاتا تو اِس خطے پر جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مسئلہ حل کرنے کی بجائے سبھی کردارسابقہ پوزیشن بحال کرانے کے لیے کوشاں ہیں نگورنو کاراباغ پر قبضے کے لیے دونوں ملک اسی اور نوے کی دہائی میں خونریز لڑائیاں لڑ چکے ہیں جن میںتیس ہزار کے قریب لوگ مارے گئے اور اتنی ہی تعداد کے لگ بھگ زخمی یا اپاہج ہوئے اگر امن کے ٹھیکیدار بے حسی کا مظاہرہ نہ کرتے تو یقینی طور پر بہت پہلے یہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا نگورنوکاراباغ آزربائیجا ن کا تسلیم شدہ حصہ ہے لیکن جب آرمینیا چڑھائی کرتا ہے تو کوئی ملک مذمت کے لیے لب کُشائی نہیں کرتا بلکہ مسلم ملک کو نقصان ہوتا دیکھ کر سنگدلانہ خاموشی اختیار کی جاتی ہے 1994 کے دوران روس نے بھی ایسی حالت میں جنگ بندی کرائی جب آرمینیا کانگورنوکاراباغ پر مکمل طور پر قبضہ ہوچکا تھامفاہمت میں بھی مذہبی تعصب روا رکھنا جانبداری ہے۔

روس نے معاہدے کے دوران نگورنوکاراباغ کو آزربائیجان کا حصہ تسلیم کرنے کے باوجودکنٹرول ایسے آرمینیائی لوگوں کوتھما دیا جن کی آرمینیا ئی 

حکومت کھلے عام حمایت کرتی ہے اگر علاقہ آزربائیجان کا حصہ ہے تو انتظام و انصرام کسی اور کے ہاتھ دینا کسی طور انصاف نہیں بلکہ تنازع کو برقرار رکھنے کی کوشش کے مترادف ہے اسلحہ بیچنے کے لیے لڑائی کو طول دینا ضروری ہے روس نے دونوں ممالک میں ثالثی کراتے ہوئے اسی نُکتے پر دھیان دیا روس کی آرمینیا کی طرفداری کی ایک اور وجہ بھی ہے اُس کا آرمینیا میں فوجی ڈاہے یہی وجہ ہے کہ مسلم ملک کے خلاف سازشوں میں دونوں ملک ایک پیج پر ہیں اور نگورنوکاراباغ کو مزہبی تعصب سے دیکھتے ہیں ۔

نگورنوکاراباغ چوالیس سو مربع کلومیٹر پر محیط علاقہ ہے جس کی آبادی ایک لاکھ چھیالیس ہزار پانچ سوتہتر نفوس پر مشتمل ہے اکثریتی آبادی عیسائیت کی پیرکارہے مگر یہ علاقہ تیل جیسی معدنیات کے وسیع ذخائر رکھتا ہے معدنیات کسی مسلم ملک کے پاس ہوں غیر مسلم ممالک کو منظور نہیں نگورنوکاراباغ ایک بڑا سیاحتی مقام بھی ہے الکوحل اورخوراک کی پیداوار کے ساتھ بجلی کا سامان اور گھڑیاں بنانے کے حوالے سے معروف ہے روس عسکری سازوسامان آرمینیا کو دیتا ہے لیکن ترکی کی مداخلت سے صورتحال بدل رہی ہے1991 میںآزادی حاصل کرتے ہی علاقے میں سب سے پہلے تسلیم کرنے پرآزربائیجان ترکی کا ممنون ہے آزربائیجان کے سابق صدر حیدر علیوف تو خودکو ترک النسل قرار دیتے رہے طیب اردوان جو مسلم مفاد کے نگہبان کے طور پر نمایاں ہونے کی کوششوں میں ہیں بھلا اِتنے قریبی ملک کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں وہ حمایت میں پیش پیش ہیں اِس لیے اب اکیلا روس پانسا پلٹنے کی پوزیشن میں نہیں بلکہ ترکی کے کردار نے روسی کردار اگر ختم نہیں کیاتو اثرات کم ضرور کر دیے ہیں جس سے آزربائیجا ن کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔

آرمینیا کارقبہ 29743 مربع کلو میٹر اور آبادی 2956900ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد 0.3 فیصد محض ایک ہزار کے قریب یعنی نہ ہونے کے برابر ہے برآمدات میں کاپر ،لوہا ،سیگریٹ ،سونا اور مشینری بڑا حصہ ہیں یہ ملک نہ صرف خوراک میں خود کفیل بلکہ برآمد بھی کرتا ہے چھوٹا ملک ہونے کے باوجود روسی طاقت کی وجہ سے آزربائیجان جیسے بڑے ملک کو خاطر میں نہیں لاتااور باربار چڑھ دوڑتاہے آزربائیجان کا رقبہ چھیاسی ہزار چھ سو مربع کلو میٹر اور آبادی ایک کروڑایک لاکھ ستائیس ہزارآٹھ سو چوہترہے کل آبادی کا96.9 فیصد مسلمان جبکہ تین فیصد آبادی عیسائی ہے 0.1دیگر مذاہب ہیںبرآمدات میں تیل ،گیس ، مشینری اور کھانے پینے کی اشیا شامل ہیں اِس لیے بظاہر دونوں ممالک کا موزانہ کریں تو آزربائیجان کو ہر لحاظ سے برتری حاصل ہے لیکن پڑوسیوں کی مداخلت اور معدنیات سے مالا مال علاقے کے لالچ نے آرمینیا جیسے چھوٹے سے ملک کو کئی گنا بڑے ملک کے مقابل کردیاہے 2016میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان خونریز مسلح جھڑپیں ہوئیں جن میں ہزاروں لوگ مارے گئے اور انسانی ہجرت محتاط اندازے کے مطابق دس لاکھ پر محیط تھی۔

 جولائی میں جھڑپوں کے دوران سترہ فوجیوں کی ہلاکت نے کشیدگی میں اضافے کے ساتھ لڑائی کے محاذ کو وسیع کر دیا ہے دونوں طرف مرنے والے فوجیوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر گئی ہے مگر جب سے آرمینیائی فوجوں کو شکست کا سامنا ہے تب سے دنیا کو امن یادآنا شروع ہوگیا ہے اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکرٹری انٹونیوگوٹریس،پندرہ رکنی سلامتی کونسل، روس اور فرانس نے جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دینا شروع کردیا ہے لیکن جانے اِن لوگوں کو مسائل ختم کرنا کیوں یاد نہیں رہتا اگر یادرہتا تو کشمیر،میانمارکے مظلوم لوگ کیوں نسل کشی کا شکارہوتے افغانستان،عراق ،لیبیا اور بوسنیا کیوں تاراج ہوتے بات وہی ہے کہ مسلم خون بہنے پر دنیا کی آنکھیں اور کان بند ہوجاتے ہیں تبھی تو کچھ نظر نہیں آتا اور نہ ہی سنائی دیتا ہے اب بھی نگورونوکاراباغ کا تنازع مستقل حل ہوجائے تو خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے مگر کیا کریں امن اور بات چیت کا خیال غیر مسلم کی پسپائی کے بعدہی آتا ہے جنوب مشرقی یورپ میں ہونے والی تازہ لڑائی واضح مثال ہے اگر مذہبی تعصب چھوڑ کر بروقت مفاہمت کرائی جائے اور آرمینیا کو آزربائیجان کا علاقہ چھوڑنے کا کہہ دیا جائے تو یہ تنازع ختم ہو سکتا ہے وائے افسوس کہ ایسا نہیں ہورہا اگر ہورہا ہوتا توایسے حالات میں جب دنیا کرونا کی تباہ کاریوں کا سامنا کر رہی ہے آرمینیاکو آزربائیجان کے خلاف اشتعال انگیزی کا حوصلہ نہ ہوتا۔


ای پیپر