’’ ظفری بلیک میلر ‘‘
03 اکتوبر 2020 (17:29) 2020-10-03

ابھی مجھے اپنے نئے عہدہ کا چارج سنبھالے تقریباََ پندرہ بیس دن ہوئے تھے۔نیا ضلع، نیا سٹاف اور نئے لوگ۔ایسے میں افسر کی وہی حالت ہوتی ہے جیسے کسی نئی گرائونڈ میں کرکٹ کی گیم میں اوپنر(opener) بیٹسمین کی ہوتی ہے۔انتہائی محتاط رویہ اپنانا ہوتا ہے۔ہر بال کو محتاط ہو کر کھیلنا پڑتا ہے۔تھوڑی سی جلد بازی سے وکٹ اُڑ جاتی ہے۔بات کہیں اور نکل گئی۔ابھی مجھے دفتر میں آئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ چپڑاسی نے ایک وزٹنگ کارڈ لا کر دیا۔نام کے نیچے لکھا تھا ’’ سوشل ورکر‘‘ میں نے چپڑاسی کو کہا کہ انھیں اندر بلائیں۔تقریباََ پینتیس چالیس سال کا ایک خوش پوش شخص میرے سامنے کی کرسی پر براجمان ہوا۔اُس نے کہا کہ ایک تو وہ مجھے نئے ضلع میں خوش آمدید کہنے آیا ہے۔دوسرا چونکہ آپ نئے ہیںاِس لیئے میں نے چاہا کہ آپ کو یہاں کے ایک بہت ہی اہم محکمہ یعنی محکمہ صحت کے افسران کی کرپشن کے متعلق تھوڑا سا آگاہ کر دوں۔اُس کے ہاتھ میں تین پر نٹڈ(printed) صفحات پر مشتمل ایک درخواست تھی۔جس میں ضلع کے محکمہ ہیلتھ کے سربراہ کی کرپشن سے متعلق تفصیلات تھیں۔درخواست پر ایک سرسری نظر ہی بتا رہی تھی کہ معاملہ بڑا سنجید ہ ہے کیونکہ اُس کے ساتھ کئی سرکاری documentsکی کاپیاں منسلک تھیں۔اور خاصاdataدرج تھا۔میں نے ظفرسے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں۔کہنے لگا میں ایک سوشل ورکر ہوں۔جہاں بھی کرپشن ہو رہی ہواُس کی نشاندہی کرتا ہوںاور جب تک کرپٹ افسروں اور اُن کا ساتھ دینے والے ملازمین کو قرار واقعی سزا نہ دلوا دوںچین سے نہیں بیٹھتا۔اُس کی گفتگو سے میں نے محسوس کیا کہ مو صوف کا فوکس آجکل محکمہ صحت پر ہے۔اور اپنے کام میں خاصی محنت کرتا ہے۔اُس کے جانے کے بعد میں نے اُس سے متعلق تھوڑی سی آگاہی لی تو پتہ چلا کہ ظفر عر ف ــ " ظفر ی   بلیک میلر "  پورے ضلع میں مشہورو معروف آدمی ہے  ۔اُس کا Intelligenceسسٹم خاصا مضبوط تھا۔جس محکمہ پر کام کر رہا ہوتا تھا۔اُس کا وہاں چھوٹے ملازمین کا ایک Networkبھی ضرور ہوتا تھاجنہیں وہ باقاعدہ Paymentکرتا تھا۔یعنی اُن کی محنت کا معاوضہ ضرور دیتا تھا۔اُس کی درخواست میں درج الزامات میںکافی حد تک صداقت لگتی تھی۔معاملے کو تھوڑا اور کھنگالا تو پتہ چلا کہ متعلقہ افسر سے ظفر کے کافی مذاکرات چلتے رہے ہیں۔ظفر کی ڈیمانڈ پانچ لاکھ روپے تھی۔افسر صاحب ایک لاکھ تو مان گئے۔لیکن اِس سے آگے بات نہ بڑھ سکی۔تو نتیجہ اِس درخواست کی صورت میں نکلا۔جو میرے علاوہ صوبے کے تمام سینیئر افسران اور چیف جسٹس آف پاکستان تک کو ایڈریس تھی۔ساتھ اُس نے اپنے شناختی 

کارڈ کی کاپی لگا رکھی تھی۔میں نے ایک کمیٹی بنا کر یہ درخواست اُن کے حوالے کر دی۔لیکن میرا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ کسی طور بلیک میلر کی حوصلہ افزائی نہ ہو۔کیونکہ اُن کی مہم کا مقصد تو کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوتابلکہ اُس میں سے رقم نکالنا ہوتا ہے۔میں نے چونکہ حکومتِ پنجاب کے مختلف محکموں میں کام کیا ہے اِس لیئے تجربے کی بنیاد پر اِس نتیجے پر پہنچا کہ ہر محکمہ کا ایک اپنا’ ظفری‘ ہوتا ہے۔ ان لوگوں کا ذریعہ روزگار سرکاری افسران اور ملازمین کو بلیک میل کر کے اُن سے پیسے بٹورنا ہوتا ہے۔یہ لوگ بہت ذہین ہوتے ہیں اورڈرانے دھمکانے کے ایکسپرٹ۔ Negotiations میں بھی خاصی مہارت رکھتے ہیں۔چونکہ خاصی خوبیوں کے مالک ہوتے ہیںاِس لیئے خاصے خوشحال ہوتے ہیں۔جس محکمہ کو اُنھوں نے adopt) ( اختیار کیاہوتا ہے اُس سے متعلقہ چھوٹے بڑے کام بھی لوگوں کے کرا دیتے ہیں اور اُن سے پیسے وصول کرتے ہیں۔افسران اُن کے خوف کی وجہ سے اُن کی بات مانتے ہیں اور اُنہیں خوش کرنے کی حتی الوسعٰ کوشش کرتے رہتے ہیں۔کِسی بھی محکمہ کا نام لیں وہاں ’ ظفری‘ موجود ہیں۔مثال کے طور پر محکمہ اریگیشن کے اپنے ’ ظفری‘ ہیں اور محکمہ پولیس کے اپنے۔  یہ پولیس کے تھانوں سے بھی پیسے لے جاتے ہیں۔عدالتوں میں بھی کئی وکیل ’ ظفری‘ ہوتے ہیں اور بڑے بڑے ججز سے اپنے حق میں فیصلے کرا لیتے ہیں۔اِس طور موکلان سے بڑی بڑی رقوم وصول کرتے ہیں۔میں نے محسوس کیا ہے کہ ہمارے ملک میں’ظفریوں‘ کی تعداد میں کمی کی بجائے روزافزوں اضافہ ہو رہا ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے۔یہ لوگ کیوں پھل پھول رہے ہیں۔اِس کے اور اسباب کے علاوہ ایک بہت بڑا سبب یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں ہر حکومت کا مقصد اپنی حکمرانی کو طول دینا ہوتا ہے۔کسی بھی حکومت کا مقصد عوام کو انصاف کی فراہمی نہیں ہوتا۔اپنے ملک میں عام آدمی صرف رُل نہیں رہا بلکہ ذلیل ہو رہا ہے۔اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ آپ کا کسی بھی حکومتی محکمہ سے کام پڑ جائے کیا آپ کو یہ اعتماد ہوتا ہے کہ آپ کے ساتھ انصاف ہو گا اور آپ کو اپنا حق مل جائے گا۔چونکہ حکومتوں کا مقصد صرف اپنی حکومتوں کو مضبوط کرنا ہی ہوتا ہے۔  عو ا م کی کسی کو ئی پر و اہ نہیں ہے ۔اِس لیئے سرکاری محکموں میں ایسا کوئی Monitoringنظام نہیں ہے جو یہ دیکھ سکے کہ کیا لوگوں کو سرکاری محکمے انصاف مہیا کر رہے ہیںیا نہیں۔اِس لیئے سرکاری افسران یا ملازمین اپنی من مانی کرتے ہیںاور لوگوں کا خون چوستے ہیں۔ایسے میں پھر ’ ظفری‘ پیدا ہوتے ہیںجو Monitoringکا اپنا نظام نا فذ کرتے ہیں اور یوں پھلتے پھولتے ہیں۔ہماری قوم کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں کے حکمران ایک اور دنیا میں زندگی بسر کرتے ہیں ا و ر عو ا م ایک ا و ر د نیا میں ۔ اُنہیں اِس لیئے یہ معلوم نہیں ہو سکتاکہ لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ مثلا حکمرانوں کے سفر کرنے کے طریقہ کار ہی مختلف ہیں۔اب وزرا اعلیٰ اور وزیرِاعظم کو کیا معلوم اِس ملک میں ٹریفک کا کیا نظام چل رہا ہے۔اُنہیں کیا معلوم عوام کے ساتھ ہسپتالوں میں کیا ہورہا ہے۔سرکاری ہسپتالوں میں ایک ایک بستر پر کتنے مریض لیٹے ہوتے ہیں۔اور پھر ہسپتالوں کا عملہ ان لاوارث لوگوں سے کیا سلوک کرتا ہے۔تھانوں میں جا کر کیسی ذلت اُٹھائی جاتی ہے۔عدالتوں میں انصاف کیسے ملتا ہے۔کیسے کیسے دھکے کھانے پڑتے ہیں۔بیچاری عوام اِس ظالم نظام کے شکنجے میں پستی رہتی ہے۔اگر سرکاری نظام کی باقاعدہ مانیٹرنگ ہو اور دفاتر پر نظر رکھی جائے کہ کیا مخلوقِ خدا کو انصاف مل رہا ہے۔افسران کرپشن تو نہیں کر رہے۔کیا محکمے قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں۔لیکن ہمارے ملک میں قانون اور انصاف بھی وہی حکمرانوں کو اچھا لگتا ہے جو انھیں Suitکرتا ہو۔لہذا جب تک کرپشن اور بے انصافی رہے گی’ ظفری ‘ ہر طرف نظر آتے رہیں گے۔


ای پیپر