یہ ایک سجدہ جسے توُ گراں سمجھتا ہے!
03 اکتوبر 2020 (17:28) 2020-10-03

قرآن پاک کی سورہ علق کی آیت نمبر انیس میں ارشاد ہوتا ہے۔ 

وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ

سجدہ کر اور بہت قریب ہو جا

کتنی اپنائیت ہے ان الفاظ میں

 کتنی محبت چھلک رہی ہے پروردگار کی  

ہم خدا کو کہاں کہاں تلاش نہیں کرتے مگر جب وہ خود بلاتا ہے کہ آئو ایک سجدہ کرو اور میرے قریب ہوجائوتو ہمارے پاس فرصت نہیں ہوتی۔  

کتنا آسان نسخہ ہے اس کی محبت کو پانے کا! 

 مگر کتنے دور ہوتے جارہے ہیں ہم اپنے رب سے

 صرف اپنی دنیاوی خواہشات کے پیچھے چلتے چلتے

 شیطان کے بہکاوے میں آکر ہم اپنی سوا السبیل کھوتے جا رہے ہیں

 راستہ تو صاف ہے مگر ہم خود گمراہ ہونا چاہتے ہیں۔ 

ہم اگر خدا کی رسی تھام لیں پھر ہمیں کسی دنیاوی سہارے کی کیا ضرورت ہے؟ 

پتہ ہے کیا! جب ہم اس کے سجدے سے منہ موڑتے ہیں اور ہمیں ایک سجدہ گراں لگنے لگتا ہے

 تو پھر وہ بھی ہمارا پاس نہیں رکھتا۔ ہم کبھی بھی اس کی مصلحت کو نہیں سمجھتے ہم تو بس دنیا کے کھیل تماشوں میں الجھ کر دنیا اور آخرت دائو پر لگا رہے ہیں۔ 

یاد رہے! 

دنیاوی بتوں کی پوجا کرنے والوں کے نصیب میں بس ذلت ہی لکھی ہوتی ہے خواہ اسے کوئی تنظیم سازی کا نام دے یا پھر اعتکاف کی مبارک ساعتوں کی آڑ لے لے لیکن  جب  رب کو ناراض کردیا پھر آپ نے رسوا ہونا ہی ہونا ہے۔ 

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

(علامہ اقبال)ؔ

اس میں اس رب کا ذاتی کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ جب چاہے اس نسل کو ختم کرکے ایک نئی نسل وجود میں لے آئے اور سب اس کی اطاعت کریں لیکن نہیں اس کو تو اختیار دے کر یہ دیکھنا مقصود ہے کہ کون میرے خلیفہ ہونے کا حق ادا کرتا ہے؟

اسے آپ کی عبادت نہیں چاہیے اسے تو بس آپ کا اخلاص چاہیے۔ 

اب اس سجدے کے ایک اور پہلو پر بھی ذرا غور کریں 

ابھی ابھی ایک وڈیو دیکھی جس میں امریکی ڈاکٹر کورونا وارڈ میں سجدے کی  حالت میں ہوکر بتاتا ہے کہ پھیپھڑوں کی تہہ میں گاڑھا ہوکر پھیپھڑوں کو بند کرنے والا بلغم کھانسی کر کہ نکالا جا سکتا ہے اس کا واحد طریقہ سجدہ کی  حالت ہے۔.

غیر مسلموں کو پتہ چل گیا ہمارے رب کی کیا مصلحت ہے مگر ہم ناشکروں کو کبھی سمجھ نہ آئی۔

 کاش کبھی قرآن ایک بار ترجمے سے پڑھ لیا ہوتا تو پتہ چلتا کہ اسلام دنیا کا سب سے جدید مذہب  ہے۔ آپ اندازہ لگائیں دین اسلام کا صرف ایک عمل سجدہ کتنے فوائد کا حامل ہے تو آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ حال ہی میں ایک شخص جسے پندرہ سال سے الرجی تھی اس نے ایک ڈاکٹر کی وڈیو دیکھی جس میں اس نے بتایا کہ دماغی کمزوری کو دور کرنے کا واحد طریقہ لمبا سجدہ کرنا ہے۔ جب ہم سجدے میں چلے جاتے ہیں، تو تب دماغ کو تازہ خون فراہم ہوتا ہے۔الرجی کا بھی یہی حل ہے کیونکہ دماغی کمزوری کی ہی وجہ سے ہمیں یہ  رائنائٹس کی رابلم ہوتی ہے۔

جب اس بندے کی پندرہ سالہ الرجی کا مسئلہ تو ایک ماہ میں ہی لمبا سجدہ کرنے سے حل ہو گیا۔

چہرہ خون کی سپلائی کی وجہ سے تازہ رہنے لگا اور بڑی عمر کے اثرات تقریبا ختم ہو گئے۔

بالوں کو خون ملنے کی وجہ سے بال گرنے کم ہو گئے۔ بلغم کا مسئلہ ختم ہو گیا۔ کانوں کے مسائل اور آنکھوں کی کمزوری کے مسائل کم ہو گئے۔

سبحان اللہ! یہ مذہب ہی ہے جس کے ایک سجدے کے عمل میں ہماری اتنی بیماریوں اور نہ جانے کن کن بیماریوں کا علاج ہے۔

یقین مانیے اپنی روحانی اور جسمانی عوارض دور کرنے کے لیے لمبے لمبے سجدے شروع کردیں۔ 

آج کل جیسے کرونا کا بہت زور ہے۔ اگر آپ لمبے سجدے کرنے شروع کر دیں نماز کے بعد تو آپ کے پھیپھڑے زیادہ مضبوط ہو سکتے ہیں، کیونکہ سجدے کی ایک ایسی پوزیشن ہے کہ جس انسان کے پھیپڑے زیادہ بہتر کام کرتے ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے  

کہ اگر انسان کو پتہ چل جائے کہ سجدے میں کن کن نعمتوں نے اسے گھیرا ہوا ہے تو وہ سجدے سے سر اٹھانا ہی نہ چاہے۔

پتہ نہیں ! 

ہم اپنا مقصد حیات کیوں بھول چکے ہیں ؟

حالانکہ ایک معمولی ساموبائل بھی آج تک اپنا بنیادی کام نہیں بھولا۔ آپ کوئی گیم کھیل رہے ہوں یا فلم دیکھ رہے ہوںتو جیسے ہی کوئی کال آئے موبائل فوراً سے پہلے سب کچھ چھوڑ کر آپ کو بتاتا ہے کہ کال آرہی ہے سن لیں وہ اپنے سارے کام روک لیتا ہے۔ اور ایک انسان جسے اللہ پاک نے اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا اور ساری کائنات کو اس کی خدمت کے لیے سجا دیا، وہ اللہ کی کال پر دن میں کتنی بارلبیک کہتا ہے؟

 ہم تو اذان پر ہم اپنی گفتگو بھی روکنا مناسب نہیں سمجھتے۔ 

کاش ہم موبائل سے سیکھ لیں کہ دنیا کے سب ہی کام کرو مگر اپنی پیدائش کا بنیادی مقصد نہ  بھلا دینا 

کاش ہمیں سمجھ آجائے کہ اللہ نے ہمیں کس لیے پیدا کیا ہے ؟

قصہ مختصر یہ کہ ہماری ساری عبادتوں کے نتیجے میں ہمیں روحانی، جسمانی اور معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ نماز ایک مکمل ورزش ہے ،روزہ جسم کی زکوۃ ہے، زکوۃ مال کو بڑھاتی ہے، معاشرے میں غربت اور سود کی لعنت کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ فلاحی ریاست کے قیام میں مدد دیتی ہے جبکہ حج  پوری امت مسلمہ کو ایک احرام میں ایک جگہ اکٹھا کر کے اتحاد بین المسلمین کا سبق دیتا ہے! 

جہاد کا تو مقصد ہی یہ تھا کہ مسلمانوں کو کفار کے ظلم سے نجات دی جائے اب خود دیکھ لیں ان دینی ارکان سے ہم جتنا دور ہورہے ہیں اتنا ہی  ذلت ہمارا مقدر بن رہی ہے ۔ 

لہٰذا تنظیم سازی پر دھیان دینے کے بجائے  دین پر غور کریں ،  ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا! 

توبہ کا وقت ابھی باقی ہے تو پھر کیوں نہ یکسوئی سے سجدہ کرکے  اللہ کے قریب ہوجائیں۔ لیکن اس سے پہلے اپنی انا، خواہشات کے بت پاش پاش کردیںورنہ کہیں یہ صورتحال نہ ہوجائے ۔

جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی ، تو زمیں سے آنے لگی صدا

ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں


ای پیپر