جرمنی کہاں پاکستان کہاں؟
03 اکتوبر 2020 (17:28) 2020-10-03

اس ملک کو آزاد ہوئے73 برس بیت گئے۔قوموں کی زندگی میں یہ کوئی چھوٹا عرصہ نہیںہے لیکن کیا وجہ ہے کہ ان برسوں میں ہم نے ترقی کی منازل طے کرنے کی بجائے تنزلی کا سفر ہی طے کیا ہے۔کون سا نظام ہے جس کا تجربہ ہم نے اس ملک پر نہیں کیا۔ صدارتی نظام ہم نے بھگتا ہے، پارلیمانی نظام ہم چلا رہے ہیں یہ الگ بات ہے کہ وہ برائے نام ہی ہے۔ مارشل لائوں نے یہاں راج کیا ہے اور سول اور ملٹری بیورو کریسی نے ہمیشہ پردے کے پیچھے سے حکمرانی کی ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اوپر کی طرف جانے کے بجائے نیچے جا رہے ہیں؟ ہمارا جی ڈی پی گر رہا ہے اور ہم اسلحہ کی خرید اور تیاری پر زور دے رہے ہیں۔ عوام کو بنیادی انسانی ضروریات میسر نہیں ہیں۔ ہماری یونیورسٹیاں جو ریسرچ کر رہی ہیں وہ صرف کتابو ں تک محدود ہے ۔ہمارے پولیٹیکل سائنٹسٹ قوم کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہم نے کسی دوسرے کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ ہمارے بعد آزادہونے والے ہم سے کوسوں دور آگے نکل گئے حتی کہ بنگلہ دیش جو 1971ء میں ہم سے آزاد ہوا اس کا ٹکا ہم سے بھاری ہے۔ اب وہ بھوکے ننگے لوگوں کا ملک نہیں رہا اور ہمارے ہاں بھوکے افراد کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

گذشتہ کالم میںہم نے دیوار برلن کا ذکر کیا تھا کہ کس طرح جرمن قوم نے مشکل حالات سے خود کو نکالا۔1947  میں جب ہم آزاد ہوئے تو جرمنی اس وقت شکست خوردہ قوم تھی، دوسری جنگ عظیم نے قوم کو تباہ کر دیا تھا۔ اتحادیوںنے جرمنی کی قوت کو ختم کرنے کے لیے اس کے حصے بخرے کر دیے ۔ ایک طرف سوویت یونین کی عملداری تھی اور دوسری طرف امریکہ برطانیہ اور فرانس 

جرمنی کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل کر چکے تھے۔برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ممالک کسی بھی طور جرمنی کو بااختیار بنانے کے لیے تیار نہیں تھے کہ ایسا کرنے کی صورت میں جرمنی سے یورپ کو ایک بار پھر خطرہ لاحق رہتا۔ان مشکل حالات میں بھی جرمنی نے نیم خودمختاری سے مکمل خود اختیاری کا سفر طے کیا اپنے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کوختم کیا، عوام کو حوصلہ دیا اور سب نے مل کر جرمن قوم کی تعمیر و ترقی کا آغاز کیا۔ اس ہمت کی بدولت ہی جرمنی چند برسوں میں ایک بار پھر یورپ کی قیادت کرنے کے قابل بن گیا۔دوسری جنگ عظیم نے انفراسٹرکچر بری طرح تباہ کر دیا ہے۔ سوویت یونین اس کی انڈسٹری کو اٹھا کر روس لے گیا اور اتحادیوں نے جرمنی کو مجبور کیا کہ وہ فرانس کو مفت کوئلہ فراہم کرے۔  اتحادی ممالک کی فوج بڑی تعداد میں جرمنی میں تعینات رہی ۔ ان حالات کے باوجود تعمیر نو کا کام شروع ہوا۔جرمن قوم نے اپنے معاشرے سے نازی ازم کی باقیات کا صفایا شروع کیا۔ اتحادیوں اور خاص طور پر امریکہ نے جرمن معاشرے کی تشکیل نو میں اہم کردار ادا کیا۔ لاکھوں افراد کے خلاف فوجی عدالتو ں میں مقدمات چلے اور سزائیں سنائی گئیں۔اتحادی فوجیوں کی تعداد میں آہستہ آہستہ کمی آنا شروع ہوئی کیونکہ امریکہ میں یہ تحریک چل رہی تھی کہ ہمارے فوجیوں کوواپس لائو۔امریکہ کے فوجی ڈویژن واپس جانا شروع ہو گئے۔ہالینڈ برطانیہ اور فرانس کی مخالفت کے باوجود امریکہ نے جرمنی کو خو د مختاری دے دی ۔

پاکستان اور جرمنی میں کئی مماثلتیں موجود ہیں  ۔ امریکیو ںنے یورپ میں سوویت یونین کے پھیلائو کو روکنے کے لیے جرمنی کا استعمال کیا ۔ اس خطے میں امریکہ نے سوویت یونین کے پر کاٹنے کے لیے پاکستان کا انتخاب کیا۔ پاکستان کی مدد سے سوویت یونین کو افعانستان سے نکال دیا پھر کیا وجہ تھی کہ پاکستان ابھی تک افغانستان کے مسائل سے الگ نہیں ہو سکا اور ہمارا معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکا جبکہ جرمنی کہیں سے کہیں پہنچ گیا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ہم نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ چلنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ہم مصلحتوں کا شکا رہوئے۔ ایک طرف ہم اتحادیوں کی مرضی اور منشا پورے کرنے میں لگے ہوئے تھے اور دوسری طرف ہم نے ان لوگوں کو بھی پناہ دے رکھی تھی جو ان کے خلاف تھے۔ ہم وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کے عادی ہو چکے ہیں اور اس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑا ہے۔ آج ہم سے زیادہ افغانستان کے طالبان معتبر ہیں اور کوئی ہم پر بھروسہ اور اعتما د کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ جرمن معاشرے نے یک سو ہو کر کام کیا اور ہم نے معاشرے کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ جرمنی کے سیاستدانوں نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھااور ہمارے سیاست دان  غلطی در غلطی کرتے رہے۔ سیاست دانوں نے ایک دوسرے سے انتقام لینے کے لیے قومی مفادات کو بھلا دیااور رہی سہی کسر فوجی حکومتوں نے پوری کر دی۔   

آج جرمن قوم اپنے اتحاد کا دن منا رہی ہے۔انہوںنے اپنے احساس محرومی کو ختم کیا اور باوقار قوم کے طور پراپنا مقام پید ا کیا ہے ۔ آج بھی اگر ہم ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں تو معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ جرمنی پاکستان اور افغانستان کی تعمیر نو کے کئی منصوبوںپر کام کر رہاہے لیکن سب سے اہم کام یہ ہے کہ ہم سیاسی معاشی اقتصادی میدان میں ان سے قریبی تعاون بڑھائیں اور خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں ان کی مہارت کو بروئے کار لائیں۔


ای پیپر