وسائل کی تقسیم کی ضرورت
03 اکتوبر 2020 (17:27) 2020-10-03

مجھے یاد ہے بلکہ مجھے ذرا ذرا یاد ہے بجلی کے بل آئے اور آٹھ روپے یونٹ کے حساب سے آنے والے بل عوام کے لیے خاصے پریشان کن ثابت ہوئے۔ عمران خان کے دل میں عوام کا درد سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ عوام کی کسمپرسی کی حالت خان صاحب کو دن رات تڑپائے رکھتی تھی۔ بھوک، مہنگائی، لاقانونیت ، پولیس کلچر، نا انصافی خان صاحب کو ہر لمحہ بے چین و بے قرار رکھتی تھی۔ خان صاحب ہر وقت بے چین، گھبرائے ہوئے اور ان حکمرانوں سے اکتائے ہوئے رہتے تھے۔

جب عوام کا درد خان صاحب کی برداشت سے باہر ہو گیا تو آپ نے ایک جلسے میں بجلی کے وہ  بل جلا کر احتجاج کیا کہ غریب عوام اس قدر مہنگائی برداشت نہیں کر سکتی لہٰذا بلوں میں اضافہ واپس لیا جائے۔ مجھے یاد ہے کہ اس عوام نے خان صاحب کے اس احتجاج میں بھرپور ساتھ دیا اور خان صاحب کی ہاں میں ہاں ملائی۔ اس طرح کے بہت سے اہم ایشوز تھے جن کے ہاتھوں عوام مجبور اور بے بس نظر آ رہی تھی۔ اور عوام کے لیے یہی ایک شخص مسیحا کی حیثیت رکھتا تھا۔ 

مہنگائی، گھٹن، نفسیاتی الجھاؤ اور بے چینی کی حالت میں قوم عمران خان کو ہی اپنا نجات دہندہ سمجھ بیٹھی اور نئے پاکستان کی بنیادوں میں اپنا حصہ ڈال دیا۔ اس قدر حصہ ڈالا کہ عمران خان پرانے سیاست کو چمکا کر، اپنی ٹیم کا حصہ بنا کر بالآخر ملک کے وزیراعظم بن گئے۔ آج عمران خان کو وزیراعظم بنے دو سال دو مہینے ہونے کو ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جہانگیر ترین نے بارہویں کھلاڑی کے طور پر اپنی خدمت کو خان صاحب کے سپرد کر دیا اور ان کے لیے بے شمار کارہائے نمایاں سر انجام دے کر پہاڑ کی چوٹی کو سر کر لیا اور ان خدمات کے عوض چینی جیسی چیونٹی کو پر لگا کر دن دگنی اور رات چگنی ترقی کی اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر معاونین کی بھی چاندی ہو گئی۔ وہی بجلی جس کے آٹھ روپے یونٹ ہونے پر بل جلا دیئے گئے وہی بجلی اٹھارہ روپے یونٹ دستیاب ہونے لگی۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ادویات کی قیمتوں میں پانچ سو فی صد اضافہ ہوا اور مریض ڈسپرین کھانے کو ترس گئے۔ 

یہ ادویات تھیں جو مہنگی ہوئیں اور ادویات ساز کمپنیوں کے وارے نیارے ہو گئے۔ گھی، آئل، دالیں، چاول اور دیگر اشیائے خورونوش عوام کی طاقت سے باہر ہو گئے۔ کسانوں کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ کھاد، کرم کش ادویات، بیج جعلی ہونے کے ساتھ ساتھ اس قدر مہنگے ہوئے کہ کسان مر گئے اور بیچنے والوں کے اکاؤنٹ بھر گئے۔ جہانگیر ترین کی سرمایہ کاری کے بعد اگر سب سے زیادہ منافع کسی تاجر کو ہوا تو وہ میڈیکل سٹورز اور کریانہ و جنرل سٹورز والوں کو ہوا ہے۔ ان احباب نے عوام کی کھال الٹی چھری سے اپنی من مانی کے ساتھ اتاری ہے۔ ابا جی اک اکھان سنایا کرتے تھے ’’لٹ پٹ لوو، کملیاں دا ویلن وگدا جے‘‘ بالکل سادہ لوح اور شریف لوگوں نے گنے سے رس نکال کر گڑ بنانے کے لیے ویلن لگایا تھا اور رس نکال کر گڑ بناتے تھے۔ جب صبح سویرے وہ لوگ یہ کام شروع کرتے تو گڑ بنتے ہی گاؤں کے لوگ آ  جاتے کوئی گڑ اٹھا لیتا، کوئی گنا اٹھا لیتا اور کوئی گنے سے نکلا ہوا رس پینے میں مشغول ہو جاتا۔ جب شام ہوتی تو ان شریف اور سادہ لوح بھائیوں کے ہاتھ کچھ نہ آتا اور وہ شکر ادا کر کے گھر واپس لوٹ آتے۔ صبح پھر وہ اپنے اسی کام کے لیے نکل جاتے گاؤں کے عوام یہ نعرہ (لٹ پٹ لووہ کملیاں دا ویلن وگدا جے‘‘ بلند کرتے ہوئے گڑ، گنا اور تنے کے رس پر ٹوٹ پڑتی اور ان کی سادہ لوحی پر ہنستی ہوئی واپس آجاتی ۔

یہ عوام بالکل ان سادہ لوح بھائیوں کی طرح ہے۔ حکومت کوئی بھی ہو اور جیسا سلوک مرضی کرے یہ ’’کملے‘‘ کچھ نہیں کہیں گے۔ آپ عوام کو سارے کا سارا باندھ کر آئی۔ ایم ایف کی ساری شرائط مان سکتے ہیں؟ یہ کچھ نہیں بولیں گے۔ آپ ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھائیں یہ چپ رہیں گے۔ آپ عدلیہ اور سیکرٹریٹ کے ملازموں کو جی بھر کر نوازیں یہ بالکل گونگے ہو جائیں گے۔ آپ مہنگائی کی انتہا کر دیں یہ چپ چاپ نظریں نیچی کر کے اپنی حیات کا سفر طے کرتے رہیں گے۔ آپ ٹیکسوں کی شرح بڑھا دیں یہ بے چارے ٹیکس دیں گے خواہ وہ کوئی اور ہڑپ کر جائے۔ آپ اس قوم کو آلودہ پانی، جعلی ادویات، جعلی دودھ، ناقص خوراک، ملاوٹ شدہ گھی اور آئل کھانے پر مجبور کر دیں یہ خوشی خوشی کھا پی جائیں گے۔ آپ کو قطعاً بھی اس بات کی پریشانی نہیں ہو گی۔ لہٰذا موجودہ حکومت کو ان تمام خرابیوں یا بد انتظامیوں پر گھبرانے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ یہ معاشی ، معاشرتی، سماجی اور نفسیاتی قباحتوں کا سارے کا سارا بوجھ یہ ’’کملی عوام‘‘ اپنے ناتواں کندھوں پر بغیر گھبرائے ہوئے اٹھا چکی ہے اور آئندہ بھی اٹھانے کے لیے ’’چوکر‘‘ ملا آٹا مہنگے داموں خرید کر اتھائے گی اور آٹا مافیا کو بالکل نہیں کوسے گی بلکہ ان کی عزت پر کوئی حرف نہیں آئے دے گی۔ اگر ہمارے پاس تیل کے ذخائر نہیں ہیں تو کیا ہم عوام کے لیے مہنگائی کے پہاڑ کھڑے کر دیں جو موجودہ عوام اور آنے والی نسلوں سے سر نہ ہو سکیں۔ 

ہمارا ملک گنے کی پیداوار میں پوری دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ کیا ہم اپنی عوام کو سستی چینی دے رہے ہیں؟ ہم کپاس کی کاشت میں دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہیں کیا ہماری عوام سستا کپڑا خرید رہی ہے؟ ہم گندم کی کاشت میں 213ممالک میں آٹھویں نمبر پر ہہیں۔ کیا عوام کو سستی روٹی میسر ہے؟ ہم چاول کی پیداوار میں دسویں نمبر پر ہیں کیا ہر شہری چاول باآسانی خرید رہا ہے؟ آپ کا ملک پاکستان  برف پوش پہاڑوں سے لے کر سبز میدانوں، صحراؤں اور خوبصورت سمندری کناروں پر مشتمل ہے مگر ہم نے ان تمام خدائی نعمتوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا…؟ بلکہ دن رات انہیں تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اگر ہم کسی موقع پر تیل دریافت کرنے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو وہ بھی سرمایہ داروں، جاگیرداروں، وڈیروں بلکہ ساتھ ستر خاندانوں کی چمکتی ہوئی قسمت اور سنوار دے گا۔ ایک بات ذہن میں رکھیے! ممالک تیل کی آمدن سے نہیں بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ترقی کرتے ہیں۔ عوام دریافتوں سے نہیں عدل و انصاف سے خوشحال ہوتے ہیں۔ عوام ادویات سے نہیں ذہنی ، روحانی اور قلبی سکون سے جلد ٹھیک ہوتے ہیں۔ نفسیاتی مریض ماہر نفسیات سے نہیں ، حکومت کی طرف سے دی گئی سہولیات لے کر جلد ٹھیک ہوتے ہیں۔ جس ملک  میں انصاف صدیوں بعد ملتا ہول، وسائل حکومتی نمائندوں کو حاصل ہوں، سہولیات امیروں کو حاصل ہوں۔ تعلیمی نظام میں طبقاتی نظام جڑیں پکڑ جائیں تو اس ملک میں آنے والی نسلیںذہنی معذور ، کرپٹ زدہ، مفاد پرست، دھاکہ باز، دغا باز ، بے ایمان ہو جاتی ہیں۔


ای پیپر