کم ظرفیاں اور اعلیٰ ظرفیاں!
03 اکتوبر 2020 2020-10-03

آج کا کالم تو مجھے میڈیکل یونیورسٹیز کے حالیہ ودیرینہ مسائل ، صحت کے حوالے سے سرکار کی ناقص پالیسیوں اور پاکستان ایسوسی ایشن آف میڈیکل اینڈ ڈینٹل انسٹی ٹیوٹ( پامی) کے نومنتخب صدر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان کے جذبوں اور آرزوﺅں پر لکھنا تھا پر گزشتہ دوکالموں کے حوالے سے ایک وضاحت ضروری ہے، اِس کے علاوہ اپنی کم ظرف سرکار سے ایک گزارش بھی ضروری ہے، اور سب سے زیادہ ضروری یہ ہے ایک واقعہ موجودہ آئی جی پنجاب انعام غنی کو سنانا چاہتا ہوں اِس اُمید پر ”شاید کہ اُن کے دل میں اُتر جائے میری بات“ .... پہلے ذرا اپنے گزشتہ دوکالموں کے حوالے سے اپنی غلطی تسلیم کرلُوں،.... پچھلے کالم میں اسلام آباد میں صرف کانسٹی ٹیوشن ایونیو اور 2012میں آئی جی پنجاب انعام غنی جو اُن دِنوں ایف آئی اے میں تعینات تھے پر لگنے والے الزامات کی انکوائری کرنے والے پولیس افسر کا نام میں نے ڈاکٹر شعیب لکھ دیا تھا، نام تو اُن کا میں نے ٹھیک لکھا تھا مگر وہ ڈاکٹر نہیں کیپٹن ریٹائرڈ شعیب ہیں۔ اب پتہ نہیں وہ کہاں ہیں؟ اور جن کے خلاف اُنہوں نے سازشیں کیں، یا جن کے خلاف اُنہوں نے انکوائریاں کیں اُن میں ایک آئی جی پنجاب دوسرا آئی جی اسلام آباد ہے۔ ”رہے نام اللہ کا “....دوسری وضاحت اپنے گزشتہ کالم کے حوالے سے میں یہ کرنا چاہتا ہوں عامر ذوالفقار جب کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج سہالہ تھے، کیپٹن ریٹائرڈ شعیب وہاں ڈپٹی کمانڈنٹ تھے، اُنہوں نے اپنے کمانڈنٹ کے خلاف سازش کی، اُن پر بھونڈا الزام لگایا کہ وہ ٹریننگ کرنے والی بچیوں کو جنسی طورپر ہراساں کرتے ہیں، ذوالفقار چیمہ نے بغیر تصدیق کے فوراً ہی اِس پر کالم ٹھوک دیا، جس سے یہ تاثر ملا اصل میں یہ سازش تیار ہی ذوالفقار چیمے کے ایماءپر کی گئی تھی، آئی جی پنجاب نہ بننے کا دُکھ دل میں لے کر موٹروے پولیس سے بطور آئی جی ریٹائرڈ ہونے والے شوقیہ دانشور اُن دنوں مضمون ٹائپ کوئی چیز ہفتے میں ایک آدھ بار روزنامہ جنگ میں لکھتے تھے ، عامر ذوالفقار کے بارے میں جب اُنہوں نے کالم لکھا جس میں اُن پر اپنے جیسے گھٹیا الزامات لگائے تو اُس وقت کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اِن الزامات کی انکوائری کے لیے فوراً ایک کمیٹی ایڈیشنل آئی جی پنجاب نسیم الزمان کی سربراہی میں قائم کردی،کمانڈنٹ پنجاب کانسٹیبلری حسین اصغر اور ایک دوسرے سینئر افسر اکبر ناصر اِس کمیٹی کے اراکین تھے، اِس انکوائری کمیٹی نے مکمل چھان بین کے بعد عامر ذوالفقار کو مکمل طورپر بے قصور قرار دیا، اُس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا اُن کے خلاف کالم لکھنے والے ریٹائرڈ پولیس افسر شرم سے نہ سہی بے شرمی سے ہی ڈوب مرتے پر اِس طرح کے لوگ شرم سے نہیں مرتے اپنی موت آپ مرتے ہیں، جوکہ اِس صورت میں وہ مر بھی گئے تھے کہ اِس کالم پر روزنامہ جنگ سے اُنہیں فارغ کردیا گیا تھا، .... اب کچھ ذکر میں اپنے حکمرانوں کی روایتی کم ظرفی پر کرنا چاہتا ہوں،وزیر اعظم عمران خان سے دوماہ پہلے میری ون ٹو ون ملاقات ہوئی، ایک بات جو گزشتہ دوبرسوں سے میں بہت زور دے کر ہمیشہ اُن سے کہتا ہوں، ایک بار پھر کہی” جس مسند پر اب آپ تشریف فرما ہیں آپ کا ظرف اب اُس کے مطابق ہونا چاہیے، آپ جس اعلیٰ ترین منصب پر پہنچ چکے ہیں یہ فیصلہ اب آپ نے کرنا ہے تاریخ میں اپنا نام ایک اعلیٰ ظرف حکمران کے طورپر لکھوانا ہے یا روایتی کم ظرف حکمران کے طورپر ؟“ میں یہ ساری تمہید اِس پس منظر میں باندھ رہا ہوں موجودہ آئی جی انعام غنی کی تقرری کے بعد اُن کے ایک بیج میٹ طارق مسعود یٰسین نے اِس مو¿قف کے تحت رخصت کی درخواست دے دی کہ انعام غنی بیج میں مجھ سے جونیئر ہیں، میں اُن کے ماتحت کام نہیں کرسکتا“.... طارق مسعود یٰسین کی ریٹائرمنٹ میں تھوڑا ہی عرصہ باتی رہ گیا ہے، سرکار کو اِس معاملے میں اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، خصوصاً اُن کے شاندار سروس ریکارڈ اور ماضی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اُنہیں فوری طورپر کسی اور اہم عہدے پر تعینات کرکے اُن کی بہترین صلاحیتوں سے استفادہ کرتے رہنا چاہیے تھا، ایسے ”قیمتی موتی“ ایسے ہی راہ چلتے نہیں پھینک دیئے جاتے، .... مجھے نہیں پتہ آئی جی پنجاب انعام غنی کا رویہ اِس معاملے میں کیا رہا؟، میں نے اِس حوالے سے اُن کا ایک بیان پڑھا تھاکہ ”جس نے میرے ساتھ کام کرنا ہے کرے جس نے نہیں کرنا نہ کرے“ .... میں نے سوچا یہ بیان اُن کے نام سے اپنی طرف سے کسی نے جوڑ دیا ہوگا، وہ اتنے کم ظرف نہیں ہوسکتے اپنے ایک سینئر کولیگ کے کسی اُصولی مو¿قف کے خلاف ایسی فضول بات کہہ دیں، میں اُنہیں ایک واقعہ سناتا ہوں، ممکن ہے یہ واقعہ پہلے ہی اُن کے نوٹس میں ہو، چند برس قبل طارق سلیم ڈوگر کو آئی جی پنجاب بنانے کا فیصلہ ہوا، یہ خبر سنتے ہی وہ اپنے ایک سینئر کولیگ اُس وقت کے ایڈیشنل آئی جی پنجاب شیخ اسرار احمد کے گھر پہنچے، وہ شیخ اسرار احمد کو ”پائی جان“ کہہ کر بلاتے تھے، اُنہوں نے کہا ”پائی جان مجھے آئی جی پنجاب بنانے کا فیصلہ ہوا ہے، میں نے سوچا پہلے آپ سے اجازت لے لُوں “ ،....شیخ اسرار احمد نے اُن کا ماتھا چُوما، اُن سے کہا ”آپ میرے پاس نہ بھی آتے، مجھے آپ کی تقرری پر خوشی ہوتی، پر اب توماتھا چُوما ، خوشی ہوگی“ .... طارق سلیم ڈوگر کے آئی جی پنجاب بننے کے بعد میں نے کئی باد دیکھا اُن کے ایڈیشنل آئی جی شیخ اسرار احمد جب بھی اپنے دفتر سے اُٹھ کر اُن کے دفتر آتے وہ اُٹھ کر اُن کے احترام میں فوراً کھڑے ہو جاتے، اُنہیں سلیوٹ کرتے، اُن سے کہتے ”پائی جان آپ میری سیٹ پر بیٹھیں میں آپ کے سامنے بیٹھ کر آپ کی بات سنتا ہوں“ .... اللہ جانے اِس طرح کی اعلیٰ ظرفیاں کہاں جاکر مرکھپ گئی ہیں ؟۔ پورا معاشرہ بداخلاق ہے خصوصاً نام نہاد پڑھے لکھے لوگ اِس کی انتہا تک پہنچے ہوئے ہیں، شیخ اسرار احمد جس محفل میں ہوتے محفل ایسی جمتی کسی کا اُس محفل سے اٹھنے کو جی ہی نہیں چاہتا تھا، میں اکثر اُن سے کہتا ”آپ کو تو کوئی ادیب، شاعر، دانشور، مصور، موسیقار یا اداکار ہونا چاہیے تھا، کوئی اُن کے پاس اپنی کوئی گزارش یا کام لے کر چلے جاتا انکار کا کوئی تصور ہی اُن کے ہاں نہیں تھا، میں نے ایک بار ازراہ مذاق اُن سے کہا ”سر آپ تو کسی کو انکار ہی نہیں کرتے آپ کا بچپن تو بڑا تکلیف دہ گزرا ہوگا“۔ وہ قہقہہ لگاتے اور کہتے ” میں جم دیاں ای جوان ہوگیا سی “....اب کچھ ذکر میں اُس سی سی پی او لاہور محمد عمر شیخ کا کرنا چاہتا ہوں جن کے خلاف جب سے وہ سی سی پی او لاہور بنے میں نے اتنے کالم لکھے، شاید ہی اور کسی نے اتنے لکھے ہوں گے، اِس کے باوجود اُنہوں نے مجھ سے رابطہ ختم نہیں کیا، میں نے اُن کے واٹس ایپ پر کئی ایسے تنقیدی مسیجز کیے جس کے بعد مجھے پورا یقین تھا اُن کی طرف سے کوئی ایسا رپلائی آئے گا ہمارے درمیان ایسی تلخی پیدا ہوگی جو شاید ہی ختم ہوسکے، اُنہوں نے میرے ہر احتجاجی مسیج کا بڑے حوصلے اور سلیقے سے جواب دیا، وہ میرے گھر بھی تشریف لائے، جس روز سی سی پی او لاہور بنے، اُن کی کال آئی، آدھا گھنٹہ یہی بات کرتے رہے ” میں لاہور کو بدل دوں گا“۔ اب بدل دینے سے اُن کی مراد مزید خراب کردینا ہے یا ٹھیک کر دینا ہے؟ وہی بہتر جانتے ہیں، پر مجھے اُن کی یہ ادا پسند آئی اُن کے جس ماتحت پڑھے لکھے سب انسپکٹر نے اُن کی بدزبانی سے ناراض ہوکر استعفیٰ دیا تھا اُسے اُنہوں نے راضی کرلیا، اُس کا استعفیٰ قبول نہیں کیا، اُن کی خدمت میں بس ایک ہی گزارش ہے، لاہور کو بدلنے سے پہلے تھوڑا خود کو بھی بدل لیں !! 


ای پیپر