سندھ اور قومی اسمبلی آمنے سامنے
03 اکتوبر 2019 2019-10-03

قومی اسمبلی نے اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود صوبائی حدود میں تبدیلی کا اختیار صوبوں سے چھینے سے متعلق بل غور کے لئے مجلس قائمہ کے حوالے کردیا ہے۔ سندھ اسمبلی نے اس فیصلے کے خلاف قرارداد منظور کر کے اس کو صوبوں اور خاص طور پر سندھ اور وفاق کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔ اب سندھ اسمبلی اور قومی اسمبلی آمنے سامنے آگئی ہیں۔ ایم کیو ایم کی کشور زہرہ اور امین الحق نے صوبائی حدود میں تبدیلی کے لئے آئین کی شق 239 ذیلی شق 4 میں ترمیم کا بل پیش کیا جس کے بعد صوبائی حدود میں تبدیلی کا اختیار صوبوں سے وفاق کو مل جائے گا۔ آئین کے مطابق اگر سینیٹ اور قومی اسمبلی کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کی تب تک منظوری نہیں دیں گے جب تک متعلقہ اسمبلی کی دو تہائی اکثریت اس کے حق میں ووت نہیں دیتی۔ اس بل کی پیپلزپارٹی نے مخالفت کی ، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی نے بل کی حمایت کی، وفاقی وزیر علی محمد خان نے کہا کہ صوبوں کے اختیارات واپس لینے پر بحث ہونی چاہئے۔ بل پیش کرنے یا اس پر بحث کرنے میں کوئی ہرج نہیں۔ یہ بل اب متعلقہ کمیٹی کو غور کے لئے بھیج دیا گیا۔ چونکہ یہ ترمیمی بل ایم کیو ایم نے پیش کیا ہے، جو ماضی میں سندھ کی تقسیم اور کراچی کو الگ انتظامی یونٹ بنانے کی کوششوں کی تاریخ رکھتی ہے، لہٰذا اس بل کا مقصد سندھ کو تقسیم کرنا ہے۔ ایم کیو ایم مشرف دور میں جب اقتدار میں تھی، اس کا طوطی بولتا تھا، لیکن تب بھی اس کے اس مطالبے کے درمیان صوبائی اسمبلی حائل ہورہی تھی۔ ایم کیو ایم جانتی ہے کہ سندھ اسمبلی سے ایسا کوئی بل منظور نہیں ہو سکتا جو کراچی کو تقسیم کرے یا الگ انتظامی یونٹ بنائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے یہ بل قومی اسمبلی میںپیش کیا جہاں حکمران جماعت تحریک انصاف کی حمایت کی وجہ سے اس بل کو قابل غور قرار دیا گیا۔ سندھ اسمبلی میں اس آئینی ترمیم کے بل اور سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے روایتی طور پر اس کے خلاف ووٹ دیا۔ سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے رکن غلام قادر چانڈیو نے صوبائی حدود میں تبدیلی کے اختیارات صوبائی اسمبلیوں سے ختم کرنے کے خلاف قرارداد پیش کی۔ بل پیش کرنے پر اپوزیشن اراکین نے شور کیا، اسپیکر نے کہا کہ کیا آپ سندھ کے خلاف ہیں؟ ایم پی اے نصرت سحر نے بھی بل پیش کیا اور کہا کہ ان کی جماعت فنکشنل لیگ نے سندھ کی تقسیم کے خلاف پیش کئے گئے بل کی مخالفت نہیں کی ہے۔ پیر پگارا نے واضح الفاظ میں آرٹیکل 149 کی مخالفت کی ہے۔ جب تک جی ڈی اے کا ایک بھی ممبر زندہ ہے سندھ تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے ایک اتحادی ایم کیو ایم کے اس بل کی تحریک انصاف کی جانب سے حمایت نے دوسرے اتحادی جی ڈی اے کو ناراض کردیا ہے۔ جی ڈی اے چونکہ کوئی منظم یا سیاسی جماعتوں کا اتحاد نہیں ہے بلکہ افراد کا مجموعہ ہے۔ اس کا عملی طور پر حکمران جماعت پر شاید اثر نہ پڑے لیکن سیاسی طور پر یقینا اثر پڑے گا، اس میں شامل جو پارٹیاں یا فرد سیاست کرنا چاہتے ہیں ان کے لئے دقت پیدا ہوگی۔

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ یہ بل صرف سندھ ہی نہیں تمام صوبوں ، وفاق اور ملک کے خلاف سازش ہے۔ قومی اسمبلی یا سینیٹ سے یہ بل پاس کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر ردعمل دکھائیں گے۔

قوم پرستوں اور تحریک انصاف کی اتحادی جی ڈی اے نے ملک میں مزید صوبے بنانے اور صوبائی حدود میں تبدیلی کے اختیارات صوبائی اسمبلیوں سے چھین کر وفاق کو دینے پر متنبہ کیا ہے کہ اس بل کو منظور کرانے کی کوشش کی گئی تو تحریک چلائی جائے گی۔ سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ کسی کو بھی صوبوں کی حدود سے چھیڑ چھاڑ کا اختیار نہیں۔ پی ٹی آئی اور دیگر پارٹیوں کی جانب سے ایم کیو ایم کے بل کی حمایت کے بعد حکمرانوں کی اصلیت ظاہر ہو گئی ہے۔ قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو جو کہ جی ڈی اے سیکریٹری جنرل بھی ہیں ان کاکہنا ہے کہ سندھ کے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز مشترکہ احتجاج کریں اور ضرورت ہو تو اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائیں ۔ پگارا کا موقف ہے کہ سندھ ایک ہے اور ایک ہی رہے گی۔ سندھ صرف پیپلزپارٹی نہیں اور نہ ہی صرف پیپلزپارٹی سندھ کی ہے۔ عوامی تحریک کے دوسرے گروپ کا موقف ہے کہ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی میں کوئی فرق نہیں۔ گیارہ اکتوبر سے احتجاج کا آغاز کرے گی۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی لال مالہی نے کہا کہ ایم کیو ایم کا بل منظور کرانے کی کوشش کی گئی تو وہ پارٹی کا حصہ نہیں رہیں گے۔

پہلے وزیرقانون نسیم فروغ نے سندھ میں آرٹیکل 149 نافذ کرانے کی بات کی، پھر کراچی کو انتظامی یونٹ بنانے کا منصوبہ بھی پیش کیا۔ سندھ سے احتجاج پر انہوں نے یو ٹرن لیااور انہیں وضاحتیں پیش کرنا پڑیں۔ نسیم فروغ کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے، لیکن وفاقی وزیر کے طور پر جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے موقف کا حکمراں جماعت اور حکومت کا موقف سمجھا جائے گا۔ وزیر قانون کے اس بیان کے بعد کراچی میں ایک خاص قسم کا ماحول پیدا کیا گیا۔ اور اب یہ صوبوں کی ازسرنو تشکیل کا بل پیش کیا گیا ہے۔ اس سیاسی تحرک کی وجہ سے اب صورتحال یہ ہے کہ سندھ اسمبلی اور قومی اسمبلی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئی ہیں۔ صوبے میں ایک مرتبہ پھر لسانی سیاست کو ہوا مل رہی ہے، جو کئی برسوں کی کوشش کے بعد ختم ہونے جارہی تھی۔ اس کو دوبارہ آکسیجن دی جارہی ہے۔ ماضی میں بھی انہی سرگرمیوں نے صوبے کی آبادی کے درمیان فاصلے بڑھا دیئے ہیں ۔ کبھی الگ انتظامی یونٹ کی بات کی جاتی ہے، تو کبھی شہروں اور دیہی علاقوں میں الگ نظام قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے کیا محرکات ہیں؟ یہ سیاسی نابلوغت ہے یا عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانے کے لئے کیا جارہا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ ماحول متوقع بلدیاتی انتخابات کا پیش خیمہ ہے۔ لسانی تقسیم کے ماحول سے ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کو تو فائدہ مل سکتا ہے لیکن تحریک انصاف کو کیا ملے گا؟ آئین میں ترمیمی بل کا قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں دوتہائی اکثریت سے منظوری لازم ہے۔ پھر اس اقدام کی سندھ ، بلوچستان اور پنجاب سے عوامی مخالفت کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ایسے میں تحریک انصاف یہ اقدام کیوں کر رہی ہے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔


ای پیپر