فر شتے نہیں اتر یں گے
03 اکتوبر 2019 2019-10-03

پچھلے دنو ں ایک خبر نے نیو ز چینلز اور پر نٹ میں نہا یت اہم جگہ پا ئی۔ اس خبر کے مطابق ایک اہم حکو متی شخصیت کا اپنے طور پر انکشاف کا اظہار تھا کہ ہمارے ملک میں تھانے کروڑوں میں بکتے ہیں، اور ایس ایچ او کروڑوں روپے دے کر لگتے ہیں۔ میں دست بستہ عرض کرنا چاہتا ہوں،حضور والا، آپ کو آج اس تلخ حقیقت سے آشنائی ہوتو معلوم نہیں ، ورنہ اس ملک کا بچہ بچہ اس سے آگاہ ہے۔ سچ کہوں تو بات کچھ یوں ہے کہ پاکستانی نومولود پیدائش کے تھوڑے عرصے بعد جیسے ہی معلومات سے آگاہی کی منزل میں داخل ہوتا ہے تو پہلی جن حقیقتوں سے اُس کا سامنا ہوتا ہے تو اس میں تھانہ کلچر کے حقائق شامل ہوتے ہیں۔ پھر اُس کے ماں باپ اور دوسرے بڑے سمجھانا شروع کردیتے ہیں کہ تم خواہ کسی قسم کی بھی واردات کا بھی نشانہ بن جائو، حتی الامکان کوشش کرنا کہ تھانے جاکر رپٹ درج نہ کرائو۔ پولیس کا عام سا سپاہی اُس کے لئے خوف کا سمبل بن جاتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ مجرم کو پکڑتاہے، بلکہ اس لئے کہ وہ دبی ہوئی مخلوق کو اور دباتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ محلے میں اگر کسی کے گھر چوری ہوتی ہے اور صاحب مکان شومئی قسمت سے تھانے میں ایف آئی آرکٹو ابیٹھتا ہے تو پولیس اُس کے گھر بے شمار چکر لگاتی ہے، پھر اُس کے قریبی عزیز واقارب کو شامل تفتیش کرکے اُس کے لئے ذہنی کو فت کا باعث بنتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ تنگ آکر اُلٹا پولیس کو رشوت دے کر پیچھا چھڑاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ چوری شدہ سامان اسے واپس نہیں ملتا۔ غو ر طلب با ت تو یہ ہے کہ اگر حکو مت کے اعلیٰ عہدید ار بھی مظلوم بن کر شکایت کرنے والوں میں شامل ہوجائیں گے تو پھر شکایت سنے گا کون؟ اور وہ میں جو کہتا ہوں ’’ہمیں سچائی کا ساتھ دینا چاہیے غیر جانبداری ظالم کی مدد کے مترادف ہے۔‘‘

ظالم کو جو نہ روکے وہ شامل ہے ظلم میں

قاتل کو جو نہ ٹوکے وہ قاتل کے ساتھ ہے

تو حضور والا سچائی کا ساتھ تو یہی ہے کہ پوچھا جائے کہ تھانوں کے اس نظام کو ٹھیک کون کرے گا؟ اتھارٹی کو ہرگز یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ شکایت کرکے فارغ ہوجائے۔اتھارٹی کا تو فرض ہے کہ وہ شکایت کا ازالہ کرے۔ پہلے سا بق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، اور اب مو جو دہ وزیرِ ا علیٰ پنجا ب عثما ن بز دا راپنے اپنے دور میں تھانہ کلچر کو ٹھیک کرنے کا بیڑہ اُٹھاتے چلے آرہے ہیں۔ لیکن وہ د ن دیکھنا ہمیں آ ج تک نصیب نہ ہوسکا۔

میں پو چھتا ہو ں کہ کیا اب بھی نوبت نہیں آ ئی کہ کوئی اس کا سدباب کرنے کا سوچے؟ قارئین! آپ نے وہ لطیفہ تو سنا ہی ہوگا جس میں امریکہ، برطانیہ اور پاکستان کے تین پولیس آفیسرز ایک کیفے میں چائے کی میز پر اکٹھے تھے۔ نیو یارک کے پولیس آفیسر نے اپنی پولیس کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ اُن کی پولیس جرم ہونے کے بعد دو دن کے اندراندر سراغ لگالیتی ہے۔ برطانیہ کے پولیس آفیسر نے اُس کے اوپر کا پتہ پھینکتے ہوئے بتایا کہ اُن کے ہاں جرم کے صرف دو گھنٹے بعد سراغ لگا لیا جاتا ہے۔ اب پاکستانی پولیس آفیسر کی باری تھی، اُس نے یہ کہہ کر دونوں کے ہوش اُڑادئیے کہ پاکستان کی پولیس جرم ہونے سے ہفتہ بھر پہلے سراغ لگا لیتی ہے۔ تو صاحبو کہنے کو تو یہ ایک لطیفہ ہے، لیکن اپنے اندر ایک تلخ حقیقت لئے ہوئے ہے۔

حکو مت کے اعلیٰ عہد ید ا ر یہ حقیقت تسلیم کر تے ہیں کہ پولیس کے اشتہاری مجرموں سے تعلقات ہوتے ہیں۔ پولیس آفسر ایکس لیو لے کے بیرون ملک جاتے ہیں، اور پھر انہی تعلقات کی بناء پر وہاں جا کر شہریت اختیار کررہے ہیں۔اگر اتنا کچھ ہورہا ہے، تو صرف بیان کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اپوزیشن پارٹیوں کے شور مچانے سے بھی کچھ نہیں ہورہا۔ کسی نہ کسی با اثر ادارے کو تو چاہیے کہ حکومت کو اپنے فرائض اور اپنے کئے ہوئے وعدے یاد دلائے۔ یو ں تو پو لیس کے نظا م کو سد ھا رنے کے سلسلے میں ہمارے حکا م کی بر طا نو ی پولیس حکام سے با رہا با ر ملا قا ت ہو چکی ہے۔ ہما رے حکا م یہ بھی تسلیم کر تے ہیں کہ پولیس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے برطانوی پولیس سسٹم کے تجربات سے استفادہ حاصل کر نا وقت کا تقا ضا ہے۔ اور یہ کہ وہ عوام کا پولیس پرا س طرح اعتماد بحال کرنا چاہتے ہیں جس طرح برطانوی پولیس پر اس کے شہر یوں کا ہے۔ بر طا نوی پو لیس کو جد ید ٹیکنا لو جی کی پشت پنا ہی حا صل ہے۔اسی پس منظر کے سا تھ ہما رے حکا مِ با لا پا کستا ن کی پو لیس کو جد ید ٹیکنا لو جی سے لیس کر نا چا ہتے ہیں۔ مگر یہاں تو ایک اور معاملہ بھی ہے۔اور معا ملہ پولیس کا کرپشن میں ملوث ہونے سے متعلق ہے۔ کیا پولیس کو کرپشن سے روکنے کیلئے جدید ٹیکنا لو جی کی ضرورت ہو گی؟ یہ تو سید ھا سیدھا اُ نہیں قانون کی طاقت سے روکنے کا مسئلہ ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل نے دنیا بھر کی پولیس کی کرپشن کے بارے میں سروے کرکے رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کی86% پولیس کرپٹ پائی گئی۔ یہ ہے و ہ وجہ ہے کہ کیوں تھانوں کی قیمتیں کروڑوں میں لگتی ہیں۔ کیا اسے سدھارنے کیلئے برطانوی پولیس اداروں کی ضرورت ہے؟ جہاں تک عوام کی پولیس تک رسائی اور اُس پر اعتماد کا تعلق ہے، تو جب تک حکام بالا اُسے اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کے فرائض منصبی سے آزاد نہیں کریں گے ، پولیس عوام کی مدد کرنے کیلئے اُن کی جانب آنکھ اُٹھا کر دیکھنے کی بھی تکلیف گوارا نہیں کرے گی۔ سچ کی کہوں تو مجھے خوف ہے کہ جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے نتیجے میں پولیس جب طا قت پکڑ جائے گی تو وہ اس طاقت کو عوام کے خلاف ہی استعمال کرے گی۔ جب حکام بالا کی اُسے پشت پناہی حاصل ہو، تو اُسے کس کا خوف رہ جائے گا۔ تو پولیس کی کرپشن کی نشاندہی کرنا، اور اُسے ٹھیک کرنے کی ضرورت پہ زور دینا بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے والی بات ہے۔ یہ گھنٹی باندھے گاکون؟ پولیس کو ٹھیک کرے گا کون؟ظا ہر ہے اس کا رِخیر کے لیئے فر شتے تو آ سما ن سے نہیں اتر یں گے ۔ یہ کا م حکا مِ اعلیٰ ہی کو کر ناپڑے گا۔


ای پیپر