لانگ مارچ، دھرنا : ایسی بھی جلدی کیا
03 اکتوبر 2019 2019-10-03

ابھی پی ٹی آئی کی حکومت کو ایک سال ہی گزرا ہے کہ اپوزیشن دھرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ بات بڑی افسوسناک ہے کہ 72 سال گزر جانے اور پے درپے ناکامیوں کے صدمات جھیلنے کے باوجود ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ نہ یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہم آج ایک مصیبت زدہ ملک کیوں ہیں اور یہ کہ اس المناک صورتحال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ گزشتہ سات دہائیوں کا تجزیہ کیا جائے تو ناکامیوں کے یوں تو کئی اسباب ہوں گے تاہم اس کی بنیادی وجہ صرف ایک ہے غیر جمہوری رویہ۔ ہم نے آزادی کے بعد جمہوریت کا راستہ اختیار کرنے سے گریز کیا اور اس کی بدترین قیمت ادا کی۔ بعض حلقے اور دانشور لفظ جمہوریت کا مضحکہ اڑاتے ہیں۔ جو یہ کرتے ہیں وہی اس ملک کے تمام مسائل کے ذمہ دار بھی ہیں۔ جمہوریت ملک کو متحد رکھتی، حکومتیں جواب دہی کے خوف سے کام کرتیں، نا اہل ، کرپٹ سیاست دان رفتہ رفتہ اپنے انجام کو پہنچتے رہتے اور انتخابات کی چھلنی سے چھن کر کب کے قصۂ پارینہ بن چکے ہوتے۔ ملک میں سیاسی استحکام ہوتا، قانون کی حکمرانی ہوتی، صبر، ضبط اور تحمل ہمارا مزاج ہوتا۔ لیکن صورتحال کچھ یوں ہے کہ موجودہ حکومت کو برسرِ اقتدار آئے ہوئے صرف سال ہی گزرا ہے کہ اس کے خاتمے کے لئے اپوزیشن متحرک ہو گئی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے دھرنے کا تاثر محض حکومت پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے ہے اور وہ سنجیدگی سے اس پر عمل درآمد نہیں چاہتی ہیں۔ بلکہ وہ اس کوشش میں ہیں کہ حکومت کے ساتھ جو معاملات کئے جا سکتے ہیں وہ کر لئے جائیں۔ وہ کسی انتہائی اقدام تک نہیں جانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ ایسے انتہائی اقدامات کے مضمرات سے بخوبی واقف ہیں۔

پیپلز پارٹی مذہبی نوعیت کے مطالبات کی بناء پر بھی اس دھرنے سے دور رہنا چاہتی ہے جیسا کہ جمعیت علمائے اسلام کے صدر مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز ایک بار پھر سے لوگوں کو مذہبی بنیاد پر باہر نکالنے کی بات کی ہے۔ جب کہ حالیہ دنوں میں ایسی کوئی مثال نہیں ہے بلکہ خود وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے اقوامِ متحدہ میں ناموسِ رسالت کے حوالے سے بڑے مدلل دلائل دیے ہیں اور دنیا کو کہا ہے کہ حضرت محمدﷺ مسلمانوں کی برگزیدہ ہستی ہیں ان کی شان میں گستاخی سے مسلم امہ کی دل آزاری ہوتی ہے لہٰذا تمام دنیا کو ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ لیکن مولانا صاحب کا کہنا ہے کہ یہ باتیں صرف تقریر کی حد تک ہیں ورنہ پی ٹی آئی کی حکومت غیر اسلامی ہے اس کا تختہ الٹ دیا جانا چاہئے۔ ان کا خیال ہے کہ لاکھوں لوگ اکٹھے کر کے دارلحکومت اسلام آباد میں دھرنا دیا جائے گا اور جب تک حکومت کا خاتمہ نہیں ہوتا یعنی جمہوریت کا تختہ الٹ نہیں دیا جاتا اس وقت تک یہ لڑائی جاری رہے گی۔ اپنے آپ کو بچاتے ہوئے تختہ الٹنے کی حد تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ان کے ساتھ ہیں۔ یہ قومی رہنما خود ہی جمہوریت کے دشمن ہیں اور کارکنوں کو اکسا رہے ہیں کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لیں ۔ وہ یہ بھی نہیں سوچ رہے ہیں کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے حکومت کن مشکلات کا شکار ہے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام نے پاکستانیوں سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں انہیں اس وقت پاکستان کے تمام سیاسی قائدین سے مکمل حمایت کی ضرورت ہے۔ کشمیر یوں کو ان کے حقِ خود ارادیت سے محروم کر دیا گیا ہے اور یہ کہ 80 لاکھ کشمیری گزشتہ دو ماہ سے گھروں میں نظر بند ہیں۔ یہ وقت ان کی مدد کا ہے، سیاست ہوتی رہے گی، اقتدار میں آنے کی ایسی جلدی کیا ہے؟ یہ معاملہ ختم ہو جائے تو آپ شوق سے تحریک چلا لیں۔ یہ انقلابی قائدین اس حقیقت سے بھی نا واقف ہیں کہ بھارتی آرمی چیف آزاد کشمیر میں قائم مجاہدین کے کیمپوں کے جھوٹے دعوے کر رہے ہیں اورا س کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں کوئی پلوامہ جیسا واقعہ گھڑ کر اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا سکتا ہے، دوسرا ایسے کسی دھرنے میں بھارت کی مدد سے کوئی دہشت گردی کی بڑی کاروائی ہو سکتی ہے۔ ان حالات میں لاکھوں لوگوں کو سڑکوں پر لانے کی کیا ضرورت ہے۔ ایسی کون سی مصیبت آ گئی ہے کہ وہ یہ تمام باتیں اور حقائق تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں؟ حکومت کی کارکردگی مثالی نہیں تو مایوس کن بھی ہر گز نہیں ہے۔ کم از کم ماضی کی حکومتوں کی طرح کرپشن کے الزامات تو نہیں ہیں جب کہ معیشت کی حالت تو گزشتہ ادوار سے ہی بحران کاشکار ہے۔ دوسری جانب لانگ مارچ کی کال دینے والی جماعتوں کو عوام کی مشکلات کا احساس کرنا چاہئے۔ جلاؤ، گھیراؤ، آئے روز کی ہڑتال کی کال دینا غریب عوام پر ظلم کے مترادف ہے۔ فیکٹریوں، کارخانوں اور روزانہ دہاڑی پر کام کرنے والے لاکھوں مزدوروں کے چولہے ٹھنڈے کرنا کہاں کی سیاست ہے۔

ابتداء سے ہی اقتدار کی ہوس نے ہمارے ملک کو تباہ کیا ۔ اب ایک بار پھر سے جمہوری عمل کے تسلسل میں رخنہ ڈالا گیا تو پھر کچھ نہیں بچے گا کیونکہ اس سے پہلے بھی جمہوریت کی نفی کر کے ہم اپنا سب کچھ گنوا چکے ہیں۔ تھوڑا بہت جو باقی رہ گیا ہے اسے تو نہ گنوایا جائے۔ ہم کیا اپنی ذات اور اقتدار کی خواہش کو ملک پر ترجیح دیں گے؟ دنیا سوچ رہی ہو گی یہ کیسے لوگ ہیں جنہیں اپنے ملک کی نہیں صرف اپنے اقتدار کی فکر ہے۔ ان جماعتوں کے سربراہوں کو ملک کی بقاء و سلامتی اور یکجہتی کی خاطر دھرنوں کی سیاست ترک کر کے جمہوری عمل کو پھلنے پھولنے کا موقع دینا چاہئے یہی وقت کا تقاضا ہے۔


ای پیپر