پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے روشن امکانات
03 اکتوبر 2019 2019-10-03

پاکستان سپر لیگ کے میچز اپنے ہوم گراؤنڈ پر احسن طورپر کروانے اور اس میں انٹرنیشنل کھلاڑیوں کی آمد نے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان میں امن قائم ہو گیا ہے۔اپنے پڑوسی ملک کی شرارتوں کے باعث جو امن ، اعتماداور اپنا تشخص ہم نے کھویا تھا وہ ہمیں دوبارہ ملنے لگا ہے گو اس منزل کو پانے کیلئے ہمیں ہزاروں قیمتی جانوں اور مال کی قربانی دینا پڑی، مگر ہم نے دنیا کو بتا دیا کہ جب ہم کسی مقصد کو حاصل کرنے کا عزم کر لیتے ہیں تو اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتے ہیں۔

جان و مال کی قربانیوں سے حاصل ہونے والے اسی امن کے نتیجے میں آج سری لنکن کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر ہے۔ کراچی میں کھیلے گئے تین ایک روزہ کرکٹ میچ جس میں سے پہلا بارش کی وجہ سے نہ ہو سکا جبکہ باقی کے دومیچوں میںپاکستان کو فتح حاصل ہوئی ۔ اب لاہور میں 20-20 میچز کا سلسلہ شروع ہونے کو ہے۔ سری لنکن ٹیم کی آمد سے پاکستان میں بین الااقوامی کرکٹ کی واپسی کے دروازے کھلنے لگے ہیں۔

پہلے پروگرام یہ تھا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان اکتوبر میں ٹیسٹ سیریز جبکہ دسمبر میں ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلی جائے لیکن سری لنکن کرکٹ بورڈ کی طرف پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے سے انکار کے بعد سیریز میں تبدیلی کی گئی ہے۔ یہ تبدیلی چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی اور سری لنکن کرکٹ بورڈ کے صدر شمی سیلوا کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو میں کی گئی۔ اس سے قبل پاکستان میں آخری باربین الاقوامی کرکٹ کی ایک روزہ سیریز مئی 2015 میں زمبابوے اور پاکستان کے درمیان کھیلی گئی تھی۔ اس کے علاوہ پاکستان نے اپریل 2018 میں ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کی ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کی تھی۔اس سے قبل کراچی اور لاہور کا دورہ کرنے والے سری لنکن کرکٹ بورڈ کے سیکیورٹی وفد نے اپنے بورڈ کو دورے کے حوالے سے انتہائی مثبت رپورٹ دی ہے جس سے رواں سال پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے حملے کے بعد سے پاکستان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے تھے اور اس کے بعد سے قومی ٹیم نے کوئی بھی ٹیسٹ میچ اپنی سرزمین پر نہیں کھیلا تاہم سری لنکن سیکیورٹی وفد کی مثبت رپورٹ کے بعد اب پاکستان 10سال کے طویل وقفے کے بعد ایک روز اور 20-20 اور مزید ٹیسٹ میچ کی میزبانی بھی کر سکتا ہے۔ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان شیڈول سیریز ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا حصہ ہے جس کے میچز نیوٹرل مقام پر کھیلے جانے تھے البتہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کو یہ میچز پاکستان میں کھیلنے کی پیشکش کی تھی۔

ورلڈ الیون ، زمبابوے، ویسٹ انڈیز کے بعد سری لنکا کا پاکستان آ کر کھیلنے کا فیصلہ بیرونی دنیا کا پاکستان پر اعتماد کا اظہار ہے۔ ہمارے لیے سب سے اہم موجودہ دنوں میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہے۔ ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی میں سندھ اور پنجاب حکومت کا کردار بہت اہم ہے۔اسی امن کی وجہ سے آج ہم دیگر ٹیموں کو بھی بلا رہے ہیں۔ ابھی تک ہم صرف ون ڈے اور ٹونٹی ٹونٹی میچوں کی میزبانی کر رہے ہیں مکمل کرکٹ سیریز کی میزبانی بھی زیادہ دور نہیں ہے۔ ہم بہت جلد ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹونٹی ٹونٹی میچوں کی مکمل میزبانی کے قابل ہو جائیں گے۔ امن و امان کے حالات تیزی سے بہتر ہو رہے ہیں۔ امید ہے کہ ہم مکمل سیریز کے لیے بھی دنیا کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

تقریباً ایک دہائی بعد کسی دوسرے ملک کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورہ پر آ رہی ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بہتر ہونے اور ملک میں امن و امان کی بحالی پر دنیا کے اعتماد کا مظہر ہے جس پر قومی حلقوں نے مسرت کا اظہار کیا ہے۔کہا جارہا ہے کہ سری لنکا کی آمد کے ساتھ ہی اگلے چند دنوں میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے سربراہان بھی پاکستان آ رہے ہیں جس کے بعد ان دونوں ممالک کی ٹیموں کی بھی پاکستان آمد کی راہ ہموار ہو گی۔

ہم سری لنکن حکومت اور سری لنکن کرکٹ بورڈ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ایک ایسے مشکل وقت میں جب پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا انعقاد مشکل نظر آرہا تھا ، سری لنکن کھلاڑیوں نے ہمارے میدانوں کو پھر سے آباد کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی نہ صرف شائقین کرکٹ کے لیے خوش آئند ہے بلکہ اس سے پاکستان کے نئے ڈومیسٹک ڈھانچے کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والی ملک دشمن قوتوں نے ان دہشت گردوں کے ذریعہ ملک کو عدم استحکام کی جانب لے جانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی دہشت گردی کے خلاف پاک فوج نے ویسے تو شروع سے ہی جذبہ حب الوطنی کے تحت کام کیا لیکن سانحہ اے پی ایس پشاور کے بعد پاک فوج کے سا بق سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے ضرب عضب کے نام سے دہشت گردوں کے خلاف جس جنگ کا آغاز کیا اس کے بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے اور وطن عزیز سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوا۔پاک فوج نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے قوم کے سامنے جس عزم کا اظہار کیا تھا انہوں نے اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کوئی دباؤ،رکاوٹ یا مداخلت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے عملی اقدامات جاری رکھے ۔ دہشت گردی ،بدامنی جیسے اہم قومی ایشو کوپاک فوج نے پوری دانشمندی اور قومی جذبہ کے تحت حل کرنے میں مثبت کردار ادا کیا ۔ الغرض وطن عزیز کی ہمہ جہت ترقی اور حفاظت کے لئے پاک آرمی نے ناقابل فراموش کردار ادا کررہی ہے جسے کوئی نظرانداز نہیں کرسکتا۔


ای پیپر