قومی معیشت :حقیقت اور گمان کے درمیان
03 اکتوبر 2019 2019-10-03

جنگل اور سرکس کے شیر میں کیا فرق ہوتا ہے؟ سرکس کا شیر رنگ ماسٹر کے اشاروں پر اچھلتا کودتا ہے اس کی چھڑ ی کو دیکھ کر حرکت کرتا ہے اس کی ڈائر یکشن پر چلتا ہے لوگ اس کی حرکات و سکنات سے تفریح حاصل کرتے ہیں تماشائی تالیاں بجاتے ہیں لیکن جنگل کا شیر اپنی جبلت کے مطابق چلتا پھرتا ہے دھاڑتا ہے لوگ اس کی ہیبت اور درندگی سے گھبراتے ہیں ڈرتے ہیں اسے جنگل کا بادشاہ مانتے ہیں۔ گویا دونوں میں فرق صرف سوچ و حرکت کا ہوتا ہے ایک کو اس کی سوچ اور حرکت ، سرکس کا شیر بناتی ہے جبکہ دوسرا اپنی سوچ اور عمل کے باعث جنگل کا بادشاہ بن جاتا ہے۔ حالانکہ نوع کے لحاظ سے دونوں ہی شیر ہوتے ہیں ۔اقوام کے درمیان بھی فرق ان کی فکروعمل کے باعث پیدا ہوتا ہے چین اور جاپان کو دیکھ لیں قد و قامت کے لحاظ سے چینی و جاپانی کو تاہ ہوتے ہیں لیکن ان کی فکر و عمل نے انہیں دنیا کی عظیم الشان اقوام کی صف میں کھڑا کر دیا ہے جاپان ہی کیا ملائیشیا ، سنگا پور اور ترکی وغیرہ بھی اپنی فکر و عمل کی عظمت کے باعث دنیا میں محترم واعلیٰ مقام پر فائز ہیں ۔

ہم قدرتی وانسانی وسائل سے مالا مال قوم ہیں چار بہترین موسموں ، پانچ دریائو ں اعلیٰ معدنی وسائل ، زرخیز زمین کے ساتھ ساتھ کر وڑوں نوجوانوں پر مشتمل ایک بڑی مملکت اور قوم ہیں لیکن ہم شدید نا امیدی اور بے عملی کا شکار کیوں نظر آرہے ہیں ؟ گزری صدی میں ہم نے انتہائی نا مساعد حالات میں رہتے ہوئے دنیا کی حاکم قوم (انگریز ) اور مکار دشمن (ہندو ) کا مقابلہ کرکے دنیا کی سب سے بڑی آزاد مسلم ریاست تخلیق کرکے دکھائی تھی برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے محمد علی جناح جیسے نا بغہ روزگار قائد کی سر براہی میں تخلیق پاکستان کا معجزہ کر دکھایا تھا ۔ اس وقت مسلمان اپنی عظمت ِ رفتہ کی باتوں سے سرشار تھے فکر اقبال غالب تھی ۔

چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا

مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

ایسی صدائو ں سے لبر یز ما حول میں ہندی مسلمانوں نے جناح کی قیادت کو قبول کیا حالانکہ اس وقت مولانا حسین احمد مدنی ، ابوالکلام آزاد اور علامہ عطاء اللہ شاہ بخاری و علامہ مشرقی جیسی قد آور شخصیات بھی موجود تھیں ایسی شخصیات کا علمی و دینی قد ہی نہیں بلکہ سیاسی قامت بھی لاریب تھی لیکن جناح نے ہندی مسلمانوں سے اپنی قیادت کا لوہا منوایا ۔ ہندی مسلمانوں نے ووٹ کی طاقت کے ذریعے بھی آل انڈیا مسلم لیگ اور قائد اعظم محمد علی جناح کو بھرپور اختیار دیا کہ وہ انکے مسقبل کا فیصلہ کریں جناح نے اپنی لیاقت اور دیانت کے ذریعے اپنی فہم و فراست اور بالغ نظری کے ذریعے اپنے آپ کو قائد اعظم ثابت کر دکھایا ۔ پاکستان کا قیام ، اقبال کی فکر اور جناح کی قیادت کا مرہون منت ہے اور یہ ملک پاکستان مسلمانوں کیلئے دارلاامان ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آج ہم پر فکری و عملی جمود طاری ہے ۔ ہمارا حال تو پریشان اور بد حال ہے مستقبل کے بارے میں بھی کوئی امید نہیں ہے نوجوان نسل مکمل طور پر بے عملی کا شکار ہوتی چلی جارہی ہے میڈیکل کالجز ، انجینئرنگ یونیورسٹیز اور دیگر پیشہ وارانہ تعلیم وتدریس کے اداروں میں پڑھنے والے نوجوان ، یہاں پاکستان میں اپنا مسقبل نہیں دیکھ رہے ہیں ڈاکٹر ، انجینئر ز وغیرہ ، امریکہ ، برطانیہ ، آسٹریلیا ، کینڈا اور سعودی عرب وغیرہ جانے کی کا وشیں کرتے دکھائی دیتے ہیں یہاں رہ جانے والوں کی منز ل بھی غیر ملکی کثیر قومی کمپنیاں ہیں اس ملک کیلئے کام کرنے کیلئے کوئی تیار نظر نہیں آرہا ہے ۔

ہمارے جاری گوورنس سسٹم کاکمال یہ ہے کہ سرکاری اہل کا ر تنخواہ اور مراعات کو شیر مادر سمجھتے ہیں جبکہ ڈلیوری اور کار کردگی ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے بیوروکریسی تو پھر بیوروکریسی ہے عوامی خدمات مہیا کرنے والے سرکاری و نیم سرکاری محکمے کا ر کردگی کے اعتبار سے صفر یا اس سے بھی نیچے نظر آرہے ہیں وزیراعظم عمران خان اس حوالے سے کئی بار تذکرہ بھی کر چکے ہیں دھمکیاں بھی دے چکے ہیں انہوں نے ایسے مسائل کا حل ’’غیر ملکی ماہرین کی تعیناتیوں ‘‘کی صورت میں تلاش کرلیا ہے۔لیکن وہ بھی کار آمد ثابت نہیں ہو رہا ہے بلکہ نظام کا بگاڑ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔

ذرا غور کریں قومی خزانہ ریاست و مملکت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ہم نے وہ ایک غیر ملکی ادارے کے ملازم کے سپرد کر دیا ہے ہمارے خزانے کے نگہبان اور مدارالمہام ڈاکٹر حفیظ شیخ ہیں جو آئی ایم ایف کی ہدایت کے مطابق اسکی تنظیم کر رہے ہیں۔ وہ کسی کو جوابدہ نہیں ہیں انکی اس نظام میں کوئی سٹیک نہیں ہے وہ جو چاہیں کر گزریں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیںہے بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے ایک وزیر اعظم ہوا کرتے تھے بڑے سمارٹ اور گفتگو کے فن میں ماہر جناب شوکت عزیز وہ وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھا لنے سے پہلے ہمارے قومی خزانے کے بھی نگران و مالک تھے وہ بھی عالمی مالیاتی اداروں کے ملازم تھے پاکستان میں انکی کوئی سٹیک نہیں تھی لیکن وہ یہاں ہمارا خزانہ دیکھنے اور وزارت عظمی چلانے کے لیے ’’جزوقتی ‘‘ کے طور پر آئے تھے اپنے دورِ حکمرانی میں انہوں نے جو جو گل کھلائے جو بوالعجمیاں کیں لیکن سب کچھ کرکے وہ واپس امریکہ چلے گئے ہماری عدالتیں انہیں پکار رہی ہیں آوازیں لگارہی ہیں کہ ’’بھائی ذرا ادھر تو آئو ۔ اور جواب دو‘‘لیکن وہ امریکہ میں بیٹھ کر اپنی زندگی انجوائے کر رہے ہیں ہماری عدالتی صدائوں سے ا نہیں کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے ۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ ، اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے دور ِ حکمرانی میں بھی ہمارے حزانے کے سربراہ و نگران رہے تھے پیپلز پارٹی اپنے اسی دورِ حکمرانی کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے قومی خزانے کے ساتھ کھلواڑ کے الزامات کی زد میں ہے لیکن شیخ صاحب کو کوئی نہیں پوچھتا کہ ’’جناب آپ ذرا کٹہرے میں تو آئیں اور حساب دیں ‘‘ حیران کن بات یہ ہے کہ وہ اس وقت بھی اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہیں ‘‘ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ مل جل کر قومی معیشت کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں بلکہ بڑ ی گہری نظروں سے دیکھ رہے ہیں انہیں کسی قسم کی جوابدہی کا کوئی خوف نہیں ہے اس نظام میں ،اس مملکت میں ان کی کوئی سٹیک نہیں ہے وہ جب معاملات ختم ہونگے تو اپنا قلم اور کوٹ اٹھائیں گے اور امریکہ سدھار جائیں گے شوکت عزیز کی طرح انہیں بھی کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا ۔وہ اپنی زندگی کا لطف اٹھائیں گے۔ اور ہم ان کی کا رکردگی کا بوجھ اٹھائے ہونگے ۔

کار سرکار اور امور ِ مملکت میں مرکزی بینک انتہائی اہمیت کا حاصل ہوتا ہے نظام زر کو چلانے ، سرمایہ کاری کو آگے پیچھے کرنے ، سرمایہ کی منڈی کو دیکھنے پرکھنے ، زرمبادلہ کے معاملات وغیرہ کے حوالے سے مرکزی بنک کلیدی حیثیت و اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ہم نے یہ ادارہ بھی ایک غیر ملکی ادارے کے ملازم کے حوالے کر دیا ہے علی رضا باقر مصر میں اپنی صلاحیتوں کا ’’لوہا‘‘ منوا چکے ہیں ان کی قابلیت اور صلاحیت اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے کہ وہ ایک ’’ اعلیٰ عالمی ادارے ‘‘ کے ملازم رہے ہیں ہمارے لئے یہی کافی ہے اب وہ اسی مصری ماڈل پر ہمارے نظام زر کو چلارہے ہیں جو ایک پٹا ہوا ناکام ماڈل ہے ہمارے نظام زر کے معاملات کیاہیں ، اس کی کمزوریاں خامیاں کیا ہیں اسے پاکستان کے داخلی معاملات سے ہم آہنگ کر کے کیسے چلاناہے وغیرہ وغیرہ۔ جیسے سوالات سے انہیں کوئی غرض نہیں ہے قدرِ زر میں کمی کے عام آدمی کی معاشی حالت پر کیا اثرات مرتب ہونگے ، یہ ان کا دردِ سر نہیں ہے انہوں نے بیک جنبش قلم قدرِ زر کو عالمی زری ادارے کی خواہشات کے مطابق گرا کر قومی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے اور اس پروہ شرمندہ بھی نہیں ہیں ۔ انہیں کسی قسم کی جواب دہی کا بھی خوف نہیں ہے کیونکہ اس نظام اور ریاست میں ان کی کوئی سٹیک نہیں ہے اس لئے وہ بلا چون و چرا اپنے غیر ملکی آقائو ں کے احکامات کے مطابق قومی نظام زر کو چلاتے دوڑاتے جا رہے ہیں اس میں کوئی ہلاک ہوتا ہے کچلا جا رہا ہے یا زخمی ہو رہا ہے تو انہیں اس کی پر کاہ کے برابر بھی فکر نہیں ہے ایسے ہی حالات کے باعث ، ایسے ہی نظام کے باعث آج ہم ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں سب کیچھ ہونے کے باوجود کچھ بھی نہیں ہے ۔ ہم قومی سطح پر ، ہم بطور قوم فکر و نظر کے اعتبار سے ہی نہیں عملی طور پر بھی ناکارہ کارکردگی اور نا امیدی کا شکار ہیں ۔

ایسے عالمی و علاقائی حالات میں جب انقلابی تبدیلیوں کی ہوائیں چل رہی ہیں امریکہ میں غالب صہیونی لابی نے یروشلم میں تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر کے لئے معاملات کو حتمی شکل دے دی ہے فلسطینی مسلمانوںکی 70 سالوں سے جاری جدوجہد آزادی اور اقوام ِ عالم کی کاوشوں سے جس فلسطینی ریاست کے قیام کے امکا نات پیدا ہوئے تھے امریکہ نے یروشلم پر اسرائیل کے دعوے کو من و عن تسلیم کرکے اور اسے اسرائیل کا دارلحکومت مان کر ایسی تمام کاوشوں اور امکانات پر پانی پھیر دیا ہے عالم عرب حیرت و نا کارکردگی کے چنگل میں گھرا ہوا ہے امریکہ نے عربوں کو ایران کا ہوا دکھا کر اپنے پیچھے لگا رکھا ہے لیکن عیسائی صہیونی دل و جان سے ہی نہیں عملاًبھی یہود کے ساتھ ہیں ۔ دوسری طرف 70 سالوں سے اقوام عالم کے ایجنڈے پر موجود مسئلہ کشمیر کو مودی نے بیک جنبش قلم حل کر کے رکھدیا ہے اور ہم منہ دیکھتے رہ گئے ہیں امریکہ نظری اور عملی طور پر ہنود کے ساتھ ہے ہمیں وہ ثالثی کا لالی پاپ دیتا رہا ہے جسے مودی سرکار نے رد کردیاہے ۔ ویسے تو تبدیلی کی ہوائیں یہاں پاکستان میں بھی چل رہی ہیں لیکن وہ ہمیں توانائی دینے کی بجائے نا امیدی کی اتھا ہ گہرائیوں میں لے گئی ہیں۔حالات کسی بہتر مستقبل کی طرف اشارہ نہیں کر رہے ہیں ۔ اللہ خیر کرے


ای پیپر