پولیس اصلاحات
03 اکتوبر 2019 2019-10-03

ملک کے اندر امن و مان کی صورت حال کو قابو کر نا پولیس کی ذمہ داری ہے،لیکن پو لیس کا موجودہ نظام اس قدر فرسودہ اور اور گلا سڑا ہے کہ گزشتہ چار عشروںسے جو بھی حکمران منتخب ہوا ہے انھوں نے اس نظام میں اصلاحات کا وعدہ ضرور کیا ہے۔مگر افسوس کہ کوئی بھی حکمران اس فرسودہ نظام کو بدل کر وقت کے مطابق جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ کر سکا۔ پولیس کے مودہ نظام میں اصلاحات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگا یا جاسکتا ہے کہ جب دو عشرے قبل جماعت اسلامی ،پاکستان اسلامک فرنٹ کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے رہی تھی تو ’’پو لیس کا موجودہ نظام ختم‘‘قاضی حسین احمد مر حوم کے انتخابی منشور کا حصہ تھی۔اسی طر ح مو جودہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی انتخابی مہم کے دوران پولیس میں اصلا حات کا نعرہ لگایا تھا۔جب سانحہ ساہیوال ہوا تو ایک مرتبہ پھر انھوں نے بیان دیا کہ قطر سے واپسی کے بعد پولیس اصلاحات کا آغاز کر یں گے۔ پولیس میں اصلاحات ایک سنجیدہ اور مشکل کام ہے لیکن ایسا بھی مشکل نہیں کہ ناممکن ہو۔

پولیس میں اصلا حات سے قبل اس بات کو مدنظر رکھنا ہو گا کہ یہ صوبائی محکمہ ہے۔وفاق کی اس پر کوئی گرفت نہیں۔اس وقت تین صوبوں پنجاب ،خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں وفاق میں حکمران جماعت کی حکومتیں ہیں،اس لئے ان تین صوبوں میں پولیس نظام میں اصلاحات وزیراعظم عمران خان کے لئے کوئی مشکل کام نہیں۔دوسرا اہم نکتہ کہ پولیس اصلاحات کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہوناچاہئے کہ اس محکمے کو ایک کی غلامی سے نکال کر دوسرے کے گھر کی لونڈی بنائی جائے۔اس وقت پولیس اصلاحات کے نام پر یہی کھیل کھیلا جارہا ہے۔بیوروکریسی اور پولیس سروس کے افسران کے درمیان اصلاحات کے نام پر اس اہم ادارے کو اپنے اپنے ماتحت کرنے کی جنگ ہو رہی ہے۔ان دو نکات کو اچھی طرح سے ذہن نشین کرنے کے بعد کہ پولیس صوبائی محکمہ ہے اور اصلاحات کا مقصد اس کو ایک کی ماتحتی سے نکال کر دوسرے کی غلامی میں دینا ہر گز نہیں بلکہ اصلاحات کا منشا پولیس کو عوام دوست بنانا اور جرائم کا خاتمہ ہے۔

ان دونوں نکات کو سامنے رکھ کر اگر اصلاحات کرنی ہیں تو سب سے پہلے ضروری ہے کہ پولیس میں سپاہی اور افسر کی بھرتی کے لئے مسلح افواج کی طرح ایک منظم طریقہ کار وضع کیا جائے۔صوبائی محکمہ ہونے کے ناطے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا کردار ختم کرکے افسروں کی تقرر کا اختیار صوبائی کمیشن کو دیا جائے۔سپاہی اور افسر وں کی تربیت کے لئے مسلح افواج کی طرز کی اکیڈمیاں بنائی جائے۔ہر صوبے میں پہلے سے پولیس ٹریننگ سنٹر موجود ہے۔اس میں کاکول ،پی اے ایف اکیڈمی رسالپور یاپاکستان نیول اکیڈمی کے طرزکے مطابق نظام نافذکرنے کی ضرورت ہے۔سپاہی اور افسروں کی تر قی کے لئے منظم طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے۔جس طرح مسلح افواج میں وہی سپاہی اور افسر تر قی کرتا ہے جو دوران ملازمت محکمانہ تر بیت کے مختلف کورس مکمل کرتا ہے تو پھر ان کو تر قی دی جاتی ہے۔یہی طریقہ کار پولیس میں بھی سپاہی اور افسر وں کی ترقی کے لئے رائج کرنا چاہئے۔اس وقت پولیس وہ واحد محکمہ ہے کہ اس میں تمام تبادلے وائرلیس پر ہوتے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ پولیس اصلاحات میں اس بات کا تعین کیا جائے کہ سپاہی اور افسر ایک سٹیشن میں کتناوقت گزارے گا۔پھر بغیر کسی سفارش کے ان کا تبادلہ کردیا جائے گا۔میرے خیال میں سپاہی کے لئے تین سال اور افسر کے لئے چار سال ایک سٹیشن پر ڈیوٹی کا دروانیہ ہونا چاہئے۔اس سے پولیس میں سیاسی اثر و رسوخ کا خاتمہ ہوجائے گا ،جبکہ سفارش کا کلچر بھی ختم ہو جائے گا۔ پولیس اصلاحات میں ضروری ہے کہ اوقات کار کا تعین ہوکہ ایک سپاہی شب و روز میں کتنی ڈیوٹی کریگا۔جنرل ڈیو ٹی اور تفتیش کے شعبوں کو الگ رکھا جائے۔دوران تربیت پولیس اہلکاروں اور افسروں کو دوسرے نصاب کے ساتھ ساتھ آئین پاکستان کو بھی پڑھا یا جائے۔ پولیس کے نظام میں ’’چوکی ‘‘ اور ’’ تھانہ ‘‘کو بنیادی حیثیت حا صل ہے۔ان دونوں یو نٹوں کو جدید ٹیکنا لوجی سے لیس کرنے کی ضرورت ہے۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ شکایت درج کرنے کے لئے سائل کو باہر سے کاغذلانا پڑتا ہے۔ پولیس اہلکاروں کی رہائش کا مناسب بندوبست نہیں۔کسی بھی یونٹ میں کھانا تیار کرنے کے لئے کچن تو دور کی بات مناسب اور موزوں جگہ میسر نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس اصلاحات میں اس بات کو شامل کیا جائے کہ ان دونوں یونٹوں میں پولیس اہلکاروں کی رہائش کا مناسب انتظام ہو۔کھانا تیار کرنے کے لئے کچن اور دیگر سہولیات کو فراہم کیا جائے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جب پولیس اہلکار کا تبادلہ ہوتا ہے تو اسے اپنی چار پائی کو بھی ساتھ لے جانا ہو تا ہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ چارپائی ہر یونٹ میں مو جودہو۔ جب پولیس اہلکار پولیس لائن سے تبادلے کے بعد ’’چوکی‘‘ یا ’’ تھانہ ‘‘ میں فرائض سرانجام دیتا ہے تو پھر ان پولیس اہلکاروں کی جسمانی تربیت کا کوئی انتظام نہیں ہوتا ۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان دونوں یونٹوں میں روزانہ کی بنیاد پر صبح سویرے جسمانی ورزش کا انتظام ہو جس میں ان دونوں یو نٹوں میں مو جود تمام اہلکار بغیر کسی تفریق کے حصہ لیںتا کہ ان کی جسمانی ساخت مناسب رہے۔ساتھ ہی ہتھیاروں کے استعمال کا بھی انتظام ہونا چاہئے۔اس وقت پولیس کے زیادہ تر اہلکار وہ ہیں کہ جنھوں نے بھرتی ہونے کے بعد دوران تربیت بندوق چلائی تھی جبکہ ملازمت میں آنے کے بعد سالوں گزر گئے لیکن انھوںنے نہ کوئی گو لی چلائی ہے اور نہ ہی بندوق کو کھول کردوبارہ جوڑنے کی مشق کی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ مہینے میں ایک مرتبہ نشانہ بازی اور بندوق کو کھول کر دوبارہ جوڑنے کی مشق کو بھی جسمانی ورزش کے ساتھ لازمی قرار دیا جائے۔موجوہ دور چونکہ ٹیکنالوجی کادور ہے اس لئے پولیس اہلکاروں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا اور جرئم کے روک تھام میں اس کے استعمال کو ان کی تر بیت کا لازمی حصہ قرار دیا جائے۔

لیکن اس تمام اصلاحات کے ساتھ اب سوال یہ ہے کہ صوبائی پولیس سربراہ ،ضلعی پولیس چیف ،تحصیل پولیس چیف اور ایس ایچ او کے تقرر کا طریقہ کار کیا ہونا چاہئے؟صوبائی پولیس سربراہ(آئی جی پی)کا تقرر صوبائی پولیس سروس سے ہو۔ پولیس اصلاحات میں اس شق کو شامل کیا جائے کہ کسی بھی آئی جی پی کو ملازمت میں توسیع نہیں ملے گی۔ہر آئی جی پی کی فارغ الخدمت ہونے سے ایک مہینہ قبل وزیر اعلی ایک بورڈ تشکیل دے گا ۔چیف سیکرٹری اس کا سربراہ ہوگا۔یہی بورڈوزیر اعلی کو صوبائی پولیس سروس کے تین سینئرافسران کے ناموں کو منظوری کے لئے ارسال کریگا۔ضلعی پولیس چیف کا تقرر آئی جی پی کی سربراہی میں بورڈ کریگا۔تحصیل پولیس چیف کا تقرر ،ضلعی پولیس چیف کی سربراہی میں بورڈکریگا جبکہ ایس ایچ او کا تقرر تحصیل پولیس چیف کی سربراہی میں بورڈ کریگا۔بورڈ کے ارکان کون ہونگے؟مطلوبہ افسروں کے لئے اہلیت کا معیار کیا ہوگا؟اگر زندگی رہی تو اس کاتذکرہ اگلے کالم میں!


ای پیپر