کشمیر اور عطاءوبلا
03 اکتوبر 2019 2019-10-03

الحمدللہ، میں نے جستجو¿ رسول کے عنوان سے جب لکھنا شروع کیا تھا تو میں نے یہ سوچ کر لکھنا شروع کیا تھا، کہ یہ ایک کتاب کی شکل اختیار کرلے، امید ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ میری اس کوشش کو قبول ومنظور فرمائے گا، ان شاءاللہ کوشش کروں گا کہ کالم کی صورت میں نہ سہی الگ لکھنا شروع کروں لکھتے ہی مجھے نواسہ¿ رسول کا فرمان ذہن میں آگیا، کہ لوگوں کی حاجتیں کو تم سے متعلق ہو جانا، یعنی لوگ اپنی حاجتیں خواہ التجا کی صورت، خواہ بصورت درخواست ہو، خواہ وہ احتجاج کرکے، خواہ وہ دھرنا دے کے ہو یہ تیرے اوپر خدا کی بہت بڑی نعمت ہے ، لہٰذا نعمتوں کو رنج مت پہنچاﺅ ، یعنی حاجات لے کر آنے والے کورنج یا دکھ تکلیف نہ دو، مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ خندہ پیشانی اور حسن سلوک سے پیش آﺅ، کہیں ایسا نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس عطا کو بلامیں نہ بدل دے، اپنی سابقہ تحریروں میں، میں ذکر کررہا تھا، کہ بادشاہ ہند بابر کو ہندوستان ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا، بقول اس کے کہ ہندوستان کی کوئی بھی شے قابل اعتبارنہیں ، حتیٰ کہ ہواوطوفان بادوباراں اور طوفان بدتمیزی بھی کہ نجانے کس وقت یہ شخص اپنے مو¿قف سے انحراف کرکے یوٹرن لے لے، اس لیے بابر کو بہت کم ہندوستانی ریاستوں کے سربراہوں پہ یقین تھا، عموماً وہ اپنے ساتھ اپنے ان ساتھیوں کو رکھتا تھا، جو اوائل میں ہی ان کے ہمراہ تھے کیونکہ ظہیرالدین بابر کہا کرتا تھا، کہ اگر ہندوستان کی آب وہوا پہ نہیں یقین تو پھر انسانوں پہ کیسے یقین کروں؟ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے چونکہ ہندوستانی مودی بھی فریق ہے، اس لیے ہندوستان کے بارے میں سابقہ ہندوستانی حکمرانوں کی باتیں کرتا ہوں۔ اس کی مثال دیتے ہوئے ایک جگہ انہوں نے لکھا ہے کہ یہاں ہندوستان میں یک لخت اور اچانک طوفانی آندھیاں اور طوفان بادوباراں آجاتا ہے، اس کی تفصیل انہوں نے اس طرح سے بیان کی ہے، کہ لوگ نماز تراویح سے فراغت پاچکے تھے اور رات کا ایک پہر اور پانچ گھڑیاں گزر چکی تھیں ، میں اپنے خیمے میں، اور کتاب لکھنے میں مصروف تھا، کہ اچانک اس درجہ خوف ناک آندھی چلی، کہ مجھے کتاب کے اوراق سمیٹنے کی بھی مہلت نہ ملی، اور میرا خیمہ ہی اکھڑ کر میرے سرپہ آن پڑا، اور خیمے کی رسیاں بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوگئیں، بڑی مشکل اور تگ ودو کے بعد کتاب کے اجزاءاکٹھے کیے۔ اوراق بھیگ گئے تھے، انہیں اکٹھے کرکے میں نے اپنے پیٹ کے ساتھ چپکا کر مضبوطی سے پکڑ لیا، اور اوپر سے کمبل اوڑھ لیا۔ طوفان اس قدر سخت تھا کہ شاید ہی ہمارے خیموں سے کوئی خیمہ اکھڑنے سے بچ سکا ہو، جب طوفان رکا ، تو میں نے شیخانہ کا خیمہ استوار کرایا، شمع دان روشن کرائی، آگ جلائی اور بھیگے ہوئے اوراق کو خشک کروایا، اور اس طرح رات بھر آندھی طوفان کی وجہ سے میں ایک لمحے کے لیے بھی سو نہیں سکا ایک اور جگہ وہ ہندوستانی آب وہوا کے منفی اثرات پہ جو ہندوستان کے لوگوں پر اچانک قدرتی افتاد کے طورپر آن گھیرتی ہے، لکھتے ہیں کہ میں اپنی فوج کو سمرقند سے لے کر آیا تھا، ان امراءکے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آنا شروع کردیا تھا، جوپہلے معمولی امیر تھے، ان کو خاص طورپر عظمت بخشی ، مگر ہندوستان آکر میری فوج خاص طورپر پریشان تھی کیونکہ انہیں ہندوستان فتح کرنے کے بعد یہاں سے کچھ بھی نہیں ملا تھا، لہٰذا ان میں سے اکثر لوگ واپس چلے گئے، حتیٰ کہ میرے پاس صرف ایک ہزار آدمی رہ گئے تھے، اس میں سے کچھ میرے چھوٹے بھائی جہانگیر مرزا کے ہمراہ تھے ۔

ہندوستانی آب وہوا جو غیرمعتدل ہوتی ہے، میں اچانک بیمار ہوگیا اور اس قدر شدید بیمار ہوا، کہ ضعف کی وجہ سے میری زبان ہی بند ہوگئی تھی اور روئی کے پھوئیوں سے آہستہ آہستہ بوند بوند کرکے میری زبان پہ پانی ٹپکایا جاتا تھا میری زبان بند ہوگئی تھی۔ میرے آس پاس کے لوگ میری زندگی سے قطعاً مایوس ہوچکے تھے، جن لوگوں نے میری یہ حالت دیکھی ، انہوں نے علی دوست طغائی سے میری یہ حالت بیان کردی اور یہ سن کر ان کے حوصلے پست ہوگئے۔ بلکہ انہوں نے میرے مخالفین سے مل کر میرے معتمداہل کار خواجہ مولانا قاضی کو بڑی بربریت کے ساتھ پھانسی دے دی، ان ظالموں نے میری والدہ اور میری نانی کے ساتھ تو زیادہ ظلم نہیں کیا، اور انہیں ان کے متعلقین کے ساتھ خجندبھیج دیا چونکہ میری حالت اس قدر سخت پریشان کن تھی کہ سمرقند اور انرجان بھی میرے ہاتھوں سے چھوٹ گیا لیکن تندرستی کے بعد بابربادشاہ نے اپنی عزم وہمت کی جو داستان بیان کی ہے، وہ قیامت تک آنے والی نسلوں اور خاص طورپر مسلمان لوگوں اور حکمرانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔

بابر کہتے ہیں کہ میں جس وقت آگرہ پہ قابض ہوا ہوں، اور میری فوج شہر میں داخل ہوئی ہے، تو یہاں کے لوگ ہم سے بہت زیادہ خائف اور ڈرے ہوئے تھے، جہاں کہیں کسی سپاہی کو دیکھ لیتے، تو ڈر کے مارے چھپ جاتے اور ویسے بھی یہاں کے لوگوں کو ہم سے نفرت ہے، اور ان کے دلوں میں ہمارا احترام جاں گزیں نہیں ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ چند مقامات پر ہمارے خلاف مظاہرے بھی ہوئے تھے، دہلی، آگرہ اور دوسرے علاقوں کے لوگ قلعوں میں قلعہ بند ہوکر مورچہ قائم کرنے لگے۔

جب میں نے آگرہ فتح کیا تھا، تو یہ گرمی کا موسم تھا، اور آگرہ اور اس کے نواح کے لوگ دشت اور ڈرکے مارے، شہر اور گاﺅں چھوڑ کر جنگلوں میں جا چھپے تھے، میری فوج کو اپنے لیے اناج اور گھوڑوں کے لیے چارہ اور دانہ مہیا کرنے کے لیے بڑی دشواریاں پیش آئیں کچھ اس وجہ سے اور کچھ ہندوستان کی گرمی کی وجہ سے جو اپنے پورے شباب پہ تھی ،ہوا تو بڑے زور پر چلتی، مگر سورج خوب آگ برساتا تھا، ہندوستان کا ایسا موسم دیکھ کر میری فوج کے اچھے اچھے سپاہی بھی دل چھوڑ بیٹھے اور ہندوستان ٹھہرنے میں ان کا جی نہیں چاہتا تھا مجھے ان لوگوں کی ذہنی حالت کا علم ہوا تو میں نے ان سب کواکٹھا کیا، واضح رہے کہ بابر شاہ کی یہ عادت تھی کہ ایسے موقعوں پر وہ تقریر کرکے اپنوں کا حوصلہ بڑھاتے تھے۔

اب مجھے نہیں معلوم کہ ان کے خطاب سے پہلے اپنے مطلب سے ملتی جلتی تلاوت کسی سرکاری قاری سے کروائی جاتی یا نہیں، مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ اس کاترجمہ بھی سنوایا جاتا یا نہیں میں اس سے بھی لاعلم ہوں، کہ وہ یہ خطاب فی البدیہہ کرتے، یا تقریر لکھی ہوئی ہوتی تھی، مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ تقریر مختصر ہوتی، یا بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے، اور اللہ جانے، تقریر ماہانہ، یا ہفتہ وار ہوتی، اس چیز کا تو مجھے بالکل ہی نہیں پتہ، کہ تقریر سے پہلے شاہی حمام، سے سولہ سنگھار کرتے تھے کہ نہیں، غسل آبی کرتے یا غسل آفتابی پہ اکتفا کرتے تھے، قارئین یہ سوچنا اب آپ کا کام ہے، قارئین مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہمارے وزیراعظم کا فرمان ہے کہ صرف ٹرمپ ہی یہ مسئلہ حل کراسکتا ہے مگر بقول سید مظفرعلی شاہ صاحب شاید پہلا شعر امریکی خاتون اول کے لیے نہ ہو۔

پھرسے پھوٹیں گے شگوفے عشق کے

وہ نظرسے آبیاری تو کرے !

دیکھ لے گا دل حلوب کی مستیاں

ساقی اپنا فیض جاری تو کرے

ہم زمانے بھر سے ٹکرا جائیں گے

وہ ہماری پاس داری تو کرے

(جاری ہے)


ای پیپر