تقریر کے دورُخ!
03 اکتوبر 2019 2019-10-03

(گزشتہ سے پیوستہ)!

گزشتہ کالم میں اقوام متحدہ میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر کا سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا ایک ”تنقیدی رُخ“ پیش کیا تھا، آج سوشل میڈیا وائرل ہونے والا ”تعریفی رُخ“ پیش خدمت ہے۔ میرے عزیز چھوٹے بھائی، نوجوان صحافی امداد حسین بھٹی ذہنی طورپر مجھے ہمیشہ نواز شریف کی صحبت میں مبتلا محسوس ہوئے۔ اگلے روز اُنہوں نے اپنی فیس بُک وال پر اقوام متحدہ میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تحریر پوسٹ کرکے میری یہ غلط فہمی دورکردی، اِس تحریر نے عمران خان کو اِس مقام پر کھڑے کردیا مجھے خدشہ ہے کچھ لوگ فرط جذبات میں اُس کی پوچا ہی شروع نہ کردیں .... یہ تحریر ملاحظہ فرمائیں ....”آج میں نے ایک خطبہ سنا، نہ تو آج جمعہ مبارک تھا، نہ ہی کوئی اسلامی تہوار تھا۔ نہ رائیونڈ کا کوئی اجتماع تھا اور نہ ہی یوم عاشورہ تھا، نہ مسجد تھی نہ کسی مسجد کا منبر تھا، نہ خطبہ سنانے والا کوئی باریش تھا اور نہ ہی اس کے سننے والے سارے مسلمان تھے، نہ خطبے کی زبان عربی تھی نہ ہی اس کا انداز وجدانہ تھا، نہ ہی اس کا موضوع کوئی فتویٰ تھا نہ ہی اس کا مقصد کوئی ثواب فقیرانہ تھا، پھر بھی میں نے آج اپنی زندگی کا ایک شاندار خطبہ سنا جس کا موضوع پوری اُمت ، اُمت کا وقار، اُمت کے راہبراور فخر کائنات آپ کی ناموس کا تحفظ اور اس اُمت پردہشتگردی کے الزام کا دفاع تھا، عجیب خطبہ تھا جس کا خطیب آکسفورڈ کا پڑھا ہوا ایک ملک کا وزیراعظم تھا، یہ خطیب نہ زیادہ بلند آواز میں بول رہا تھا۔ نہ آنسوبہا رہا تھا، پھر بھی اس کے الفاظ سوارب مسلمانوں کے جذبات کے عکاس تھے۔ وہ مسلمان جن میں بہت سے ان پڑھ ہوں گے، جاہل بھی ہوں گے، بے زبان بھی ہوں گے، توتلے بھی ہوں گے، بہت مذہبی بھی ہوں گے، مجھ جیسے بھی ہوں گے، لیکن ہردفعہ اپنے اپنے انداز میں تڑپتے بھی ہوں گے اور سراپا احتجاج بھی ہوں گے، جب جب ان کے مذہب کو دہشت گردی کی علامت قرار دیا جاتا ہوگا اور ان کے نبی جن پر اُن کی آل اولاد قربان ہو اِن کی شان میں ”آزادی رائے“ کے نام پر گستاخی کی جاتی ہوگی، آج نیویارک میں ”اسلاموفوبیا“ کے خلاف ترکی کے طیب اردگان کے ساتھ مل کر یہ خطیب ان سب کا ترجمان بنا ہوا تھا۔ مفت میں ، بنا کسی کے کہے۔ بس ایویں، عاجزانہ رضاکارانہ۔ ایسا خطبہ جس میں نہ صرف عشق رسول تھا بلکہ تدبر اور لاجک سے بھرپور تاریخ عالم کے دلائل اور حوالے بھی تھے کہ مذہب دہشت گردی نہیں سکھاتا اس کا شکار ہوتا ہے۔ جنونی انتہا پسند صرف مسلمان نہیں ہوتا بلکہ یہودیت ، عیسائیت اور ہندومت میں بھی ایسے جنونی پائے جاتے ہیں۔ خودکش حملے بس نائن الیون والا مسلمان ہی نہیں کرتا بلکہ دوسری جنگ عظیم میں جاپانیوں نے بھی امریکہ کے جہازوں پر ایسے فدائی حملے کیے، ہندوتامل ٹائیگرز نے بھی سری لنکا میں یہ حملے کیے لیکن ان معاملات میں صرف انسانوں کے نام آئے ان کے مذاہب کے نہیں آئے۔ نیوزی لینڈ میں جس نے پچاس مسلمان مارے کیا میں اس کو مذہب سے جوڑ دوں؟.... یقین مانیں عجیب خطبہ تھا جو اپنے آپ کو الزام دیتا رہا کہ ہم مسلمان لیڈروں سے غلطی ہوئی کہ ہم نے مغرب کو آپ کے بارے میں احساسات سے ٹھیک طرح آگاہ نہ کیا، اس بات سے آشنا نہ کیا کہ ہمارے نبی ہمارے دل میں رہتے ہیں، اور دل کا درد جسم کے درد سے بہت زیادہ ہوتا ہے، اس خطبے میں ہولوکاسٹ کا بھی ذکر تھا وہ ہولوکاسٹ جس پر امریکہ میں بات بھی نہیں کی جاسکتی۔ کہ یہودیوں کا دل نہ دُکھے۔ اُن کے زخم ہرے نہ ہوجائیں، لیکن عجیب خطیب تھا، اُس کا بھی ذکر چھیڑ دیاکہ دل مسلمان کے سینے میں بھی ہوتا ہے، جوبُری طرح مجروح ہوتا ہے، جب اِس کے دل سے بھی قریب محبوب نبی کی شان میں غلط الفاظ یا غلط تصاویر کا استعمال کیا جاتا ہے جیسے ہولوکاسٹ پر مغرب بات کرنے سے پرہیز کرتا ہے، ایسے ہی اسے شان محمدی کے بارے میں بھی آزادی رائے کے نام پر حد سے تجاوز کرنے سے گریزاں کرنا ہوگا، ....آج مجھے بہت خوشی ہوئی کیوں کہ کچھ ماہ قبل ایک سینئریہودی ڈاکٹر نے مجھ سے نبی پاک اور اسلام کے بارے میں ایسے ہی سوال کیے تھے جن میں اُس نے سورہ توبہ کی آیت کا ریفرنس دے کر یہ پوچھا تھا کہ ”اسلام میں تو حکم ہے سب کافروں کو مارڈالو .... اور دوسرا سوال یہ تھا کہ ”جب ہم اپنے نبی حضرت عیسیٰ کے بارے میں فلموں میں کارٹون بنالیتے ہیں تو آپ لوگ اپنے نبی کے بارے میں اتنا بُرا کیوں مناتے ہیں ؟“ تب میں نے جواب دیا تھاکہ یہ آیت غزوہ احد کے دنوں میں نازل ہوئی تھی جب حالت جنگ میں سامنے والے کوہی مارا جاتا تھا، کیا آپ امریکہ ویت نام جنگ میں ویت نامی فوجیوں کو مارتے تھے یا اُنہیں ہار پہناتے تھے؟“ اور ہم اپنے نبی کے ساتھ ساتھ حضرت عیسیٰ ؑ کا بھی اُتنا ہی احترام کرتے ہیں جیسا کہ سورہ بقرہ کی آخری آیات میں ذکر ہے، تو ہم آپ سے بھی ایسا کرنے کی اُمید کرتے ہیں۔ آج وزیراعظم عمران خان نے ایسے ہی خیالات اور جذبات کا اظہار کرکے مجھے اپنے عقائد پر اور بھی پختہ کردیا ہے ....یقین جانیے میں نے اب تک بہت سے خطبے سُنے ہیں، عربی میں، اردو میں، جمعہ میں، عیدوں میں، لیکن یہ اپنی نوعیت کا انوکھا خطبہ تھا جس میں، میں نے ایک ”یہودی ایجنٹ“ کو ایک نصرانی ملک میں بیٹھ کر ناموس رسالت اور حُرمت اسلام کا پرچار کرتے دیکھا، اور یہ سب اس وقت ہورہا تھا جب ایک عالم دین ایک مسلم ملک پاکستان میں بیٹھا سیاسی دھرنے کے لیے ناموس رسالت کی پرچی بیچ رہا تھا، اس کے بعد مجھے فرق سمجھ میں آگیا، بہت اچھی طرح سے سمجھ میں آگیا کہ پرچی میں اور پرچار میں کیا فرق ہوتا ہے“ ....

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اُس نے کہا

میں نے یہ جانا گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

قارئین سوشل میڈیا پر اقوام متحدہ میں کی جانے والی وزیراعظم کی تقریر کے دونوں رُُخ اپنے دو کالموں میں آپ کی خدمت میں پیش کردیئے ہیں، مجموعی طورپر دنیانے اس تقریر کے حوالے سے جو بھی سوچا پاکستان میں بہرحال اسے سراہا گیا ہے، خصوصاً کشمیر اور اسلام کے بارے میں جس طرح تفصیل اور جرا¿ت سے بات کی گئی وہ پاکستانی عوام کے جذبات کی عکاسی تھی، یہ الگ بات ہے کہ کشمیریوں اور اسلام کے بارے میں پاکستانی عوام کے زیادہ تر جذبات سوشل میڈیا پر نمائش کی حدتک ہی رہ گئے ہیں۔

”جے میں ویکھاں عملاں ولے کجھ نئیں میرے پلے“


ای پیپر