حکومت کس کی ہے، فیصلے کون کرتا ہے
03 اکتوبر 2018 2018-10-03

طاہر القادری صاحب کی جماعت کی نمبر 2 شخصیت حق نواز گنڈا پور نے انکشاف کیا ہے کہ 2014ء کے دونوں سے قبل لندن میں باقاعدہ اجلاس ہوا۔۔۔ جس میں ان کے قائد کے علاوہ عمران خان ، چودھری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی شریک ہوئے۔۔۔ طے پایا کہ نواز رشریف حکومت کے خاتمے کے لیے مل کر تحریک چلائی جائے گی۔۔۔ اس کی خاطر منصوبہ بندی کی گئی۔۔۔ پیچھے کون تھا اس کے بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں۔ عمران خان نے 14 اگست 2014ء کو لاہور سے اسلام آباد جلوس لے جا کر دھرنوں کا آغاز کرتے ہی نواز شریف کو مخاطب ہو کر کہا تھا ایمپائر انگلی کھڑے کر دے تو پاولین کو واپس چلے جایا کرتے ہیں۔۔۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سابق صوبائی وزیر رانا مشہود نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران بیان داغ دیا کہ ان کی قیادت کے اداروں کے ساتھ معاملات طے ہو گئے ہیں۔۔۔ وہ جنہیں گھوڑے سمجھ بیٹھے تھے اور اس خاطر اقتدار میں لائے خچر نکلے۔۔۔ اب وہاں احساس و ادراک ہو گیا ہے کہ اگر شہباز شریف وزیراعظم بن جاتے تو حکومت کا یہ حال نہ ہوتا۔۔۔ (اوپر والوں کے ساتھ) معاملات درست کرنے میں شہباز شریف کا بڑا ہاتھ ہے ۔۔۔ پنجاب کے اندر اگلے دو ماہ میں تبدیلی آجائے گی۔۔۔ اگرچہ رانا مشہود کے بیان پر ان کی جماعت کی جانب سے فوراً لاتعلقی کا اظہار کیا گیا۔۔۔ ان سے وضاحت طلب کی گئی اور جماعت کی رکنیت معطل کر دی گئی ہے ۔۔۔ ’آئی ایس پی آر‘ کے یہاں سے بھی فوراً بیان سامنے آیا کہ ایسی باتیں سخت غیر ذمہ دارانہ ہیں۔۔۔ عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہیں۔۔۔ معلوم نہیں رانا مشہود کے دماغ میں کیا سمائی اتنی بڑی خوش فہمی کا اظہار کر دیا۔۔۔ میاں نواز شریف سخت ناراض ہیں۔۔۔ شہباز شریف نے اپنے ساتھی کی سرعام سرزنش کی ہے ۔۔۔ رانا مشہود کی کوئی وضاحت ان کے کام نہیں آئی مگر جو کہنا چاہتے تھے یا خواہش رکھتے ہیں کہہ دیا۔۔۔ اب ذرا حق نواز گنڈا پور صاحب کے انکشاف پر نظر دوڑائیے ان کے مطابق دھرنوں کی منصوبہ بندی لندن کے اجلاس میں ہوئی تھی۔۔۔ جس کے پیچھے ایمپائر کی طاقت بول رہی تھی۔۔۔ رانا مشہود کے بیان میں بھی اگر شمہ برابر صداقت پائی جاتی ہے یا ان کی بے پایاں خواہش بول رہی ہے کہ اداروں یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں لہٰذا عمران خان پر بے پناہ اعتماد کر کے تمام تر اکھاڑ بچھاڑ کی گئی وہ درست ثابت نہ ہوا۔۔۔ اب شہباز شریف کو موقع دیا جانے کا امکان ہے ۔۔۔ دونوں بیانات کو ملا کر پڑھیے۔۔۔ پاکستانی سیاست اور قومی معاملات کی جو سب سے بڑی زمینی اور فیصلہ کن حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے وہ ’ادارے‘ ہیں۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ ہے ۔۔۔ یا وہ جسے عمران خان نے ایمپائر کا نام دیا تھا نظریں ان کی جانب اٹھتی ہیں۔۔۔ باقی سب کھلاڑی ہیں۔۔۔ جو اس کے اشاروں پر کھیلتے ہیں۔۔۔ فتح وہ شکست کا فیصلہ بھی اسی ایک ایمپائر کے ایما پر ہوتا ہے ۔۔۔ انتخابات شفاف و غیر جانبدارانہ ہوں یا سخت دھاندلی زدہ۔۔۔ ڈھونگ کا درجہ رکھتے ہیں۔۔۔ کس کو کب حکومت دینی ہے ۔۔۔ کسے اکھاڑ پھینکنا ہے ۔۔۔ کسے کس کے خلاف استعمال کرنا ہے ۔۔۔ تمام فیصلے اوپر والے کرتے ہیں۔۔۔چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا۔۔۔انہیں اداروں کا نام دے دیجیے۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ کہہ کر پکاریے۔۔۔ ایمپائر کا درجہ دے دیجیے۔۔۔ فیصلہ کن طاقت ان کے پاس ہے ۔۔۔ کل بھی تھی اور حالات یہی رہے تو آئندہ بھی رہے گی۔

اگر عمران حکومت ڈیڑھ ماہ کے اندر Deliver کرتی نظر نہیں آ رہی۔۔۔ اس کے بارے میں سوچ بچار شروع ہو گئی ہے ۔۔۔ نوا زشریف تین مرتبہ دو اڑھائی اور چار برس تک وزیراعظم رہ کر بھی اداروں کے لیے قابل نفرت رہا۔۔۔ زرداری پہلے سے معتوب ہے ۔۔۔ بار بار انتخابات کرانے کا تجربہ بھی ناکام ہوتا نظر آرہا ہے ۔۔۔ شہباز شریف کو بھی اگر رانا مشہود اور

اس کے کچھ ساتھیوں کی خواہش یا تمنا کے مطابق جھولے پر بٹھا کر دیکھ لیا گیا۔۔۔ اس نے بھی کچھ عرصہ بعد مایوس کرنا شروع کر دیا۔۔۔ اس طرح دنیا مسلسل ہمارا تماشا دیکھتی رہے گی تو ملک کیسے چلے گا۔۔۔ اس کی معیشت کے پیچیدہ سے پیچیدہ تر مسائل کون حل کرے گا۔۔۔ قرضوں کو بڑھتے ہوئے بوجھ سے کیونکر نجات مل سکے گی۔۔۔ حالات نے ہمیں اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے کہ چین اور سعودی عرب کے علاوہ ہمارا کوئی دوست نہیں رہا۔۔۔ بھارت دھمکی پر دھمکی دے رہا ہے ۔۔۔ ہم بار بار مذاکرات کی پیشکش کرتے ہیں۔۔۔ وہ ٹکا سا جواب دے دیتا ہے ۔۔۔ افغانستان کے حالات اس قدر دگر گوں ہو چکے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ یا افغان انتظامیہ کسی ایک کے بس کا روگ نہیں رہا۔۔۔ امریکہ اس بنا پر سخت ناراض ہے کہ ہم واحد سپر طاقت کی عین مرضی کے مطابق قیام امن میں اس کے مددگار نہیں بن رہے۔۔۔ سعودی عرب سے درخواست کی گئی کہ سی پیک منصوبے میں تیسرے ملک کے طور پر شریک ہو جائے وزیر منصوبہ بندی خسرو بختار کا پرسوں کی پریس کانفرنس میں دیا گیا بیان شاہد ہے کہ اس نے انکار کر دیا ہے ۔۔۔ ریاض والوں کی جناب میں عرضی پیش کی گئی ہے کہ دو سال کے ادھار پر تیل دینا شروع کر دیں۔۔۔ وزیر پٹرولیم کا کہنا ہے سعودی حکومت آمادہ ہے مگر کن شرائط اور کن طریق کار کے تحت اس کا بعد میں پتا چلے گا۔۔۔ موجودہ وزیراعظم نے ایوان اقتدار میں قدم رنجا ہوتے ہی اپنے کچھ مشیروں کی زبان سے سی پیک کے منصوبے کے بارے میں شکوک کا اظہار شروع کر دیا۔۔۔ پھر چین سے مشاورت کیے اور اعتماد میں لیے بغیر سعودی عرب کو اس میں شرکت کی دعوت دے دی اس نے تو انکار کر دیا ہے چین نے البتہ کھچاؤ محسوس کیا۔۔۔ دو ہفتے قبل آرمی چیف بیجنگ کے دورے پر پہنچے وہاں کی جملہ فوجی قیادت، وزیراعظم اور صدر شی جی کو پر زور الفاظ میں یقین دلایا منصوبے پر آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔۔۔ مگر چھیڑ چھاڑ جاری ہے عمران حکومت اس پر یکسو نہیں ہو پا رہی ویسے اس کا بس چلے تو نواز دور کے ہر منصوبے کا زیادہ نہیں تو حلیہ بگاڑ کر رکھ دے۔ دو روز قبل وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا وہ سی پیک کے تحت ریلوے میں ٹریک (پشاور تا کراچی) لائن کی تعمیر کی لاگت آٹھ بلین روپے میں دو بلین کی کمی لا کر اسے چھ بلین کر دیں گے۔۔۔ وزیر منصوبہ بندی خسرور بختیار سے اس کی بابت سوال کیا گیا تو انہوں نے لا علمی کا اظہار کر دیا ہر کوئی اپنی ہانکے جا رہا ہے ۔۔۔ فیصلے کہاں ہو رہے ہیں۔۔۔ کون کر رہا ہے اور کوئی کر بھی رہا ہے یا نہیں۔۔۔ خارجہ پالیسی کی سمت طے ہے نہ معیشت کو در پیش سخت ترین چیلنج سے نمرد آزما ہونے کا سوچا سمجھا اور باقاعدہ اہداف کے ساتھ طے شدہ منصوبہ یا نظام عمل کسی کے سامنے ہے صرف ایک فوری ہدف ہے کہیں سے قرضہ مل جائے آئی ایم ایف عطا کر دے یا سعودی عرب مہربان ہو جائے۔۔۔ مانا آپ نئے نئے آئے ہیں۔۔۔ آپ کو وقت درکار ہے ۔۔۔ وقت ملنا بھی چاہیے مگر کچھ تو پہلے سوچ سمجھ لیا ہوتا ۔۔۔ کسی کام کی تو تیاری کرلی ہوتی۔۔۔

حق نواز گنڈا پور کے انکشاف کی طرف آ ئیے۔۔۔ لندن میں پلان تیار ہوا کہ تحریک چلا کر عوام کے ووٹوں سے تیسری بار وزیراعظم بننے والے نواز شریف کی حکومت کو اکھاڑ پھینکا جائے گا۔۔۔ کون ناراض تھا ۔۔۔ وہی فیصلہ کن طاقت جس نے پہلے دو مرتبہ اس کی برطرفی کا سندیسہ جاری کیا تھا۔۔۔یہ سیاستدان قدرے سخت جان ثابت ہوا اور عوام کے مینڈیٹ کے ساتھ کرسی اقتدار پر براجمان ہوتا رہا۔۔۔ قصور اس کا ایک تو روز اول سے چلد آ رہا تھا غیر آئینی اداروں سے ڈکٹیشن لینے سے انکاری بن چکا تھا۔۔۔ مگر اب کی بار زیادہ ناراضی کا باعث بن گیا۔۔۔ آئین کے غاصب سابق سپہ سالار کے خلاف دفعہ 6 کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ دائر کر دیا یہ حرکت اس کی ہمارے والیان ریاست کے لیے سخت نا قابل برداشت تھی۔۔۔ سو لندن پلان وجود میں آیا اور عمران خان نے طاہر القادری کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں دھرنوں کا میدان گرم کیا الزام لگایا 2013ء کے انتخابات میں شدید دھاندلیوں کا ارتکاب کیا گیا۔۔۔ ان کے نتیجے میں وزیراعظم بننے والے نواز شریف کو بلاتاخیر استعفیٰ دینا ہو گا ورنہ جینا حرام کر دیں گے۔۔۔ کہانی لمبی ہے ۔۔۔ تفصیلات سب کو معلوم ہیں۔۔۔ طے ہوا جوڈیشل کمیشن دھاندلیوں کی تحقیقات کرے گا۔۔۔ جو نتیجہ سامنے آیا سب کو منظور ہو گا۔۔۔ جوڈیشل کمیشن نے تمام تر شواہد کو سامنے رکھ کر اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے کے بعد اعلان کیا۔۔۔ منظم دھاندلی نہیں ہوئی۔۔۔ وسیع پیماے پر نتائج تبدیل نہیں کیے گئے۔۔۔ جن جھوٹی موٹی بے ضابطگیوں کا ارتکاب ہوا ان کی وجہ سے مجموعی انتخابی نتائج پر اثر نہیں پڑا۔۔۔ غلطیوں کا ضرور سدباب ہونا چاہیے۔۔۔ لندن پلان ناکام ہوا۔۔۔ مگر اس کے پیچھے جو اصل دماغ کارفرما تھا۔۔۔ اس نے ہار نہ مانی۔۔۔ پاناما سکینڈل کی خبر عام ہوئی۔۔۔ نواز شریف کو اس کا نام آف شور کمپنی کے مالکان میں نہ ہونے کے باوجود لپیٹ میں لے لیا گیا۔۔۔ جے آئی ٹی بنی۔۔۔ اسے کرپشن کا کوئی سراغ نہ ملا۔۔۔ نواز شریف کی برطرفی کے لیے مجبوراً اقامہ کا سہارا لینا پڑا۔۔۔ پھر احتساب عدالت بنی اس نے فیصلہ صادر کیا۔۔۔ باپ ، بیٹی اور داماد کو سخت سزاؤں کا سزا وار ٹھہرا کر پابند سلاسل کر دیا گیا۔۔۔ اس حالت میں گزشتہ 25 جولائی کے انتخابات منعقد ہوئے۔۔۔ نیا وزیراعظم بنا۔۔۔ رانا مشہود کہتے ہیں جنہیں گھوڑا سمجھا گیا تھا وہ خچر نکلے۔۔۔ مگر آپ نئے خچر بننے کے لیے کیوں بے تاب ہوئے جا رہے ہیں۔۔۔ نواز شریف نے اظہار براء ت کیا ہے ۔۔۔ یہ سابق صوبائی وزیر شاید آئندہ بیان دینے کے قابل نہ رہے۔۔۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ بھی سامنے آ گیا ہے ۔۔۔ کرپشن کے الزامات میں جتنی کچھ صداقت پائی جاتی ہے اس کی حقیقت زیادہ کھل گئی ہے ۔۔۔ احتساب عدالت نمبر ایک کے فیصلے کے قانونی بنیادیں کھوکھلی ثابت رہی ہیں۔۔۔ مگر اصل سوال پھر وہی ہے ۔۔۔ سارا تماشا کس نے لگا رکھا ہے ۔۔۔ کون ہے جو اس ملک اور قوم کی قسمت کے ساتھ کھیل رہا ہے ۔


ای پیپر