یہ خبر تو اب کوئی خبر نہیں
03 اکتوبر 2018 2018-10-03

عوامی تحریک کے راہنما اور علامہ طاہر القادری کے دست راست کی جانب سے کئے گئے انکشافات کم از کم اس قلم کار کیلئے تو کوئی حیران کن نہیں ہیں۔ اب دن تاریخ اور مہینہ کا حوالہ دینے کا وقت نہیں ۔نہ ہی منشیوں کی مانند پرانے کالموں کے تراشے نکال کر ان کو دوبارہ کالم میں شائع کرنے کو درست سمجھتا ہوں۔ کم از کم میرے نزدیک تو یہ خاصی معیوب بات ہے میں، میں کی گردان اور تکرار اپنا شعبہ نہیں ۔ پرانی چیزوں کو دہرانا نئی بات کے قارئین کو پرانی چھپی ہوئی چیزوں کو پڑھنے پر مجبور کرنا ہرگز مقصد نہیں ۔ یقین مانیں وہ پروگرام تک نہیں دیکھا جس میں محترم دست راست نے لندن پلان کا انکشاف کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس گفتگو کا کلپ بھی چل رہا ہے۔ یہ کلپ دیکھا اور آگے بڑھ گیا۔ ساؤنڈ کا آپشن آن کر کے یہ بھی سننے کی زحمت نہ کی کہ موصوف کیا فرما رہے ہیں۔ ایک تو جب سے بھاری تن و توش کے مالک جناب سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک کو نہتی اپنی بیٹیوں کی عمر کے برابر طالبات کے ساتھ رعونت، کروفرکیساتھ گرجتے برستے دیکھا۔ اس کے بعد کون ہے جو ان کی گفتگو کو گوارا کرے۔ ویسے تو موصوف وکیل بھی ہیں اور شائد ریٹائرڈ فوجی افسر بھی۔ڈانٹ ڈپٹ بھی انگریزی زبان میں کرتے ہیں۔ فرعونیت ایک رویہ ہے جو کسی بھی زبان میں ہو۔ بولنے والے کا اصل روپ عیاں کردیتا ہے۔ بہر حال بات ہو رہی ہے ان کی جانب سے کیے گئے انکشافات کی۔ پاک سرزمین پر کون ہو گا جس کیلئے ان کی گفتگو میں کوئی انوکھی اور حیران کن بات ہو۔ میرے لیے تو نہیں ۔ دھرنا ون، دھرنا ٹو اور اس پر آشوب زمانہ دھرنا کے دوران اس دور کے متعلق بہت کچھ لکھا۔ ایک مرتبہ نہیں بار بار۔ علامہ حضرت طاہر القادری کے مریدین اور فدائین بہت مائنڈ کرتے ہیں۔ لیکن اس معتوب نے ان کو کئی مرتبہ بتایا ہے کہ علامہ صاحب سیاستدان ہیں۔ ان کی سیاست پر کچھ لکھنا کار گناہ ہر گز نہیں ۔معقول،دلیل کو سمجھنے والے احباب خاکسار کی اس گریہ زاری کو سمجھ کر معافی دے ڈالتے ہیں۔ بعضے ایسے بھی ہیں جو خاکسار کی قلمی کوششوں کو لفافے کا شا خسانہ خوار دیتے ہیں۔ ان باخبروں کو کون بتائے لفافہ، غیر ملکی سفر، پرفیوم کے تحائف کس رہبر کی سیاست کا جزولاینفک رہا ہے۔ آج بھی کئی سابق جوشیلے احباب ایسے ہیں۔ جو کسی زمانے میں حضرت علامہ کے افکار پر جان دینے اور جان لینے کیلئے تیار رہا کرتے۔ اب کبھی سر بازار آمنا سامنا ہو جائے تو پچھتاوے کے سبب ان کو کف افسوس ہی ملتے دیکھا ہے۔ کبھی وہ شعلہ صفت نوجوان اپنی متاع حیات لٹا دینے کیلئے تیار رہا کرتے۔ خیر اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ آج بھی لاکھوں فدائی ایسے ہیں جن کیلئے علامہ کا ہر حکم حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ خاکسار علامہ صاحب کو 1997ء سے اس وقت تک جانتا ہے جب موصوف نے سیاست میں نیا نیا قدم رکھا تھا۔ موصوف آزاد جموں کشمیر کی سیاست کے ذریعے قومی سیاست میں انٹری چاہتے تھے۔ اپنے ایک مربی محسن

ہیں جن کے پاس ’’سعید‘‘خبریں ہوتی ہیں۔ علامہ صاحب نے ان کا دامن پکڑا۔ مقصد تھا کہ وہ ان کو سیدھے وہاں لے جائیں جہاں اختیار و اقتدار کے فیصلے ہوتے ہیں۔ قبلہ وہا ں پہنچے لیکن بہت نچلے درجے پر۔ جو ان کے علمی مقام و مرتبہ کے ہرگز شایان شان نہ تھا۔ لیکن علامہ صاحب ہمیشہ عجلت میں رہتے ہیں۔ ان دنوں میں اقتدار کیلئے ان کی بے چینی اور تڑپ کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ جن کا تذکرہ مناسب نہیں ۔ کچھ پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں۔پھر یوں ہوا کہ پاکستان عوامی اتحاد بنا۔ سربراہی جناب شیخ الاسلام کے سپرد ہوئی۔یہی اتحاد جی ڈی اے بنا۔ لیکن حضرت علامہ کی منزل اپوزیشن نہ تھی۔ وہ اورجناب وزیرا عظم عمران خان جلد ہی پرویز مشرف سے جا ملے۔جا ملے سینہ چاکان سے کے مصداق۔ جرنیل نے دونوں رضا کار مزدوروں سے پہلے ریفرنڈم میں خوب مشقت لی۔ کئی دفعہ تو اوور ٹائم بھی کرایا۔ قائدین کرام انعام و ا کرام کے انتظار میں دن رات جتے رہے۔ ریفرنڈم میں کامیابی ہوئی تو بلدیاتی الیکشن کی اسائنمنٹ مل گئی۔ اس کو بھی جی جان سے مکمل کیا۔ نتائج اچھے حاصل ہوئے۔ لیکن مزدوری پھر بھی نہ ملی۔ خیر ابھی وقت باقی تھا۔لہٰذا حکم ملا کے جی ڈی اے توڑ دی جائے۔ لہٰذا حضرت علامہ اور کپتان دونوں جی ڈی اے چھوڑ گئے۔ عام انتخابات آئے تو دونوں جماعتوں نے تام جھام کیساتھ الیکشن لڑا۔ دونوں کے مربی پرویز مشرف کئی دفعہ دعوی کر چکے ہیں کہ جناب کپتان نے ان سے سوسیٹیں مانگیں۔ جس میں 99 کاٹ لی گئی۔صرف ایک میانوالی کی سیٹ ملی۔ علامہ صاحب بھی وزارت عظمیٰ سے کم کے متمنی نہ تھے۔ ان کو بھی ایک سیٹ بعوض محنت و مشقت عطا کر دی گئی۔ عمران خان تو ڈٹے رہے۔ البتہ حضرت علامہ خواہشات کی سیڑھی سے اترتے چلے گئے۔ لیکن کاسہ سوال خالی ہی رہا۔ آخر میں استدعاکی کہ ایک صاحبزادے کو جھنگ کی خالی نشست سے رکن قومی اسمبلی منتخب کرانے میں سرکار مدد کرے۔ لیکن صاف جواب ملا۔صاحبزادے وہ الیکشن ہار گئے۔ علامہ صاحب بھی حالات سے مایوس ہوئے اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہو کر آخر کار شمالی امریکہ کی شہریت حاصل کرلی۔ لیکن میرے ایسوں پر مشتمل بھٹکی ہوئی قوم کی راہنمائی کیلئے ہمیشہ تیار رہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے آخری سال میں کڑاکے کی سردیوں میں علامہ صاحب نے دارالحکومت پر یلغار کی۔ اپنے حکم نادر شاہی کے ذریعے پارلیمنٹ، سینیٹ، سپریم کورٹ سمیت تمام اداروں کو خم کر دیا۔ اور حکومت کو تین دن کی مہلت دی۔ لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت گھاگ سیاستدانوں پر مشتمل تھی۔ ویسے بھی علامہ صاحب کی اس وقت کی سرپرستی میسر نہ تھی۔ یہ دھرنا چند روز میں ختم ہو گیا۔ دھرنا کے خاتمے کیلئے معاہدہ ہوا۔ لیکن اس معاہدہ پر کبھی عمل در آمد نہ ہو ا۔

دھرنا پلان لندن میں بنا۔ سہولت کار جناب پاشا تھے۔ مدد گار چوہدری برادران۔ فنکار جناب عمران خان اور طاہر القادری صاحب مہمان اداکار تھے۔ دونوں کرداروں کی پاپولرٹی ان کے فدائین کو ابتدا میں چند روز کا ٹارگٹ دیا گیا۔ فنانسروں کو بھی احداف دیدیے گئے۔ ایمبیسی روڈ کے پر تعین بنگلوں میں مقیم ایک بڑے سرمایہ کار رئیل اسٹیٹ ڈویلپر کا گھر کیمپ آفس تھا۔ جزباتی اوور سیزپاکستانیوں کو بھی خوب نچوڑا گیا۔ دھرنا سازوں کا خیال تھا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم بھی شامل باجا ہو جائے گی۔ لیکن انہوں نے جمہوریت کا ساتھ دیا۔ ابتدا میں ہی عمران خان لاہور سے الگ نکلے۔ جس سے پہلی دفعہ پھوٹ پڑی۔ لیکن بہر حال دھرنا چلتا رہا۔ چند روز کا ٹارگٹ طویل ہوتا چلا گیا۔ جاوید ہاشمی وہ پہلا شخص تھا جس نے ساری سازشیں بے نقاب کی۔ لیکن دھرنا چلتا رہا۔ دھرنے کی ساری کہانیاں منظر عام پر ہیں۔ کوئی بات کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ گھر گھر سے باداموں سے بھرا حلوہ تیار ہو کر آتا۔ دیسی مرغی کی یخنی کہاں سے آتی۔ پلاؤ کس کا باورچی بناتا۔ دھرنے کے ایک پارٹنر جناب شیخ الاسلام آخری روز بھی کس کی جیب سے سکہ رائج الوقت نقد سمیٹ کر نکلے۔ کون نہیں جانتا۔قصہ کوتاہ علامہ صاحب استعمال ہوئے اور خالی ہاتھ رہے۔ 2018ء کے الیکشن نے عمران خان کو اقتدار کا مالک بنا دیا۔ علامہ صاحب وہیں پر کھڑے ہیں۔جہاں سے چلے تھے۔ لندن پلان کی خبر اب کوئی خبر نہیں ۔اصل خبر تو وہ ہو گی کہ آزمودہ کار دھرنا باز آئند ہ کیلئے کب کس کے خلاف استعمال ہونگے۔ اب بھی ان کی افادیت ہے یا نہیں ۔


ای پیپر