دینی مدارس کا المیہ !
03 اکتوبر 2018 2018-10-03

آر ایس ایس انڈیا کی شدت پسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کا مخفف ہے ، یہ ہندوستان کی سب سے بڑی ہندو تنظیم ہے ،اس کے ممبران کی تعداد ساٹھ لاکھ سے زائدہے جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کی بنیاد 1925 میں ناگ پو رمیں رکھی گئی ، بانی کا نام کیشوبلی رام ہیڈگیوارتھا۔یہ تنظیم ہندوستان میں دہشت کی علامت سمجھی جاتی ہے اور اس کے خوفناک کارنامے گاندھی کے قتل سے لے کر بابری مسجد کی شہاد ت اور گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام تک پھیلے ہوئے ہیں۔ہندوستان کے کئی اہم راہنما اور سیاستدان باقاعدہ اس تنظیم کے رکن تھے ،اٹل بہاری واجپائی، لال کرشن اڈوانی، ایس ایس بھنڈاری، نانا جی، بال ٹھاکرے، مرلی منوہر جوشی اور اشوک سنگھل اس کے باقاعدہ رکن تھے۔ہندوستان میں جو بھی شدت پسند کاروائی ہوتی ہے اس کا فیڈنگ سینٹر آر ایس ایس ہوتا ہے۔ بی جے پی، وی ایچ پی، اے بی وی پی، جَن سنگھ سے لے کر بجرنگ دل تک بیس سے زیادہ نظریاتی شدت پسند تنظیمیں آر ایس ایس سے منسلک ہیں اوران تنظیموں کے ممبران کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اس کا اپنا ایک ہفتہ روزہ میگزین ہے جو 50 لاکھ کی تعداد میں چھپتا ہے۔اس تنظیم کا اصل ہدف ’’ہندوتوا‘‘ ہے۔ ہندوتوا کا لفظ سب سے پہلے اس تنظیم کے ایک رکن وی ڈی ساورکر نے استعمال کیا تھا۔ آر ایس ایس نے ہندوستان میں سیکولرزم کے خلاف بھی مہم چلائی ، اس کے بانیان کا فلسفہ تھا کہ ہندوستان ایک ہندو ریاست ہے لہذا یہاں سیکولرزم کو پنپنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اس تنظیم کے اہداف میں ہندو مذہب کا احیاء، ہندو کلچر کا غلبہ، ہندو اتحاد،برہمنیت کا غلبہ ،مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنانا یا ہندو مذہب کے تابع کرنااور ہندوستان کو ایک مکمل ہندو ریاست بناناشامل ہے۔

پچھلے دنوں نیپال میں ایک ورکشاپ کے دوران اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا کے ایک نامور صاحب علم لیکچر کے لیے تشریف لائے ، میں ان کی گفتگو سے متاثر ہوا اور تھوڑا وقت دینے کی گزارش کی ، انہوں نے حامی بھر لی اور میں ان کے ساتھ کمرے میں چلا گیا ،میں نے صرف دس منٹ کی گزارش کی تھی لیکن یہ دس منٹ دو گھنٹوں میں بدل گئے اور مختلف موضوعات پرگفتگو ہوتی رہی۔انہوں نے انڈیا میں مسلم دینی قیادت کی بے رخی اور حالات کے عدم ادارک پر طویل گفتگو کی ، انہوں نے بتایا کہ آئندہ چند سال ہندوستان میں مسلمانوں کے مستقبل کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔درمیان میں دینی مدارس کی بات آئی تو انہوں نے سرد آہ بھری اور خاموش ہو گئے، میں ان کے چہرے پر ابھرنے والی درد اور کرب کی سلوٹیں دیکھ رہا تھا ، انہوں نے بڑے کرب کے ساتھ ہندوستان کے دینی مدارس کی صورتحال بیان کی ۔مجھے اندازہ ہوا کہ ہندوستان اور پاکستان کے دینی مداس کی صورتحال تقریبا ایک جیسی ہے ۔ میں مسلسل ان کے چہرے پر نظریں گاڑے ہوئے تھا ، وہ کچھ دیرکے لیے خاموش ہو گئے ، مجھے محسوس ہوا یہ خاموشی بلاوجہ نہیں تھی ،بعض اوقات دکھ،درد اور غم کی کیفیت انسان کو خاموش کردیتی ہے۔وہ تھوڑی دیر کے بعد گویا ہوئے ’’آر ایس ایس کا نام آپ نے سنا ہو گا‘‘ ، میں نے ہاں میں گردن ہلادی ، وہ بولے ’’ سرکاری محکموں میں مدارس کے طلباء کی ڈگریاں قابل قبول نہیں ، یہ فراغت کے بعدروزگار کی تلاش میں نکلتے ہیں تو پتا چلتا ہے یہ کسی محکمے میں قابل قبول نہیں ۔یہ صورتحال بہت تکلیف دہ ہوتی ہے ،ایسے میں یہ طلباء پرائیویٹ اداروں کا رخ کرتے ہیں اور ہر اس ادارے کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں جہاں سے انہیں ریلیف ملنے کی امید ہوتی ہے ۔ آپ کو یہ جان کر دکھ ہو گا کہ اس وقت ہندوستان میں آر ایس ایس کے تھینک ٹینک میں کئی علماء کام کر رہے ہیں، ان تھینک ٹینکس میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ریسرچ اور پالیسی سازی ہوتی ہے اور افسوس یہ ہے یہ ساری ریسرچ دینی مدارس کے پڑھے علماء کر رہے ہوتے ہیں ۔ یہ گھر کے بھیدی ہوتے ہیں اور وہ وہ چیزیں سامنے لے آتے ہیں جو ایک عام ریسرچر سوچ بھی نہیں سکتا ۔ اور ظاہر ہے تھینک ٹینکس میں کام کرنے کے لیے عام اور معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد کو ہائر نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے لیے ذہین ترین دماغوں کو چنا جاتا ہے ، اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے کہ مدارس سے پڑھ کر جانے والی یہ ساری کریم اور مغز اسلام کی اشاعت و دفاع کے کام آنے کی بجائے الٹا اس کے نقصان کا سبب بن رہی ہے ۔ یہ سب ارباب مدارس کی غیر سنجیدگی، غلط پالیسیوں ،حالات کا عدم ادراک،طلباء کے مستقبل سے غفلت اور دینی قیادت کی بے رخی کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔‘‘ وہ اپنی بات پوری کر کے خاموش ہو گئے،ہم نے کچھ دیر دوسرے موضوعات پر گفتگو کی اور بات ختم ہو گئی۔

پاکستانی مدارس کے فضلا ء کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ، ان میں بھی جو ذہین اور باصلاحیت طلباء ہوتے ہیں وہ غلط جگہوں پر جا پہنچتے ہیں،غامدی صاحب جیسے تجدد پسندوں کا شکار ہوجاتے ہیں یا روزگار کی تلاش میں لبرلز کے ہاتھوں استعمال ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔وجوہات کچھ بھی ہوں تنائج یہی ہیں اور ان سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ دینی مدارس کے اصلاح احوال کی بات کی جائے تو اس میں دو پہلو نمایاں ہیں ، ایک اس کا روحانی پہلو دوسرا دنیاوی پہلو ۔ دینی مدراس سے نکلنے والے طلباء دنیاوی پہلو سے تو کمزور ہیں ہی کہ ان کی ڈکری کسی جگہ قابل قبول نہیں اور نہ وہ جدید علوم اور اسلوب سے واقف ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ وہ روحانی طور پر بھی اتنے مضبوط نہیں کہ ان کی مثال دی جا سکے ۔ میں اپنے کالم میں صرف دنیاوی پہلو کا تذکرہ کروں گا ،اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مدارس کی سند کسی جگہ قبول نہیں کی جا رہی ،کہنے کو ایچ ای سی معادلہ کی سند جاری کر دیتا ہے لیکن آگے سرکاری ادارے اپنی صوابدید پر کام کرتے ہیں ، کسی ادارے میں اس معادلے کو قبول کر لیا جاتا ہے کسی میں نہیں، حقیقت یہی ہے کہ اسی فیصد ادارو ں میں مدارس کی اسناد کو قبول نہیں کیا جا رہا۔ اس سے مدارس کے فضلاء میں جو بددلی اور بے ا طمینانی پیدا ہو رہی ہے اس کا میں چشم دید گواہ ہوں۔روز گار کا مسئلہ انسانی زندگی کے اہم ترین مسائل میں سے ہے لیکن ارباب مدارس نے آج تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا ، نتیجہ وہی نکل رہا ہے کا اوپر اشارہ کیا ،اگر کسی کی آٹھ دس سالہ فصل لمحہ بھر میں ضائع ہو جا ئے تو اس کے دکھ اور کرب کا اندازہ کیا جا سکتا ہے لیکن ایک ہم ہیں کہ احساس تک نہیں ، فیا للعجب۔


ای پیپر