مذاکرات سے فرار کے اصل محرکات
03 اکتوبر 2018 2018-10-03

سیاست اور سفاررکاری کی منطق بڑی عجیب ہے۔ اس میں ہاں کا مطلب حقیقت میں نہیں ہوتا ہے اور نہیں کا مطلب اقرار ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73 ویں سالانہ اجلاس سے پہلے جب انڈیا کی طرف سے پاکستان کے ساتھ وزرائے خارجہ سطح کی سائیڈ لائن ملاقات کا اعلان کیا گیا تو پاک بھارت تعلقات کے ماہرین کے لیے یہ بہت بڑی سرپرائز تھی کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 ء میں بر سر اقتدار آتے ہی مذاکرات کا جو سلسلہ معطل کیا تھا ان کے اقتدار کی آخری سال انہیں یہ کیا ہو گا کہ پاکستان کے ساتھ ملاقات کے لیے خود ہی پیغام بھیج دیا۔ ماہرین نے اس کہانی کے اس پہلو پر بھی غور کیا کہ گزشتہ 4 سال سے پاکستان میں نواز شریف کی حکومت تھی جنہیں پاکستان میں مودی کے یار کا ہونے کا طعنہ دیا جاتا تھا جب مودی جی نے نواز شریف کے دور میں مذاکرات نہیں کیے تو وہ کسی اور حکومت کے ساتھ یہ کیسے گوارہ کریں گے لیکن ماہرین ان معزوضات کے قیام کے وقت وہ منطق بھول گئے تھے کہ مودی جی کی ہاں کا مطلب حقیقت میں نہیں ہے۔ مگر ان خبروں کی ساہی خشک ہونے سے پہلے ہی 24 گھنٹے سے کم وقفے میں انڈیا نے وزرائے خارجہ ملاقات کی منسوخی کا اعلان کر دیا۔ تجزیہ نگاروں کے تبصرے ادھورے رہ گئے اور ملاقات یہ ہونے پائی۔ تب جا کر دنیا کو سمجھ آیا کہ نریندر مودی جس نے 2014 ء میں پاکستان کے مخالفت کے منشور پر انڈیا میں الیکشن جیتا تھا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ 2019 ء کے انتخابات میں دسری مدت کے لیے منتخب ہونے کا امیدوار ہو کر پاکستان کے ساتھ دوستی جیسا خود کش فیصلہ کر سکتا ہے۔ یہ بہت بڑا سیاسی رسک تھا۔

لیکن ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر ملاقات نہیں کرنی تھی تو اس کا اعلان کیوں کیا گیا اور چند گھنٹے میں بھارت کو کیوں اپنے بیان سے منحرف ہونا پڑا۔ اس کے لیے ایک تو یہ الزام گھڑا گیا کہ ہم پر ملاقات اس لیے منسوخ کر رہی ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کو ھیرو بنا کر پیش کرتا ہے اور پاکستان میں کشمیر میں شہید ہونے والے کامران وانی کی برسی پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے کامران وانی کی تصویر والا یاد گاری ٹکٹ جاری کیا ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ ٹکٹ پاکستان تحریک

انصاف کے بر سر اقتدار آنے سے پہلے کا ہے جب پاکستان میں نواز شریف کی حکومت تھی جنہیں مودی کا یار کہا جاتا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس ٹکٹ پر اعتراض کرتے ہوئے بھارت یہ بھول گیا کہ جب ایک دن پہلے مذاکرات کا اعلان کیا گیا تھا تو کیا یاد گاری ٹکٹ اس وقت انہوں نے نہیں دیکھا تھا ۔

بات یہاں ختم نہیں ہوتی پاک بھارت کے درمیان مستقل سفارتی جنگ میں بھارت نے ایک قدم اور بڑھایا اور انڈین آرمی چیف جنرل بپن ردات سے یہ بیان دلوا دیا کہ ہم پاکستان سے بدلہ لیں گے اور حملہ کر دیں گے اور یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان پر دوبارہ سرجیکل سٹرائیک کر سکتے ہیں اس بیان نے انڈو پاک بارڈر کے دونوں جانب ہنسی مذاق کی کیفیت پیدا کر دی کیونکہ انڈیا کی سرجیکل سٹرائیک ایک ایسا ڈرامہ تھا جس پر ابھی تک کانگریس پارٹی جا کہ اپوزیشن جماعت ہے اس نے مودی حکومت پر زمین تنگ کر دی تھی کہ اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولا گیا ہے۔

کانگریس پارٹی کے سفید بالوں والے بزرگ لیڈر ہانی شنکر آئید کا نام اعتدال پسند سیاستدانوں میں نہیں ہوتا ہے جو ماضی میں کشمیر میں ہندوستانی افواج کے مظالم پر احتجاج کرتے ہوئے مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیتے آئے ہیں انہوں نے پاک بھارت مذاکرات کی کامیابی کے لیے ایک بنیادی اصول دیا ہے جسے سرحد کے دونوں جانب تسلیم کیا گیا وہ یہ تھا کہ دونوں ملک کے درمیان مذاکرات uninterrupted and unintruptible ہونے چاہیے یعنی ان میں معطلی نہیں ہونا چاہیے خواہ کچھ بھی ہو جائے اور دوسرا یہ کہ کسی تیسرے غیر ریاستی فریق کی مداخلت کی وجہ سے سبوثاژ نہیں ہونے چاہیے عام طور پر جب بھی مذاکرات ہونے لگتے ہیں تو کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے جس سے امن کا عمل پٹری سے اتر جاتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ہانی شنکر فارمولے کو تسلیم کیا ہے مگر نریندر مودی اس کو نہیں مانتے۔ او ر اس وقت حالانکہ انڈیا میں چناؤ کا موسم چل رہا ہے لہٰذا کانگریس بھی اس طرح کی بات کرنے سے کتراتی ہے کہ ووٹ بینک متاثر نہ ہو۔

لیکن ہوا یہ ہے کہ نریندر مودی کو ایک ناگہانی آفت نے آنگھیرا ہے جسکی وجہ سے اس کے چناؤ جیتنے پر بہت سے سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ کانگریش پارٹی کے سربراہ نے وہ بات کر دی ہے جو جس کی بازگشت گزشتہ سالوں میں پاکستان میں بڑی () سے سنی جاتی رہی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا وزیر اعظم مودی چور ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ ہندوستان میں اس وقت مودی کے خلاف رافیل جیٹ طیاروں کی فرانس سے خریداری کے 9 بلین ڈالر کے آرڈرز میں کمیشن اور کک بیکس کا الزام ہے 36 طیاروں کی خریداری کے اس معاہدے میں انڈین حکومت نے فرانس کو پابند کیا تھا کہ وہ مودی کے یار انیل امبانی کی کمپنی کو بطور لوکل پارٹنر شامل کرے۔ امبانی انڈیا کے ٹاپ ٹین سرمایہ داروں میں سے ایک ہے جو مودی کی انتخابی مہم بھی فنانس کر ر ہاہے۔

اس سکینڈل کا انکشاف اعلیٰ ترین سطح پر ہوا جب فرانس کے سابق صدر Hollande جو اس سودے کے وقت صدر تھے انہوں نے تصدیق کی کہ اپنل امبانی کی کمپنی کا نام اس معاہدے میں مودی کی سفارش پر شامل کیا گیا تھا اور یہ محض اتفاق کی بات نہیں ہے کہ جس دن یہ معاہدہ طے پایا اسی دن امبانی جی فرانس میں موجود تھے۔ اب راہول گاندھی نے انتخابی مہم میں انڈیا کو نیا نعرہ دیدیا ہے کہ ہمارا وزیر اعظم چور ہے۔ اس وقت ہندوستانی سیاسی منظر نامہ ویسا ہی نظر آ رہا ہے جیسا 2016 سے پانامہ سکینڈل کے بعد پاکستان کا منظر تھا جس کی بناء پر نواز شریف کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور جیل بھی جا نا پڑا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اعملا الیکشن راہول گاندھی اور ان کی پارٹی کا ہے اور وزیر اعظم عمران خان کو آئندہ راہول سے مذاکرات کرنا ہوں گے اس بات کا سارا دارومدار رافیل جیٹ خریداری سکینڈل کے انجام پر منحصر ہے۔ اب آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی کہ نریندر مودی نے اپنے اس سکینڈل سے توجہ ہٹانے کی خاطر پاکستان کے خلاف اپنے آرمی چیف کے ذریعے تعلقات کشیدہ کرنے کے عمل کا آغاز کر دیا ہے آنے والے وقت سے اس میں مزید شدت بھی آ سکتی ہے۔ جس یس سرحدوں کی صورت حال متاثر ہو گی لیکن پاکستان کے دفاعی اداروں نے بپن روات کے جنگی غبارے سے ہوا نکال دی ہے اور اسے بتایا گیا ہے کہ یہ غلطی نہ کرنا البتہ اب ہندو بنیاد پرستوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے کشمیر کی صورت حال کو خراب کیا جائے گا یہ وہ پس منظر ہے جس کی وجہ سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان امن کا ایک اور موقع انڈیا کی سیاسی ہٹ دھرمی کی نظر ہو گیا۔


ای پیپر