میڈیا پر بڑھتا ہوا دباؤ
03 اکتوبر 2018 2018-10-03

کسی بھی ملک میں جمہوریت کے معیار اور جمہوری آزادیوں کا پیمانہ جہاں سیاسی آزادیاں ، انتخابات، سیاسی جماعتوں کا وجود اور سیاسی اظہار ہوتا ہے وہیں پر اظہار رائے کی آزادی اور آزاد میڈیا کا وجود بھی اہم پیمانہ ہوتا ہے۔ آزاد میڈیا کا وجود پھلتی پھولتی اور صحت مند جمہوریت کے لئے ناگزیر ہوتا ہے۔ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون بھی کہلاتا ہے مگر پاکستان میں ریاست کے چوتھے ستون پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ آزاد فش صحافیوں ، کالم نگاروں اور میڈیا ہاؤسز کو دبانے کا عمل تسلسل سے آگے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کو تو پہلے سے ہی صحافت کے حوالے سے دنیا کا خطرناک ترین ملک سمجھا جاتا ہے جہاں پر صحافیوں پر حملے ، مارپیٹ ، تشدد ، مقدمات اور دھمکیاں تو معمول کی بات ہے مگر اب ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت میڈیا کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ معاشی دباؤ کے باعث کئی اخبارات اپنے صفحات کم کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ کئی اخبارات اور نیوز چینلز سے صحافیوں کو نکالنے یا تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے معاملات سامنے آ رہے ہیں۔

پاکستان کے صحافی انتہائی نامساعد اور مخالفانہ فضاء میں کام کر رہے ہیں جو اس بات کا واضح اظہار ہے کہ میڈیا کی آزادی کو سنجیدہ اور سنگین نوعیت کے خطرناک لاحق ہیں۔ سرکاری اور قانونی طور پر تو بظاہر پاکستان کا میڈیا آزاد ہے۔ قانونی قدغنوں اور پابندیوں سے آزاد ہے مگر مختلف اطراف سے آنے والے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ آزادانہ سوچ رکھنے والے صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کو سدھارنے کا عمل جاری ہے۔ میڈیا حقیقی معنوں میں اس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتا جب تک صحافی ہر قسم کے دباؤ سے آزاد نہ ہوں۔ صحافیوں پر نہ صرف ریاستی اور غیر ریاستی اداروں ، گروہوں اور افراد کا دباؤ ہوتا ہے بلکہ میڈیا مالکان کا بھی دباؤ ہوتا ہے۔ میڈیا کی آزادی جہاں جمہوریت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے وہیں صحافیوں کی آزادی کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہے۔ میڈیا اس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتا جب تک صحافی آزادانہ ہوں۔ بدقسمتی سے پاکستان کے صحافی اس وقت تک آزاد نہیں ہیں۔ فوجی آمریتوں کے دور میں تو سنسر شپ اور اعلانیہ پابندیاں عائد ہوتی تھیں۔مگر اس کی جگہ سیلف سنسر شپ اور غیر اعلانیہ پابندیوں نے لے لی ہے۔ میڈیا ہاؤسز اور صحافتی تنظیموں کی آپسی لڑائی نے اس صورت حال کو مزید خراب کیا ہے۔

نئی نویلی تبدیلی حکومت کے وزیر اطلاعات کے بیانات سے تو یہ صاف ظاہر ہے کہ وہ میڈیا کے ان عناصر اور صحافیوں سے زیادہ خوش نہیں ہیں جو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں اور اس کے قول و فعل کے تضاد کو نمایاں کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت سرکاری اشتہاروں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔ جیسا کہ ماضی کی حکومتیں کرتی رہی ہیں۔

آمرانہ رجحانات رکھنی والی کوئی بھی حکومت آزاد میڈیا اور تنقید کو پسند نہیں کرتی ایسی حکومتوں کو صرف ایسا میڈیا اچھا لگتا ہے جو ہر وقت حکمرانوں کے قصیدے پڑھے اور لکھے۔ ریاستی ادارے ایسے صحافیوں اور میڈیا کو پسند کرتے ہیں جو ان کے بیانیے اور سوچ کو جوں کا توں آگے پھیلائیں۔ ان کے بیانیے پر سوالات نہ کریں اور ماضی کی پالیسیوں اور تجربات کو زیر بحث نہ لائیں۔ تحریک انصاف کو وہ میڈیا اچھا لگتا ہے جو نواز شریف اور ان کے خاندان کی دھجیاں اڑا دے۔ مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کی سیاست اور قیادت کو تنقید کا نشانہ بنائے۔ ان کے خلاف نت نئے سکینڈل سامنے لائے۔ ان کو چور ، ڈاکو ، غدار ، ملک دشمن اور وہ سب کچھ کہے جو تحریک انصاف کی قیادت سننا چاہتی ہے اگر میڈیا یہ سب کرتا رہے تو وہ قومی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے اور اگر وہ تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرے۔ ان کی خامیوں اور کمزوریوں کی نشان دہی کرے اور غلط فیصلوں کو سامنے لائے تو ایسا میڈیا غیر ذمہ دار بن جاتا ہے۔

تحریک انصاف جب حزب اختلاف میں تھی تو میڈیا کی آزادی کی چمپین بنتی تھی مگر جیسے ہی حکومت میں آئی ہے تو اس کی سوچ میں تبدیلی واقع ہو گئی مگر اب وزیر اعظم عمران خان بذات خود افسر شاہی کو سرکاری معاملات عوام سے دور رکھنے کا کہہ رہے ہیں۔ جب تحریک انصاف حزب اختلاف میں تھی تو اس کو ایسے افسر پسند تھے جو حکومتی احکامات ماننے سے انکار کرتے تھے مگر اب ایسے افسروں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ وہ سرکاری معاملات اور احکامات کو عوام میں لانے سے پرہیز کریں۔

کچھ لوگ خوامخواہ تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کر رہے ہیں کہ یہ تبدیلی نہیں لا رہی۔ ان لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ اس سے بڑی تبدیلی کیا ہو گی کہ جب تحریک انصاف نے اپنی سوچ ، فکر اور اعلیٰ معیارات ہی تبدیل کر لئے ہیں۔ حکومت میں آتے ہی یہ خود تبدیل ہو گئی ہے تو پھر اور کیا تبدیلی لائے۔

تحریک انصاف کی حکومت کا یہ خیال ہے کہ میڈیا کو اس قسم کے حالات اور صورتحال فراہم کرنا کہ وہ پوری سچائی اور ایمانداری سے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں بغیر کسی خوف اور ڈر کے ادا کر سکیں شاید ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔موجودہ حکومت کا شاید یہ خیال ہے کہ اگر کسی صحافی اور میڈیا ہاؤس کو سچ بولنے اور حقائق سامنے لانے کا شوق ہے تو پھر اس کے نتائج بھی وہی بھگتے۔ حکومت کا اس سے کیا لینا دینا۔ میڈیا یا کوئی صحافی جب حقائق سامنے لاتا ہے اور طاقتور حکمرانوں کے سامنے سچائی بیان کرتا ہے تو وہ دراصل کسی پر احسان نہیں کرتا بلکہ اپنی بنیادی ذمہ داری کو ادا کرتا ہے۔ اس لئے یہ حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے چوتھے ستون کو تحفظ فراہم کرے اور اسے پوری آزادی سے کام کرنے دے۔

اب وقت آگیا ہے کہ تمام صحافتی اور میڈیا مالکان کی تنظیمیں اپنے گروہی ، ذاتی اور ادارہ جاتی مفادات سے باہر نکلیں اور وسیع تر اتحاد قائم کر کے میڈیا اور صحافیوں کی آزادی اور بقاء کے لئے کام کریں۔ میڈیا ہاؤسز کی آپسی تقسیم اور باہمی اختلافات نے میڈیا کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور میڈیا پر دباؤ ڈالنے والوں اور اس کی آواز کو دبانے والوں کا کام آسان کیا ہے۔ اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

اس طرح صحافتی تنظیموں کو بھی متحد ہو کر صحافیوں کے بڑھتے ہوئے مسائل اور مشکلات کے حل کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اخبارات ، ٹی وی چینلز اور ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کو صحافیوں کے بیگار کیمپ نہیں بننا چاہئے۔ تنخواہوں کی ادائیگی کا نظام واضح ہونا چاہئے۔ صحافیوں کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ زمانے بھر کے دکھ درد ، تکالیف اور مشکلات کو سامنے لاتے ہیں۔ ان پر لکھتے ہیں۔ ان کی تصاویر بناتے ہیں ان کو سکرینوں کی زینت بناتے ہیں مگر اپنے دکھ درد اور تکالیف سینے میں ہی دفن رکھتے ہیں۔ ان کو اتنی آزادی حاصل نہیں کہ وہ اپنے دکھ درد اور تکالیف بھی بیان کر سکیں جب تک صحافی آزاد نہیں ہوں گے اس وقت تک میڈیا کی آزادی بے یقینی اور ادھوری ہے۔ میڈیا کی آزادی کے بغیر جمہوریت صرف نام کی ہے۔


ای پیپر