دیامربھاشا ڈیم،تعمیر یا متبادل ذرائع
03 اکتوبر 2018 (17:09) 2018-10-03

چوہدری فرخ شہزاد:

تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیرکو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ ہم کشمیر پر دعوے کی سچائی کی مناسبت سے ان کے اس قول کا حوالہ دیتے ہیں مگر کبھی غور نہیں کرتے کہ قائداعظمؒ نے اپنی تقریر میں یہ کیوں کہا تھا۔ اس کا تاریخی اور جغرافیائی پس منظر یہ ہے کہ پاکستان میں بہنے والے سارے کے سارے دریا کشمیر سے ہی پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، اس وجہ سے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا جاتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا مسئلہ شروع دن سے ہی متنازعہ رہا ہے، البتہ 1960ءمیں ورلڈ بینک کی ضمانت سے دونوں ملکوں کے درمیان سندھ طاس معاہدہ وجود میں آیا جس کی رُو سے پانی کا مسئلہ وقتی طور پر حل ہو گیا لیکن بھارت جیسے جارح ہمسائے کی وجہ سے ہمیں اس میں ہمیشہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت چونکہ پوری دُنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پانی کے عالمی ذخائر میں کمی آئی ہے اس لیے یہ خطہ جو پہلے ہی پانی کی قلت کا شکار ہے، ایک بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

1991ءمیں پاکستان نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا لیکن صوبوں کے درمیان عدم اتفاق رائے کی وجہ سے اس منصوبے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ کالاباغ کے مقام میں اختلافات کے بعد فوری طور پر متبادل جگہ کا انتظام کیا جاتا مگر بدقسمتی سے سیاسی اور جمہوری قیادت کی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے اس معاملے پر مجرمانہ غفلت کا ارکاب کیا گیا جسے نہ تو تاریخ کبھی اور نہ ہی ہماری آنے والی نسلیں معاف کریں گی۔

عمران خان کی موجودہ حکومت نے 2006ءسے التواءکا شکار دیامر بھاشا ڈیم کے مردہ گھوڑے کو نئی زندگی عطا کی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ہم انڈیا سے اپنے حصے کے پانی پر جھگڑا کرتے ہیں لیکن ہمارے حصے کا 80 فیصد پانی دریائے سندھ کے راستے سمندر میں بہہ جاتا ہے، محض اس وجہ سے کیونکہ ہمارے پاس پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیم نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں آنے والے پانی کا 90 فیصد حصہ برسات کے تین ماہ میں آتا ہے جسے سٹورکرنے کی استعداد ہمارے پاس نہیں ہے۔ یہ ایک افسوسناک امر ہے کہ دیگر ممالک کے پاس ذخیرہ کی شکل میں بہت زیادہ پانی موجود ہوتا ہے جبکہ پاکستان کے پاس پانی کا ذخیرہ انتہائی کم ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں پٹرول ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی 30دن کی ہے مگر پٹرول تو ایک مہنگی امپورٹ ہے جبکہ پانی قدرت کا مفت عطیہ ہے مگر پھر بھی ہم اس کی قدر نہیں کرتے۔

ماہرین کے مطابق اگر پاکستان نے نئے ڈیم پرکام کا آغازنہ کیا تو2025ءتک پاکستان میں تاریخ کی شدید ترین خشک سالی ہمارا مقدر ہوگی۔ ہماری زراعت پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ یہی وہ حقائق ہیں جن کی بنا پر پاکستان تحریک انصاف نے ڈیم کو اوّلیت دیتے ہوئے اس پرکام کا آغازکرنے کا اعلان کیا ہے لیکن یہ بہت بڑی انصاف ہے کہ اس پراجیکٹ پر بھی سیاست کی جا رہی ہے۔

صوبہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے ڈیم کے خلاف ایک نام نہاد دانشورانہ مہم شروع کررکھی ہے حالانکہ اس ڈیم کی سب سے زیادہ ضرورت سندھ کو ہے جہاں تھر کے علاقے میں لاکھوں مربع میل کا علاقہ ویران ہے اور پانی نہ ہونے کی وجہ سے شرح اموات بڑھ رہی ہے۔ سندھ والے ڈیم پر سیاست کرکے سندھ اور پاکستان کے کازکو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارت نے پاکستانی دریاﺅں میں وافر پانی چھوڑکر پاکستان کو سیلاب کے خطرات میں مبتلاکردیا ہے۔ اگر ہمارے پاس ڈیم ہوتا تو یہ وافر پانی ہم پورے سال کے لیے اس میں سٹورکر سکتے تھے۔ پانی کے معاملے میں ہمیں بھارت کو موردِالزام ٹھہرانے کی بجائے اپنا محاسبہ کرنا ہوگا اور دیانتداری سے فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم خود اپنے مسائل کے ذمہ دار ہیں یا نہیں۔

قومی اخراجات میں بچت، سادگی، بدعنوانی کا خاتمہ اور لوٹی ہوئی قومی دولت کی واپسی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ایجنڈے کا سب سے اہم نقطہ جس کا طوفانی انداز میں آغازکیا جاچکا ہے وہ اس وقت دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیرکا پروگرام ہے جس کے لیے حکومت نے بیرونی قرضہ لیے بغیر قومی سطح پر بچتوں کو چندے کی مدد سے مکمل کرنے کا پلان دیا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی بھارت والوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں کیونکہ پاکستان کو بھوکا پیاسا مارنے کی دھمکی دینے والے نریندر مودی کو خطرہ ہے کہ کہیں سچ مچ ہی عمران خان جو کہہ رہا ہے وہ کر نہ دکھائے۔ اس منصوبے کے لیے مالیاتی Feasibility پر بات کرنے سے پہلے اس کا پس منظر اورکچھ ٹیکنیکل حقائق کا ذکرکرنا مناسب ہو گا۔ بہت کم لوگوں کو پتہ ہوگا کہ اس منصوبے کا اعلان سب سے پہلے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کیا تھا۔ یہ دریائے سندھ کے اُوپر بنایا جائے گا جس کا محل وقوع کچھ یوں ہے کہ یہ تربیلا ڈیم سے 315کلومیٹر پیچھے (upstream) اور گلگت سے 165کلومیٹر آگے (South stream) چلاس سے تقریباً 40کلومیٹر دیامر کے مقام پر ہے۔ اس ڈیم کی مجوزہ اُونچائی 7,500,000 مکعب ایکڑفٹ ہوگی جس کے 9 سپل ویز (Spillways) ہوں گے، جس میں ہر ایک کا سائز 16.5میٹر ہے۔ یہ دُنیا کا سب سے بڑا Rollwer compeated Concreate Dam ہو گا جو ساﺅتھ ایشیا کا مہنگاترین ڈیم ہے جس پر لاگت کا خرچہ 1400 ارب روپے ہے۔ اس کا رقبہ 200 مربع کلومیٹر پر پھیلاہو گا جس سے 100کلومیٹر کے ایریا میں شاہراہ قراقرم بھی متاثر ہوگی اور35 ہزارکے قریب لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوں گے۔ تقریباً 20 ہزارکی افرادی قوت 8 سال تک کام کر کے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گی، سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ اس منصوبے سے پاکستان کو 4500 میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی۔ اس وقت ہمارا بجلی کا شارٹ فال 5000 میگاواٹ ہے اور یہ شارٹ فال گرمی کے موسم کا ہے۔ جب بجلی کی کھپت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام اس وقت 10روپے یونٹ کے حساب سے بِل دیتے ہیں۔ ڈیم سے حاصل ہونے والی بجلی کی پیداواری لاگت 2 روپے یونٹ ہو گی۔ ہم اس وقت ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے پٹرول سے بجلی بناتے ہیں جو 5سے 6گنا مہنگی ہے اور ہمارے قیمتی زرمبادلہ کا سب سے بڑا حصہ پٹرول کی درآمدات پر خرچ ہو جاتا ہے۔

ان اعدادوشمار کے بعد شاید ہی کوئی محب وطن پاکستانی ہوگا جو اس منصوبے کی مخالفت کرے گا کیونکہ اس کے ذریعے ملک میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور سستی بجلی کا حصول ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ اس منصوبے کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں ہیں جن میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ کوئی ملک یا ادارہ اس کے لیے ہمیں قرضہ دینے پر راضی نہیں ہے اور اگرکوئی دے گا بھی تو سود اور دیگر شرائط اس طرح کی ہوں گی کہ ہماری قومی خودمختاری اور وقارگروی رکھنا پڑیں گے۔ پاکستان کا ہر پیدا ہونے والا بچہ اس وقت ایک لاکھ 17ہزار روپے کا مقروض ہے اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے وسائل چھوڑنے کی بجائے ان کے لیے مزید قرضہ چھوڑکر جارہے ہیں۔ گزشتہ کئی سال کی حکومتوں کا تسلسل اس حقیقت کا گواہ ہے کہ ہر آنے والی حکومت مزید قرضے لے کر قوم کو پہلے سے زیادہ مقروض کر کے چلی جاتی ہے۔

یہ وہ پس منظر اور حالات ہیں جس کی بنا پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ چونکہ کوئی ملک اس کے لیے ہمیں قرضہ نہیں دے گا لہٰذا قومی سطح پر چندا اکٹھا کرکے اس کے لیے فنڈز مہیا کیے جائیں۔ عمران خان نے چیف جسٹس فنڈ اور وزیراعظم فنڈکو یکجا کر کے اس مہم کا آغاز کردیا ہے جس میں اطلاعات کے مطابق 2 ارب روپے جمع ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی مکینیکل انجینئر نے ایک ارب ڈالر (یعنی 124ارب روپے) دینے کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں اوورسیز پاکستانیوں کو ایک ہزار ڈالر فی کس بھیجنے کا کہا ہے۔ اگر بیرون ملک مقیم ہر پاکستانی اتنی رقم بھیج دے تو مزید کسی چندے یا بیرونی قرضے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو قیام پاکستان 20 ویں صدی کا بہت بڑا معجزہ تھا۔دو قومی نظریے کو مخالفین نے دیوانے کا خواب کہا تھا مگر دُنیا نے دیکھا کہ قائداعظمؒ کی قیادت میں دُنیا کے نقشے پر ایسی تبدیلی آئی جس کی دُنیا میں آج تک مثال نہیں ملتی۔ پاکستان آج اُسی طرح کی نازک صورتحال سے دوچار ہے جہاں اسے اپنی بقاءکی خاطر ڈیم بنانا پڑے گا۔ پاکستان میں 1960ءسے لے کر آج تک نیا ڈیم نہیں بن سکا جس کی وجہ ہمارے گزشتہ نصف صدی کی سیاسی قیادت کی کوتاہیاں ہیں جو قومی خیانت کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود قوموں کی صف میں اس لیے نامعتبر ہیں کیونکہ ہماری معیشت کا سارا نظام ہی قرضے پر چل رہا ہے۔

چین دُنیا کا واحد ملک ہے جس نے کسی اور ملک کاکوئی قرضہ نہیں دینا اورآپ کو سُن کر حیرت ہوگی کہ دُنیا کی سپرپاورکہلانے والا امریکہ چین کا 1.7ٹریلین ڈالر کا مقروض ہے۔ اگر پاکستان نئے قرضے حاصل کیے بغیر ڈیم کے لیے فنڈزکا بندوبست کر لیتا ہے تو آنے والے وقت میں یہ کچھ ہی عرصے میں اپنے باقی قرضے اُتارکر معاشی طور پر ایک آزاد ملک بن سکتا ہے۔ قوموں پر اچھے اور بُرے وقت آتے رہتے ہیں۔ تاریخ کے اس نازک موڑ پر قدرت نے پاکستان کی باگ ڈور ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دے دی ہے جس پر آپ جتنی چاہے تنقیدکریں لیکن اس کی حب الوطنی اور ایمانداری شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام الناس خصوصاً سمندرپار پاکستانی اس کے لیے چندہ اکٹھا کرنے اور اس مہم میں اس کے دست و بازو بننے کے لیے تیار ہیں۔ یہ پہلے ہو چکا ہے شوکت خانم کے نام پر سمندرپار پاکستانیوں نے اربوں روپے اس پراجیکٹ میں فنانس کیے ہیں۔ اس طرح NUML یونیورسٹی کے قیام میں بھی عمران کی آواز پر محب وطن پاکستانیوں نے اپنی بساط سے بڑھ کر رقوم جمع کروائیں۔ عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں کو ایک ہزار ڈالر فی کس کا مطالبہ کیا ہے، حقیقت میں اگر وہ 500ڈالر بھی دے دیں تو یہ کام مکمل ہوسکتا ہے جو پونے دو ارب روپے اب تک اکٹھے ہوئے ہیں اس کا 80 فیصد حصہ پاکستان کے اندر سے دیا گیا ہے۔ پاکستان کے اندر مخیر حضرات کی کمی نہیں ہے البتہ اس منصوبے کی راہ میں اور طرح کی رکاوٹیں آئیں گی۔ خطے کے سیاسی حالات کے پیش نظر بھارت کی طرف سے اس میں مداخلت کا خطرہ موجود ہے۔ منصوبے کی سائٹ پر بھارت اعتراض کرسکتا ہے اور اس معاملہ کو لے کر بین الاقوامی عدالت میں جاسکتا ہے۔ اس سے قبل سی پیک منصوبے میں نریندر مودی نے یہ کہہ کر شمولیت سے انکار اور چین کے ساتھ احتجاج کیا تھا کہ سی پیک کشمیر کے جن علاقوں سے گزر رہا ہے، وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ ہیں۔ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی کشیدگی کے پیش نظر امریکہ اس معاملے میں ہوا بھرکر اس کو عالمی سطح پر ایک Hype پیدا کرکے اس میں رخنہ اندازی کر سکتا ہے۔

دوسری طرف یہ بات ہے کہ دیامربھاشا ڈیم کی ابتدائی منصوبہ بندی میں یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ اس منصوبے کی مالیاتی فنانسنگ چین نے کرنی ہے جس کی بنا پر ابتدائی طور پر یہ تاثر دیا گیا تھا کہ اس کا ٹھیکہ چین کی کمپنیوں کو دیا جائے گا اور اس میں چینی انجینئرز کام کریں گے یہ ایک Myth ہے جس کا حکومت کی طرف سے فوری طور پر ردّ کیا جانا چاہیے تاکہ ہمارے ملک کا پرائیویٹ سیکٹر مضبوط ہو اور پیسے کی گردش پاکستان کے طبقوں کے اندر ہوگی تو معیشت پر مثبت اثرات ہوں گے۔ اس منصوبے میں Labour Intensive پالیسی اختیارکی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو۔ پورے ملک سے نوجوان انجینئرز، ٹیکنیشنز اور ہنرمند لیبرکو اس منصوبے میں انٹرن شپ دی جائے جو منصوبے اور ملازمین دونوں کے لیے فائدہ مند ہوگی۔ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو دُورکرنے کے لیے اس میں Volunteers بھرتی کیے جائیں جن کی تنخواہ کی بجائے اعزازیہ دیئے جانے کے ساتھ ساتھ انہیں تعریفی اسناد دی جائیں جو ایمپلانٹ مارکیٹ میں ان اسناد کے انٹرویوکے ٹائم مخصوص نمبر دیئے جائیں۔

یہ پاکستان کے لیے win-win situation ہے جس سے ملک میں خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ جب اس پیمانے پر ملکی خزانے میں زرّمبادلہ جمع ہو گا تو ہماری معاشی ریٹنگ خودبخود اُوپر چلی جائے گی جس سے ملک میں باہر سے سرمایہ کاری میں اضافے کے امکانات روشن ہوں گے، بالفرض اگر حکومت کے فنڈز میں 50 فیصد پیسہ بھی جمع ہو جاتا ہے تو چین جیساکوئی دوست ملک باقی رقم کے لیے ہمیں قرض دے سکتا ہے۔ یہ کسی طرح سے بھی ہمارے لیے خسارے کا نہیں بلکہ فائدے ہی فائدے کاکام ہے۔

امریکہ کا یہ خیال تھا کہ نئی حکومت برسراقتدار آتے ہی وائٹ ہاﺅس کے آگے سجدہ ریز ہو جائے گی کہ آئی ایم ایف کوکہہ کر ہمیں قرضہ لے کر دیں لیکن حکومت نے ابھی تک آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے متبادل ذرائع ڈھونڈنے کا طریقہ استعمال کیا ہے جس کے بعد اب امریکہ وقتی طور پر پاکستان کے معاملے میں سفارتی طور پر بیک فٹ پر چلاگیا ہے۔ اس سے پاکستان کے لیے مستقبل میں مشکلات میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے لیکن قومی وقارکے لیے یہ ناگزیر تھا۔

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں نے عمران خان کے اس منصوبے کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اگلے5 سال میں اگر عمران خان دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے مطلوبہ رقم جمع کروانے میں کامیا ب ہو جاتے ہیں اور منصوبے کا باقاعدہ آغاز کردیا جاتا ہے تو 2023ءکے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کا راستہ روکناکسی پارٹی کے لیے ممکن نہیں ہوگا اور عمران خان مزید5 سال کے لیے باآسانی وزیراعظم بن جائیں گے۔

ڈیم کی تعمیر یا متبادل ذرائع ؟

سدرہ ڈار:

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثاراور سپریم کورٹ پاکستان نے ملک میں پانی کی قلت کو اہم مسئلہ سمجھتے ہوئے ڈیم فنڈ قائم کیا۔ اس حکم کے اگلے روز ہی ملک کے تمام بینکوں کے باہر بینرآویزاں کردئیے گئے کہ ڈیم فنڈ میں دل کھول عطیات دیجئے۔ موبائل پر پیغامات سے لے کر دیگر اداروں نے بھی اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اس پرکام شروع کردیا۔ ہرچینل نے اس پر ٹاک شوز شروع کردئیے۔ ہر سیاستدان انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی دھول پر پانی کا چھڑکاو¿کرکے ڈیم کا نیا پودا لگانے میں مصروف ہوگیا۔ سننے میں یہ ایک سہانا خواب لگتا ہے پرکیا واقعی ایسا ممکن ہے؟موجودہ منصوبے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کیا فنڈ سے کبھی کوئی ڈیم بنا بھی ہے؟کیا اتنی رقم اکھٹی ہو جائے گی کہ دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم بناکر ملک کو درپیش پانی کی قلت پر قابو پالیا جائے گا؟اس ضمن میں لوگوں کا حوصلہ تو بڑھایا جا سکتا ہے لیکن کیا دنیا بھر کے ممالک کبھی اس طرح کے منصوبوں کی تعمیر کے لئے عوام پر ذمہ داری ڈالتے ہیں ۔عوام جو صبح آنکھ کھلتے ہی ٹیکس کی ادائیگی شروع کردیتے ہیں اور رات کی نیند تک یہ ادائیگی جاری رہتی ہے۔ ناشتہ میں میز پر رکھا مارجرین یا جیم ہو یا دوگھونٹ چائے جب یہ خریدکر گھر پہنچائی جاتی ہے تو عوام ان اشیاءکی ادائیگی کرتے وقت ہی ٹیکس اداکرتے جاتے ہیں۔ اس پر اسے یہ ذمہ داری بھی سونپ دی جائے تو اسے انصاف نہیں کہا جا سکتا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کاکہنا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں سے رقوم اور چندے کا مطالبہ کچھ مناسب نہیں۔ اس مقصدکے لئے ایک اچھی خاصی بڑی رقم درکار ہے۔ اگر ریاست کے پاس اتنے وسائل نہیں تو سمندر پار پاکستانیوں سے رقوم کے مطالبے کا طریقہ کارکچھ اور بھی ہوسکتا ہے جیسے کہ کوئی اسکیم یا سرٹیفیکیٹس یا پھر پروگرام متعارف کروایا جائے جس میں یہ لوگ انویسٹمنٹ کریں۔ جیسے ملک میں قومی بچت اسکیموں میں پاکستانیوں نے بڑی تعداد میں رقم جمع کروائی ہوئی ہے جس سے انھیں منافع بھی ملتا ہے اور حکومت اپناکام بھی کر رہی ہے۔ دوسری اہم بات یہ کہ ڈیم ایک بڑامنصوبہ ہے جو ایک سال میں تو تعمیر ہو نہیں سکتا، اس کی تعمیر اورتعمیر سے قبل منصوبہ بندی م میں اگرکوئی رکاوٹ نہ بھی ہو تو بھی یہ سات سے آٹھ برس لے سکتا ہے۔ حکومت پانچ برس کی مدت کی ہوتی ہے تو آگے کیا ہوگا؟کیا اس کا انجام بھی ماضی کے بڑے ادھورے منصوبوں جیساہوگایا کچھ اور؟

معروف کالم نویس اورمصنفہ آمنہ مفتی ان دنوںاس موضوع پربہت کالم لکھ رہی ہیں، انھیں ڈیم کے بننے سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن وہ چندہ دینے والوں سے کہیں آگے کا سوچ رہی ہیں۔انھوں نے حکومت کے سامنے اپنی حالیہ تحاریرکے ذریعے کچھ اہم سوالات اٹھائے ہیں جیسے کہ منگلا ڈیم بنا تو میرپورکے رہائشیوں کو، جنھوں نے اپنی زمینیں اس ڈیم کی تعمیر میں دیں، برطانیہ میں ورک پرمٹ جاری کئے گئے جوکہ بہت بڑا قدم تھالیکن دیامر بھاشا ڈیم کے حوالے سے ابھی تک ایساکوئی لائحہ عمل سامنے نہیں لایاگیاکہ کیاکیا جائے گا؟بھاشا ڈیم جہاں تعمیر ہونا ہے وہاں کے مکینوں کو کیسے اپنے بزرگوںکی زمینیں اورقبریں چھوڑنے پر راضی کیا جائے گا؟کیا وہ مستقبل میں آنے والاکوئی طاقتور زلزلہ سہہ پائے گا؟اور اصل مسئلہ یہ ہے کہ جس خطے میں ہم بستے ہیں وہاں زمین ہی غیرت بھی ہے اور مان بھی.... تو ان حالات میںکیسے ان سب کو ان کے مان اور غرور سے دورکیا جائے گا؟کون سا ایسا راستہ اپنایا جائے گاکہ سب کچھ ٹھیک ہوتا جائے گا اور ڈیم کی راہ میں حائل مشکلیں بھی آسان ہوتی جائیں۔ دوسرا اہم سوال یہ اٹھایاگیاکہ بھاشا ڈیم کے بننے سے کن کن علاقوں کو سیراب کیا جائے گا؟ ملک میں اب بھی 84 فیصد آبادی پینے کے صاف پینے سے محروم ہے۔کیا اگر یہ ڈیم بن جائے تو سب کو پانی میسرآجائے گا؟کیا گلگت کی زمین پر بننے والے ڈیم سے کیٹی بندر اور کھاروچان کی آبادی کو بھی صاف پانی میسر ہوگا؟یہ باتیں کاغذ پرتوہوں گی لیکن کیا ابھی تک عوام کو اس پراعتماد میں لیاگیا ہے؟ تیسرا اہم سوال یہ کہ پانی کی قلت کا مسئلہ اب عالمی بن چکا ہے، سب اس پر بات کر رہے ہیں لیکن اس منصوبے پرعالمی دنیا ہمارا ساتھ دینے سے کیوں کترارہی ہے؟کوئی بھی مالیاتی ادارہ تعاون کیوں نہیں کررہا؟

ہم اربوں روپے کا ڈیم بنانے جارہے ہیں جس پرہمیں نہ امداد حاصل، نہ دنیا کی حمایت، اس منصوبے کے تحت ایک بار پھر لوگوں کو پرکھوں کی یادگاریں، گھر بار، زمینیں، قبریں چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑے گی۔کیا واقعی ہم اس قابل ہیں کہ یہ کرپائیں گے؟یہ وہ سوالات ہیں جوبنیادی بھی ہیں اوربہت اہم بھی لیکن ابھی بات حقائق سے زیادہ جذبات پر دکھائی دے رہی ہے۔

اگر ڈیم نہیں بنا توکیا پاکستان پانی کی بوند باند کو ترس جائے گا؟کیا پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہوگا؟کیا ہمارا حال بھی مشرقی آسٹریلیا اور ساو¿تھ افریقہ کے کیپ ٹاو¿ن جیسا ہوجائے گا جہاں قحط سالی اور پانی کی کمی نے دنیاکو تشویش میں مبتلاکردیا ہے؟ حسن عباس جو پانی کی تقسیم اورڈیمزکے حوالے سے ماہر سمجھے جاتے ہیں، وہ ڈیمزکی تعمیرکے حق میں نہیں۔ اس بات پر حیرانگی بھی ہوتی ہے اور تعجب بھی لیکن ان کے پاس بہت سے دلائل ہیں۔ ان کے مطابق 2025ءمیں پانی ختم ہوجائے گا، یہ منطق درست نہیں۔ اس کی ایک ہی صورت ہے کہ بحیرہ ہند سوکھ جائے یا سورج کو بجھادیں۔ حسن عباس کا ماننا ہے کہ پانی کی قلت اورکمی کی وجوہات مختلف ہیں ۔ مسئلہ پانی کا نہیں ہماری غلامانہ ذہنیت کا ہے کہ ہم کچھ کرنے کو تیار نہیں یا وہ کرتے ہیں جو باہر سے امپورٹ ہوئی ہو ۔ ڈیم کا پلان ایک borrow plan جسے اب ہم نے ضروری بنا لیا ہے۔ ہمارے ملک میں اصل مسئلہ پانی کی تقسیم اور اس کی مینجمنٹ کا ہے۔ نہری نظام وہی پرانے اور فرسودہ طریقہ کار پرچل رہے ہیں اورابھی بھی پانی کی تقسیم پر طاقتور کا راج ہے۔ حسن عباس کے مطابق زراعت کے لئے نہری نظام جو انگریز سرکار نے بنایا تھا وہ بہترین تھا ہم نے گزرتے وقت کے ساتھ اس پرکوئی نیاکام نہیں کیا ۔ اس وقت جو نظام زراعت کے لئے سب سے موزوں ہے اس میں censor based trickle irrigation system ہے جس میں کھیتوں کے درمیان سینسربادلوں میں موجود نمی کو محسوس کرکے پانی کی ضرورت سے آگاہ کردیتا ہے۔ بھارت میں اس نظام کو استعمال میں لایا جاچکا ہے جبکہ پاکستا ن میں کسان یہ طریقے استعمال نہیں کر رہے۔ اگر پاکستان کے دس فیصدکسان بھی اس طریقہ کار پر عمل کرلیں تو تربیلا ڈیم جتنا پانی سالانہ بچایا جاسکتا ہے۔ ایک ڈیم کو بننے میں دس سے پندرہ برس درکار ہیں جبکہ محض دو ملین ڈالر میں یہ نظام کام کر سکتا ہے جس سے پانی کی بچت ممکن ہے۔

حسن عباس کے مطابق ملک کی آبی پالیسی صرف ایک خانہ پری ہے جو ڈیم بنانے کے لئے ٹھیکہ لینا چاہتے ہیں، انھوں نے یہ پالیسی بنائی ہے۔ دنیا بھر میں جو پروجیکٹس 500 ملین میں بنتے ہیں ہم ان پر زیادہ پیسہ خرچ کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے نیلم جہلم میں ساڑھے پانچ بلین خرچ کر ڈالے۔ 1948ءمیں جب بھارت نے پاکستان کا پانی روکا تو اس عمل سے ہماری پانچ فیصد زراعت متاثر ہوئی تھی اور پھر ہم نے سندھ طاس معاہدہ کیا ۔ اس میں تین دریا ہم نے بھارت کے سپردکر دئیے۔ اس معاہدے میں آئی ایم ایف شامل ہے تو فیصلے بھی ان کی مرضی سے ہی ہوں گے۔ جو دریا چل رہے تھے اس پر بیراج بنے، نہریں بنائی گئیں اس وقت چودہ سے پندرہ بیراج ملک میں ہیں وہیں سے پانی کی تقسیم میں غیر سنجیدگی اور اثر ورسوخ دکھائی دیتا ہے کہ جہاں ایک مگ پانی کی ضرورت تھی وہاں ایک بالٹی دے دی گئی۔ جبکہ دوسری جانب پانی کوغلیظ کرکے چھوڑدینا اوراسے ناقابل استعمال بنانا دینا بھی پانی کو ضائع کرنا ہی ہے۔ پانی کو بچانے اور قابل استعمال بنانے کے لئے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ سیوریج کے پانی کو دوبارہ ٹریٹ کرنا ایک مہنگا نسخہ ہے تو مندرجہ بالاعمل سے ڈیموں اور جھیلوں کے پانی کوگندہ ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔

حسن عباس کا کہنا ہے کہ وہ ڈیم کے خلاف نہیں لیکن جوکچھ ڈیم بنانے کے لئے خرچ کرنا ہے اگراس سے بھی کم میں دوسرے طریقے اختیارکرکے پانی کی تقسیم اور نظام کو بہتر بنالیا جائے توکسی صورت ملک کو پانی کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ماضی میں جب ڈیم بننے چاہیئں تھے تب نہ بنانا حکومتوں کی نالائقی تھی لیکن اب اس پر یوں اچانک سے بنا وسائل کے کام کرنا اور اہم معاملات کو نظر اندازکرکے ایک مہنگا منصوبہ شروع کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس وقت سب سے پہلے پانی کو بچانے اس کی تقسیم ا ور اسے ضائع ہونے سے روکنے پرکام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔


ای پیپر