مودی کا الیکشن سٹنٹ یاناکام خارجہ پالیسی؟
03 اکتوبر 2018 (17:03) 2018-10-03

تجزیاتی رپورٹ:امتیازکاظم

بپن راوت کی حیثیت اس وقت مودی ”تیلی“ کی کٹھ پُتلی کے علاوہ کچھ بھی نہیں، یہ بڑھک باز بھارتی جرنیل پہلے بھی جعلی سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کرچکا ہے جس کی اب تک یہ اپنے ایوانوں میں وضاحتیں پیش کر رہا ہے اور پیشیاں بھگت رہا ہے اور یہ ویدنگر سٹیشن کا چائے فروش مودی یقینا چھوٹی سوچ کا حامل ہے اور وزیراعظم پاکستان کا ٹویٹ اس کی عکاسی کرتا ہے کہ ”بڑے عہدے پر بیٹھے چھوٹے شخص کی سوچ چھوٹی ہی رہتی ہے“ لیکن یہ چھوٹی سوچ کا چھوٹو آرایس ایس کی منافقت سے بھرپور جماعت کا اب بڑا رُکن ہے جس پر کرپشن کا بھی بڑا الزام عائد ہو گیا ہے۔ فرانس کے سابق صدر فرانسس اولاندے نے ” مودی ٹی سٹال“ کے ماتھے پر فرانس کے ساتھ ”رافیل لڑاکا طیاروں“ کی ڈیل میں کرپشن کا الزام لکھ دیا ہے اور پروپرائیٹر بھی مودی کو لکھا ہے اور اس ٹی سٹال پر چائے بھی مارچ اپریل میں فروخت ہونا بند ہو جائے گی کیونکہ مارچ اپریل میں بھارت میں انتخابات ہونے والے ہیں اور اپنے اُوپر لگے ان الزامات کا اثر کم کرنے کے لیے یہ پاکستان دُشمنی، کشمیر یوںپر جبر اور بھارتی مسلمانوں پر ظلم وستم کے پیچھے چھپنا چاہ رہا ہے۔ آر ایس ایس کا یہ بھگت اب ریت میں سر چھپا رہا ہے لیکن ستم یہ ہے کہ اب ریت بھی گرم ہے، کرپشن کے الزام کے اس دباﺅ سے نکلنے کے لیے اب ”پاکستان کارڈ“ بھی ٹھیک طرح سے نہیں کھیلا جارہا کیونکہ بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے ” مودی جی“ سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا ہے اور بپن راوت جیسے مزاحیہ کردار کو پاک بھارت تعلقات کو انتہائی کشیدہ اور خراب کرنے کا کام سونپ دیا گیا اور یہ جرنیل اپنی فوج کے مورال، صلاحیت اور اسلحہ کی کمی کے متعلق خوب جانتا ہے حالانکہ یہ دُنیا بھر میں سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والے ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے لیکن یہ اپنا اسلحہ اُتنی ہی بے دردی سے کشمیریوں پر ظلم وستم کے لیے استعمال کررہا ہے۔

مودی نے پاکستان مخالف منشور پر اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف منشور پر الیکشن جیتا۔ یہ بالکل اسی طرح سے ہے جیسے کہ مودی گجراتی (اور گجراتیوں کے بارے میں جو جو مشہور ہے وہ قارئین مجھ سے بہتر جانتے ہیں) نے گجرات فسادات کی آڑ میں مسلمانوں کا قتل عام کروا کے اس کا انعام وزیراعلیٰ اور بعد میں وزیراعظم کے طور پر لیا۔ اسی طرح سے وہ اب پھر پاکستان مخالف بیانیہ، کشمیریوں پر ظلم وستم اور بھارتی مسلمانوں پر ظلم کر کے اس کا انعام دوبارہ وزیراعظم بننے کے طور پر لینا چاہتا ہے جو کہ بھارتی بڑے تجزیہ نگاروں کے مطابق ممکن نہیں۔ بھارتی دانشور بھانو پرتاپ مہتہ تو پہلے ہی بھارتی وزیراعظم کو ننگا کہہ چکے ہیں اور یہ ”نانگا“ اپنی 68 ویں سالگرہ کے موقع پر 568 کلو کا لڈو بنا کر بچوں کو کھلا کر خوش ہو رہا ہے حالانکہ اس چانکیہ کے چیلے کے بھارت میں خواتین کی خودکشی کی شرح بڑھ رہی ہے اور خواتین جن حالات میں جی رہی ہیں اُن میں یہ ہی تبصرہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر اُن کے اختیار میں ہے تو وہ گائے بن جائیں ۔ یہ آر ایس ایس جیسی کٹر بنیاد پرست ہندو تنظیم کا نظریاتی سرپرست بدی اور برائی کو پہچاننے کے لیے بھی اچھائی اور نیکی کے مقابل لے آتا ہے، ویسے یہ بات ہے بھی ٹھیک، ہر طرف پھیلی ہوئی بُرائی رتی بھر اچھائی سے ہی پہچانی جاتی ہے۔ ”موہن جی“ فرماتے ہیں کہ ”اگر مسلمان نہ ہوں تو ہندوتوا کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا، ان کا مزید کہنا ہے کہ ہندو راشٹر کا مطلب یہ نہیں کہ اس میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں یعنی ہندوتوا کا نظریہ صرف مسلمانوں کی مخالفت میں گھڑا گیا، یہ جو مرضی کہہ لے مسلمان کبھی بھی ”راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ“ پر یقین نہیں کریں گے“۔

امن کا دُشمن یہ مودی ملکی میڈیا کے دباﺅ میں آکر دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان 27 ستمبر کو نیویارک میں طے شدہ ملاقات سے بھی مُکر گیا ہے۔ نیچ جاتی (شیڈولڈکاسٹ) سے تعلق رکھنے والے کو بہانہ بنانا بھی نہیں آیا۔ بہانہ یہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت (جوکہ ثبوت طلب معاملہ ہے) اور بُرہان وانی کے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کرنے کی وجہ سے یہ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ ملکی معاملات بڑے ہوتے ہیں اور انہیں ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے حالانکہ بی ایس ایف کے اہلکاروں کی ہلاکت کا معاملہ ملاقات کے اعلان سے دو روز پہلے کا ہے۔ اگر یہی بہانہ بنانا تھا تو ملاقات کے لیے ہاں کیوں کی اور پھر پاکستان رینجرز نے اس معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا اور پاکستان نے باضابطہ چینل سے آگاہ بھی کیا تھا۔ رہا ڈاک ٹکٹ کا معاملہ تو یہ 25 جولائی کے انتخابات سے پہلے چھپے تھے، یہ غصہ 2 ماہ بعد کیوں آیا۔

موہن بھگوت کے چیلے کا جہاں بس چلا اُس نے چلایا۔ ” مودی جی“ نے پاکستان کی سربراہی میں ہونے والی سارک کانفرنس میں بھی شرکت سے انکار کردیا۔ وزارت امور خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ ہم متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ خطے میں تنظیم کا اجلاس بلانے کے لیے ماحول سازگار نہیں۔ یاد رہے کہ یہ 20 ویں سارک سربراہ کانفرنس اسلام آباد میں منعقد کرانے کی تجویز تھی جسے بھارت نے ردّ کر دیا۔ مسلمانوں پر بس چلا تو اس نے اُن کے لیے حلال گوشت بھی حرام کردیا۔ اور تو اور بھارتی شہر ہریانہ کی ”روباٹک ڈسٹرکٹ“ میں ”ٹینولی گاﺅں“ کے مکینوں نے ایک اجلاس میں زبانی طور پر قرارداد میں مسلمانوں سے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے نام ہندو طرز کے رکھیں اور کھلے عام نماز نہ پڑھیں جو کہ بھارتی آئین کی سراسر خلاف ورزی ہے لیکن پوچھنے والا کون ہے؟ وہ تو خود ان کے ساتھ ہر معاملے میں ملوث ہے۔ یہاں کی مقامی پنچائت نے گاﺅں کے وسط میں واقع قیمتی ایک ایکڑ کا پلاٹ قبضے میں لے کرگاﺅں سے باہر جگہ دینے کا فیصلہ بھی کیا۔ ٹوپی پہننے اور لمبی داڑھی رکھنے پر بھی پابندی لگائی ہے یعنی مذہبی اور انسانی حقوق سلب کیے جارہے ہیں اور کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں تاہم برطانوی رُکن پارلیمنٹ عمران حسین نے اس پر آواز اُٹھائی ہے اور کہا ہے کہ بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی انتہا کرچکا ہے۔

بھارتی کابینہ نے مسلمانوں کے لیے ایک ساتھ تین طلاقوں پر تین سال کی سزا کی بھی منظوری دے دی ہے جس پر ہندو خواتین نے مودی کو مسلم خواتین کا وکیل کہا ہے اور پروین توگڑیہ نے بھی لے دے کی ہے۔ آرایس ایس کا نظریاتی سربراہ موہن بھاگوت اور بھاجپا (BJP) کا سربراہ امیت شاہ نظریاتی طور پر ایک ہی ہیں تاہم موہن جی نے ہندوتوا کی ایک نئی توضیع پیش کی ہے۔ دلّی کے ”وگیان بھون“ میں موہن جی نے ایک پروگرام مرتب کیا جس میں ملک کے دانشوروں اور سیاسی جماعتوں کے خاص لیڈروں کو مدعو کیا تھا لیکن دلّی کا کوئی بھی نامی گرامی دانا دانشور اور سیاسی جماعتوں کے لیڈر دکھائی نہ دیئے۔ موہن بھاگوت کی ”وگیان بھون“ میں تقریر کا موضوع تھا ”بھارت کا بھوشیہ“ یعنی ”بھارت کا مستقبل“۔ لیکن موہن نے تقریر ہندوتوا نے نئے نظریے کے پرچارکے لیے کی جس میں ایسا دکھائی پڑتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اپنے قریب کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دسمبر میں ہونے والے صوبوں کے چناﺅ کی تیاری کی ایک صورت ہو سکتی ہے جس کا فائدہ بھاجپا کو 2019ءکے انتخابات میں لازمی ہوگا۔ موہن جی یہاں یہ بھی کہا کہ ”ان کے پاس بھاجپا کا ریموٹ کنٹرول نہیں ہے، اگر ہوتا تو مودی سرکار کی کیا آج یہ حالت ہوتی جو آج ہے۔

راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (RSS) اور بھاجپا (BJP) ماں بیٹے کی طرح ہیں“۔ قارئین دیکھ سکتے ہیں کہ ان دو لائنوں کے بیان میں کس قدر تضادات ہیں۔ دوسری طرف ”میرا وزیراعظم چور ہے“ سوشل میڈیا کا بھارت کا ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے جبکہ راہول گاندھی بھی مودی کے لیے ”گلی گلی میں چور“ کے الفاظ استعمال کررہے ہیں جب کہ یہی الفاظ کبھی (1986ءمیں) راہول کے والد راجیو گاندھی کے لیے بھی استعمال ہوئے۔ راہول گاندھی کے مخالف اسے ”مسخرہ شہزادہ“ کہہ رہے ہیں اور اسے ”پپو“ کے نام سے یاد کررہے ہیں جب کہ دوسری طرف جنتا مودی کو ”گپو اور گپوڑہ“ (گپیں ہانکنے والا) کے القابات سے یاد کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مودی نے بھارت کے ساتھ ”شائننگ انڈیا“ کے طور پر بڑا مذاق کیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مودی دور میں ”گﺅرکھشا اور مسلمانوں کی مخالفت کے سوا کوئی کام نہیں ہوا، جنتا آئندہ اس ”گپو“کو منتخب کرنے سے توبہ کریں“۔

اب جب کہ بھارت ایک بار پھر میدان چھوڑ گیا ہے، اقوام متحدہ کا اجلاس ہونے کو ہے اور پاک بھارت وزرائے خارجہ کی ملاقات سلامتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر ہوسکتی تھی (سلامتی کونسل نے اپنے ایجنڈے پر ایک طویل عرصے بعد کشمیر کے مسئلے کو بھی شامل کرلیا ہے) تو بھارتی حکمرانوں نے نہ صرف مذاکرات سے انکار کردیا بلکہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر وزیر خارجہ کی ملاقات بھی منسوخ کردی ہے۔ ایسا کیونکر ہوا شاید بھارت نے اپنے امریکی سرپرست کی مرضی سے ایسا کیا ہے کیونکہ عنقریب سارک سربراہ اجلاس جو پہلے بھی پاکستان میں ہونا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سارک ممالک کو واضح دھمکی دے دی کہ وہ نہیں چاہتے کہ کل تک جو اقوام ان کے زیرنگیں رہی ہو وہ اپنی من مرضی سے کوئی ایسا اتحاد بنائیں اور اسے کامیابی سے ہمکنارکریں جو کل کلاں ان کے یا ان کے کسی حلیف کے خلاف متحد ہو کر میدان میں اتر سکے۔ اس لئے وہ بھارت کا استعمال کرکے پاکستان سے اپنے مطالبات منوانے کا طریقہ آزما سکتا ہے کیونکہ بھارت کے ساتھ امریکہ بھی ہرگز نہیں چاہتا کہ پاکستان اور چین مل کر خطے می معاشی خوشحالی اور امن کے لئے مثبت اقدام کر سکیں۔ ان حالات میں پاکستان کی ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے کہ وہ کشمیرکا مسئلہ عالمی سطح پر مو¿ثرطریقے سے اٹھائے اور ساتھ ہی دنیاکو سی پیک جیسے شاندار منصوبے سے استفادہ کے لئے تیارکرے کیونکہ یہی ایک طریقہ ہے جس پر عمل کرکے بھارت کو اس کی مکارانہ چالوں کا منہ توڑ جواب دیا جاسکتا ہے۔

٭٭٭


ای پیپر